Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 2
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 21/04/2026
84 Views
Episode no 2
بھینچ گئیں۔۔ ’’مقدس بیٹا!ماں اتنے دنوں بعد آئی ہو، پیار سے بات کرلو ذرا۔۔۔‘‘ وہ دانت پیس کر مسکرائیں۔۔ ’’کیا لینا پسند کریں گی مسز مراد! ٹھنڈا یا گرم۔۔۔‘‘وہ اجنبی لہجے میں بولی۔۔ ’’تمہارے شکوے کبھی نہیں ختم ہونگے،پتہ نہیں کیا چاہتی ہو تم۔۔۔تمہارا باپ تمہیں پوچھتا تک نہیں ہے،مگر نہیں تم ہمیشہ مجھے ہی نخرے دکھایا کرو۔۔‘‘وہ جتاتے لہجے میں بولیں، تو اسے اپنی آنکھیں جلتی محسوس ہوئی تھیں۔۔ ’’تو میں نے تو نہیں کہا آپ کو ،آپ میرا خیال کیا کریں۔کیا آپ کی اولادیں کم پڑ گئیں ہیں جو آپ کو بار بار اس غلطی کو یاد کرنا پڑتا ہے۔۔‘‘ وہ ضرورت سے زیادہ تلخ ہورہی تھی،ور نہ اب تو اسکی ذات میں بہت ٹھہراؤ آگیا تھا۔۔ ’’خیر یہاں آؤ،بیٹھو میرے پاس۔۔‘‘ وہ چار و نچار انکے ساتھ جا بیٹھی تھی،جنہونے نفیس سی ساڑھی کا پلو سنبھال کر درست کیا،وہ اپنے گندے کپڑوں کے باعث فاصلے پر ہوگئی،ساتھ ہی نفیسہ نے بھی تھوڑا فاصلہ قائم کیا تھا۔۔ ’’میں نے تمھارے لئے ایک رشتہ دیکھا ہے،اب بس میں مزید تمہارا کوئی اعتراض نہیں سنو گی،میں مزید تمہاری زمہ داری نہیں اٹھا سکتی،میرا شوہر اور بچے اعتراض کرتے ہیں بھئی۔۔۔‘‘ مقدس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔۔ ’’تو کیا چاہتی ہیں آپ؟‘‘ اس نے سپاٹ تاثرات سمیت انکی جانب دیکھا۔۔ ’’تمہاری شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔اور یہ کہ میں ۔۔اس زمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتی ہوں۔تمہارے باپ نے تو اجازت دے رکھی ہے ،کیونکہ وہ تمھاری حقیقت اپنے بچوں کے سامنے نہیں لانا چاہتا ۔اور ساتھ ہی ہر زمہ داری سے ہاتھ بھی اُٹھا لیا ہے۔وہ شروع سے تمہاری زمہ داری نہیں لینا چاہتا تھا،وہ تو میں ہی تھی۔۔خیر، ایک سے دو روز میں لڑکے والے آئینگے تمہیں انگوٹھی پہنانے۔۔‘‘ مقدس نے بے یقینی سےانھیں دیکھا تھا۔۔ ’’آپ میری تمام زمہ داریوں سے مکمل ہاتھ اٹھا لیں تو بہتر ہے،کیونکہ اب میں اپنا پیٹ خود پال سکتی ہوں،مجھے آپ لوگوں کی قطعً کوئی ضرورت نہیں ہے،ایک بات اور سن لیں میری،میں کسی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔سمجھ گئیں آپ۔۔‘‘وہ دُرشت لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔تو انہونے ناگواری سے دیکھا۔۔ ’’اپنی ضد چھوڑ دو تم۔۔‘‘وہ اپنی نشست چھوڑ گئیں۔ ’’اور آپ پلیز میرا پیچھا چھوڑ دیں۔۔‘‘وہ غصہٰ ہوئی۔۔ ’’ٹھیک ہے چھوڑ دیا۔۔۔ تو بہتر یہی ہے کہ اب اپنا خرچہ بھی خود ہی اٹھاؤں۔۔‘‘وہ سفاکیت کی انتہا کر گئی تھیں،،وہ کرب سے مسکرائی۔۔ ’’ارے سفینہ یہ تو بچی ہے،تم کیوں جذباتی ہو رہی ہو،تم بیٹھو میں سمجھاؤنگی نا اسے۔۔‘‘ پھپھو فوراً شیریں لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔۔آگر سفینہ ناراض ہوجاتیں تو مقدس کی وجہ سے جو فنڈنگ آرہی تھی وہ بھی بند ہوجانی تھی۔۔۔ ’’کوئی بچی نہیں ہے،بہت بڑی ہوگئی ہے تو بہتر یہی ہے کہ اپنے اخراجات خود اُٹھائے۔۔‘‘وہ درشتگی سے بولتیں اپنا ہینڈ بیگ اٹھاتی اسے سخت نگاہوں سے نوازتی وہاں سے نکلتی چلی گئی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا لڑکی، آگر تمہاری ماں تمہارے خرچے اٹھانا بند کر دے گی تو تم یہاں کیسے رہو گی۔۔‘‘ وہ ہنوز سختی سے گویا ہوئیں تھیں۔۔ ’’پھپھی آپ فکر نہ کریں،میں کل ہی کسی جاب کے لئے اپلائی کرونگی،مل جائے گی اور اس گھر کا خرچہ ایسے ہی چلتا رہے گا جیسے اب تک چلا ہے۔۔‘‘وہ ناگواری سے جتا گئی۔۔ ’’لو اب بی بی جاب کریں گی، جاب کا کوئی تجربہ بھئ ہے؟کبھی اماں بابا کے پروں سے باہر بھی نکلی ہو۔۔۔۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرائی تھیں۔۔ ’’جس نے منہ چیرا ہے نا اس وہ روٹی کا کوئی نہ کوئی اسباب بنا ہی دے گا،اور آگر آپ مجھے اس گھر میں برداشت نہیں کر سکتی تو بتا دیں میں اپنا بندوبست کرلونگی۔۔‘‘انہونے آئی برو اٹھائی۔۔ ’’واہ بھئی بڑی دلیر ہو تم۔۔مطلب اکیلی رہ لوگی ،کہیں بھی،ہم سب فضول میں تمہاری فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔۔‘‘انہونے گہرا وار کیا تھا۔۔ ’’کیا میں جاؤں،اپر مشین آن چھوڑ کر آئی تھی۔۔پندره منٹ کا راؤنڈ پورا ہوگیا ہوگا۔۔‘‘وہ خشک لہجے میں بولی تو وہ سر جھٹک کر کچن میں چل دی تھیں، صبح سے شام ہونے کو آئی تھی،اور کپڑے تھے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلکے سی جھٹکے کے ساتھ جہاز کے پہیوں نے رن وے کو چھوا،وہ جو انکھيں موند کر بیٹھا تھا ،ایک لمحے کو چونک گیا۔۔ جبھی سماعتوں سے اعلان کی آواز ٹکرائی۔۔۔ "خواتین و حضرات، ہم کراچی ، پاکستان جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کر چکے ہیں۔ برائے مہربانی اپنی سیٹ بیلٹس باندھے رکھیں ۔" عیسیٰ نے لفظوں کی بازگشت نظر انداز کرتے، ونڈوسے باہر دیکھا۔ اسی یاد آیا کہ پچھلی بار وہ بے وفا لڑکی بھی اس کی ساتھ تھی۔۔۔اندھیرے میں شہر کی جلتی بجھتی روشنیوں نے زمین پر بکھرے نگینوں کا سا منظر پیش کیا تھا۔۔ ’’عیسی عبدالله۔۔"وہ سر پر كیپ ڈالے بیٹھا تھا ۔۔ابھی زرا چہرہ واضح ہوا تھا۔۔۔ ’’جی۔۔۔"