Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 24/04/2026
30 Views
Episode no 05
میں بس یہاں بند ہو کر بیٹھ جاؤں؟افف" وہ اب شدید اکتاہٹ کا شکار ہو رہی تھی۔۔وہ کمرے میں بند رہنے والی لڑکی ہر گز نہیں تھی۔۔زندگی کا دھار ایک لمحے میں تبدیل ہوا تھا۔اور مقدس کو سنبھلنے کا موقع تک نہ مل سکا۔۔اب وہ اسی سانچے میں ڈھلنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔کیونکہ اپنی خوائش اور مرضی تو شاید کافی عرصہ پہلے ہی زندگی سے نکل گئی تھی پھپھو نے جو اسکے ساتھ کیا تھا،اس کے بعد تو اب شاید ہی کبھی انکی شکل دیکھتی۔اور اسکی سگی ماں،جس نے اسے پیدا کیا تھا۔۔اور بے حس باپ،جب جب اپنی محرمیوں کا احساس ہوتا تو بدگمانیاں مزید بڑھ جاتیں۔۔ آخر کار، وہ ساری فضول اور افسردہ سوچوں کو جھٹکتی ،اپنا دوپٹہ درست کرتی کمرے سے باہر جاتی عبداللہ ہاؤش کو ایکسپلور کرنے نکل پڑی تھی۔جو کافی بڑا کسی شاہی محل کی طرز پر بنا شاندار ولا تھا۔ویسے بھی عبداللہ صاحب نے کہا تھا کہ وہ کمرے میں نہ رہے،گھر میں گھومے،کوئی ایکٹیوٹی کرلے،جو مرضی چاہے کرے۔یہ ا سکا اپنے سگے دادا کا گھر ہے۔۔انھونے یہ مان ہی بخش دیا تھا کافی تھا اور بھلا مقدس کو کیا چاہئے تھا۔۔ وہ سوچوں میں گم جیسے ہی وہ راہداری میں آئی، اسے اس گھر کی وسعت کا صحیح اندازہ ہونے لگا،جو کافی حیران کن تھا۔ ہر راہداری میں مغل طرز کے فانوس جھلملا رہے تھے، دیواروں پر لگے گولڈن اور سفید رنگ کے وال پیپر گھر کو مزید شاندار بنا رہے تھے۔ ہر چیز ہی نفیس اور قمیتی تھی۔ وہ سیڑھیوں کے قریب پہنچی، جو سنہری اور سفید سنگِ مرمر سے بنی ہوئی تھیں، اور ان کے کناروں پر نفیس ڈیزائن والی لکڑی کی ریلنگ تھی۔ سیڑھیوں کے نیچے کی طرف ایک شاندار لابی تھی، جہاں ایک طرف خوبصورت فوارہ لگا ہوا تھا، جس سے پانی کے ہلکے ہلکے قطرے گر رہے تھے۔ فوارے کے قریب ہی ایک بڑا گلاس ٹیبل تھا، جس پر نایاب کرسٹل کے شو پیس سجے ہوئے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ڈرائنگ روم میں پہنچی، جہاں دیواروں پر قدیم دور کے فن پارے آویزاں تھے۔ لمبے، بھاری پردے کھڑکیوں پر پڑے تھے، اور نیوی بلیو رنگ کا صوفہ سیٹ خوبصورت لگ رہا تھا۔۔ بیچ میں ایک چوڑی سی شیشے کی میز تھی، جس پر چینی مٹی کے نازک برتن رکھے تھے۔ پھر وہ آگے بڑھی اور لان کی طرف جانے والا دروازہ کھولا۔ باہر خوبصورت باغ کا پرسکون اور دلکش نظارہ واضح تھا۔۔ چاروں طرف سرسبز گھاس، کناروں پر کھجور اور چنبیلی کے درخت، اور بیچ میں ماربل سے بنا فوارہ۔ ایک طرف لکڑی کے جھولے لگے ہوئے تھے، جو ہوا کے ہلکے جھونکوں سے آہستہ آہستہ ہل رہے تھے۔ "افف مما کی کتنی خواہش تھی کہ ہمارے گھر میں ہی اسی قسم کا ایک چھوٹا سا لان ہو۔۔و ہ دیکھتی تو یقیناً دیوانی ہوجاتیں۔‘‘وہ دکھ سے سوچتی آنکھوں میں در آئی نمی چھپا گئی تھی۔۔ ’’’چل مقدس اب زیادہ غریبوں والی حرکتیں نہ کر۔۔آندر چل۔۔ورنہ سب نے کہنا ہے یہ لڑکی تو سچ مچ اس گھر کو اپنا گھر سمجھ کر سیریس ہوگئی ہے۔‘‘وہ جھرجھری لے کر خود ساختہ سر گوشی کرتی،ہال ایریا میں آئی تھی۔جہاں سیڑھیاں چڑھتے آج اسنے بغور اسے لارج سائز فریم فوٹو کو دیکھا تھا،جس میں سب فیملی کے لوگ کھڑے تھے۔مگر ایک چہرے پر آکر گویا اس کی نگاہیں ٹھہر گئی تھیں،اور انھونے پلٹنے سے انکار کیا تھا۔۔ یہ۔۔۔۔یہ نک چڑھا نواب ہی عیسیٰ عبداللہ ہے۔۔۔اوہ گاڈ میں کیسے بھول گئی۔۔‘‘وہ لب دانتوں تلے دبائے پریشانی سے سوچ رہی تھی۔۔کیونکہ ایک بات تو طے تھی آگر وہ شخص اسے اس گھر میں دیکھ لیتا تو یقیناً قتل ِ عام ہونا تھا۔۔ افف!یہ قسمت ہر بار میر ے ساتھ ہی ایسا کیوں کرتی ہے۔۔