Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 20
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 09/05/2026
24 Views
Episode no 20
کے لئے۔معذرت خواہ۔۔‘‘مقدس نے کپکپا کر وضاحت دینی چاہئے تھی۔۔ ’’شٹ اپ اینڈ گیٹ لاسٹ۔۔اس سے پہلے کے میں اس میٹر میں پولیس کو انولو کروں،اپنی شکل گم کرو۔‘‘ عیسیٰ اس سے فاصلہ قائم کرتا درشت لہجے میں بولتا مقدس کو لرزا کر رکھ گیا تھا۔ ’’دوپٹہ اوڑھ پارسا بنی گھومتی ہیں،اور حرکتیں دیکھو،بے حیاؤں والی ہیں۔اور کچھ تو اس چادر کا خیال کیا کرو۔۔‘‘وہ مقدس کے لرزتے کانپتے وجود کو حقارتی آنداز میں دیکھتا تیز قدموں سے لفٹ کی جانب بڑھا تھا۔۔وہ روتی ہوئی اپنا ٹوٹا بکھرا وجود سمیٹی،عیسیٰ کے زہریلے الفاظ پیتی سیڑھیوں سے گول گول گھومتی بھاگتی چلی جارہی تھی۔۔اسے اس وقت نہ جگہ کا ہوش تھا اور نہ ہی اپنے سراپے کا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اوہ گاڈ یو مین! کہ فساد کی جڑ وہ لڑکی تھی،جس نے تمھیں مجھ پر دھکا دیا تھا۔‘‘عیسیٰ مقدس کو خود سے الگ کرتا حیرت سے بولا تھا۔۔ ’’ہاں وہی منحوس لڑکی تھی۔۔اس دن تو میں گھر چلی گئی تھی۔۔ ایک ہفتہ مجھے بخار رہا تھا،پھر بعد میں ،میں نے مناہل کی بھی کلاس لی تھی،اور اس لڑکی کو تو وہی طماچہ مارا تھاجو اس وقت آپ کے لفظوں پر مجھے اپنے گال پر پڑتا محسوس ہوا تھا۔۔‘‘مقدس نےا س وقت کو یاد کر غصےٰ سے یاد کچکچائے تھے۔ ’’’تو اس لڑکی نے تمھیں کچھ کہا نہیں؟‘‘عیسیٰ کو حیرانی ہوئی۔ ’’اس وقت اپنے باپ کا اصل نام کام آگیا تھا،میں عبداللہ خاندان کی بیٹی ہوں یہ سن کر پھر کبھی اسکی ہمت نہیں ہوئی۔۔‘‘مقدس نے کندھے اچکائے تو اس سارے قصےٰ میں پہلی بار عیسیٰ کھل کر مسکرایا تھا۔ ’’تو پھر تو تمھیں یہ بھی پتہ ہوگا کہ میں کون ہوں۔‘‘اس نے دماغ لڑایا۔ ’’نہیں۔۔اس بات کی طرف میں نے کبھی دھیان ہی نہیں دیا تھا۔بھئی آپ عبداللہ سر نام کے صرف میرے باپ دادا تو نہیں ہوسکتے تھے نا۔۔وہ تو نکاح کے بعد جب میں نے پہلی بار تمھیں جم میں دیکھا تو میرے دماغ نے کام کیا تھا کہ اوہ عبداللہ خاندان۔۔۔۔قسمت کا بار بار ٹکراؤ یونہی نہیں تھا۔۔۔‘‘مقدس مزے سے بتاتی شرارت سے مسکرائی تھی۔عیسیٰ نے تاسفی نگاہوں سے دیکھتے سر جھٹکا۔۔ ’’خیر جو ہوا سو ہوا۔۔۔مگر وہ تھپڑ مجھے آج بھی نہیں بھولتا ،مقدس۔۔مطلب کوئی لڑکی اتنی بے باک کیسے ہوسکتی ہے کسی اجبی مرد کو بھرے بازار یوں تھپڑ دے مارے۔۔‘‘مقدد نے ناک چڑھائی۔ ’’بس مجھے جب غصہٰ آجاتا ہے تو میں کچھ ایسی ہی جنونی ہوجاتی ہوں۔۔اور پھر اس روز تم بھی تو تیس مار خان بن رہے تھے۔‘‘مقدس نے ناک چڑھاتے الٹا اسے ہی گھرکا تھا۔ ’’واہ۔۔یعنی فیوچر میں تم کبھی بھی مجھے اپنی جنونیت کی نظر کر سکتی ہو۔۔‘‘وہ معنی خیز لہجے میں بولا تھا۔ ’’ہاہاہا! اب ایسا بھی کوئی بدتمیز نہیں ہوں میں۔۔ان دونوں مجھے بابا نے میری اصل شناخت بتائی تھی۔ جو کہ میرے لئے ہضم کرنا مشکل تھا۔۔کیونکہ میری والدہ ماجدہ مجھے اپنے ساتھ لے جانا چاہتی تھیں۔انکی ممتا تڑپ اٹھی تھی۔۔بس اسی لئے میں گھر کے ماحول سے فرار کے لئے مال آئی تھی،اور وہاں تم مجھے آٹکرائے۔۔تو غصہٰ تو نکلنا تھا ناْ۔۔‘‘وہ ناک چڑھا کر بولی تو عیسیٰ نے آنکھیں گھمائیں۔۔ ’’گرینڈ پا کی منہ چڑی بہو تو تم پہلے دن ہی بن گئی تھیں،اور اب تو میرے دل کی مہمان بھی بن گئی ہو،تو من پسند عورت سے تو ویسے ہی ذرا ڈر کر رہنا چاہئے کجاکہ پھر وہ جنونی بھی ہو۔۔