Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 49
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/10/2025
5 Views
Episode no 49
دھوپ چھاؤں کا عالم رہا از ہما قریشی قسط نمبر 49 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات جا چکی تھی۔۔وہ فلیٹ لاکڈ کرتا دوسرے راستے سے خود بھی نکل گیا تھا۔۔جب پولیس وہاں پہنچی تو نہ وہاں افگن تھا نہ اُس کا نام و نشان۔۔ ’’ناصر صاحب !اپنے بیٹے کی فنکاریوں پر بیچ و تاب کھا کر رہ گئے تھے۔۔ ’’ ناصر صاحب!آپ کو ہمارے ساتھ تھانے چلنا ہوگا!آپ جانتے ہیں۔۔جس شخص پر آپ کے بیٹے نے قاتلانہ حملہ کیا ہے وہ عدالت کی طرف سے ضمانت پر تھا۔اور اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوسپٹلائیزڈ ہے۔۔۔آگر اسے کچھ ہوگیا تو آپ کا بیٹا تو لمبا آندر جائے گا۔۔‘‘آفیسرکے کہنے پر وہ خاموشی سے ان کی ہمراہی میں تھانے پہنچے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کہاں ہے یار تو۔۔۔وہ پولیس انکل کو تھانے لے آئی ہے!‘‘ارتضیٰ حیات کو گھر چھوڑ کر اب خود بھی پولیس اسٹیشن کے لئے نکلا تھا۔ ’’تھانے جارہا ہوں۔۔۔حیات ٹھیک تو ہے ناں؟‘‘ وہ فل اسپیڈ میں تھا۔۔ ’’ہاں حیات بھابھی تو ٹھیک ہیں بالکل!عابثہ ہے اُن کے ساتھ!خیال رکھ لے گی۔۔تو فکر نہ کر۔۔‘‘ ارتضیٰ متوازن لہجے میں بولا۔ ’’ہاں۔۔۔وہ میں کہ۔۔۔۔۔۔‘‘ اُسکے لفظ مخالف سمت سے آتے لوڈڈ کنٹینر سے بُری طرح تصادم کے باعث اَدھورے ہی رہ گئے تھے۔۔۔اور لمحے کے ہزارویں حصےٰ میں ارتضیٰ سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔۔ ’’ہیلو افگن!ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘وہ مُسلسل چلاتارہا تھا۔۔مگر دُوسری جانب ایک لمحے کو خاموشی چھائی اور پھر بلاسٹ ہوا تھا۔دوسری جانب چیخ و پُکار مچ گئی تھی۔ گاڑیوں کی آوازیں لوگوں کی چیخیں وہ بس خاموش رہ گیا تھا۔۔ارتضیٰ پاگلوں کی طرح چلاتا رہا تھا،مگر وہ ہوتا تو شاید جواب دے بھی دیتا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کی پہلی کرن ہر سو پھیل چکی تھی۔۔شہر سے ذرا دور ہائی وے پر اس وقت قیامت کا سا منظر تھا۔ہر جانب اسموک پھیلا ہوا تھا۔۔ شیر افگن کی گاڑی کسی لوڈڈ کنٹینر سے جاٹکرائی تھی۔۔کنٹینر ڈس بیلنس ہونے کے باعث روڈ پر گرگئے تھے۔۔جبکہ باقی متاثرہ گاڑیاں کچے کے حصےٰ میں جاگری تھیں۔۔ افگن کی گاڑی کا کچومر نکل گیا تھا۔۔۔ ’’دیکھیں مسٹر!ہم جائے حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔۔آپ کے بیٹے کی گاڑی کی نمبر پلیٹ تو مل گئی ۔مگر ابھی تک ڈیڈ باڈی نہیں مل سکی ہے۔۔۔‘‘ پولیس آفیسر کے لفظوں پر ناصر صاحب کے قدم لڑکھڑا گئے تھے۔جوان بیٹے کے بارے میں ایسے الفاظ سُننا کسی قیامت سے کم نہ تھے۔۔۔