Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 49
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/10/2025
5 Views
Episode no 49
عمل کرتی کمرے میں بندھ ہوگئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلا دن طلوع ہوگیا تھا۔۔مگر افگن نہیں لوٹا تھا۔ایکسیڈینٹ میں جاں بحق ہونے والے تمام لوگوں کی شناخت ہوگئی تھی۔۔مگر شیر افگن کا اب تک کچھ پتہ نہیں چل سکا تھا۔ حیات کی ساری رات بے چینی میں کٹ گئی تھی۔۔دل میں عجیب وسوسے آرہے تھے۔۔افگن کا نمبر مسلسل بند آرہا تھا۔البتہ اُس کے نمبر پر نجانے کیسے کیسے وائس نوٹس آرہے تھے۔۔جنہیں اس نے خوف کے مارے دوبارہ کھول کر بھی نہیں دیکھا تھا۔جب سے ویڈیو لیک ہوئی تھی۔اُس کے دل میں خوف سے بیٹھ گیا تھا۔وہ افسردھ سی ہال میں موجود تھی۔۔جب وہاں ناصر صاحب چلے آئے تھے۔۔وہ بھاگ کر اُن کے سینے سے جا لگی تھی۔ ’’بابا!افگن کہاں ہیں۔۔وہ میری کال کیوں نہیں ریسو کر رہے۔۔آپ اِنہیں کہیں مجھ سے ناراض نہ ہوں پلیز!‘‘وہ اُن کے سینے سے لگی ضبط کھو کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔عابثہ جو حقیقت جاننے کے بعد خود پر بڑی مشکل سے قابو کئے ہوئے تھی۔۔ اپنے آنسو نہیں روک پائی۔۔ ’’حیات میرا بیٹا!افگن کچھ کام کے سلسلے میں ملک سے باہر گئے ہیں۔وہ جلد واپس آجائیں گے۔۔آپ میرے ساتھ گھر چلو میرا بیٹا!‘‘ وہ اس کا سر تھپک رہے تھے۔ ’’باہر چلے گئے۔۔مجھے بتایا بھی نہیں۔‘‘وہ یکدم افسردہ ہوئی۔ ’’یہاں ہم ہیں ناں!میرا بیٹا!آپ فکر نہیں کرو۔۔اپنے گھر چلو۔۔۔‘‘وہ کچھ دیر عابثہ اور ارتضیٰ کے ساتھ گزار کر اسے اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات کتنی دیر سے اپنے کمرے میں بند تھی۔۔اس کی شکل دیکھتے ہی زرین ناصر صاحب کی تنبیہ یاد کرتیں منہ پھیر کر چلی گئی تھیں۔۔گھر میں عجیب سا سناٹا تھا۔۔ہر سو سوگواری سی چھائی ہوئی تھی۔۔نجانے کیا ہوا تھا کہ سب اُداس تھے۔ ’’افگن کہاں چلے گئے ہیں آپ؟‘‘ اسے کل سے اپنی طبیعت بوجھل محسوس ہورہی تھی۔ مگر وہ نظر آنداز کر گئی۔ ’’ پلیز واپس آجائیں۔۔آپ کے بغیر۔۔۔آپ کی حیات کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘وہ خود کلامی کرتی روم ونڈو کے گلاس سے ماتھا ٹیکا گئی۔ہر طرف بس افگن کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؎ احمر پچھلے پانچ روز سے ویٹیلیٹر پر تھا۔مگر آج اس کی طبیعت سنبھل گئی تھی۔۔صفدر سلطان شیر افگن کی حادثاتی موت کراکے اپنے بیٹے کا بدلہ لے چکے تھے۔اب بھلا کیس کس نے لڑنا تھا۔۔ اور اب احمر بہت بہتر بھی تھا۔۔علاج کی غرض سے وہ میڈیکل سرٹیفیکٹ بنوا کر اسے باہر نکالنا چاہ رہے تھے۔۔اور ممکن تھا کہ وہ اپنے ارادوں میں کامیاب ہوجاتے۔