Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/05/2026
21 Views
Episode no 12
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 12 قسط نمبر وہ تقریباً ایک گھنٹے بعد روم میں داخل ہوا تھا، کمرے کی ساری لائٹس روشن تھی،اسنے خالی بیڈ کے بید روم کے دوسرے حصےٰ میں رکھے صوفے پر نگاہ ڈالی تو اسے چادر میں لپٹی مقدس سکڑی سمٹی سی سوتی نظرآئی تھی۔دو دن تو وہ ضد میں بیڈ پر ہی سوئی تھی۔۔اور اب خود ہی بیڈ پر سو گئی،وہ بھی سر جھٹکتا نائٹ ڈریس چینج کرتا کمرے کی لائٹس آف کرتا بیڈ پر آکر سو گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کی سیاہ تاریکی میں سنگ مرر کے سفید پتھروں سے بنا عبداللہ ہاؤس مصنوعی روشنیوں کے باعث جگمگ کر رہا تھا۔۔ان کی شادی کو پندرہ دن گزر چکے تھے۔عائشہ بیگم اپنے بیٹے کی شادی کی کوئی بھی رسم مس نہیں کرنا چاہتی تھیں،آج خیر سے مقدس کا کھانا میں ہاتھ لگادیا گیا تھا،اس نے دن میں میٹھا بنا لیا تھا،باقی اسے گھر کا کوئی کام کرنے کی ضرورت تو نہیں تھی،مگر اس وقت وہ اپنی خوشی سے رات کا ڈنر کا اہتمام کر رہی تھی۔۔کک بھی ساتھ ہی تھا۔۔ مقدس چکن کاری کی پیسٹل رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس، دوپٹہ ایک کندھے پر بے ترتیبی سے گرائے، سنگِ مرمر کے کچن کاؤنٹر کے قریب کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چمچ تھا، جسے وہ آہستگی سے سٹین لیس اسٹیل کے پتیلے میں بھنتے مصالحہ میں چلا رہی تھی۔ خوشبو دار بریانی کی مہک ہوا میں گھل کر مزید اشتہا انگیز ہو رہی تھی۔ سامنے، کچن کا سنک کے قریب کھڑا کامران ہاتھ میں لکڑی کا چمچ لیے، بے حد مستعدی سے رشئین سیلڈ کی تیاری میں مصروف تھا۔ ، جبکہ مقدس وقفے وقفے سے اس سے سوال کر رہی تھی۔ "کامران بھائی، سلاد کی ڈریسنگ کردی؟" مقدس نے پلٹ کر سلاد کے شیشے کے پیالے کی طرف دیکھا۔ ’’’جی میڈم، زیتون کا تیل اور ہربز ڈال چکا ہوں، بس لیمن جوس باقی ہے۔‘‘ دوسرے کک نے تیزی سے جواب دیا اور ساتھ ہی سلاد پر لیمن جوس چھڑکنے لگا۔جبکہ مقدس بوائلد چاول مصالحہ میں مکس کرتی بریانی کو دم لگا چکی تھی۔کچن ٹاول سے ہاتھ صاف کرتے مقدس نے تمام برتنوں پر نظر دوڑائی۔ بریانی، مٹن کڑھائی ، روسٹ، فش ،تازہ نان، دہی رائتہ، اور چاکلیٹ موس ڈیزرٹسب کچھ تیار تھا، بس حتمی سیٹنگ باقی تھی۔۔ ’’شکر سب بن گیا۔۔‘‘مقدس نے سکھ کا سانس لیا،سرونٹس ڈائیننگ کی سیٹنگ پہلے ہی کر چکے تھے۔۔ جبھی اچانک سے ، دروازے کے قریب کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ مقدس نے چونک کر سر اٹھایا۔ مدھم روشنی میں ایک بلند قامت سایہ نظر آیا۔ چند لمحوں بعد عیسیٰ کچن کے دروازے میں نمودار ہوا، مقدس نے ناک چڑھا کر دیکھا تھا،جبکہ وہ اوہ کے آنداز میں ہونٹ گول کئے،ہاتھ باندھے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا ہوگیا تھا۔۔ "یہ سب تم کروا رہی ہو؟" اس کی بھاری آواز نے مقدس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی۔ مقدس نے ذرا سا مسکرا کر سر ہلایا۔ "ہاں، کیونکہ میں چاہتی تھی کہ سب کچھ پرفیکٹ ہو، اس لیے خود دیکھ رہی ہوں۔" عیسیٰ نے ایک نظر کھانے کی مہکتی ہوئی ڈشز پر ڈالی اور پھر مقدس کو دیکھا۔ "خود کیوں تھک رہی ہو؟ یہ سب تو اسٹاف کر سکتا تھا۔" "لیکن آج کے کھانے کی زمہ داری میری تھی۔" مقدس نے نرمی سے کہا، اور پھر دوبارہ سلاد کی سیٹنگ میں مصروف ہو گئی۔ عیسیٰ نے گہری سانس لی، ایک نظر مصروف اور تھکی تھکی سی مقدس کو دیکھتا رہا، پھر بنا کچھ کہے کچن سے باہر نکل گیا۔ مقدس نے ایک لمحے کو سر اٹھا کر اسے جاتے دیکھا اور پھر مسکرا کر کام میں لگ گئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ ہاؤس کے ڈاننگ روم میں اس وقت سب کھانے کی میز پر جمع تھے،کھانوں سے اٹھتی اشتہا انگیز خوشبو سے تو سب کی بھوک چمک اٹھی تھی۔ سرونٹس کی ہمراہی میں ٹیبل سیٹ کرنے کے بعد وہ فریش ہوکر فوری نیچے آئی تھی۔اور اب خود سرو بھی کر رہی تھی۔۔۔ مقدس نے سب سے پہلے ابتسام صاحب کو مٹن کڑاہی سرو کی تھی۔‘‘جنھونے پہلا بائٹ لیتے ہی اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔ ’’بھئی ہماری بیٹی نے تو کھانا واقعی بہت مزے کا بنایا ہے۔۔‘‘ اب وہ مسکرا کر سب کو سرو کر رہی تھی۔جبکہ عیسیٰ بیزار سی شکل لئے بیٹھا تھا۔۔ ’’عیسیٰ تم کیوں بیٹھے ہو،مقدس بیٹا عیسیٰ کو بھی دیں۔۔‘‘سب نے ہی پہلا نوالہ اٹھاتے ہی اسکی تعریف کی تھی۔۔ ’’کیا لیں گے؟‘‘عیسیٰ نے اس ڈرامے باز کے شیریں لہجے پر آنکھیں گھمائیں۔۔ ’’’فش پاس کرو۔۔‘‘وہ سی فوڈ لور تھا۔۔زیادہ تر سی فوڈ آئٹمز اسکی لئے بنتے تھے۔ اب بتاؤعیسیٰ!کھانا کیسا بنا ہے؟‘‘اسے کانٹے کی مدد سے پہلا بائٹ منہ میں رکھتا دیکھ سب کی نظریں اسی پر ٹکی تھیں۔فریضحہ چچی زرا شرارتی لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔ ’’اچھا ہے!‘‘اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔ ’’اچھا یا بہت اچھا!‘‘عائشہ بیگم نے بیٹے کے تاثرت دیکھ سوالیہ پوچھا۔ ’’بہت اچھا کھانا بنایا ہے آپ کی بہو نے۔