حیات کو تو ابھی اس قیامت کا کوئی علم ہی نہیں تھا۔۔۔ ’’ارتضیٰ یہ کیا بکواس کر رہے ہیں۔۔ایسا کیسے ممکن ہے۔۔‘‘وہ باپ تھے۔۔۔یکدم انہیں اپنا آپ بوڑھا محسوس ہونے لگا تھا۔۔ ’’انکل سنبھالیں خود کو۔۔۔‘‘ارتضیٰ نے بامشکل اُنہیں سنبھالا تھا۔۔اس کی خود کی آنکھیں ضبط سے سُرخ ہورہی تھیں۔۔۔ یقین کرنا مشکل تھا کہ شیر افگن۔۔۔۔۔کہ شیر افگن ان کے بیچ نہیں رہا تھا۔۔۔۔مگر ابھی تو ایک قیامت آنی باقی تھی۔۔۔ جب حیات کو افگن کی موت کا علم ہونا تھا۔۔۔نجانے وہ یہ سب کیسے سنبھالتامگر اپنے دوست کی غیر موجودگی میں یہ سب اُسی نے سنبھالنا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک قیامت خیز رات کے بعد اپنے وقت کے مطابق ایک روشن صبح طلوع ہوگئی تھی۔مگر محض یہ ایک رات حیات کا سب تباہ و برباد کر گئی تھی۔۔وہ بیوقوف تو اب تک اپنی زندگی کے اس قدر بڑے خسارے سے انجان تھی۔۔۔ ’’عابثہ صبح کے دس بج گئے ہیں۔۔۔نہ افگن واپس آئے نہ ارتضیٰ بھائی آخر ہوا کیا ہے۔۔‘‘وہ مسلسل بے چینی کا شکار تھی۔۔وہ وقت یاد آرہا تھا۔۔جب وہ افگن سے دور جا رہی تھی۔ ’’آجائیں گے بھابھی!آپ پلیز حوصلہ رکھیں۔۔۔‘‘ وہ شدید ضبط سے بولی۔۔اب تو اُسے بھی ٹینشن ہونے لگی تھی۔ارتضٰی بھی کال ریسو نہیں کر رہا تھا۔۔۔ ’’کب آئیں گے۔۔مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے !‘‘ وہ اضطرابی کی سی کیفیت میں مبتلہ تھی۔ ’’آجائیں گے۔۔بھابھی آپ ساری رات سے سوئی نہیں ہیں۔۔نہ کچھ کھایا ہے۔۔آپ پہلے ناشتہ کرلیں پھر دوائی کھا کر سو جائیں۔۔وہ لوگ آجائیں گے واپس۔‘‘ وہ زبردستی اسے اپنے ساتھ ڈائننگ ٹیبل تک لائی تھی۔۔جس کا دل کسی اَنہونی کے ڈر سے بُری طرح گھبرا رہا تھا۔۔۔ مگر وہ خاموش ہوگئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا ہوا میرے بچے کو۔۔۔ناصر صاحب۔۔۔آپ کچھ بولتے کیوں نہیں ہیں۔۔کیا ہوا افگن کو۔۔۔‘‘ وہ اُن کے گھر میں داخل ہوتے ہی تیزی سے ناصر صاحب کی جانب بڑھیں تھیں۔ ’’افگن کی گاڑی کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے مگر ابھی تک افگن کی شناخت ممکن نہیں ہوسکی۔‘‘ وہ شدید ضبط سے بولتے صوفے پر ڈھے گئے تھے۔۔۔زرین نے بے یقینی سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ ’’یہ۔۔۔یہ آپ کیا بول رہے ہیں ناصر صاحب!‘‘وہ بے یقینی سے کچھ بول ہی نہیں سک رہی تھیں۔۔۔۔ ’’دعا کرو۔۔۔دعا کرو کہ میری آنکھوں دیکھا، اور کانوں سے سنُا سب جھوٹ ہو۔۔۔اور ہمارا بیٹا بالکل ٹھیک ہو۔۔۔اللہ پاک ہماری گود نہ اُجاڑ دے زرین۔۔‘‘وہ شدید کرب کے عالم میں بولتے جوان بیٹے کے غم میں رو پڑے تھے۔۔۔ ’’اللہ نہ کرے۔۔۔ناصر صاحب۔۔میرے بچے کو میری بھی عمر لگ جائے۔آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں۔