Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 18
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 07/05/2026
24 Views
Episode no 18
دیکھ ایک جھرجھری سی لی تھی،جو اب کار اسٹارٹ کرتا روڈ پر ڈال چکا تھا۔ ’’سامنے دیکھ کر گاڑی چلاؤ،مجھے ابھی اتنی جلدی اُپر نہیں جانا۔‘‘وہ خفگی سے بولتی ہاتھ سے اسکے چہرے کا رخ پھیر گئی،جو ایک نظر سامنے خالی روڈ پر ڈال کر،پھر اسی پر نگاہیں گاڑ راہ تھا۔۔ ’’تمھارا چہرہ آج کافی انٹرسٹنگ لگ رہا ہے۔‘‘مقدس نے اس بار ہونقوں کی مانند اسے دیکھا تھا۔ ’’انٹرسٹنگ؟ایسا کیا ہوگیا؟‘‘اس نے جھٹ فرنٹ مرر سے ددیکھنے کی کوشش کی،پھر جب تسلی نہ ہوئی تو موبائل اٹھا کر فرنٹ کیمرہ آن کیا تھا،عیسیٰ نے لبوں پر مٹھی رکھتے مسکراہٹ ضبط کی تھی۔ ’’اچھا خاصیہ چہرہ میں میرا۔‘‘وہ مطئن ہوتی خفا ہوئی۔ ’’میں نے کب کہا کہ چہرے پر کچھ لگا ہے،مجھے تو بس تمھاری شکل مزہ دے رہی ہے،جو عبداللہ ہاؤس کے مکینوں کے جانے کے بعد اسے مرجھا گئی ہے،گویا تمھارا کوئی بریک اپ ہوگیا ہو۔‘‘ اس بار وہ شرارت سے بولا،تو مقدس اسے خفگی سے گھورتی پاؤں اپر رکھ ر اسی کی جانب رخ پھیر کر بیٹھ گئی،آج اس سے یوں بات کرنا اچھا لگ رہا تھا۔ ’’اداس تو میں ہوں،تم تو سارا دن گھر ہوتے نہیں ہو تو اس ایک مہینے میں ،میں نے بور ہوجانا ہے۔‘‘عیسیٰ نے ایک نظر اسے دیکھ اب ٹریفک کے باعث نگاہیں سامنے مرکوز کر لی تھیں۔ ’’بھئی نہیں جا رہا اس ایک مہینہ میں کہیں،تمھارے اس اکیلے پن کی وجہ سے میں اپنے شوز کی ڈیٹ ایکسٹینڈ کروا چکا ہوں،تاکہ ہم اپنا ہنی مون گھر میں منا سکیں۔ویسے بھی میاں بیوی کو شادی کے ساتھ زیادہ تر تنہائی چاہئے ہوتی ہے تاکہ وہ اپنا زیادہ تر وقت اکیلے گزار سکیں۔اور بلآخر عبداللہ ہاؤس کے مکینوں پر ہم پر ترس آہی گیا۔‘‘اسکی اس قدر بے باک گفتگو سن کر مقدس کی پلکیں آپ ہی لرز کر رخساروں پر سجدہ ریز ہوگئی تھیں،آج وہ کسی اور ہی موڈ میں لگ رہا تھا۔ وہ جوابً خاموش رہی تھی۔کچھ ساعتیں خاموشی چھائی رہی تھی،پھر و ہ گلا کھنکھار کر بولی۔ ’’’مجھے ابھی پھپھو کے گھر جانا ہے۔‘‘عیسیٰ جو ا ُسکا سرخ چہرہ نظروں میں بسائے مسلسل مسکرا رہا تھا،اسکی بات پر چونک گیا تھا۔۔ ’’کونسی پھپھو؟‘‘وہ ایک لمحے کو سمجھا نہیں تھا۔ ’’ایک ہی تو ہیں۔‘‘ ’’یار!اب تمھار ان سے کیا واسطہ!ویسے بھی گرینڈ پا نے مجھے بتایا تھا کافی مین خاتون ہیں وہ۔‘‘وہ بیزار ہوا تھا۔ ’’مجھے بس ایک بار ملاقات کرنی ہے ا ن سے عیسیٰ!‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی تھی۔ ’’اچھا ٹھیک ہے۔کیا تمھیں معلوم ہے اب وہ کہاں رہتی ہیں؟‘‘وہ جانچتی نگاہوں سے دیکھتا مطلوبہ راستے پر گاڑی ڈال چکا تھا۔ وہیں رہتی ہونگی جہاں رہتی ہیں۔‘‘وہ بے نیازی سے بولی۔ ’’نہیں!وہ وہاں نہیں رہتی ہیں،وہ اب ایک اچھے آئیریا میں موو کر گئی ہیں۔‘‘مقدس حیران ہوئی، ’’اور کیا یہ سب بھی میری وجہ سے دیا گیا تھا انھیں؟‘‘اس نے سوال کیا۔ ’’جی یوسف انکل کا کہنا تھا کہ وہ ان لوگوں کو انکی مطلوبہ رقم ادا کردی جائے تاکہ وہ کبھی مستقبل میں ، ان کی بیٹی پر حق جمانے کی غلطی نہ کر سکیں،چھوٹے دادا اور یوسف انکل یہی چاہتے ہیں کہ اب تم ان چیپ لوگوں سے کوئی کونٹیکٹ نہ رکھو،ماضی میں جو کچھ ہوا اسے بھول جاؤ۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا،جبکہ مقدس حیران تھی۔ جاری ہے
