Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 20
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 09/05/2026
24 Views
Episode no 20
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 2nd Last Episode ’’مقدس بیٹا مجھے تمھارا یوں مناہل کے ساتھ گھومنا پھرنا بالکل نہیں پسند۔اس لڑکی کی دوستیں بھی اسی جیسی بے باک ہیں۔اور اتنا مہنگی جگہ،بیٹا انسان کو اپنی چادر دیکھ کر ہی پاؤں پھیلانے چاہئے۔۔‘‘وہ ناگواری کا اظہار کررہی تھیں۔ساتھ ہی مقس کو سمجھایا بھی تھا۔۔ ’’مما یار ہم لوگ بس کھانا کھانے جا رہے ہیں۔۔اور سب فرینڈز مل کر جا رہے ہیں امریکن سسٹم ہوگا،تو آپ مہنگے سستے کی فکر نہ کریں،میں سب مینج کرلونگی۔‘‘وہ اپنی ماں کے گلے میں بانہیں ڈالتی ذر ا لاڈ سے بولی تھی۔۔ ’’مقدس بیٹا دیکھ لو۔۔۔تمھارے بابا نے تو اجازت دے دی ہے،مگر میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔‘‘اُنھونے بیٹی کو باز رکھا،جو اپنے لمبے بالوں میں کنگا پھیرتی سمجھانے والے لہجے میں بولی تھیں۔ ’’مما پلیز نا۔۔‘‘اس نے منہ بنایا۔ ’’اچھا خیر سے جاؤ۔۔اور یہ چادر پہن کر جاؤ۔۔‘‘انھونے ا ُس پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکتے ،تاکید کی تھی۔۔۔اور مقدس انکا گال چومتی وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کے مشہور فائیو اسٹار ہوٹل پرل کونٹینٹ کے چاندنی رسٹورینٹ میں موجود وہ چاروں لڑکیاں ایک ٹیبل کے گرد بیٹھی باتوں میں مصروف تھیں۔۔جبکہ ان چاروں لڑکیوں کے درمیان بیٹھی مناہل اسکی بے باک باتوں کے باعث اچھی خاصی انکمفرٹیبل ہورہی تھی۔ ’’یار مقدس تم بھی تو کچھ بولو۔۔‘‘وہ چپ سی بیٹھی تھی۔۔ ’’کیا بولوں؟‘‘وہ جذبذ ہوئی۔۔مناہل بھی کسی سے کم نہیں تھی۔ ’’یار مناہل تمھاری یہ کزن ،واقعی میں اتنی شائی ہے،یا پھر اس جگہ پر آکر ان کمفرٹیبل ہورہی ہے؟‘‘انھونے ہنستے ہوئے کہا تو مقدس مسکرائی۔ ’’بیٹا مقدس اس جگہ پر پہلی بار نہیں آئی،دوسری بات مقدس بہت بڑے باپ کی بیٹی ہے۔‘‘مناہل کے پیٹ میں کوئی بات رک جا۔ناممکن۔ ’’ہیں؟کونسا بڑا باپ بھئی؟‘‘وہ تینوں حیران ہوئیں۔ ’’افکورس میرے بابا۔۔۔مہرے لئے دنیا کے سب سے پیارے اور امیر آدمی ہیں۔‘‘مقدس نے جھٹ سے اسکا ہاتھ دباتے کہا۔ ’’ارے یار مقدس ان سے کیا چھپانا سب میری بہت اچھی دوستیں ہیں۔میں بتاتی ہوں۔دراصل مقدس نے مامو ں کی لے پالک بیٹی ہے۔اس کے مام ڈیڈ نے پسند کی شادی کی تھی۔پھر وہ چل نہیں سکی تو ان میں ڈائیورس ہوگئی۔مقدس کے اسکی مما نے رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔۔جبکہ مقدس کے بابا نے دوسری شادی کرلی تو انھونے مقدس کو مامو کو گود دے دیا۔۔