Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/05/2026
21 Views
Episode no 12
اور میں بھی!مگر آپ جیسی بی بی سی لندن دوست کے ہوتے ہوئے بھلا ایسا کیسے ممکن تھا۔۔‘‘پورا اسٹوڈیو ہنس پڑا تھا، اور صنم نے قہقہہ لگا یا۔ ’’’واہ، کیا پلاننگ تھی۔ویسے جب دوست صنم جیسا ہو،اور شادی میں انوائیٹڈ ہو تو پھر شرارت پھیکی پڑ جاتی ہے۔۔‘‘وہ مزے سے مسکرائی تھی۔وہ دونوں مل کر عیسیٰ کو لائیو شو میں جان کر تنگ کر رہی تھیں،جبکہ ایسا کچھ تھا نہیں۔۔۔ ’’وہ کیا ہے نا مس صنم اصل میں ہم جیسے فیمس لوگ پبلک پراپرٹی ہو تے ہیں۔تو آپ جن لوگوں کو نہ بھی دعوت نامہ بھیجوائیں ، وہ بھی آجاتے ہیں ۔اسی لئے میں نے خاص کر کے میڈیا کے لئے غلط کارڈ چھپوا کر خود ہی بھیجوا دیے تھے۔ تاکہ انہیں اطمینان رہے ۔اگر انہیں تاریخ اور جگہ نہیں بتائی جاتی،تو آپ لوگوں نے ڈھونڈتے ہوۓ پہنچ جانا تھا شادی میں۔۔جب کارڈ موجود ہوگا تو خود ہی سکون سے بیٹھے رہیں گے۔ویسے ہی گرینڈ پا کے اکورڈنگ پوتے کی شادی نہیں تھی پبلک ایونٹ تھا،نجانے کس کس نے ہماری شادی میں شرکت کی تھی۔۔‘‘ "سچ میں !!"ہوسٹ صنم سے اپنی ہنسی روکنا مشکل ہو رہا تھا ۔جب کے براہ راست چلتا یہ شو ہزرارو چہروں پر مسکراہٹ بکھیر گیا ۔ "’’اچھا ایک اور سوال"۔۔صنم نے ایک بار پھر ان دونوں کو شرارت سے دیکھ اپنا کارڈ چینج کیا ۔ "اچھا جی اب آخری سوال آئ فون 16 کے لئے ۔" صنم نے اسی کے سٹائل میں شرارت سے سوال پوچھا ،آج لگ رہا تھا ڈائریکٹر کی ڈیمانڈ پر سب سے راز اگلوانے والے عیسیٰ سے ہوسٹ سب نکلوا کر ہی رہے گی ۔ "جی پوچھ لیں ۔پوچھ لیں ۔پھر تو آپ سب نے میرے پاس ہی آنا ہے ۔" عیسیٰ نے ایک بار پھر اپنا ہونٹ دانتوں میں دبا کر شرارت سے کہا جس پر کیمرے کے اس پار بیٹھے لوگ بھی مسکرا اٹھے ۔ "’’’یہ ہماری عوام کا سوال ہے ۔"صنم نے سوال سے پہلے اپنی سائیڈ کلئیر کرنا ضروری سمجھی۔۔جس پر عیسیٰ نے ہاتھ کے اشارے سے اجازت دی ۔ ’’’عوام جانا چاہتی ہے کہ جیسے ہم لوگ شادی پر جاتے ہیں تو لفافے میں ہزاروں میں پیسے دیتے ہیں تو آپ جیسے لوگ لفافے میں کیا لاکھوں کے چیکس میں دیتے ہیں ۔یا پھر کچھ خاص۔‘‘ صنم نے اپنے سوال سے ایک بار پھر وہاں موجود آڈینس کے ساتھ ساتھ براہ راست دیکھنے والی عوام کو بھی مسکرا نے پر مجبور کر دیا ۔ ’’ بات کچھ ایسی ہے صنم جی،عیسیٰ نے ذرا سیدھے ہوکر بیٹھتے اپنا کوٹ جھٹک کر درست کیا ۔ "ہم لفافہ دیتے نہیں ہیں بلکہ جب لوگ ہمیں دعوت نامہ دیتے ہیں تو ساتھ ہی نوٹوں سے بھرا لفافہ پہلے دیتے ہیں ۔" عیسیٰ نے سنجیدگی سے کہتے سب کو کھلکھلانے پر مجبور کر دیا ۔آج بھلے ہی وہ گیسٹ تھا پر سوال کی طرح جواب بھی اس ہی کے دلچسپ تھے ۔ "یارعیسیٰ انٹرنیشنل لیول پر تو ویسے ہی چھا گئے ہو !مگر آج تو ان سب کو اپنا فین نہیں کرو ۔اگر ایسا ہی رہا تو میری دال نہیں گلنے والی ۔ایسا نہ ہو،ابھی جو فارغ گھوم رہے ہو،اس شو کی میزبانی تمھیں مل جائے۔" صنم نے سب کو مسکراتا دیکھ مصنوعی سنجیدگی سے لہجے میں ناراضگی سمو کرکہا ۔۔ ’’بے فکر رہو،میں سیاستدانوں کی طرح کرسی کی کے لئے جنگ نہیں لڑتا۔۔۔ بس اتنا ضرور چاہتا ہوں کہ کرسی ہمیشہ میرے نیچے ہی رہے ۔‘‘ ‘‘صنم کا اس بار بھی قہقہہ بے ساختہ تھا۔ ’’بس بھئی! اب مزید نہیں، ورنہ آپ کا ہنسنا اور ہمارا بولنا دونوں خطرناک حد تک ثابت ہوسکتے ہیں،اور آگر سوفٹ وئیر اپڈیٹ ہوگیا تو پھر۔۔‘‘صنم کی بات پر سب ہی ذومعنی سا قہقہہ لگا گئے تھے۔۔۔ ’میرے پاس تو پرائیوٹ جیٹ ہے،اور ملٹی ویزہ،آپ اپنا دیکھ لیں۔‘‘وہ شرارت سے بولا تھا۔صنم دھیرے سے مسکرائی تھی۔ تو مقدس آپ کو ہمارے شو پر آکر کسیا لگا۔۔‘‘ ’’’صنم مجھے اور میری وائف کو یہاں آکر دانشور لوگوں کے ساتھ بے مقصد گفتگو کر کہ واقعی بہت اچھا لگا ہے۔۔‘‘صنم نے ذرا گھورا،جبکہ آیڈینس میں سیٹیاں بج رہی تھیں۔۔ تو جناب ہمارے ساتھ تھے پاکستان کے ایک معرود کمیڈین عیسیٰ اور انکی کیوٹ سی وائف جو پورے شو میں زیادہ تر خاموش ہی رہیں، خیر آج کا شو خاصہ دلچسپ رہا،ان شاء اللہ جلد ملاقات ہوگی کسی نیو گیسٹ کے ساتھ!تب تک کے لئے اللہ حافظ۔۔۔ جاری ہے