احمر کی تمام سابقہ گرل فرینڈز کا پتہ افگن سے تگڑی رقم دے کر وہ صاف کر چکے تھے۔۔اب جو رہ بھی گئیں تھیں۔وہ اپنا منہ خود نہیں کھُولنے والی تھیں۔ ایک ماہ گزر گیا تھا۔۔عدالت کی کاروائی اَدھوری رہ گئی تھی۔۔احمر علاج کی غرض سے انگلینڈجا چکا تھا۔مگر جانے سے پہلے وہ مینا کو آزاد کر گیا تھا۔۔شیر افگن کی ڈیڈ باڈی کی شناخت نہیں ہوسکی تھی۔حیات اب تک اُس کی منتظر تھی ۔جو وہاں جا چکا تھا جہاں سے واپس ناممکن ہوتی ہے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھٹکے کی آواز پر زرین نے افگن کی فوٹ فریم میں لگی تصویر کو لبوں سے چھوتے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔۔ ’’آنٹی!وہ انکل کہاں ہیں؟‘‘وہ لب چبا رہی تھی۔ ’’کام سے گئے ہیں۔۔‘‘وہ اپنے آنسو خشک کرتیں سردگی سے بولیں تھیں۔ ’’ آنٹی افگن کب واپس آئیں گے۔۔وہ مجھ سے بات کیوں نہیں کرتے۔‘‘حیات نے ہمیشہ کا کئے جانے والا سوال پوچھا۔۔زرین نے ذرا سی نگاہیں اٹُھا کر اُس کی جانب دیکھا۔ جس کا چاند کی مانند چمکتا چہرہ افگن کی غیر موجودگی میں کملا کر رہ گیا تھا۔۔۔آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ گئے تھے۔جن ہونٹوں سے مسکراہٹ جُدا نہیں ہوتی تھی اب وہ مسکرانا بھول گئے۔ ’’اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔‘‘ وہ بے حد سفاکیت سے اُسے قیامت کی آگاہی دے چکی تھی۔۔آخر اس حقیقت کو کب تک اُس سے چھپایا جا سکتا تھا۔ ’’کیوں؟کیا وہ مجھ سے ناراض ہوگئے ہیں آنٹی؟‘‘وہ دوڑ کر ِان کے قدموں میں آبیٹھی تھی۔ ’’وہ نہیں آئیگا اب۔۔۔افگن کی روڈ ایکسیڈینٹ میں دیتھ ہوگئی تھی۔۔پاگلوں کی طرح اس کا انتظار کرنا بند کردو اب۔۔۔‘‘وہ جذبات میں بولتیں خودد بھی ہچکیوں سے رو پڑی تھیں۔۔۔جبکہ حیات تو مانو پتھر کی ہو گئی تھی۔ ’’آنٹی!جھوٹ جھوٹ ہے ناں یہ۔‘‘وہ بہت دیر بعد ہوش میں آئی تھی۔۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ ’’سچ ہے یہ۔۔۔بالکل سچ۔۔۔اور جانتی ہو اس کی موت کا زمہ دار کون ہے۔۔۔تم ہو ۔۔تم ہو میرے معصوم بیٹے کی موت کا ذمہ دار!جب سے آئی ہو۔ہمارے گھر سے خوشیاں رُوٹھ گئیں ہیں۔‘‘ وہ شدت بھرے لہجے میں ہذیانی سی ہوکر چنگھاڑی تھیں۔۔۔جبکہ وہ پہلے بے یقینی،اور پھر آگاہی میں پاگل ہوتی چیخ چیخ کر رُونے لگی تھی۔ ’’افگن مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔۔نہیں۔۔وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔۔آخر وہ میرے ساتھ یہ زیادتی کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔انہونے کہا تھا حیات میں واپس آکر تمہاری خبر لونگا۔۔میں کوئی اُلٹی حرکت نہ کروں۔۔دیکھیں میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔۔میں انتظار کر رہی ہوں اُن کا۔۔مگر وہ نہیں آرہے۔۔وہ ناراض ہوگئے ہیں مجھ سے۔۔وہ ناراض ہوگئے ہیں مجھ سےآنٹی۔۔انہیں بولیں اُن کی حیات مر جائے گی ان کے بغیر۔۔۔۔۔‘‘ وہ رندھی ہوئی آواز سے بامشکل جملے مکمل ادا کرتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔۔جبکہ زرین بھی آج بیٹے کے غم میں اس کی برابر کی شریک تھیں۔۔ ’’میں مر جاؤنگی۔۔انہیں بولیں کہ واپس آئیں۔۔میں مر جاؤنگی افگن کے بغیر۔۔۔‘‘ وہ سجدے کی حالت میں بیٹھی اپنا ماتھا فرش سے لگائے بُری طرح رو رہی تھی۔۔۔ اور رُوتے روُتے یکدم ہی اس کی گردن لڑکھ گئی تھی۔۔ اور وہ بے ہوش ہوتی دوسرے رُخ پر گر پڑی۔۔زرین بوکھلا کر اُٹھی تھیں۔ ’’حیات!‘‘وہ چیخ کر اُس کی جانب بھاگی تھیں۔۔۔ جو ہوش و خرد سے بیگانہ تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’شی از فائن مسٹر ہاشمی!بٹ اس کنڈیشن میں ان کو ایکسٹرا کئیر کی ضرورت ہے۔۔مینٹلی اسٹریس تو ان کی صحت کے لئے بالکل بھی اچھا نہیں۔‘‘ڈاکٹر چیک اپ کے بعد روم سے باہر آتی پروفیشنل آنداز میں بولی تھیں۔ ’’سوری ڈاکٹر!میں سمجھی نہیں۔۔‘‘ناصر صاحب تو خاموش تھے۔زرین نے پہل کی۔ ’’شی از ٹو منتھ پریگننٹ!‘‘ زرین کا چہرہ سپاٹ ہو گیا تھا۔جبکہ ناصر صاحب اپنے جوان بیٹے کو یاد کرغم سے نڈھال ہوتے پیچھے دیوار کے سہارے بامشکل خود کو سنبھال سکے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک نیا دن طلوع ہوگیا تھا۔۔حیات کتنی ہی دیر سے افگن کی وارڈ روب کھول کر بیٹھی تھی۔۔اس کی ایک ایک چیز کو چھوتی وہ مسلسل رو رہی تھی۔۔ اسے نہ اپنا خیال رہا تھا۔۔نہ اپنی طبیعت کا۔۔۔وہ نیم پاگلوں والی حرکتیں کر رہی تھی۔۔۔یا یوں کہاں جائے کہ افگن کی موت کا صدما اس قدر گہرا تھا۔۔کہ اس کی تمام تر دماغی صلاحیتیں مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ ’’افگن!کب واپس آئیں گے آپ۔۔میں نے اتنے دن سے کچھ بھی نہیں کھایا۔۔۔باہر کا تو بالکل بھی نہیں۔۔اور اب میں روم میں بھی کھانا نہیں کھاتی۔بلکہ سب کے ساتھ ڈائینگ ٹیبل پر ہی کھاتی ہوں۔اور ہاں زرین آنٹی بھی اب مجھ سے خفا نہیں ہیں۔۔سب ٹھیک ہوگیا ہے۔۔مگر آپ کیوں نہیں آرہے۔‘‘وہ افگن کا نمبر ڈائل کرتی موبائل کان سے لگائے وہ خود سے ہی بولنے لگی تھی۔۔جیسے سننے والا تو شاید ۔۔۔۔۔۔ ’’پلیز واپس آجائیں!ابھی تو ہم ہنی مون پر بھی نہیں گئے۔۔ابھی تو آپ مجھے کہیں گھمانے بھی نہیں لے کر گئے۔۔کچھ بھی نہیں ہوا۔۔ہمارا ولیمہ۔۔۔ہاں ولیمے پر وہ چڑیل اُجالا آگئی تھی۔۔مگر اب تو وہ بھی مر گئی۔۔۔اب آپ واپس آجائیں۔‘‘وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔ ’’ آپ کا یہ پرفیوم ،مجھے ہمیشہ سے پسند ہے ،مگر آپ