‘‘مقدس نے تاسفی نگاہوں سے مناہل کو دیکھا تھا۔ ’’’حد ہوتی ہے بدتمیزی کی مناہل۔۔ ’’ارے خیر ہے مقدس۔تم یہ بتاؤ،تمھارےاصل والے بابا کون ہیں؟‘‘وہ متجسس ہوئیں۔۔ ’’کوئی نہیں ہیں۔۔کھانا کب آئیگا۔‘‘مقدس کو اب نجانے کیوں رونا آیا تھا۔ ’’اورے ریلیکس کرو۔۔‘‘انھونے مقدس کی شکل دیکھ ریلیکس کیا۔ ’’’ارے وہ دیکھو یار عیسیٰ عبداللہ!‘‘عیسیٰ جو اپنے کسی دوست سے ملنے ہوٹل آیا تھا،وہ زرتاج کے ساتھ ویٹ کرنے کے لئے رسٹورینٹ میں آگیا تھا۔ ’’یہ زرتاج ہے نا اسکی ہونے والی بیوی۔۔افف یہ کتنا ہینڈسم ہے۔۔‘‘وہ چاروں ہی پاگلوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھیں۔۔جبکہ مقدس کو کوفت سی ہوئی تھی۔ ’’یار مقدس تمھیں پتہ ہے۔۔اس بندے کا ہیومر اتنا کمال کا ہے۔۔کہ میں تمھیں کیا بتاؤں۔۔‘‘وہ ضرورت سے زیادہ ایکسائیٹڈ ہوئی تھیں۔ ’’چلو چل کر سیلفی لیتے ہیں۔۔‘‘عیسیٰ کے پاس سے زرتاج اُٹھ کر نجانے کہاں باہر گئی تھی۔جبکہ وہ اکیلا بیٹھا موبائل اسکرولنگ کر رہا تھا۔ ’’’اکیسکیوز می سر!‘‘مقدس اپنی جگہ سے ہی سب منظر دیکھ رہی تھی۔ ’’یس!عیسیٰ نے ذرا نا سمجھی سے ان لڑکیوں کی جانب دیکھا تھا۔ ’’’سر کیا ہمیں آپ کے ساتھ ایک پکچر مل سکتی ہے۔ایکچوئیلی ہم آپ کے بہت بڑے فین ہیں۔‘‘وہ بھرپور ایکسائٹمنٹ سمیت بولی تھیں۔تو وہ ہولے سے مسکرا دیا۔ ’’’شیور! ۔‘وہ سب کی پرائیوسی اور کمفرٹ کا خیال کرتا ذرا ایک طرف کو آگا تھا۔۔سب نے عیسیٰ کے ساتھ ایک گروپ اور پکس بنا کر اسے تھینک یو کہتے اپنی نشست سنبھالی تھی۔جبکہ عیسیٰ موبائل پر ملنے والا پیغام پڑھتا،، مطلوبہ روم کی جانب بڑھا تھا،جہان اسکا دوست نے اب اسے روم میں ہی بلا لیا تھا۔زرتاج کا میسج آیا تھا جو گھر میں کسی ایمرجنسی کی وجہ سے وہاں سے نکل گئی تھی۔۔ ’’یار مقدس تم بھی آتی نا اتنا مزاح آیا ہے۔‘‘مقدس خاموش رہی۔ ’’مقدس کو چھوڑ اسے ان سب چیزوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔‘‘ مناہل نے سر جھٹکا۔۔۔پھر سب باتون اور کھانے میں مشغول ہوگئی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو!یار یہ تم لوگ مجھے کہاں چھوڑ کر چلے گئے ہو۔۔‘‘مناہل جو دستوں کے بہانے اپنے بوائی فرینڈ سے بھی ملنے کے لئے آئی تھی۔وہ سب کے ساتھ اپر رومز کی جانب آتی اپنے مطلوبہ روم میں چلی گئی تھی،جبکہ مقدس جو ذرا الگ کو پیچھے کھڑی ہوگئی تھی۔۔انھیں لفٹ میں غائب ہوتا دیکھ تیز قدموں سے انکی جانب بڑھی تھی۔۔ ’’ارے یار یہ رہئ میں۔۔۔‘‘یہ مناہل کی دوست زینب تھی۔ ’’یار یہاں آؤ،اس کمرے میں نا عیسیٰ عبداللہ ہے۔۔مجھے ایک بار اس سے ملنا ہے پلیز!