Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 18
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 07/05/2026
24 Views
Episode no 18
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 18 قسط نمبر ’’زرتاج یہاں کیا کر رہی ہے؟‘‘وہ ضبط سے پوچھ رہا تھا۔۔ ’’ار وہ ماڈلنگ کے لیے آئی ہے۔جب وہ تمھارے ساتھ تھی جبھی ماڈلنگ میں انٹری لے چکی تھی۔۔‘‘انھونے آگاہ کیا۔ ’’واٹ ربش!تو یہ یہاں میرے سیٹ پر کیا کر رہی ہےَ؟‘‘اس کو طیش آیا تھا۔ ’ڈائریکٹر کے بیٹے سے افئیر چل رہا ہے اس کا،،باقی تم خود سمجھدار ہو۔۔‘‘عیسیٰ مٹھیاں بھیچ گیا۔ ’’سوری مگر اس لڑکی کی موجودگی مجھے برداشت نہیں ہے۔‘‘وہ مزید بولا۔ ’’کم آن عیسیٰ!ایسے پتہ نہیں کتنے ایکٹرز اور ماڈلز ہیں۔جن کے اسکینڈلز کنٹر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں،پھر سب وقت کے ساتھ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔۔یوں تمھاری طرح سر پر سوار ر کہ سالوں کے لئے منظر سے کوئی غائب نہیں ہوتا۔۔اور اب جب کہ تم دو سال بعد کم بیک کر رہے ہو تو اسے میں زرتاج کی وجہ سے بد مزگی پھیلنا ناٹ گڈ!‘‘ عیسیٰ نے پیشانی کھجائی۔ ’’تمھارے مطلب میں ،میں کمپرومائز کرلوں،میں عیسیٰ عبداللہ!‘‘اس نے اپنی جانب سینے پر انگلی بجا کر اشارہ کرتے سوال کیا۔ ’’کم آن عیسیٰ! یوں ایک معمولی سی لڑکی کی خاطر تم انڈسٹری کے لوگوں سے مت بگاڑو۔۔‘‘اس نے صحیح مشورہ دیا تھا۔ ’’اور ویسے بھی وہ صرف وزٹ پر آئی ہے،اور اتنا تو تم بھی سمجھتے ہو کہ وہ یہاں صرف تمھیں اپنی موجودگی اور ہونے کا احساس دلانے آئی ہے،اس کے سوا کچھ نہیں ،تم اپنے شو ز کی طرف کونسنٹریٹ کرو۔‘‘عیسیٰ ضبط کرگیا تھا۔ ’’’میں گھر جا رہا ہوں۔۔۔‘‘وہ کسی حد تک اسکی بات سمجھتا سر جھٹک کر وہاں سے نکل آیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس لان میں کھڑی گلاب کی خوشبو سونگھ رہی تھی،جبھی اُسے پورچ میں رُکتی عیسیٰ کی گاڑی نظر آئی تھی۔۔ ’’’یہ انسان آج اتنی جلدی کیسے واپس آگیا؟‘‘عیسیٰ کی واپسی عموماً رات میں ہی ہوا کرتی تھی۔ وہ اسے دیکھ لینے کے باوجود تن فن کرتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔مقدس بھی ذرا حیرانی سے کمرے کی سمت بڑھی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’’کیا ہوا جلدی واپس آگئے؟‘‘وہ بیداری سے شرٹ کھینچ کر پینٹ سے نکالتا ، منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑا رہا تھا۔ ’’ضروری ہے کچھ ہوگا تو ہی جلدی گھر واپس آؤنگا؟