Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/05/2026
21 Views
Episode no 13
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 13 قسط نمبر ابتسام صاحب کی ہدایت پر شو کی شوٹنگ کے بعد وہ لو گ واپسی پر ذرا لانگ ڈرائیو پر نکل گئے تھے،انہیں واپسی میں شام ہوگئی تھی۔۔۔۔عیسیٰ خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ مقدس بالکل خاموشی سے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔۔۔ رات کا اندھیرا چاروں طرف پھیل چکا تھا۔ سڑک کے کنارے موجود اسٹریٹ لائٹس بھی کہیں کہیں ہی جل رہی تھیں، اور ارد گرد صرف سنسان راستہ اور سائے تھے۔ ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک تھی۔۔۔ عیسیٰ کی سیاہ مرسڈیز رفتار سے سڑک پر رواں تھی کہ اچانک ایک جھٹکے کے ساتھ رُک گئی۔ انجن نے ایک عجیب سی آواز نکالی اور پھر مکمل خاموشی چھا گئی۔ عیسیٰ نے حیرت اور ناگواری سے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارا، جبکہ مقدس نے چونک کر اسے دیکھا۔ "یہ کیا ہوا؟" مقدس نے بے ساختہ پوچھا۔ "لگتا ہے گاڑی نے بھی ہماری طرح آج کا دن کافی انجوائے کیا ہے،" عیسیٰ نے گہری سانس لے کر کہا اور دروازہ کھول کر نیچے اترا۔ مقدس نے کھڑکی سے باہر جھانکا، ارد گرد صرف سناٹا تھا۔ دور کہیں سناٹے میں کتوں کی آواز گونج رہی تھی، جس نے خاموشی کو اور زیادہ پراسرار بنا دیاتھا۔ "یہ جگہ کچھ زیادہ ہی سنسان نہیں لگ رہی؟" عیسیٰ نے فون نکال کر سگنل چیک کیے، مگر قسمت شاید آج ساتھ دینے کے موڈ میں نہیں تھی۔ "زبردست! سگنلز بھی جا چکے ہیں،" اس نے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔ وہ ذرا حیران ہوئی تھی۔۔"اب؟ ہم یہاں کھڑے رہیں گے؟ " ’’اب مجھے کچھ سوچنے دو۔جب سے بڑبڑ کیے جا رہی ہو۔۔‘‘ایک لمحہ لگا تھا عیسیٰ کا دماغ گھومنے میں۔۔ ’’ایسا کیا سوچ رہے ہو،جیسے سوچنے کے لئے پرسکون جگہ اور ماحول چائیے۔۔‘‘وہ گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی تھی۔۔ ’’تم میرے ساتھ ہو نا،اسی لئے یہ سب ہورہا ہے،ورنہ آج تک کبھی میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔۔‘‘وہ خفا ہوا۔۔ ’’واٹ؟تمھارا مطلب ہے کہ میں منحوس ہوں؟‘‘اس نے ویسے ہی چڑ کر کہہ دیا تھا،مگر وہ یہ جملہ پہلے بھی کئی بار سن چکی تھی،اسی لئے دل پر لے گئی۔۔ ’’’ہاں کوئی شک نہیں!‘‘وہ تپانے کی غرض سے غصےٰ سے بولا تھا۔وہ بے یقینی سے کتنی ہی دیر اسے دیکھتی رہی تھی،پھر سر جھٹک کر خاموش رہ گئی۔۔دل بھاری ہونے لگا تھا۔۔آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔۔