Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/05/2026
21 Views
Episode no 12
نے اس بار جان کر تپایا تھا۔اسکی افسرد ہ شکل ہضم نہیں ہوئی تھی۔ ’’’تم تو چپ ہی رہو بھئی۔۔‘‘وہ واقعی تپ گئی تھی۔ ’’’خود ہی بات کر رہی ہو،ورنہ میں اور تم سے بات۔۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا۔۔ ہ’’اں تمھارے پیچھے تو لڑکیوں کی لائن لگی ہے نا۔ ’’سو تو ہے،خیر تم نے علیحدگی کے بارے میں کیا سوچا؟‘‘اب وہ سنجیدہ ہوگیا۔ میں پہلے بھی بتا چکی ہوں پھر بتا رہی ہوں،میری طرف سے خلع کا مطالبہ کبھی نہیں ہوگا،تمھیں طلاق دینی ہے تو شوق سے دو۔‘‘وہ بھی سیدھا جواب منہ پر مار چکی تھی۔۔ ’’بہت ڈھیٹ ہڈی ہو تم۔۔مگر خیر میں تمھیں زیادہ دن اپنی زندگی میں ٹکنے نہیں دونگا۔۔‘‘وہ ناگوار لہجے میں جتانا نہیں بھولا تھا۔۔ خیر صبح ہم ایک مارننگ شو کے مہمان ہیں،میں کافی دن سے آؤئیڈ کر رہا تھا،مگر ان لوگوں کو بس ریٹنگ چاہئے۔۔‘‘وہ ذرا بیزاریت سے بولا،جبکہ مقدس خاموش رہی تھی۔انکار کی گنجائش ہی نہیں تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹی وی اسٹوڈیو کا ماحول شاندار تھا، جہاں ہر چیز اپنی جگہ ایک خوبصورت ہم آہنگی میں ترتیب دی گئی تھی۔ پس منظر میں ایک وسیع شیشے کی دیوار تھی، جس کے پیچھے مصنوعی روشنیوں سے ایک دلکش صبح کا منظر تخلیق کیا گیا تھا، جیسے واقعی سورج نرم سنہری روشنی بکھیر رہا ہو۔ اسٹوڈیو کی دیواروں پر ہلکے رنگوں کی پینٹنگز اور جدید آرٹ ورک سجا تھا، جو ماحول کو مزید دلکش بنا رہا تھا۔ سامنے مرکزی سیٹ پر ایک ہلکے خاکی اور آف وائٹ رنگ کا آرام دہ صوفہ رکھا تھا، جس پر مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے نرم، کشادہ کشنز موجود تھے۔ سامنے ایک گلاس ٹاپ ٹیبل تھی، جس پر تازہ گلابوں کا گلدستہ رکھا تھا، ساتھ ہی تین خوبصورت مگ، جس میں میز بان اور مہمانوں کے لیے کافی رکھی گئی تھی۔ سیٹ کی ایک جانب ہلکے پردے تھے، جن میں مدھم نیون لائٹس جھلمل کر رہی تھیں، جبکہ دوسری طرف ایک بڑی اسکرین نصب تھی، جہاں وقتاً فوقتاً ناظرین کے تبصرے اور تصاویر چل رہی تھیں۔ ہر چیز میں نفاست سے سیٹ کی گئی تھی، مقدس اس وقت بیک اسٹیج پر موجود تھی،جہاں میک اپ آرٹسٹ نے اسکا لائٹ سا میک اپ کردیا تھا۔وہ عیسیٰ کے ساتھ آف کیمرہ سیٹ کا وزٹ کر چکی تھی،جو اسے کافی پسند آیا تھا۔مگر وہ ذرا نروس بھی تھی۔۔ ’’’خواتین و حضرات! ہمارے آج کے گیسٹ ایک ایسی جوڑی ہیں، جو نہ صرف ایک خوبصورت بندھن میں بندھے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ہر کسی کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔انکی شادی گزشتہ ایک ماہ سے چرچہ میں ہیں۔جی ہاں بالکل ٹھیک سمجھیں آپ،آج کہ ہمارے گیسٹ آپ کے اور ہم سب کے فیورٹ ہیں۔۔۔!" صنم، جو اس شو کی معروف اور چلبلی ہوسٹ تھی، جوشیلے انداز میں بولی۔ وہ آج ہمیشہ کی طرح اپنے مخصوص انداز میں بولی تھی۔ "تو سب سے پہلے اپنی بھرپور تالیوں میں ویلکم کیجئے عیسیٰ عبداللہ اور انکی مسز مقدس عبداللہ ! آپ دونوں کو شادی کی ڈھیروں مبارکباد!" صنم نے مسکراتے ہوئے کہا تو اسٹوڈیو تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا تھا۔۔عیسیٰ کا ہاتھ تھامے وہ سہج سہج کر قدم اٹھاتی ساتھ ہی آرہی تھی۔۔صنم نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا،جبکہ عیسیٰ سے کو وہ سائیڈ ہگ دیتی، مسکرائی۔۔مقدس کو ذرا برا لگا تھا۔۔۔ ’’’شکریہ!" اسکی میزبانی پر مقدس نے دھیرے سے مسکرا کر صوفے پر بیٹھ گئی تھی، جبکہ عیسیٰ نے بھی ساتھ ہی نشست سنبھالی تھی۔ اس نے ڈِپ میرون رنگ کی اسٹائلش میکسی پہنی تھی، جس پر باریک گولڈن ایمبرائڈری کے ساتھ موتیوں اور سیکوئنز کا ہلکا سا کام کیا گیا تھا۔ ڈریس کا ہلکا فِٹ اینڈ فلیئر اسٹائل اسے مزید ایلیگینٹ بنا رہا تھا۔ بالوں کا جوڑا بنا ہوا تھا، کانوں میں گلے میں نازک سی چین لاکٹ اور ٹاپس ڈال رکھے تھے۔جبکہ پاؤں میں میچنگ گولڈن اسٹیلیٹوز اور کلائی میں پہنی بریسلیٹ نے اس کے ُلک کو مکمل کر دیا تھا۔۔ "تو سب سے پہلے تو یہ بتائیں مقدس، کہ آپ کیسی فیل کر رہی ہیں؟ عیسیٰ عبداللہ کے ساتھ نئے رشتے میں آ کر، اور اب ہمارے لائیو شو میں بیٹھ کر؟" مقدس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ عیسیٰ کی طرف دیکھا، جو کافی دیر سے اسے بی کنفیڈینٹ رہنے کا بول رہا تھا۔۔۔پھر صنم کی جانب رُخ کیا۔اس نے نیوی بلیو رنگ کا تھری پیس سوٹ پہن رکھا تھا، جس کے ساتھ سفید شرٹ اور سلور گرے ٹائی نے اس کی شخصیت کو مزید وقار بخشا تھا۔ کلائی پر مہنگی رولیکس کی گھڑی،سیاہ رنگ شوز اور نفاست سے سنوارے گئے بال، اس کی مکمل گریس فل ُلک کو نمایاں کر رہے تھے۔ اس کا انداز تھوڑا سا ریزروڈ تھا،مگر وہ ازلی اعتماد کے ساتھ مقدس کے ساتھ بیٹھا،بالکل ایسے شو کر رہا تھا گویا وہ کوئی بہت محبت کرنے والا کپل ہوں۔۔ ’’’’سچ کہوں تو مجھے تو ابھی تک یقین ہی نہیں آرہا کہ میں آپ کے شو میں بیٹھی ہوں۔۔‘‘وہ پہلا سوال گول کر گئی تھی،جبکہ وہ ہولے سے مسکرائی۔فرسٹ ٹائم کیمرہ فیس کرتے ہوئے وہ اچھی خاصی شائی تھی۔۔ "اچھااااا!" صنم نے چہک کر کہا۔۔۔۔ "یہ کیا بات ہوئی؟ کیا یہ شادی اتنی اچانک ہوئی کہ یقین نہ آئے؟" اس پر عیسیٰ نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ "کبھی کبھی کچھ چیزیں اتنی قدرتی طریقے سے ہو جاتی ہیں کہ انسان کو وقت نہیں ملتا انہیں سوچنے کا… اور مقدس اور میں شاید اسی کی زندہ مثال ہیں۔" صنم نے آنکھیں سکیڑ کر شوخی سے پوچھا۔۔۔۔ "اوہ! تو مطلب کہ لوو میرج؟ یا ارینج میرج؟ یا دونوں؟" مقدس نے لب کاٹے تھے ، جبکہ عیسیٰ نے ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کوٹ جھٹکا تھا۔۔۔ ’’شادی لو ہو یا ارینج آگر محبت کا رنگ ہر رشتے میں شامل ہو جائے تو فرق کوئی نہیں پڑتا کہ رشتہ کس طریقے سے بنا۔‘‘ صنم نے تالیاں بجاتے ہوئے جوشیلی آواز میں سراہا تھا۔جبکہ اسکے لفظوں کی گہراہی سمجھ اداسی سے مسکرائی تھی۔۔ ’’’واہ! کیا جواب دیا عیسیٰ صاحب نے! اور ناظرین، ہمیں ایک بریک لینا ہے، لیکن واپس آ کر ہم کریں گے مزید دلچسپ گفتگو! تب تک، سکرین کے سامنے سے کہیں مت جائیے گا۔۔۔‘‘!" کیمرہ آہستہ آہستہ زوم آؤٹ ہوا، اور عیسیٰ اور مقدس کی خوبصورت جوڑی،اسکرین پر جگمگانے لگی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "’’’جی تو ناظرین! بریک کے بعد ایک بار پھر خوش آمدید! اور جیسے کہ بریک میں، ہماری پیاری مقدس نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے کہ مجھے لگتا ہے یہ بات ہم سب کو معلوم ہونی چاہیے تھی۔۔۔!" ’’تو، مسٹر عیسیٰ! ابھی بریک میں آپ کی وائف نے ہمیں بتایا کہ آپ نے نہ صرف اپنی شادی پر ہمارے بھولے بھالے میڈیا کو جان بوجھ کر غلط ایڈریس والے کارڈ بھجوائے، بلکہ اس کے بعد مزے سے ان کا حال بھی دیکھتے رہے... آخر یہ ہمارے خلاف ایک سازش تھی یا بس ایک معصومانہ شرارت؟ کیا میڈیا والوں سے کوئی پرانی دشمنی نکالی جا رہی تھی؟‘‘ اُن دونوں کا شادی کے بعد یہ پہلا مارننگ شو تھا جس میں آج وہ گیسٹ اور ہوسٹ کوئی اور تھا ۔جب کے اسکی بات پرمصنوئی مسکراتے عیسیٰ نے جن نظروں سے مقدس کو دیکھا تھا جو گڑبڑا سی گئی تھی۔۔مگر پھر اسکی حالت دیکھ ، ہونٹ دانتوں تلے دبا کر مسکراہٹ ضبط کی تھی۔ ’’دراصل، میں نے سوچا تھا کہ اگر میڈیا والے غلط ایڈریس پر پہنچیں گے، تو کم از کم وہاں کسی اور کی شادی تو کور کر لیں گے... ریٹنگ بھی بچ جائے گی،