‘‘وہ ذرا مسکرا کر بولا تو مقدس اسکے تاثرات دیکھ سر جھکا کر مسکرا دی۔۔ ’’بھئی عائشہ ہماری بہو نے پہلئ بار کچھ بنایا ہے۔۔آپ نے انھیں کچھ دیا نہیں۔‘‘وہ بولے۔ ’’بھئی خواتین کا تو چلتا رہے گا،ہماری بیٹی کو ہم تو انعام دے دیں۔۔عرشمان اور عثمان صاحب نے کچھ کیش نکال کر اس کی جانب بڑھایا تھا،جو اسنے ذرا جھجھک کر شکریہ کے ساتھ تھام لیا تھا۔ابتسام صاحب نے سرونٹ کے اشارہ کرتے ان سے ایک مخملی کیس لیتے مقدس کی جانب بڑھایا تھا۔۔ ’’یہ گھڑی عیسیٰ کی دادی کو بہت پسند تھی۔یہ ہم نے آج تک کسی کو تحفہ میں نہیں دی،مگر آج ہم یہ اپنی بیٹی کو دینا چاہتے ہیں ،آپکی دادی کی طرف سے۔۔‘‘مقدس کو خوشگوار حیرت نے اپنی لیپیٹ میں لیا تھا۔کیونکہ کیس میں ایک پرانی مگر قیمتی گھڑی موجود تھی۔۔مقدس نے کھڑے ہوکر انکا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا تھا۔۔آنکھیں آپ ہی بھیگ گئین تھیں۔۔ ’’تھینک یو گرینڈ پا!‘‘وہ بھی کھڑے ہوگئے تھے،اورا سے سینے سے لگایا تھا۔وہ لڑکی جب سے انکے پوتے کی بیوی بنی تھی،انھیں بہت عزیز ہوگئی تھی۔۔جبکہ سب ہی اس محبت پر مسکرائے تھے،،کیونکہ اب سب کچھ انہی بچوں کا تو تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ رات گئے کمرے میں آتی اپنے مخصوص صوفے پر چادر اوڑھ کر لیٹ گئی تھی۔ ’’ویسے تم کھانا اچھا بنا لیتی ہو۔۔‘‘بیڈ پر بیم دراز عیسیٰ نے کن انکھیوں سے دیکھتے کہا تھا۔ ’’’ہمم!‘‘وہ محض ہنکار بھر گئی۔ ’’’کیا سوچ رہی ہو؟‘‘اس نے بھنویں اٹھائیں۔ ’’’کیا ابدال صاحب شروع سے ایسے ہیں؟نرم مزاج؟‘‘وہ سوالیہ بولی۔اچانک سے انکا خیال آگیا تھا۔جو نکاح کے بعد سے اس سے ہمیشہ سے بہت اچھے سے پیش آئے تھے۔۔۔ ’’نہیں!پہلے تو کافی سخت قسم کے تھے،مگر جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے انکا جاہ و جلال کم ہوتا جارہا ہے۔۔‘‘وہ سمجھ کر سر ہلا گئی۔ ’’’یعنی وہ شروع سے سفاک ہیں،اور مجھے لگا لہ شاید صرف میرے لئے ایسے تھے۔‘‘وہ طنزیہ بولی تو عیسیٰ نے بغور اسکا چہرہ دیکھا۔ ’’’وہ شروع سے ایسے ہی ہیں۔سیاست کی دنیا میں انکا ایک نام رہا ہے۔مگر چاچو نے باہر بزنس سیٹ کرلیا،لائف تھریٹس بڑھ گئے تھے،پھر تمھارے تینوں بھائی دنیا میں آگئے تو وہ بھی باہر ہی شفٹ ہوگئے،اور اب تو انکی طبیعت میں خاصی نرمی آگئی ہے۔‘‘وہ عادت کے برخلاف بات کر رہے تھے۔ ’’’انھیں کیا میری یاد کبھی نہیں آئی!‘‘وہ کرب سے دوچار تھی۔ ’’’تم ملکہ الزبیتھ ہو کیا،جو سب تمھاری یاد میں ڈوبے رہتے۔‘‘عیسیٰ
