Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 18
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 07/05/2026
24 Views
Episode no 18
رکھنا چاہئے۔‘‘وہ منہ بنا گیا۔۔مقدس کو غصہٰ آیا تھا۔۔۔ ’’مجھے درس دینے سے بہتر پہلے آپ اپنے گريبان میں جھانکيں! مجھے میرے ہی بھائیوں سے زیادہ فری نہ ہونے کا بھاشن دینےسے پہلے آپ کو چاہیے کہ غیر محرم عورتوں سے شرعی پردہ شروع كرديں ۔۔جن کو آپ فرینڈشپ کے نام پر ہگ کرتے پھرتے ہیں۔۔"عیسی کی گوہر افشائیاں سن کر وہ بری طرح تپی تھی۔۔۔ "زیادہ مُلانی نہ بنو میرے سامنے۔۔ہمارا کام ہے وہ ۔۔اور کام میں کسی کو ناراض نہیں کیا جاسکتا ۔۔اور تم ہمارے گھر کی عزت ہو ،عورت ذات کا اتنا بے باک ہونا اچھا نہیں ۔اور تم جب بولنے اور ہنسنے پر آتی ہو تو جگہ کا لحاظ ہی نہیں کرتیں۔"اس نے مزید تپایا تھا۔۔مقدس کا چہر ضبط سے سرخ پڑ گیا تھا۔۔ ’’اوہ واہ یہ تو وہی حساب ہوگیا ۔۔نيم حکیم خطرہِ جان ،نیم مُلا خطرہ ایمان۔۔۔"مقدس طنزیہ بولی تھی۔۔ ’’تمھارے جیسی زبان دراز بیویاں ہی ہوتی ہیں ،جن کی وجہ سے جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔"عیسیٰ نے اسے دیکھ خشک لہجے میں کہا تھا۔۔ ’’اور جنت میں بھی عورت کی تعداد زیادہ ہی ہوگی ۔وہاں بھی مرد پیچھے رہ جا ئیں گے ۔۔کیونکہ میرے جیسی نیک بیویاں تو ہوتی ہیں ،جو آپ جیسے بددماغ کے ساتھ گزارہ کرتی ہیں۔"اس نے بھی ایٹھ کا جواب پتھر سے دیا تھا۔ ’’تو ہو بھی تو ہم سے تعداد میں زیادہ،تو ہر جگہ وافر مقدار میں دستیاب ہوگی ۔۔ویسے بھی بیوی بن کر سر پر مسلط ہوجاتی ہو ،زندگی جینے ہی نہیں دیتیں ،بیچارہ شوہر ساٹھ میں اللّه کو پیارا ہوجاتا ہے تم سو سال تک بھی دنیا میں گلی ڈنڈا کھیلتی ہو۔۔"مقدس نے اسکے انداز پر مسکراہٹ چھپائی تھی۔ ’’اوہ یعنی مان لو کہ تم مرد حضرات میں ،جان ایک کو جھیلنے کی نہیں ہے اور باتیں چار چار کی کرتے ہو ۔۔۔"وہ استہزائیہ مسکرائی تھی۔۔ ’’جانم ہم تو ستر حوروں کی آس میں تم جیسی زبان دراز بیویوں کو جھیل لیتے ہیں ،ایک بات اور اچھے لوگ جلدی اللّه کو پیارے ہوجاتے ہیں ۔۔"وہ مزید پھیل گیا تھا۔۔۔۔ ’’اوہ افف یہ خوش فہمی !حرکتيں آپ جناب کی ایک بیوی ڈیزرو کرنے والی بھی نہیں ہیں اور بیٹھيں ہیں ستر حوروں کی آس لگا ئے ۔۔"وہ طنزیہ مسکرا کر مذاق اڑاتے لہجے میں بولی تھی۔۔ ’’اوہ لڑکیوں کی لائن لگی ہے میرے پیچھے ۔۔"اس نے مصنوعی کالر جھاڑے تھے۔۔ ’’سیل کی چیزوں پر یونہی لائن لگ جاتی ہے ۔"اس نے بھی ناک سے مكهی اڑائی۔۔ "سیل لگتی بھی تو برانڈ پر ہے ۔" ’’سستے برانڈ پر !"