Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/05/2026
21 Views
Episode no 13
پاگل ہو کیا؟ایک ہزار مرتبہ بتا دیا،اس کے باوجود کونسی خوش فہمی پال رکھی ہے تم نے۔‘‘وہ تپ گئ تھی۔ ’’تم ایسے نہیں مانو گی مجھے خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔۔‘‘وہ اسے گھورتا ہوا وہاں سے نکل گیا ۔۔جبکہ وہ سر جھٹک گئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مقدس بیٹا عیسیٰ کا رویہ تو ٹھیک ہے نا آپ کے ساتھ؟‘‘وہ انکے پاس اسٹڈی میں بیٹھی تھی۔ ’’جی گرینڈ پا!‘‘وہ دھیرے سے بولی۔ ’’آپ دونوں کے درمیان کوئی مسّلہ ہے کیا؟‘‘ وہ جانچتے لہجے میں بولے۔ ’’ایسا تو نہیں ہے۔‘‘وہ پر اعتمادی سے بولی۔ ’’ہونا بھی نہیں چاہئے!مگر آگر کوئی بھی پروبلم ہو تو آپ نے مجھے بتانا!عیسیٰ کے کان میں خود کھینچ لونگا۔‘‘وہ مان بخش رہے تھے۔ ’’عیسیٰ کے کان لمبے ہوجائیں گے۔‘‘وہ شرارتی لہجے میں بولی تھی۔ ’’ہوجانے دو،ہمارے بیٹی کو تنگ کرنی سزا تو ملنی چاہئے نا۔۔‘‘عیسیٰ جو ابتسام صاحب سے بات کرنے کی غرض سے وہاں آیا تھا کہ اس منہ چڑی کو وہاں دیکھ الٹے قدموں واپس پلٹ گیا تھا۔۔۔ ’’گرینڈ پا کی منہ چڑی بہو۔۔‘‘زیر لب بڑبڑاتا وہ گاڑی لے کر گھر سے نکل گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’سائن کرو ان کاغذات پر۔۔‘‘کاغذات اسکی گود میں رکھتے ،وہ ایک بار پھر خود پر وہی خول چڑھا چکا تھا۔۔ ’’کس چیز کے کاغذات ہیں یہ؟کیا اپنی آدھی جائیداد میرے نام کر رہے ہو عیسیٰ عبداللہ!‘‘اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھتے شرارتی لہجے میں استفسار کرتے دوپٹہ ڈھیلا کیا۔۔ ’’آدھی جائیداد!تمہیں تو میں اپنا بخار بھی نہ دوں۔‘‘اس نے ذرا طنزیہ آنداز میں دیکھتے سر جھٹکا۔وہ اسے تپانے کو ارادتاً کھلکھلائی۔ ’’نہیں کریں مائی ڈئیر ہزبینڈ!آپ جب ایسی باتیں کرتے ہیں تو آپ سے محبت ہونے لگتی ہے،اور وہ میں کرنا نہیں چاہتی۔‘‘اس نے تاسفی سانس کھینچ کر اس ڈھیٹ ہڈھی کو گھورا تھا۔ ’’ایسے نہ دیکھیں پیار ہوجائے گا۔۔‘‘اس نے شرارتی مسکان سمیت لب دبائے۔ ’’جعلی مولانی تمہاری ایسی باتیں بنانے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ تم، کس قدر فلمیں ڈرامے دیکھتی رہی ہوگی،اور اب نیک پروین بنتی ہو۔‘‘ مقدس اس کے تبصر ے پر مسکرائی،جبکہ عیسیٰ کو اسکی یہ مسکراہٹ ہمیشہ کی طرح جھنجھلاہٹ میں مبتلہ کر رہی تھی۔ ’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ کبھی کبھار نماز پڑھنے اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے سے کوئی بھی آپ کو مولانی پکار سکتا ہے۔‘‘اس بار مقدس نے ذرا تاسفی نگاہوں سے گھورا تھا،یہ حقیقت تھی وہ کونسی نیک مسلمان تھی جو اسکا شوہر ہر وقت اسکا پیچھا لئے رہتا تھا۔ ’’’اچھا تو پھر گھر والوں کے سامنے اتنی اچھی بننے کا ڈرامہ کیوں کرتی ہو۔ اور خاموش طبع اتنی کہ لوگوں کو محترمہ کے گونگا ہونے کا گماں ہوتا ہے،تمہاری گز بھر کی زبان کی حقیقت تو کوئی مجھ سے پوچھے۔‘‘وہ بھنا کر طنزیہ بولا۔ ’’’آہ مائی ڈئیر ہزبینڈ! میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں،کیا آپ واقعی ہماری پرسنل باتیں یوں پبلکی کر کہ خود کو بے لباس کریں گے۔‘‘وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتی ایک بار پھر تپا چکی تھی۔۔ ’’’لاحول ۔۔۔۔میں کیوں خود کو بے لباس کرنے لگا۔‘‘وہ اسکے لفظوں کا مکمل مفہوم نہیں سمجھا تھا۔ ’’’آپ میرے عیبوں پر سے پردہ چاک کریں گے تو گویا خود کو بے لباس کریں گے نا۔‘‘اس نے ایک بار پھر مسکراہٹ دبائی تھی۔ ’’’دیکھا دیکھا بن گئی مولانی۔۔‘‘عیسیٰ نے دانت کچکچائے۔ ’’’خیر کس چیز کے کاغذات ہیں،کیا آپ مجھے ہنی مون پر لے کر جا رہے ہیں؟‘‘ عیسیٰ کا دل کیا اپنا سر دیوار میں دے مارے۔ ’’’خلع کے کاغذات ہیں یہ۔ان پر سائن کرو ،اور جاکر دادا ابو کے حوالے کردو،جب تم ان کاغذات پر دستخط کردوگی کہ تو سب پر تمہاری حقیقت واضح ہوجائے گی کہ تم اس رشتہ سے آزادی چاہتی ہو۔‘‘اس بار وہ ذرا قریب جھک کر پچکارنے والے آنداز میں بولتا ، دلکشی سے مسکرایا تھا،کیونکہ ایک لمحے کے لئے مقدس کے چہرہ رنگ اڑ گیا تھا۔ جاری ہے
