Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 24/04/2026
30 Views
Episode no 05
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 5 قسط نمبر وہ کیا اسے کوئی ملازمہ لگ رہی تھی۔ "یااللہ! کیا پھپھو کے گھر میں ملازموں کی طرح کام کر کہ میں واقعی ملازمہ جیسی ہوگئی ہوں؟" اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا، چہرے پر ہلکی لالی دوڑ گئی۔وہ روہانسو سی ہوگئی تھی،بھلا وہ جو بھی تھا اس نے اسے ملازمہ ہی سمجھ لیا تھا۔۔۔۔ وہ کیا صفائی دیتی؟ کس سے کہتی کہ وہ ملازمہ نہیں؟ وہ بس بے بسی سے کچن کے سنک کی طرف دیکھتی رہی، اور دل میں سوچتی رہی... افف!کتنی سبکی کی بات ہے ۔۔۔ ’’افف مقدس چل بھاگ جا یہاں سے۔پتہ نہیں آنٹی لوگ کہاں چلی گئیں۔‘‘وہ صبح جلدی اُٹھنے کی عادی تھی۔۔اُٹھ تو سبھی جلدی جاتے تھے مگر آج اتوار کا دن تھا،تو سب سو رہے تھے،مقدس عائشہ بیگم کے کہنے پر ناشتہ کرنے کچن میں چلی آئی تھی۔مگر یہاں تو عجیب ہی سین ہوگیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیسٰی فریش ہونے کے بعد دوبارہ کچن کی طرف آیا تھا۔ اس بار وہ سادہ مگر اسٹائلش نیوی بلیو شرٹ اور گرے ٹریک پینٹ میں ملبوس تھا، بال سلیقے سے پیچھے کیے ہوئےتھے، اور چہرے پر تازگی تھی۔ صبح کی روٹین کے مطابق اَب اُسے فریش جوس چاہیے تھا، جو اِس نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی ملازمہ سے مانگا تھا۔ مگر جیسے ہی وہ کچن میں داخل ہوا، اُس کی پیشانی پر ہلکی سی شکن پڑ گئی تھیں۔ عائشہ بیغم انڈہ فرائی کر رہی تھیں۔۔ "مما؟ عیسیٰ نے ذرا حیرانی سے کہا، پھر ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ "وہ... جوس تیار ہو گیا؟" عائشہ بیگم نے چمچ چلاتے ہوئے چونک کر اسے دیکھا۔ "جوس؟ کس نے بنایا؟اوہ آپ آگئے بچے۔۔میں ابھی بنا دیتئ ہوں۔۔‘" عیسیٰ نے بھنویں اچکائیں، "جو ملازمہ ابھی یہاں تھی، میں نے اسے کہا تھا۔" عائشہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔ ۔ "یہاں تو پچھلے پندرہ منٹ سے کوئی ملازمہ نہیں آئی، میں خود یہاں کھڑی ہوں۔!" عیسیٰ کی آنکھوں میں ایک پل کے لیے حیرانی در آئی تھی۔۔ "لیکن میں نے خود ایک لڑکی کو دیکھا تھا... لمبے بال، سفید لباس، کچن کاؤنٹر کے قریب کھڑی تھی۔ میں نے اُسے جوس نکالنے کا کہا اور وہ..." وہ بات ادھوری چھوڑ کر دوبارہ ارد گرد دیکھنے لگا، جیسے اس لڑکی کو تلاش کر رہا ہو۔اس لڑکی کے خوبصورت اور لمبے بالوں کا اسنے بغور جائزہ لیا تھا مگر سر جھٹک گیا۔۔مگر وہ اسکا وہم تو ہر گز نہیں تھی۔ "لگتا ہے تمہیں صبح صبح کوئی وہم ہو گیا ہے،۔ شاید نیند پوری نہیں ہوئی۔عائشہ نے ہنسی دباتے ہوئے کہا،جان کر اسے چھیڑتے ہوئے مقدس کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔۔۔ "وہم؟" عیسیٰ نے ہلکی سانس خارج کی اور ماتھے پر ہاتھ پھیراْْْ لیکن میں نے... چلیں چھوڑیں ، ہوسکتا ہے!" وہ خود کو الجھن سے نکالنے کے لیے سر جھٹک کر کچن کاؤنٹر کے قریب آ کھڑا ہوا۔۔۔ ویسے اگر وہ کوئی حسین پری تھی، تو پھر تمہیں اس وہم کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ عائشہ نے مقدس کے لئے چائے نکالتے ہوئے شرارت سے کہا۔۔ عیسیٰ نے ذرا خفگی سے انہیں دیکھا، پھر نظر چولہے کی طرف گھما لی۔ لیکن اس کے دماغ میں اب بھی وہی لڑکی گھوم رہی تھی۔۔۔۔ ’’وہ لڑکی اسکا وہم تو ہر گز نہیں ہو سکتی تھی۔۔اور بھلا وہ کیوں لڑکیوں کی آتماؤں کو دیکھنے لگا۔۔ضرور کوئی ملازمہ تھی۔۔‘‘وہ سوچ کر سر جھٹک گیا تھا۔۔جبھی عائشہ بیگم اسے دو منٹ میں واپس آنے کا کہتی خود مقدس کے کمرے کی جانب بڑھ گئیں ۔وہ شاید جھجھک کر واپس رُوم میں بند ہوگئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس ابھی دوبارہ سے نیچے جائے یا نہ جائے کی کشمکش میں ہی گہری ہوئی تھی، جب ہلکی سی دستک کی آواز پر اس نے ذرا گڑبڑا کر اس جانب دیکھا تھا۔ دروازہ آہستہ سے کھلا، اور کسی کے دبے قدم اندر آنے کی آہٹ محسوس ہوئی۔ "السلام علیکم، بیٹا۔!" یہ آواز سن کر مقدس نے فوراً گھبراہٹ میں سیدھی کھڑی ہوگئی۔ مگر جلدی میں دوپٹہ سے الجھی اور وہ بمشکل خود کو سنبھال پائی تھی۔۔ آرام سے بچے!‘‘انھونے اسکی بوکھلاہٹ پر سرزنش کی۔ وہ ہاتھ میں ناشتہ لیے کھڑی تھیں، چہرے پر نرم سی مسکراہٹ سجائے،ان کے ہاتھ میں موجود ناشتے کی ٹرے دیکھ،مقدس کو شرمندگی سی ہوئی تھی۔۔ "آپ... آپ یہاں؟" مقدس کی ہلکی آواز نکلی تھی، وہ نظریں جھکاتے ہوئے فوراً ٹرے تھامنے کی غرض سے آگے بڑھی۔ "بابا جان نے خاص طور پرکہا تھا کہ آ پ کا خاص خیال رکھا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تم آرام سے گھل مل جاؤ، اور میں بھلا ان کا حکم کیسے ٹال سکتی تھی؟" یہ کہہ کر وہ قریب آئیں اور چھوٹی ٹیبل پر ناشتہ رکھ دیا۔ گرم گرم پراٹھا، ہلکا سا مکھن لگا ہوا تھا، ساتھ میں اُبلے ہوئے انڈے، اور تازہ جوس کا گلاس۔ ’’’میں... میں نیچے آ کر سب کے ساتھ کھا لیتی۔‘‘وہ لب دانتوں تلے دبا گئی تھی۔ ہاں ہاں، وہ تو تمہیں آنا ہی ہے، لیکن پہلے ہلکا ناشتہ کر لو تاکہ چکر نہ آئے۔ پھر سب کے ساتھ دوبارہ کھا لینا۔‘‘!" عائشہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔ آنٹی اس تکلف کی کیا ضرورت تھی۔۔ مقدس نے ہچکچاتے ہوئے نظریں جھکائیں۔۔ "یہ تکلف نہیں، محبت ہے۔!" عائشہ نے شوخی سے کہا اور، اس کا گال نرمی سے تھپتھپایا۔ مقدس نے تشکر بھری نگاہوں سے ان کی جانب دیکھا تھا۔ وہ شاید مدتوں بعد کسی کی ایسی خالص محبتوں کا مرکز بنی تھی۔۔ "اچھا ٹھیک ہے، تھوڑا سا کھا لیتی ہوں..." اس نے ہلکی سی آواز میں کہا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ عائشہ مسکراتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھیں، اور جاتے ہوئے پلٹ کر کہا، جلدی تیار ہو کر آنا، سب تمہارا انتظار کریں گے!" دروازہ بند ہونے کے بعد مقدس نے گہری سانس لی اور ناشتے کی طرف دیکھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کچھ دیر قبل ہی ملازمہ اسے پیغام دے کر گئی تھی کہ سب لوگ نیچے ناشتے پر اسکا انتظار کر رہے ہیں۔۔وہ ذرا حلیہ درست کرتی روم سے باہر آئی۔۔ذرا گھبراہٹ بھی ہورہی تھی۔۔شاید اب ٹیبل پر وہ عیسیٰ نامی شخص بھی ہو ،جس نے اسے ملازمہ ہی سمجھ لیا تھا۔۔۔مقدس نے گہری سانس لی اور چلتی ہوئی میز تک آئی تھی۔سب کو اپنا منتظر دیکھ،اسے ایک بار پھر حیرانی ہوئی تھی۔۔۔سب لوگ اس کا انتظار کر رہے تھے! گرینڈ پا ابتسام عبداللہ اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھے تھے، اخبار ان کے سامنے رکھا تھا مگر وہ پڑھنے کے بجائے مسکراتی نظروں سے مقدس کو دیکھ رہے تھے۔ عثمان اور عائشہ کسی موضوع پر گفتگو کر رہے تھے، جبکہ عرشمان نے اسے ہلکی سی مسکراہٹ پاس کرتے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔ فریح بیگم ٹوسٹ پر ہلکا سا مکھن لگا ر کر پلیٹ میں رکھ رہی تھیں، اور جیسے ہی مقدس قریب آئی، سب کی نظریں اس پر مرکوز ہوئیں تھیں۔ ’’چلیں بھئی شروع کریں۔‘‘ابتسام صاحب کے کہنے پر وہ سب نے ہی ناشتہ شروع کیا تھا۔جبکہ اب سب کے درمیان بیٹھی مقدس بھی آہستہ آہستہ ان میں ایڈجسٹ ہو رہی تھی۔ -------------------- مقدس ناشتہ کرنے کے بعد جب اپنے کمرے میں واپس آئی، تو کچھ دیر تو کتاب پڑھنے کی کوشش کرتی رہی، مگر دل نہیں لگا۔ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔۔ابتسام صاحب کا زیادہ تر وقت اسٹڈی میں گزرتا تھا۔جبکہ وہ کسی کے فیملی ٹائم میں دخل آندازی دے کر انکی پرائیوسی ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ "اتنا بڑا گھر ہے،بندہ گم ہی ہوجائے، اور