وہ کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔ ’’بس اب تم میرے چار والے آپشن سے زیادہ جیلس نہ ہو ۔۔۔۔ویسے تو مجھے چار کی آجازت ہے "فی الحال " اس جنم میں تمہارے ساتھ گزاره کرلونگا۔۔"وہ آج کل کا سب سے کنٹرورشل ورڈ یوز کرتا بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹتا مزید چوڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ ’’ویسے تو ڈئیر ہزبینڈ میں بھی آپ کی خود سے چار شادیاں کروا کر آپ کو دنیا میں ہی جہنم کے نظارے كراسکتی ہوں مگر فی الحال آپ کی صحت اور مینٹل کنڈیشن کو دیکھتے ہوئے آپ پر ترس کھا کر ایسا کر نہیں رہی۔"ناخنوں پھر پھونک مارتی وہ شانِ بے نیازی سے گویا ہوئی تھی۔۔۔عیسی نے داد دینے والے انداز میں ابرو اٹھائے تھے۔۔۔ ’’بیگم یہ مسٔلے مسائل ہم کڑوڑ پتی لوگوں کے ساتھ نہیں ہوتے۔۔"وہ کہنی کے بل ہوتا سر ہاتھ پر رکھ کر مزے سے بولا ۔۔مقصد محض اسے تپانا تھا مگر مجال ہے جو یہ حقیقت پسند ملانی ٹس سے مس ہوجاتی۔۔ ’’اوہ ذرا ایک ساتھ چار اِکھٹی رکھ کر تو دکھائیں ، کڑوڑ پتی تو دور کی بات کسی کے پتی بننے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔"وہ اُسے خونخوار نظروں سے گھورتی ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی تھی۔۔ ’’افف کتنی تیز لڑکی ہے یہ ! واقعی آگر اس جیسی تین اور آگئیں تو بھری جوانی میں ہی گنجا کردیں گی۔۔"وہ زیر لب بڑبڑآیا تھا۔۔ ’’ہاہاہاہا مین۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ دوپٹہ اٹھانے کی غرض سے باہر آتی اسکی خود ساختہ سرگو شی سے فیض یاب ہوتی استہزائیہ انداز میں بولتی اینڈ پر خود ہی قہقہہ لگا گئی۔۔جبکہ عیسی اسکی زبان کی تیزی پر چہرہ پر تکیہ رکھتا کان بند کرگیا۔۔۔۔۔ Don't underestimate the power of women... اب وہ یہی جملہ مسلسل دھیرے دھیرے گنگنانے کے انداز میں دہراتی اسے مزید چڑا رہی تھی۔۔ ’’یہ مت سمجھو کہ تم جیت گئی ہو۔‘‘اس بار وہ چڑ کر تکیہ سے منہ نکال کر بولا تھا۔اپنے ہیومر سے سب کے منہ بند کروانے والا بیوی کے سامنے خاموش ہوگیا تھا۔ ’’بحث میں جسے آخر میں بولنے کا موقع ملتا ہے فتح وہی ہوتا ہے۔‘‘وہ اترائی تھی۔ ’’گرینڈ پا کی منہ چڑی بہو ہو اس لئے کچھ نہیں کہتا۔ورنہ رونے لگ جاؤگی۔‘‘وہ شرارت سے بولتا ایک بار پھر تکیے میں منہ دے چکا تھا۔مقدس تپ کر نزدیک آتی کمر پر ہاتھ دھر کر بولی تھی۔۔ ’’اور آپ بھی میرے اکلوتے شوہر ہیں،اس لئے کچھ نہیں کہتی ورنہ پاکستان میں بیویاں شوہر کا قورمہ تک بنا کر کھا لیتی ہیں۔