Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/05/2026
21 Views
Episode no 13
ہے تمھیں۔۔پیچھلے تین گھنٹوں سے تمھیں پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا ہوں۔‘‘وہ اسے پکڑ کر جھنجھوڑ چکا تھا۔۔مقدس نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ ’’’تم خود مجھے چھوڑ کر گئے تھے،تو میں کیوں وہاں ٹھہرتی،تمھیں ذرا احساس تھا میرا۔۔۔تم مجھے اندھیری سڑک پر اکیلا چھوڑ گئے۔۔میں گرینڈ پا سے تمھاری شکایت کرونگی۔۔‘‘وہ یک غصےٰ سے بولی تھی۔۔عیسیٰ کا دل کیا اسکا چہرہ سرخ کردے۔۔ ’’’پاگل ہو؟مینٹل ہو،دماغی مسلہ ہے تمھارے ساتھَ ،یا آنکھوں کی جگہ بٹن لگا رکھیں۔۔تمھیں نظر نہیں آیا کہ میں تمھیں چھوڑ کر نہیں گیا تھا بیوقوف عورت میں سنگلز کی وجہ سے ذرا اونچائی کی طرف گیا تھا۔۔‘‘عیسیٰ ایک لمحے میں اسکا دماغ پڑھتا اپنا غصہٰ بمشکل دبائے سخت لہجے میں غرایا تھا۔ ’’’جھوٹ مت بولو!تم مجھے چھوڑ کر گئے تھے۔۔‘‘اس کے غصےٰ سے کانپتی اب وہ سوں سوں کرتی باآواز رونے لگی تھی۔۔ ’’’پتہ نہیں کونسی مصیبت میرے گلے میں ڈال دی ہے گرینڈ پا نے۔۔‘‘وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے بال جکڑتا تاسفی لہجے میں اسکو دیکھ کر بولا،جس نے رونے کے ساتھ ٹھہر کر اسے دیکھا تھا،رونے کے باعث آنکھیں گلابی پڑ گئیں تھیں۔ ’’’تو اپنے گلے سے اتار کر پھینک دو نا اس مصیبت کو،کس نے کہا ہے گلے پڑا ڈھول بجانے کو۔۔‘‘وہ غصےٰ سے غرائی تھی۔۔عیسیٰ نے ایک تاسفی نگاہ ڈال کر اپنے چہرہ پر ہاتھ پھیرا تھا۔اور اس وقت پر لعنت بھیجی تھی جب وہ پہلی بار مقدس سے ٹکرا گیا تھا۔۔۔کاش کہ وہ اس روز نہ ٹکراتا،وہ سب نہ ہوا ہوتا تو وہ اسے دل سے بیوی قبول کر چکا ہوتا۔۔۔مگر چاہنے کے باوجود اسکی نگاہوں سے وہ منظر جاتا ہی نہیں تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس اُٹھ کر صوفے پر آتی روتے روتے ہی سو گئی تھی۔عیسیٰ کافی دیر سے شاور لے رہا تھا۔۔تاکہ اسکا غصہٰ ٹھنڈ ہوجائے۔۔ایک بات تو وہ اچھے سے سمجھ گیا تھا کہ وہ لڑکی خود ترسی کا شکار تھی۔۔۔ وہ ٹاول سے بال رگڑتا باہر آیا تو اسے صوفے پر سوتا ہوا پایا تھا۔۔اور پھر وہ بھی ڈھنے کے آنداز میں بیڈ پر گرا تھا۔۔ اس لڑکی کاکچھ تو کرنا پڑے گا۔۔میں اس جیسی لڑکی کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتا۔۔‘‘وہ سُوچوں میں محو تھا۔۔سارا دن کی تھکن تھی۔۔اور نجانے کب اسکی آنکھ لگ گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اماں دیکھ رہی ہے اس مقدس کے تو نصیب ہی جاگ گئے ہیں۔۔۔