Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 2
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 21/04/2026
83 Views
Episode no 2
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی قسط نمبر 2 ’’ہاں ہاں مقدس آجاؤ !تمھارا اپنا ہی گھر ہے یار ۔۔۔"وہ اسکے ہاتھ سے بیگ لیتی مصنوعی مسکراہٹ سے بولی تھی۔۔اور ساتھ ہی قدم اندرونی حصّے کی جانب بڑھائے۔ مقدس نےایک سرسری سی نگاہ اٹھا کر ارد گرد میں گھمائی تھی۔وہ پھپھو کے گھر بابا کی زبردستی پر بس ایک بار بچپن میں آئی تھی اور اب آنا مجبوری تھا۔ ۔ وہی روایتی سا ماحول، دیواروں پر سجی ہوئی تصویریں، صوفے پر پڑے گلابی اور نیلے کشنز، ہر چیز جیسے بالکل ویسی تھی جیسی اسے یاد تھی۔ مگر پھر بھی کچھ بدلا بدلا سا لگ رہا تھا۔ شاید اس کے اندر کی دنیا بدل چکی تھی۔ جب وہ اپنے بابا کی موجودگی کی وجہ سے بے خوف ،خوش اور مطمئن تھی۔۔اور آج جیسے ایک خوف سا دل میں پنجے گاڑ کر بیٹھا تھا۔۔۔وہ سوچوں میں گم تھی کہ اتنے میں کانوں کو ایک چبھتی ہوئی آواز سنائی دی تھی۔ "اوہو، تو کیا اب ہمیں تمھاری مہمان نوازی بھی کرنی ہوگی، کیونکہ ہماری مقدس باجی اب یہیں قیام کریں گی!"مقدس نے سر گھما کر اچنبھے سے اسکی جانب دیکھا، گلابی جوڑے میں ملبوس مناہل صوفے پر بیٹھی ناخنوں سے کھیل رہی تھی، ساتھ ہی اسکے برانڈڈ بیگ کو ستائشی نگاہوں سے دیکھتی ،وہ چہرے پر ایک عجیب سی طنزیہ مسکراہٹ سجائے گویا ہوئی۔وہ خاموش رہی۔ "ویسے مقدس، تمھیں یہاں ایڈجسٹ ہونے میں وقت تو لگے گا، آخر اپنا گھر چھوڑ کر دوسروں کے سہارے آنا، آسان نہیں ہوتا نا؟"مناہل کی چبھتے لہجے میں کی گئی بات سیدھی اس کے دل میں جا لگی۔ مقدس نے بیگ کی ٹرالی پر ذرا مضبوطی سے ہاتھ جمائے ،بھیگتی نگاہیں جھکا لیں اور لب بھینچ گئی۔۔ "’’مناہل ! تم یہ کس انداز میں بات کر رہی ہو؟ مقدس تمہاری بہن ہے!اور یہ کیوں بے سہارا ہوتی ،ہم ابھی زندہ ہیں۔۔"پھوپھو نے فوراً بیٹی کو گھورا تھا۔۔۔ "افوہ امی آپ تو سیریس ہوگئیں، میں تو بس مذاق کر رہی تھی! خیر، مقدس باجی، امید ہے آپ کو یہاں کوئی شکایت نہیں ہوگی!" وہ چہرے پر ایک بناوٹی مسکراہٹ سجائے،ماں پر ایک نگاہ ڈال وہاں سے چل دی۔ مقدس نے ایک لمحے کے لیے گہری سانس لی اور آنکھیں بند کر کے اپنے اندر اٹھتے درد کو دبانے کی کوشش کی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ گھر اب اس کی پناہ گاہ تھا، مگر ساتھ ہی ساتھ ایک امتحان بھی۔ ’’بیٹا اس کی باتوں کو دل پر مت لینا ،اس کی تو عادت ہے یونہی زبان چلانے کی ،اؤ میں تمہیں تمہارا کمرہ دکھا دیتی ہوں۔"