جبکہ عیسیٰ نوٹس لئے بغیر پریشان سا بار بار موبائل کے سنگلز ملانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ ’’’کسی اونچائی والی جگہ سے ٹرائی کرتا ہوں۔۔‘‘ وہ ارد گرد میں پڑا اونچا پتھر دیکھتا اس طرف چل پڑا،جبکہ مقدس نے حیرت سے اسے دیکھا تھا،جو پتہ نہیں کیا خود ساختہ سرگوشیاں کرتا اسے اکیلا چھوڑ کر جا رہا تھا۔۔ ’’’عیسیٰ!‘‘دل کیا اسے آواز لگا کر رُوک لے،اندھیرا بڑھنے لگا تھا۔اور پھر اسکے لفظوں نے اسے تکلیف پہنچائی تھی۔۔بقول اس کے وہ منحوس تھی۔۔جو جب سے اسکی زندگی میں شامل ہوئی تھی،وہ بری طرح سے پھنس چکا تھا۔۔ ’’’تم کیا سمجھتے ہو،میں خود اکیلے نہیں جا سکتی!ہونہہ!مجھے بھی گھر کا راستہ معلوم ہے۔‘‘وہ آنکھوں میں نمی لئے سیدھی چلنے لگی،وہ اپنی خودترسی میں یہ بھی نہ سمجھ سکی،کہ وہ گھر جانے والے راستہ کے بجائے پیچھے کیوں گیا ہے۔۔جبکہ عیسیٰ نے پلٹ پر دیکھنے کی کوشش کی تو مقدس غائب تھی۔۔وہ سمجھا کہ میڈم گاڑی میں بیٹھ گئیں ہیں۔۔بمشکل تو سگنلز آئے تھے۔۔۔اس نے جلدی سے گھر کال ملائی تھی۔۔ ’’’ہیلو!شامیر گاڑی کی لوکیشن ٹریک کرو اور فوراً گارڈز کے ساتھ یہان پہنچو۔۔میری گاڑی خراب ہوگئی ہے۔۔میڈم میرے ساتھ ہی ہیں۔۔بٹ ابھی گھر میں کسی کو نہ بتانا!‘‘وہ اپنے مینجر جو بول کر اب خود ایک دو مزید کالز کرتا بڑے بڑے قدم لیتا گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ ’’’مقدس!‘‘وہ گاڑی میں بیٹھا تو گاڑی بالکل خالی تھی،عیسیٰ کے ہاتھوں کے طوطے اڑنے کی باری اب تھی۔۔۔ ’’’یہ کہاں گئی؟مقدس!‘‘وہ تیزی سے گاڑی سے باہر آیا تھا،اور ارد گرد میں نگاہیں چلا کر باآواز پکارا تھا۔کیا پتہ وہ یہیں کہیں ہو۔۔۔ ’’’مقدس تم مجھے سن رہی ہو؟؟‘‘وہ تیز آواز میں چلایا مگر آواز کوئی رسپانس نہیں تھا۔پیشانی پر پسینہ چمک اٹھا تھا۔۔۔ ’’’اوہ گاڈ یہ لڑکی کہاں چلی گئی ہے۔۔ابھی تک تو یہیں تھی۔۔۔‘‘اس کا بیگ موبائل سے گاڑی میں ہی پڑ اتھا۔۔بیس منٹ سے وہ پاگلوں کی طرح اسے اِرد گرد میں ہر جگہ تلاش کر چکا تھا۔۔ وہ مزید قدم لیتا گاڑی سے کافی دور نکل آیا تھا۔۔۔مگر مقدس کا کچھ پتہ نہیں چلا تھا۔۔آدھا گھنٹہ مزید گزر گیا تھا۔۔عیسیٰ کو سوچ سوچ کر خود پر غصہٰ آرہا تھا،کہ وہ کیوں اس پاگل لڑکی کو گاڑی میں بیٹھنے کی تنبیہ نہیں کر کہ گیا۔۔۔وہ چند قدموں کی دوری پر وہیں تو تھا۔۔کوئی گاڑی نہیں آئی تھی۔۔کچھ نہیں ہوا تھا۔۔تو وہ اکیلے کیسے چل پڑی تھی۔۔۔ ’’’سرآپ کہان جا رہے ہیں؟‘‘وہ پریشانی کے عالم میں چلتا چلا جارہا تھا،جبھی مینجر گارڈز کی گاڑی کے ساتھ وہاں آیا تھا۔۔ ’’’اوہ تھینک گاڈ تم آگئے۔۔گاڑی وہاں آگئے کھڑی ہے۔۔اس میں میڈم کا سامان ہے وہ سیفلی گھر پہنچاؤ۔۔۔اور جلدی چلو یہاں سے۔۔‘‘دوسری گاڑی عیسیٰ کی گاڑی کی طرف بڑھ گئی تھی۔