‘‘وہ مقدس کو ٹی وی پر دیکھ رشک کر رہی تھی۔ ’’نصیب تو اس کی بدولت ہمارے بھی جاگ گئے ہیں۔۔ورنہ کیا ہماری اقات تھی اس بنگلے میں رہنے کی۔‘‘پھپھو صاحبہ استہزائیہ مسکرائیں تھیں۔۔انھیں یہاں شفٹ ہوئے ایک دس ہی دن ہوئے تھے۔ ’’یہ تو ہے۔۔ویسے اماں میں تمھاری اکلوتی بیٹی ہوں،تو یہ بنگلہ تو پھر میرا ہو ہوگا نا۔۔‘‘وہ ایکساٗیٹڈ ہوئی۔ ’’ظاہر ہے۔۔مگر ا ب تو میرے اور اپنے بابا کے مرنے کی دعائیں نہ کرنے لگ جانا۔۔‘‘انھونے منہ چڑیا۔۔تو مناہل قہقہہ لگا گئی۔ ’’ایسا بھی نہیں ہے مگر اماں تو اس مقدس کے کپڑے تو دیکھ ذرا،کتنی خوبصورت لگ رہی ہے۔۔اور اسکا شوہر،میرا کرش۔۔۔افف!‘‘وہ آہ بھرنے والے لہجے میں بولی۔ ’’چپ کر جا۔۔بڑے صاحب نے بولا تھا کہ اب ہمارا مقدس سے کوئی واسطہ نہیں ہے تو اب ہم بھول کر بھی اسکا نام نہ لیں۔۔‘‘انھونے تنبیہ کی۔ ’’ویسے اتنا سب مل جانے کے بعد،ہمیں کیا ضرورت ہے مقدس کا نام لینے کی۔۔‘‘وہ ہولے سے مسکرائی۔۔۔بے حسی کی انتہا یہاں ختم تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دبئی کی فلک بوس عمارتوں کے درمیان ایک شیشے کی دیواروں والا اپارٹمنٹ زرتاج کا تھا، جہاں باہر کی چمچماتی روشنیوں کے باوجود اندر خاموشی کا راج تھا۔ ایک بڑا ایل ای ڈی اسکرین دیوار پر لگی تھی، جس پر پاکستان کا مشہور مارننگ شو چل رہا تھا۔ "’’’سو، مسٹر عیسیٰ! ابھی بریک میں آپ کی وائف نے ہمیں بتایا ہے کہ آپ نے اپنی شادی پر ہمارے معصوم میڈیا کو غلط ایڈریس کے کارڈ بنوا کر بھیج دیے تھے۔ ایسا کیوں؟" ’’’مارننگ شو کی ہوسٹ صنم کے پرجوش الفاظ دبئی میں بیٹھے زرتاج جو صوفے پر پیر سمیٹے، کافی کا کپ ہاتھ میں لیے، خاموشی سے شو دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی تھی۔۔ اس نے کپ کو ٹیبل پر رکھا اور ریموٹ کنٹرول اٹھا کر آواز تھوڑی اور بڑھا دی۔ اسکرین پر مقدس شرارتی انداز میں عیسیٰ کی طرف دیکھ رہی تھی، اور عیسیٰ لبوں پر مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ جواب دے رہا تھا۔سیاہ آنکھوں کی چم ک ہی الگ تھیئ،جبکہ ساتھ بیٹھی وہ کامنی سی لڑکی،بار بار عیسیٰ کے کسی شوخ جملے پر شرما کر مسکراتی نگاہیں جھکا جاتی، گال گلابی ہورہے تھے۔۔ بس، یہ ہماری محبت کا ایک چھوٹا سا سیکرٹ مشن تھا۔‘‘وہ مزید صنم کے کسی شوخ سوال کا جواب دے رہا تھا۔۔" زرتاج نے ہلکا سا استہزائیہ قہقہہ لگایا اور اپنی مخروطی انگلیوں سے صوفے کی آرم ریسٹ پر آہستہ سے بجانے لگی، جیسے کوئی پرانی بات یاد آ گئی ہو۔ دبئی کے مہنگے اور پُرشکوہ اپارٹمنٹ میں، جہاں ہر چیز جدید طرز کی تھی، وہاں صرف ایک چیز پرانی تھی۔۔۔۔۔زرتاج کی آنکھوں میں بسی چند یادیں،وہ لمحے جو عیسیٰ کے ساتھ گزارے تھے۔۔ "اور آپ جیسے لوگ شادی میں لفافے میں کیا لاکھوں کے چیک دیتے ہیں؟" زرتاج نے لب بھینچ لیے اور سر جھٹک گئی۔ تمہیں نہیں پتا مقدس عبداللہ … کچھ لوگ تو شادی میں نہ چیک دیتے ہیں، نہ مبارکباد، وہ بس آپ سے آپ کی قیمتی چیز چھین لیتے ہیں۔‘ وہ خود سے سرگوشی میں بولی اور ریموٹ سے ٹی وی بند کر دیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان دونوں کے مابین اس رات کو گزرے دو دن گزر چکے تھے۔مگر دونوں ہی میں اب تک ناراضی قائم تھی۔۔وہ جو طنز کے تیر چلاتے بات کر لیا کرتے تھے۔۔اب اس سے بھی چلے گئے تھے۔۔۔ کمرے کے اندر کا ماحول مکمل خاموش تھا۔ مقدس اور عیسیٰ ایک ہی کمرے میں موجود ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کوسوں دور محسوس ہو رہے تھے مقدس قد آواز کھڑکی کے قریب کھڑی تھی، بازو سینے پر بندھے ہوئے تھے اور نگاہیں کھڑکی سے باہر نجانے کیا تلاس کر رہی تھی۔ آسمان کی چاندنی مدھم تھی، جیسے آسمان پر بھی کوئی گہری اداسی چھائی ہو۔ اس کا چہرہ سپاٹ تھا، مگر آنکھوں میں ازیت کی ایک داستان رقم تھی۔ دوسری طرف، عیسیٰ صوفے پر نیم دراز تھا۔وہ سارا دن کسی ایڈکی شوٹنگ کی وجہ سے باہر ہی رہا تھا۔ اس نے کوٹ اتار کر سائیڈ پر رکھ دیا تھا اور آستینیں چڑھا رکھی تھیں۔ اس کی نظریں چھت پر ٹکی ہوئی تھیں، مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔ وہ ایک بار نظریں اٹھا کر مقدس کی طرف دیکھنا چاہتا تھا، مگر اپنی ضد کے ہاتھوں مجبور ہو کر رخ موڑ گیا۔وہ دو دن سے بالکل خاموش تھی۔شاید اسکی ڈانٹ کو زیادہ ہی دل پر لے گئی تھی۔۔مگر اسے کیا۔۔۔وہ سوچ کر سر جھٹک گیا۔۔ کسی احساس کے تحت مقدس نے جیسے ہی پلٹ کر دیکھا، عیسیٰ کی نظر خودبخود اس کی سمت اُٹھ گئی تھیں۔ ایک لمحے کے لیے دونوں کی نگاہوں کا تصادم ہوا تھا، مگر اگلے ہی لمحے دونوں نے ایک ساتھ رخ پھیر لیا۔ کوئی بھی پہل کرنا نہیں چاہتا تھا، کوئی بھی اپنی ضد توڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مقدس!‘‘وہ جو صوفہ کم بیڈ پر نیم دراز تھی چونکی۔ ’’ہمم!‘‘وہ پہل کر چکا تھا۔ ’’پھر کیا سوچا تم نے؟‘‘پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے وہ سوالیہ بولا۔ ’’کس بارے میں؟‘‘وہ سوالیہ گویا ہوئی۔ ’’ہمارے رشتے کے بارے میں۔‘‘وہ اسے گھور کر رہ گئی۔ ’’تم