مقدس نے خاموشی سے سر ہلایا اور اپنے بکھرے جذبات کو سمیٹتی ہوئی ان کے ساتھ چل دی،وہ جانتی تھی کہ زندگی کے کٹھن سفر کی یہ تو بس شروعات تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیویارک کی یخ بستہ ہوا عیسی عبداللہ کے وجود سے ٹکراتی کپکپی طاری کئے دے رہی تھی،بظاہر گہرا جمود تھا۔مگر اندر اندر طوفان برپا تھا۔۔وہ گھر کو مقفل کرتا کچھ گھنٹوں پہلے ہی اپنی فلائٹ لینے کے لئے نکل چکا تھا، مگر ایئرپورٹ جانے سے پہلے ایک آخری بار اپنے دوستوں سے ملنا چاہتا تھا۔وہ انھين کال کرتا ایک قریبی کافی شاپ پر بلا چکا تھا۔جن میں زیادہ تر انڈین اور پاکستانی ہی تھے۔۔۔۔ "اوہ دیکھو کون آیا ہے! صاحب پاکستان جا رہے ہیں، اب وہاں جا کر پھر سے دیسی بن جانا، سوٹ پہن کر ہاتھ باندھ کر کمیڈی شو میں کھڑے ہو جانا!عدیل نے شرارت سے کہا اور سب قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔ عیسی نے ٹشن مارتے اسے گھورا،چشمہ اتار کر جیب میں رکھا اور مصنوعی سنجیدگی سے بولا، "دیکھ عدیل، اب ہر کوئی تیری طرح ویلا تو نہیں ہوتا نا کہ اپنے ملک جاكر صرف چائے کے ڈهابوں پر گرل فرینڈ کے فراق میں راتین کالی کرے ۔۔ویسے بھی برادر پاکستانی آڈینس آپ کے بھائی کو یاد کر رہی ہے ۔افٹر آل تمھارا بھائی ہیرو ہے پاکستان کا۔ "سب دوستوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے ،عدیل کو گھیر لیا تھا، جبکہ عیسی نے واپسی کی رآہ لی تھی ۔اس کی فلائٹ کا ٹائم ہوگیا تھا۔۔اسے سینے سے لگاتے وہ سب ہی اداس ہوگئے تھے۔۔۔ "اور ہاں، یہ بھول مت جانا کہ اگر شادی کی تو ہمیں بلانا ہے! ہم لوگ آن لائن سلامی بھیج دیں گے!" احمد نے ہنستے ہوئے کہا۔ ’’پہلے لڑکی تو مل جائے۔۔پھر ہوگی شادی۔خیر ہم خوشی کے موقع پر غریبوں کو کھانا لازمی کھلاتے ہیں۔تو تم لوگوں کو تو بھولنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہتا۔‘‘عیسیٰ نے مسکراہٹ دبا کر کہا،تو سب نے اسے گھورا،مگر پھر ہنس دئیے۔الوداعی کلمات ادا کرتا وہ ٹیکسی میں بیٹھ گیا تھا۔ ٹیکسی جیسے ہی ایئرپورٹ کے قریب پہنچی تھی، اس نےایک گہری سانس خارج کی تھی۔۔اور ایئر پورٹ کے احاطے میں داخل ہوا تھا ۔جبکہ سماعتوں سے اناؤنسمنٹ کی آواز ٹکرائی تھی۔۔ فلائٹ نمبر 00، کے لیے بورڈنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔"۔ وہ سر جھٹکتا تیزی سے کاؤنٹر کے نزدیک گیا تھا۔۔نیویارک سے پاکستان تک کی کنیکٹنگ فلائٹ تھی۔۔۔