‘‘وہ پھوٹ پھوٹ کر روتیں ان کے قدموں کے پاس ہی بیٹھ گئیں تھیں۔۔ ’’آنٹی پلیز!سنبھالیں خود کو۔۔۔‘‘ارتضیٰ نے انہیں دلاسہ دیا۔ ’’کیسے سنبھالوں بیٹا!میرا بچہ۔۔۔میرا بچہ۔۔۔مجھے نہیں معلوم۔۔۔میرا بیٹا واپس لا کر دو مجھے۔۔‘‘ اُن کی ممتا تڑپ اٹُھی تھی۔ ’’آنٹی ریلیکس!ابھی آپ کو خود کو سنبھالنا ہوگا۔۔ انکل کو شیر افگن کو۔۔۔پلیز!‘‘وہ ان کو اپنے حصار میں لے کر خود سے لگاتا بہت ضبط سے بولا تھا۔ ’’حیات!ارتضیٰ حیات۔۔۔کیا حیات کو یہ سب معلوم ہے۔‘‘بلاخر انہیں حیات کا خیال آہی گیا تھا۔۔ ’’نہیں وہ میرے گھر ہیں۔۔افگن نے جانےسے پہلے بھابھی کو میرے حوالے کیا تھا۔‘‘‘ارتضیٰ نے تحمل مزاجی سے کام لیا تھا۔ ’’بیٹا!لے کر آؤ حیات کو۔۔نجانے یہ بچی اپنی قسمت میں کیا لکھ وا کر آئی ہے۔۔آزمائشیں ہیں جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں۔‘‘ وہ شدید رنج کی کیفیت سے دوچار تھے۔۔۔ ’’ انکل!کیا ہم ابھی فی الحال حیات کو اس خبر سے لاتعلق رکھ سکتے ہیں،وہ کل رات ہی اتنے بڑے ٹرامہ سے گزری ہیں۔اب یُوں اچانک انہیں شاکس پر شاکس دینا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔اُن کی مینٹل کینڈیشن ویسے ہی اسٹیبل نہیں ہے۔۔آٹلیسٹ آپ لوگ انتظار تو کیجیے۔۔کچھ نہیں ہوا ہوگا افگن کو۔۔وہ ٹھیک ہوگا بالکل۔‘‘وہ سمجھانے والے لہجے میں اُمید سے بولا تھا۔۔ناصر صاحب خاموش بیٹھے تھے۔کہنے اور سنُنے کو آخر رہ ہی کیا گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مینا!‘‘فردوس منزل میں اس وقت عدیل صاحب کی آواز گونج رہی تھی۔ ’’جی بابا!‘‘وہ بھاگتی دوڑتی حاضر ہوئی تھی۔ ’’وہ جو تمہارا نام کا شوہر ہے ناں۔۔جو کل ہی ضمانت پر رہا ہوا تھا۔۔۔وہ ایک بار پھر سے بھڑ گیا تھا ناصر ہاشمی کے لڑ کے سے۔بہتر ہے کہ تم جلداز جلد خلا کے کاغذات پر سائن کردو۔۔ طلاق کا چکر چھوڑو۔۔حق مہر میں کونسا کڑوڑوں لکھ دیے ہیں انہونے۔‘‘وہ باپ ہو کر ایسی بات کر رہے تھے۔مینا نے ڈب ڈبائی نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا۔ ’’ بابا!میں۔۔۔۔کیا ہو ا احمر کو۔‘‘ وہ نا چاہتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھی تھی۔ ’’مرنے والا ہے۔۔بیوہ کا لیبل اپنے ماتھے پر سجانے سے بہتر ہے کہ طلاق یافتہ کہلاؤ۔‘‘وہ درشتگی سے بولے تو وہ سہم گئی۔ اُن کی بیگم نے آگے بڑھ کر سینے سے لگایا تھا۔ ’’عدیل صاحب!بیٹی ہے ہماری۔‘‘انہونے احساس دلایا ۔ ’’بیٹی ہے۔۔اس لئے ا س کی بھلائی کی بات کر رہا ہوں۔۔۔سائن کرو اس پر فوراً۔‘‘ وہ نخوت سے کاغذات اس کے سامنے پھینک چکے تھے۔ ’’مینا بیٹی!صحیح کہ رہا ہے تمہارا باپ۔شاباش سائن کرو ان کاغذات پر۔‘‘فردوس بیگم نے نرمی سے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔جبکہ وہ خاموشی سے ان کہ کہے پر