اس نے مسکرا کراثبات میں سرہلایا۔۔۔ ’’ارے آپ واپس آ گئے، جناب؟ پاکستان کو مس تو بہت کیا ہوگا؟" ساتھ بیٹھے مسافر نے شناخت کے مراحل طے ہوتے ہی خوش دلی سے کہا تھا۔۔ ’’پاکستان کو نہیں، بس کچھ لوگوں کو۔"وہ مسکرائے ۔۔کیونکہ ماضی میں ہوے زرتاج اسکینڈلز سے تو وہ خود بھی بخوبی واقف تھے۔۔۔ ’’خیر پاکستان میں خوش آمدید۔۔ہم نے آپ کو بہت یاد کیا ،ہمارے ہیرو۔۔۔۔"جیسے ہی جہاز مکمل طور پر ٹھہرا، لوگ اپنی جگہوں سے اٹھنے لگے۔ اوپر کیبنز کھلنے لگے تھے، عیسیٰ نے مسکرا کر سر کو خم دیتے سکون سے اپنی جیکٹ سیدھی کی، موبائل جیب میں ڈالا اور اپنے بیگ کی زِپ چیک کی۔ ’’چلو بھائی، نکلتے ہیں! ویسے بھی تمھارے جیسے بندے کو تو اسپیشل پروٹوکول دیا جاتا ہے ۔کوئی سوال جواب نہیں ۔۔" ایک ساتھی مسافر شرارت سے بولا۔ ’’ظاہر یے سر ، میں کوئی انڈرورلڈ ڈان تو نہیں ہوں ، جو ہر ناکہ پر روک لیا جائے!"وہ اس اجنبی مسافر کے ساتھ ہنستے ہوئے آگے بڑھا۔ جیسے ہی جہاز کے دروازے کھلے، ایک مانوس سی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی۔ پاکستان کی مٹی کی خوشبو۔ وہ خوشبو جسے چاہ کر بھی نہیں بھلایا جا سکتا تھا۔ ("Welcome home, Essa Abdullah." ) اس نے خود ساختہ سرگوشی کرتے سر جھٹکا ۔ساتھ ہی كیپ سر پر ڈالتاچہرے پر ماسک چڑھائے ،اب وہ تیز قدموں سے آگے بڑھ رہا تھا ۔۔اس وقت وہ میڈیا یا پبلک کی نظروں میں نہیں آنا چاہتا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس صبح صبح تیار ہوتی کہیں جانے کی تیاری کر رہی تھی۔وہ ہاتھ میں ایک فولڈر تھامے باہر آئی تھی ۔ ’کہاں چلیں بی بی!‘‘انہونے خشمگیں نگاہوں سے گھوار تھا۔۔ ’کیا مطلب ہے آپ کا کہاں چلیں۔بتایا تو تھا جاب انٹرویو کے لئے جانا ہے،سی وی ڈالی تھی۔۔‘‘وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔۔ ’’اپنے پھپھا سے اجازت لی تھی تم نے۔۔۔ ’’جی لے لی تھئ۔اور جب تک مسز مراد خر چہ بھیج رہی ہیں،آپ مجھ پر کوئی روک ٹوک نہیں لگا سکتیں۔۔؎ ’سنُو بی بی!کل رات اس نے تمہارا اگلے چھ ماہ تک کا خرچہ ایک ساتھ بھیج دیا ہے ،اس فرمان کے ساتھ،کہ اب ہم تمہیں رکھیں یا اس خرچے میں تمہاری شادی کردیں ہماری مرضی۔۔مگر اب وہ مزید کچھ نہیں دے گی۔‘‘وہ آگاہ کر رہی تھی۔۔ ’’آپ ایک کام کیجئے مناہل کے جہیز کے لئے چیزیں خیرید لیں، جب تک میری جاب بھی لگ جائے گی تو میں ا پنا خرچہ خود اُٹھالونگی۔۔ ’’ہاں مناہل کی شاپنگ تو میں کر ہی لونگی،،تم ذرا کوشش کرنا کہ کہیں اچھی جگہ نو کری ملے تو تنخواہ پچاس سے اُپر ہی ہو۔۔‘‘ مقدس تلخٰی سے مسکراتی گھر سے نکل آئی تھی۔ابھی