وہ ایک لمبے سفر کی اُڑان بھرتا سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موند گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے اپنی پھپھی کے گھر آئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہوچکا تھا ۔۔پہلے شروع کے کچھ دن تو وہ ٹھیک رہی تھیں ،مگر پھر انھونے اپنا اصل واضح کردیا تھا ۔۔گھر کے تمام کاموں کی ذمہ داری کا بوجھ مقدس کے کندھوں پر ڈال دیا تھا۔۔۔ ’’مقدس ۔۔۔۔او مقدس۔۔۔‘‘یہ مناہل کی آواز تھی۔۔۔ ’’ہاں کیا ہوا؟‘‘وہ اس وقت کپڑے نچوڑ رہی تھی، کپڑے بھیگے ہوئے تھے، سردی کے باعث ہلکی ہلکی ٹھنڈ بھی لگ رہی تھی،ہاتھ یخ بستہ ہو رہے تھے۔ ’’یہ کیا حلیہ بنا کر گھوم رہی ہو۔۔جلدی سے حالت دُرست کرو،تمہاری لینڈ لارڈ والدہ ماجدہ آئی ہوئی ہیں نیچے۔۔‘‘اس نے زرا منہ بنایا،وہ سانولی سی رنگت کی حامل عام سے نقوش والی لڑکی تھی۔۔جو اس سے عمر میں سال بھر سال چھوٹی تھی۔۔ ’’وہ کیوں آئی ہیں؟‘‘اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔۔ ’’پتہ نہیں مگر زرا جلدی سے نیچے آجاؤ۔اتنا سارا سامان لائی ہیں نا میں کیا بتاؤں تمہیں۔۔۔‘‘وہ ضرورت سے زیادہ ایکسائیٹڈ نظر آرہی تھی۔ ’’کام کر رہی ہوں میں۔۔‘‘اس نے بہانہ تراشہ۔۔۔ اوہ بہن بہانے نہ بناؤ۔جلدی نیچے پہنچو۔تمہاری ماما آئی ہوئی ہیں۔۔‘‘اس نے گھورا تو وہ خاموشی اختیار کر گئ۔۔ ’’تم چلو نیچے میں آتی ہوں۔۔‘‘کمر پر بندھے دوپٹے کی گرہ کھول کر سامنے پھیلایا تھا،ساتھ ہی قدم اسکی ہمراہی میں نیچے بڑھا دئے تھے۔۔ ’’تمھارے کپڑے۔۔۔‘‘مناہل کے اسکی ےوجہ کپڑوں کی جانب لگائی۔ ’’چھت پر کپڑے کہاں سے لاؤں۔۔‘‘وہ چڑ گئی تو وہ کندھے اچکاتی سیڑھیاں اتر گئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہ مقدس کہاں ہے نظر کیوں نہیں آرہی ہے۔۔‘‘وہ حیرانی کے عالم میں گویا ہوئی تھی۔۔انھیں آئے کافی دیر ہوگئی تھی ۔اور صاحب زادی کا کچھ پتہ نہیں تھا۔۔ ’’بس آرہی ہے سفینہ !تمہیں تو پتہ ہے اسے تم سے ملنا اچھا نہیں لگتا۔۔‘‘ وہ لب بھیچ گئیں۔۔ ’’السلام علیکم مسز مراد!‘‘وہ سیڑھیوں سےاُترتی سیدھی مہمان خانے میں چلی آئی تھی۔اور بغور اپنی پیدا کی ہوئی ماں کی شخصیت کا جائزہ لیا تھا،جو اپر سے لے کر نیچے تک برینڈز کے کپڑوں اور ہیرے کی جیولری میں لدی پدی ہوئی تھیں۔۔۔ ’’وعلیکم السلام اتنی سردی میں یہ بھیگے ہوئے کپڑے کیوں پہن کر گھوم رہی ہو؟‘‘اس بار ان کی پیشانی پر بل پڑے ،جسم پر کوئی سوئیٹر نامی چیز موجود نہیں تھی۔۔ ’’سردی! اچھا،عرصہ ہوا ،میرے تو تمام محسوسات ہی مر چکے ہیں۔۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرائی تو وہ لب