‘‘وہ تپ کر بولی تھی اور خود کو لاپرواہ ظاہر کرتے عیسیٰ کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔۔ساتھ ہی اس نے مقدس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے ساتھ لگایا تھا۔۔جو اب خود بھی ہنس رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’افف اللہ آپ سب لوگ جا رہے ہیں،میں کتنا بور ہو جاؤنگی۔۔‘‘ وہ اس وقت جناح انٹرنیشنل آئیر پورٹ پر موجود تھے۔عیسیٰ نے اپنی بیوی کی باتیں سُن کر آنکھیں گھمائیں تھیں۔۔ ’’ارے بیٹا بور کیوں ہونا ہے،عیسیٰ ہے نا،عیسیٰ گھر جلدی واپس آنا،بلکہ کہیں جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔گھر میں رہنا،اور سارا وقت مقدس کو دینا ہے تم نے۔‘‘وہ خبردار کر رہے تھے۔ ’’جی ضرور! مجھے تو اور کوئی کام ہی نہیں ہے۔‘‘وہ باپ سے گلے ملتا ذرا خفا ہوا۔ ’’عیسیٰ ہمیں شکایت کا موقع نہیں ملنا چاہئے،تم نے مقدس کا بہت خیال رکھنا ہے۔‘‘اس بار ابتسام صاحب نے تنبیہ کی۔ ’’یار آپ لوگ جائیں نا۔فلائٹ کا ٹائم ہو رہا ہے۔‘‘ اس بار وہ مقدس کو بائی کہتے سوٹ کیس ٹرالیاں گھسیٹتے ہوئے بورڈنگ کاؤنٹر کی جانب بڑھتے نظروں سے اُوجھل ہو گئے تھے۔ ’’چلیں بیگم!یا آپ کو اِسی فلائٹ میں کہیں ایڈجسٹ کردوں۔‘‘اس بار وہ اُداس کھڑی مقدس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتا کان کے نزدیک سرگوشی میں بولا تھا،تو مقدس نے ذرا اداسی سے اسکی جانب دیکھا تھا،جبکہ وہ اسکی شکل دیکھ نجانے کیوں مسکرا دیا تھا،اور بےساختگی میں ہونٹ ماتھے پر رکھ گیا۔۔ ’’تم پاگل ہوگئے ہو؟یہ سارا رومانس تمھیں آئیر پورٹ پر سوجھ رہا ہو،کمرے میں تمھیں سونے سے فر صت نہیں ہوتی۔‘‘سٹپٹا کر اسے گھور کر دور کرتی، کچھ اس آندا ز میں بولی تھی کہ عیسیٰ کا ہلکا سا قہقہہ بلند ہوا تھا۔ ’’تو چلو گھر چلتے ہیں،اور تمھارا یہ شکوہ بھی دور کر دیتے ہیں۔ویسے بھی اب تو گھرمیں بس ہم دونوں ہونگے،تو وقت اور جگہ کا لحاظ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔‘‘اسے یونہی حصار میں لئے ، ساتھ چلتا اسکے کان میں معنی خیزی سے سرگوشیانہ بولتا اسکا چہرہ سرخ کر گیا تھا۔ ’’بے ہودہ انسان!گاڑی میں بیٹھو۔۔‘‘ اسے گھور کر وہ تیزی سے بولتی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی،کہیں وہ یہیں پر اپنا رومانس نہ اسٹارٹ کردے۔جبکہ عیسیٰ اسکی پھرتی پر مسکرا کر رہ گیا تھا۔ ’’تم تو ایسے بھاگ رہی ہو جیسے میں ابھی کار میں ہی رومانس اسٹارٹ کردونگا۔‘‘وہ گاڑی میں بیٹھتے ہی شیشے اُپر کو چڑھاتا شرارتی لہجے میں بولا تھا،مقدس نے اسکے بدلے آنداز