جبکہ وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔۔ ’’سر میڈم کہاں ہیں؟؟‘‘وہ متفکر لہجے میں بولا۔۔ ’’’مجھے نہیں معلوم!میرے ساتھ ہی تھی،پھر پتہ نہیں کہاں چلی گئی۔۔‘‘کلبوں پر مٹھی جمائے وہ حد درجہ پریشان تھا۔۔ ’’’تو پھر پولیس اسٹیشن چلیں!‘‘وہ گاڑی کی ریس دیتا سوالیہ بولا۔۔ ’’’نو نو۔۔۔نیور!‘‘وہ یہ رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔ ’‘‘’پھر؟ گھر چلو!شاید گھر چلی گئی ہو۔۔‘‘وہ قیاس لڑا رہا تھا۔۔‘‘ ’’’مگر سر یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ میڈم کو کسی نے کڈنیپ کر لیا ہو؟‘‘اس نے رائے کا اظہار کیا۔۔ ’’امپاسبل!وہ خود یہاں سے گئی ہے۔۔میں وہیں تک اس تمام عرصے میں وہاں سے کوئی گاڑی گزری ہی نہیں ہے۔۔۔‘‘وہ رائے کا اظہار کر رہا تھا۔۔ ’’’بٹ سر یہاں مین روڈ ہے۔۔کیا پتہ میڈم یہاں آگئی ہوں۔۔‘‘اسے بات کرتے ہوئے بھی جھجھک محسوس ہورہی تھی۔۔بھلا اپنی ہی بیوی سے کوئی غافل کیسے ہوسکتا تھا۔۔آگر اسے کچھ ہوجاتا تو وہ کبھی خود کو معاف نہیں کر پاتا۔۔۔ ’’’ریلیکس سرمیڈم یقیناً گھر ہی گئی ہونگی۔۔‘‘وہ خاموش بیٹھا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس پیدل چلتی چلتی مین روڈپر نکل آئی تھی۔۔اور پھر وہاں سے اسے ایک خاتون نے لفٹ دے دی تھی۔۔وہ عبداللہ ہاؤس پہنچی تھی،سب اپنے کمروں میں تھے وہ جذباتیت میں وہاں سے نکل تو آئی تھی،اب عیسیٰ کا خیال آرہا تھا جو ابھی تک گھر نہیں پہنچا تھا۔۔۔پتہ نہیں کہاں رہ گیا تھا۔۔جبکہ وہ تو اسے چھوڑ کر پہلے ہی نکل گیا تھا۔۔۔ وہ جلے پاؤں کی بلی کی مانند لب دانتوں تلے دبائے ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی،عیسیٰ کا کچھ پتہ نہیں تھا۔۔۔ابھی آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ عیسیٰ دھاڑ کے ساتھ دروازہ کھولتا روم میں داخل ہوا تھا۔۔ ’’تم۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘عیسیٰ اسے سامنے دیکھ آنکھیں میچ گیا۔۔۔۔۔اپنے غصےٰ پر قابوں پانے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔۔ ’’’وہ میں۔۔۔۔تم کہاں رہ گئے تھے؟‘‘مقدس نے اسکا سرخ چہرہ دیکھ ڈرتے ڈرتے سوال کیا تھا۔۔ ’’’تم یہاں کیسے پہنچی ہو ؟‘‘وہ ایک جست میں اس تک آیا تھا،اور ہونق بنی کھڑی مقدس کو کندھوں سے تھامتا قریب کر گیا۔ ’’’تمھاری ہمت کیسے ہوئی وہاں سے ہلنے کی!‘‘اسکی سرخ آنکھوں میں خون اُترا ہوا تھا۔۔ جبکہ ضبط کے باعث دماغ کی رگیں تک پھولی ہوئی تھیں، خون میں ابال اُٹھ رہے تھے۔۔ ’’’میری مرضی۔۔۔میں جہاں چاہے۔۔۔‘‘وہ ہمت کرتی کچھ بولنے لگی تھی۔۔ ’’’شٹ یور ماؤتھ!تمھاری ہمت کیسے ہوئی،میری اجازت کے بغیر اس جگہ سے ہلنے کی۔۔۔کچھ آندازہ
