Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 24/04/2026
30 Views
Episode no 05
سے لان کی طرف دیکھا۔جہاں ایک طرف مقدس آہستہ روی سے چلتی نظر آئی تھی، وہ اس بچی کے ساتھ مزید کوئی زیادتی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ابتسام عبداللہ نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں موند لی تھیں،جبھی نگاہوں کے سامنے اکلوتی بیٹی ملیحہ کا چہرہ گھوم گیا تھا۔۔وہ چھوٹی سی عمر میں انھیں بڑا دکھ دے کر دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا وقت تھا۔ عبداللہ ہاؤس میں گہری خاموشی کا راج تھا، صرف ہواؤں کی ہلکی سرسراہٹ درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر ایک مدھم سی آواز پیدا کر رہی تھی۔ جو ماحول میں سر بکھیرنے کا باعث تھی۔چاند کی ہلکی روشنی سے ہرشے جگمگا رہی تھی۔۔ کار پورچ میں گاڑی رکنے کی چرچراہٹ پر وہ چونکی۔ یہ یقیناً عیسیٰ ہی تھا، جو پورا دن گزار نے کے بعد گھر واپس آیا تھا۔ اُس نے مگن آنداز میں گاڑی کا دروازہ بند کیا اور ایک لمحے کے لیے ٹھٹھک کر ٹھہر گیا "یہ اس وقت یہاں کون آگیا ہے ؟ " اس کے ماتھے پر ہلکی سی شکن اُبھری۔چاندنی میں ایک دھندلا سا سراپا نظر آ رہا تھا۔ایک نرم و نازک وجود، جو شاید آہستہ روی سے چلتا چہل قدمی کر رہا تھا، جیسے کسی گہری سُوچ میں گم ہو۔ وہ وہی لڑکی تھی، جسے اس نے اس روز صبح کچن میں دیکھا تھا۔ وہی جسے اس نے ملازمہ سمجھ کر حکم دے دیا تھا... مگر وہ رات کے اس پہر لان میں کیا کر رہی تھی؟ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ دھیمی رفتار سے چلتا اس کی جانب قدم بڑھانے لگا۔ بغیر قدموں کی چاپ پیدا کئے وہ بغور اسکی حرکات دیکھ رہا تھا۔ مقدس کے لمبے بال اس کے دوپٹے کے نیچے سے تھوڑے تھوڑے جھلک رہے تھے، اور وہ کسی خیال میں مگن بس چلتی چلی جا رہی تھی۔ مگر جیسے ہی مقدس کو محسوس ہوا کہ وہ قریب آرہا تھا اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے پلٹ کر پیچھے دیکھنے کی ہمت نہ کی، چہرے پر دوپٹہ رکھتےبس اپنے قدم تیز کر دیے۔ عیسیٰ نے مشکوک نظروں سے اسکی چال میں بڑھتی تیزی محسوس کی تھی ۔۔ یہ لڑکی اتنی مشکوک حرکتیں کیوں کر رہی ہے۔۔گرینڈ پا سے بات کرنی ہوگی۔‘‘وہ ذرا ناگواری سے زیرِ لب بڑبڑاتا سوچ بچار میں گم تھا ، مگر اس سے پہلے کہ وہ اس سے سوال کرتا، مقدس نے اپنا رخ اچانک بدلا اور ولا کے پچھلے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ عیسیٰ نے بھی فوری قدموں کی رفتار بڑھائی، مگر مقدس اب تقریباً دوڑتی ہوئی اندر جا چکی تھی۔ دو دو اسٹیپ پھلانگ کر سیڑھیاں چڑھتے اس نے جھٹ سے کمرے کا سائڈ دروازہ بند کر لیا تھا، اور روم لاکڈ کرلیا تھا،کہیں وہ شخص روم میں نہ چلا آئے۔۔ یہ محترمہ تو سچ میں دماغی مریضہ ہیں۔‘‘اس کی پیشانی پر شکنیں نمودار ہوئی تھیں۔۔پھر سر جھٹکتا ،گھر کے اندرونی حصےٰ کی جانب بڑ ھ گیا تھا۔۔۔ ……………. اگلی روشن صبح خود میں بے پناہ جاذبیت اور ایک امید لے کر طلوع ہوئی تھی۔۔۔وہ ابتسام صاحب کے بلاوے پر ناشتہ کے فوراً بعد اسٹڈی میں آگئی تھی ۔۔سد شکر تھا کہ اسکا سامنا عیسی سے نہیں ہوا تھا۔۔۔ "گرینڈ پا آپ نے بلايا تھا۔۔"اسٹڈی میں داخل ہوتے ہی ایک خوش کن احساس نے اپنے حصار میں جکڑ لیا تھا۔وہ ان کے اصرار پر انھيں گرینڈ پا کہنے لگی تھی۔۔ "جی بیٹا دراصل ہمیں آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔ "وہ گہری سانس خارج کر کر نظر کا چشمہ اتار کر سائیڈ پر رکھتے بولے "جی کہئے ۔۔وہ متجسس ہوئی " "بیٹا آگر میں مستقبل میں آپ کی زندگی کے لئے کوئی فیصلہ لوں تو میری بیٹی کو کوئی اعتراض تو نہیں ۔"وہ پوچھ رہے تھے۔۔ "بالکل نہیں دادا ابو !آپ جو مرضی چاہے فیصلہ لے سکتے ہیں آپ میرے بڑے ہیں ۔میرے محسن ہیں۔۔"وہ انہين مان بخش گی۔۔ "جیتی رہو ۔خوش رہو ۔۔۔یہاں کوئی پریشانی تو نہیں ؟" "نہیں بالکل نہیں ۔بلکہ آپ کا شکریہ۔۔۔۔۔"اس کے لفظ لبوں میں ادھورے ہی تھے۔۔۔ "بری بات ۔۔۔اپنے بڑوں سے ایسے نہیں کہتے ۔۔آپ بیٹی ہیں ہماری ۔۔۔اور ہاں ہم نے میرم کو آپ کا بتایا ہے ۔۔وہ آپ سے ملنے کے لئے پرجوش ہے ۔۔بس آج کل اپنے شوہر کے ساتھ اوٹ آف کنٹری ہے ۔۔۔ وہ واپس آجائیں گی تو آپ سے ملاقات کریں گی ۔۔یقیناً آپ کو ان سے مل کر اچھا لگے گا۔۔"مقدس ان کی ممنون ہوئی۔۔ "چلين آجائیں باہر چلتے ہیں ذرا دیکھیں تو گھر میں کیا ہو رہا ہے۔"وہ ان کے ساتھ باتیں کرتی باہر تک آئی تھی ۔۔۔ جاری ہے