‘‘وہ تپ گیا تھا۔ ’’’نہیں عموماً آدھی رات کو ہی گھر واپس آتے ہو نا۔‘‘وہ شرٹ اُٹھا کر ایک طرف کو رکھتی سنجیدگی سے بولی۔جبکہ وہ واشروم کی جانب بڑھا تھا۔مقدس کندھے اچکاتی روم سے نکل آئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقریباً پندرھ سے بیس منٹ بعد وہ روم میں آیا تو اسے مقدس کہیں دکھائی نہیں دی تھی۔عیسیٰ کو مزید جھنجھلاہٹ ہوئی تھی۔۔ایک طرف وہ اس رشتے کو وقت دے رہا تھا،جبکہ دوسری جانب مقدس میڈم کو عبداللہ ہاؤس کے مکینوں سے ہی فرصت نہیں تھی۔۔وہ تن فن کرتا ڈریسگنگ روم میں جاکر بند ہوگیا تھا،تاکہ جلد از جلد چینج کر کہ مقدس کو روم میں بلا سکے۔ وہ دو کافی کے مگ ہاتھ میں لئے روم میں واپس آئی تھی۔ جبکہ عیسیٰ بھی اسی وقت کمرے میں انٹر ہوا تھا۔ ’’’مل گئی تمھیں فرصت؟ جب میں گھر میں ہوا کروں تو تم یہاں روم میں نظر آنی چاہئے ہو مجھے۔‘‘وہ درشت لہجے میں بولتا بیڈ پر گرنے کے آنداز میں لیٹا تھا۔مقدس نے ذرا گھور کر دیکھا۔ ’’’کیا مطلب ہے اب کیا میں بے شرموں کی طرح دن دھاڑے روم میں بند ہوکر بیٹھ جاؤں؟‘‘سائیڈ ٹیبل پر کافی رکھتی وہ بیڈ پر ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی۔ ’’اس میں کونسی بے شرموں والی بات آگئی؟‘‘اس نے اُبرو اُٹھائے۔ ’’’کوئی بات نہیں ہے۔۔موڈ کیوں خراب ہے تمھارا؟خیر ویسے تو ہر وقت ہی خراب رہتا ہے۔‘‘اس نے بگڑے موڈ کے ساتھ پوچھتے رائے کا اظہار کیا۔ ’’اور میرے اس بگڑے موڈ کی وجہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی احمق عورت ہوتی ہے۔‘‘سائیڈ بیٹھتی مقدس کے اس پار رکھے کافی کے کپ کووہ ہاتھ بڑھا کر اٹھاتا ایک لمحے کو اسے گڑبڑا کر رکھ گیا تھا۔ ’’بندہ منہ سے مانگ لیتا ہے؟‘‘وہ زچ ہوئی تھی،عیسیٰ جو اب اس سے انچ بھر کے فاصلے پر نیم دراز تھا ذرا ٹھہرا،اور گھور کر دیکھا تھا۔۔ ’’کیوں میرے خود اٹھانے سے کونسی مصیبت آگئی؟‘‘کافی کا گھونٹ بھرتے اس نے ابرو اٹھائے۔ ’’عورت کا نام بتاؤ،جس کی وجہ سے تمھارا موڈ خراب ہوا ہے؟‘‘ اب وہ مزسے سے پاؤں اُپر رکھ کر بیٹھتی شرارتی لہجے میں استفساریہ گویا ہوئی تھی۔ ’’’کوئی نہیں،تم یہ بتاؤ۔نیچے کیا کر رہی تھیں۔۔‘‘ کافی کے آخری گھونٹ لیتا اس بار وہ سوالیہ آنداز میں گویا ہوا تھا۔ ’’’’سب لوگ میرم کے پاس جا رہے ہیں۔‘‘وہ اچانک سے بولی تھی۔ ’’ہاں تو؟اب یہ مت بولنا کہ تمھیں بھی ساتھ جانا ہے۔‘‘عیسیٰ نے ذرا گھور کر دیکھا تھا۔ ’’گرینڈ پا نے ویسے بھی کہا ہے کہ ابھی سب لوگ ملنے جا رہے ہیں،پھر میں اور تم بعد میں اس کی ڈلیوری کے بعد ملنے جائیں گے۔