‘‘عیسیٰ نے ذرا شرارتی لہجے میں کہتے اسکی لٹ کھینچی تھی۔۔جو ہلکا سا کراہ کر اسکی بات سمجھتی قہقہہ لگا گئی تھی۔۔اور زندگی انھیں دیکھ مسکرائی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں چہروں پر نرم مسکراہٹ سجائے ایک دوجے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سمندر کنارے گیلی ریت پر اپنے قدموں کے نشان چھوڑتے چلتے چلے جارہے تھے۔۔۔ ’’یہ سب کتنا اچھا لگ رہا ہے نا عیسیٰ!‘‘اس کے کندھے پر سر رکھتی مقدس مسکرا کر بولی تھی۔ڈھیروں آزمائشوں کے بعد بھی ان دونوں نے ایک دوسرے کاساتھ پا لیا تھا۔۔ ’’پیارا ہے وہ اس لئے،کہ ہم دونوں ساتھ ہیں۔۔‘‘اس نے پینٹ کے پائنچے ٹخنوں تک فولڈ کر ر کھے تھے۔ ’’عیسیٰ!‘‘وہ دونوں مسکرا کر باتیں کرتے چلتے چلے جارہے تھے جبھی کوئی جانی پہچانی سی آواز سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔ ’’تم میری کال کیوں نہیں ریسیو کر رہے ہو؟‘‘یہ زرتاج تھی۔۔عیسیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’تم ۔۔۔تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرے سامنے آنے کی؟‘‘عیسیٰ کو طیش آیا تھا۔مقدس نے اچھنبے سے پیش آنے والی صورت حال پر عیسیٰ کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے باز رکھا تھا۔ ’’تم اپنی بیوی کو سچ کیوں نہیں بتا دیتے کہ تم مجھے کھو کر پچھتا رہے ہو،اور مجھ سے دوبارہ افئیر چلانا چاہتے ہو۔۔‘‘عیسیٰ کی حیرت کی انتہا نہیں رہی تھی۔ ’’کیا بکواس کر رہی ہو؟‘‘وہ تیز لہجے میں دھاڑا تھا۔ ’’عیسیٰ ریلیکس!‘‘مقدس نے اسے کالم کیا تھا۔ ’’کیا پریشانی ہے آپ کو؟اور کس قسم کی گھٹیا انسان ہیں آپ؟شرم نہیں آتی اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود شیطان کا کردار نبھا رہی ہیں؟آپ کو کیا لگتا ہے آپ اس طرح میرے سامنے میرے شوہر کے خلاف کچھ بھی بولیں گی اور میں مان لونگی۔‘‘سینے پر بازو لپیٹی مقدس استہزائیہ مسکرائی تھی۔ ’’تمھاری آنکھوں پر صرف محبت کی پٹہ بندھی ہے،ورنہ یہ شخص مجھ سے پہلے بھی اپنی کزن اور پتہ نہیں کتنی لڑکیون کے ساتھ افئیر چلاتا رہا ہے،اور مجھ پر تو یہ تشدد کرتا تھا۔۔‘‘زرتاج نے کڑھ کر مقدس کو دیکھا تھا۔ ’’شٹ اپ!‘‘عیسیٰ ایک بار پھر بے قابو ہوا تھا۔ ’’عیسیٰ پلیز!‘‘ ’’ اول تو ایسا کچھ ہے نہیں! اور آگر تھا بھی تو یہ عیسیٰ کا ماضی تھا۔میں عیسیٰ کا حال اور مستقبل ہوں۔۔اور اپنا حال اور مستقبل کیسے سنوارنا ہے یہ میں بہت اچھے سے جانتی ہوں۔۔آپ ہماری فکر نہ کریں۔‘‘مقدس نے پرسکون لہجے میں کہتے حسد کی آگ میں جلتی زرتاج کو اَنگاروں پر لوٹا دیا تھا۔۔ ’’تم!‘‘وہ سیخ پا ہوئی۔ ’’بہتر ہوگا کہ تم اپنی شکل لے کر یہاں سے دفعہ ہوجاؤ،،پچھلی بار ملک سے فرار ہونے کا موقع چھوڑ دیا تھا،اس بار پانی بھی نصیب نہیں ہونے دونگا۔۔‘‘عیسیٰ مقدس کو اپنے حصار میں لیتا تیز لہجے میں غراتا زرتاج کو ایک آخری تنبیہ کرتا وہاں سے نکل آیا تھا۔۔زرتاج کا دل کیا وہ خود کو ختم کرلے،کیونکہ عیسیٰ عبداللہ جیسے شاندار شخص کو اس نے خود اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا تھا۔۔ ’’اللہ تم دونوں کو برباد کرے،،عیسیٰ عبداللہ تم کبھی خوش نہیں رہو گے۔۔‘‘حسدین کا یہی بہت بڑا مسلہ ہوتا ہے کہ وہ نہ خود خوش رہتے ہیں اور نہ ہی کسی اور کو خوش رہنے دیتے ہیں۔۔وہ من و من روتی چیختی چلاتی انھیں بد دعائیں دے رہی تھی۔۔جبکہ وہ دونوں فریقین ایک دوجے کی ہمراہی میں نئی خوشیوں کو خیر مقدم کرنے کے لئے تیار تھے۔۔۔ جاری ہے