‘‘وہ دروازہ نوک کر کہ مقدس کو زبردستی ہاتھ پکڑ کر وہاں روک چکی تھی۔۔ ’’زینب میں نہیں۔۔مقدس گڑبڑائی۔۔آگر وہ پہچان لیتا تو۔۔۔ ’’ارے رکو تو۔۔‘‘اتنے میں دروازہ کھلا تھا اور عیسیٰ عبداللہ کا چہرہ واضح ہوا تھا۔ ’’یس!‘‘عیسیٰ مقابل کھڑی لڑکی کو دیکھ ،ایک لمحے میں پہچان گیا تھا،اسکا گریبان کھلا ہوا تھا، آنکھیں ضبط سے سرخ ہورہی تھیں۔اپنے دوست سے فارغ ہوتا وہ زرتاج کو ایک کمرے میں داخل ہوتا دیکھ پیچھےپیچھے ہی اس روم میں آیا تھا، جہاں ازمیر اور زرتاج ایک دوسر ے کے بے حد نزدیک تھے۔اور انکی یہ نزدیکی دیکھ عیسیٰ کا پارہ ہائی ہواتھا۔اور بات مرنے مارنے پر آگئی تھی۔۔وہ پہلے ہی اشتعال میں تھا۔۔ ’’لڑکی تم۔۔۔‘‘عیسیٰ کوطیش آیا ،یہ وہی لڑکی تھی جس نے عیسیٰ عبداللہ کو مال میں تھپڑ دے مارا تھا۔۔شکر تھا کہ مینجر نے معاملہ سنبھال لیا تھا۔۔ ’’سر عیسیٰ یہ مقدس ہے۔ہماری دوست یہ آپ کی اتنی بڑی فین ہے،اور شی لوز یو آلوٹ!آگر آپ کی زندگی میں زرتاج میڈم نہ ہوتیں تو یہ ضرور آپ سے شادی کر لیتی۔۔‘‘زینب انتہائی بے باکی کا مظاہرہ کرتی مقدس کو عیسیٰ کی جانب دھکیل چکی تھی۔۔جو حیران و پریشانسی ہونقوں کی مانند اسکا جھوٹ سن رہی تھی۔۔ ’’یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔بے حیا لڑکی۔۔تمھیں شرم نہیں ہے۔یوں کسی بھی مرد کے گلے کا ہار بن جاتی ہو۔۔‘‘مقدس جو اچانک افتاد پر خود کو سنبھالنے کے لئے عیسیٰ کا سہارا لے چکی تھی، یکدم عیسیٰ کے پیچھے دھیکیلنے پر اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی تھی اور سیدھی زمین بوس ہوئی تھی۔۔جبکہ زینب عیسی کی حالت پر غور کرتی اور اسکا غصےٰ سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھ،الٹے قدموں وہاں سے واک آوٹ کر گئی تھی۔ ’’’کیا سمجھتی ہو تم میڈم!یوں کسی فلمی سین کی طرح تم مجھے مال میں تھپڑ دے مارو گی،پھر یوں اچانک سے میرےسامنے آکر اپنی کسی تھرڈ کلاس دوست کا سہارا لے کر اظہار محبت کروگی اور میں کسی فلمی بیوقوف ہیرو کی طرح تمھاری محبت میں دیوانہ ہوجاؤنگا۔۔‘‘وہ جو پہلے ہی اپنی غیرت پر بات آجانےپر زخمی بھیڑیا بنا ہوا تھا۔۔زمین پر گری مقدس کے مقابل پنچوں کے بل بیٹھتا اسکا جبڑا ہاتھوں کی مٹھی میں دبوچتا غصےٰ سے چنگھاڑا تھا۔۔اچانک پڑنے والی صورت حال پر مقدس کا وجود کپکپاہٹ کا شکار تھا۔۔ میں نہیں۔۔۔وہ جھوٹ۔۔ْ‘‘‘ ’’شٹ اپ! بہت اچھے سے جانتا ہوں میں تم جیسی تھرڈ کلاس لڑکیوں کو۔۔جو کرش کے چکر میں اپنی اپنے خاندان کی عزت تک نیلام کرنے سے گریز نہیں کرتی ہیں۔‘‘وہ شت سے غرایا تھا۔ دماغ میں ماضی کی کوئی بھولی بھٹکی سی یاد لہرائی تھی۔ ’’’آپ ٖغلط سمجھ رہے ہیں۔۔میں۔۔۔اس روز کے تھپڑ