‘‘ذرا گھوم کر اپنا اور اسکے ہاتھ سے خالی کپ لے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتی وہ تفصیلی لہجے میں میں بولی تھی۔ ’’گرینڈ پا تو ہمیں ہنی مون پر بھیجنے کے چکر میں ہیں۔۔‘‘وہ تکیہ پر سر رکھنے بجائے مقدس کی گود میں سر رکھتا اسے ایک با ر پھر سے حیران کر چکا تھا۔ ’’’سر دباؤ یار!‘‘اسے یونہی خاموش بیٹھا دیکھ اس بار وہ چڑ کربولا تھا۔ ’’’یہ کونسی عورت سے لڑ کر آگئے ہو تم،جو تمھارے مزاج ہی بدلے ہوئے ہیں؟‘‘اس کے نرم ہاتھوں کا لمس پیشانی پر محسو س کرتے عیسیٰ نے آنکھیں موند لی تھیں۔ ’’ہے ایک پاگل عورت!‘‘وہ نیم غنودگی میں جاتا اب نرم لہجے میں پتہ نہیں کون کونسی باتیں کر رہا تھا،جبکہ مقدس حیران و پریشان ساتھ ہوئی تھی،شادی کے تین ماہ میں ان دونوں میں اس آنداز میں کبھی کوئی نارمل بات نہیں ہوئی تھی۔۔ ۔۔۔۔ ’’جنید تم کیسے ہو؟‘‘مقدس اس سے ویڈیو کال پر بات کر رہی تھی۔جو مسلسل کچھ نہ کچھ بول رہا تھا،اور مقدس قہقہہ لگا کر ہنس رہی تھی۔ ’’اوہ بھئی ایسے کونسے لطیفے سنا رہا ہے تو میری بیوی کو ،جو اسکی ہنسی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔۔‘‘عیسیٰ نے ساتھ بیٹھتے مزاحیہ لہجے میں کہا تھا۔ ’’اب آپ تو سسٹر کو ٹائم ہی نہیں دیتے تو میں نے سوچا میں ہی پیاری سی لڑکی کو ہنسا دیتا ہوں۔‘‘ جنید شرارتی لہجے میں بولا۔ ’’تمھاری سسٹر کے لئے دنیا جہاں کے لئے وقت ہوتا ہے بس ایک نہیں ہوتا تو شوہر کے لئے وقت نہیں ہوتا۔۔‘‘وہ ذرا ناراض لہجے میں گویا ہوا تھا،مقدس مسکرا دی۔ ’’خیر یہ بتائیں آپ دونوں ہنی مون پر ہمارے پاس کب آرہے ہیں؟‘‘وہ سوالیہ بولا۔ ’’معاف کرو بھائی۔۔ہنی مون پر جانا ہوگا تو میں کسی ایسی جگہ جاؤنگا جہاں تم سب کا نام و نشان بھی نہ ہو،ورنہ میرا ہنی مون تم لوگوں کا ٹرپ بن جائے گا۔اور اپنی بیوی سے مجھے پوری امید ہے یہ سارا وقت تم لوگوں کو دے رہی ہوگی۔‘‘عیسیٰ کی بے باکی پر مقدس نے ہونقوں کی مانند دیکھا تھا،جبکہ جنید قہقہہ لگا گیا۔ ’’اچھا بھابھی میں بعد میں بات کرتا ہوں،مام بلا رہی ہیں۔۔‘‘وہ عجلت میں بولتا رابطہ منقطع کر گیا۔ ’’یہ تم اتنی فری کیوں ہوتی ہو جنید سے۔‘‘وہ بیڈ پر نیم دراز ذرا خفگی سے بولا۔ ’’بھائی ہے میرا۔۔‘‘اس کے لبون پر مسکرا ہٹ کھل گئی تھی۔ ’’لیکن مجھے تمھارا یوں جنید سے فری ہونا اچھا نہیں لگتا۔‘‘مقدس نے حیرت سے دیکھا۔ ’’عیسیٰ وہ میرا بھائی ہے۔۔ ’’جو بھی ہے۔۔بس مجھے نہیں پسند۔اور تمھیں شوہر کی پسند نا پسند کا خیال