کیا دنیا میں بس ایک ہی عیسیٰ عبداللہ تھا اللہ پاک،جو آپ نے مجھے یہاں دشمن کے مورچے میں ہی پہنچا دیا ہے۔۔‘‘وہ روہانسو ہوئی۔۔ ’’’سکینہ میرے لئے پانی لے کر اؤپلیز!‘‘وہی صبح والی شناسہ آواز سن کر مقدس کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا،اور اس سے قبل کے عیسیٰ اس لڑکی کو دیکھ کر باز پرس کرتا،وہ بغیر پلٹے تیز قدموں سے سیڑھیاں چڑھنے لگی،کیونکہ آگر وہ دیکھ لیتا تو یقیناً یہیں پر ڈرامہ لگ جانا تھا۔۔ ’’ہیلو!اکیسکیوز می!ٹھہریں پلیز۔۔۔‘‘وہ بھی ساتھ ہی پیچھے بڑھا تھا۔۔جبکہ مقدس کے قدموں نے اسپیڈ پکڑ لی تھی۔۔ عیسیٰ بیٹا آگئے آپ؟‘‘وہ جو حیرت کی مورت بنا درمیان میں ہی سیڑھیوں پر ٹھہر گیا تھا کہ اپنی چچی کی آواز پر چونکا۔ ’’جی !یہ لڑکی کون ہے چچی؟‘‘اس نے حیرت سے استفسار کیا۔ ’’مقدس کی بات کر رہے ہو؟‘‘اُنھونے تصدیق چاہی۔ جی جو بھی نام ہے۔۔یہ جو ابھی اُپر گئی ہے؟‘‘وہ اب الٹے قدموں نیچے آرہا تھا۔ ’تمھارے گرینڈ پا کے جاننے والوں کی بیٹی ہے۔۔اب یہ یہیں ہمارے ساتھ اس گھر میں رہے گی۔‘‘انھونے مختصراً حوالہ دیا۔ ہیں مگر کیوں؟‘‘وہ حیران ہوا۔ بیٹا ان کے ماں باپ کی ایک روڈ ایکسیڈینٹ میں دیتھ ہوگئی ہے۔رشتہ داروں کا تو آپ کو معلوم ہے،انکے جو گرینڈ پا ہے انھونے یہ زمہ داری آپ کے گرینڈ پا کے کندھوں پر ڈال دی ہے۔پھر آپ کو اپنے گرینڈ پا کا تو معلوم ہی ہے۔‘‘عیسیٰ متعجب ساایک نظر اُپر کے کمرے پر ڈال کر سر جھٹک گیا۔۔اسکے دادا بھی بس ایسے ہی کسی کو بھی گھر اٹھا کر لے آئے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابتسام صاحب کے پرسنل وسیع و عریض اسٹڈی روم میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ دیواروں پر گہرے بھورے رنگ کی بک شیلف نصب تھیں، جو نایاب کتابوں سے بھری ہوئی تھیں۔ پرانی اور نایاب کتابوں کے زرد کاغذ کے باعث ایک مہک سی تھی،جو نئے آنے والے کے نتھنوں سے ضرور ٹکراتی، وسط میں رکھا لکڑی کا میز، جس پر مختلف فائلیں، کاغذات اور چائے کا کپ رکھا تھا، لیکن میز کے پیچھے بیٹھے ابتسام عبداللہ کا دھیان ان میں سے کسی چیز پر نہیں تھا۔ وہ اپنی گہری سوچوں میں گم تھے، ہاتھ میں قلم تھامے ہوئے، مگر لکھنے کے بجائے بس اس کو انگلیوں میں گھماتے جا رہے تھے۔ ماتھے پر ہلکی شکنیں پڑی ہوئی تھیں، جو ان کے اضطراب کی گواہ تھیں۔ "مقدس..." انہوں نے آہستہ سے یہ نام دوہرایا۔ یہ لڑکی ان کے دل میں ہمدردی اور فکر، دونوں جذبے جگا چکی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ وہ کس قسم کی زندگی گزار کر یہان آئی تھی، اور یقیناً یہاں ایڈجسٹ کرنا اس کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ "کیا میں نے مقدس کی زندگی کو لر کر صحیح فیصلہ لیا؟" وہ خود سے سوال کر رہے تھے۔کیونکہ وہ اب جو وہ فیصلہ کرنے والے تھے۔وہ یقیناً انکے خاندان میں دڑاڑ کا باعث بنتا۔ماضی میں لئے گئے فیصلوں کی وجہ سے و ہ پہلے ہی بہت سفر کر چکے تھے۔ ’’’کیا مجھے مقدس کی مرضی پوچھنی چاہئے؟‘‘وہ کسی گہری کشمکش میں گرفتار تھے۔ انہوں نے گہری سانس لی اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔وہ ایک بار پھر ماضی کی طرح اپنے بچوں کو فیصلوں کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہتے تھے۔۔ "عائشہ تو پہلے دن سے مقدس سے بہت محبت سے پیش آ رہی ہے، عثمان اور باقی سب کا بھی رویہ ٹھیک ہے، مگر عیسیٰ۔۔ " وہ ایک لمحے کو ٹھہرے،وہ اپنے پوتے کی عورت ذات کو لے کر بدگمانیوں سے اچھی طرح سے واقف تھے۔ وہ پریشانی سے اُٹھے اور کھڑکی کے پاس جا کھڑے ہو گئے۔ باہر رات کا پھیلتا اندھیرا ان کے خیالات کے الجھاؤ کی طرح گہرا ہو رہا تھا۔ انہوں نے کھڑکی
