Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 47
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/10/2025
5 Views
Episode no 47
پر چٹانوں کی سی سختی تھی۔ ’’تو پھر تم نے کیا سوچا ہے۔‘‘ فردورس بیگم نے نظریں گھمائیں جو زمین کو گھور رہے تھے۔۔ میں ہمیشہ کی طرح وہ وجہ ہی ختم کردونگا۔جو ہمارے راستے کی رکاوٹ بنے گی۔‘‘عدیل صاحب کے ذومعنی بات نے انہیں خوفزدہ کیا تھا۔ ’’جوش سے نہیں ہوش سے کام لو۔۔پہلے ہمارے راستے کی رکاوٹ کوئی نہیں تھا۔مگر اب ایسا نہیں ہے۔۔زمانہ بدل گیا ہے۔۔اب حالات مختلف ہیں۔‘‘انہونے معاملے کی نزاکت سے آگاہی دی تھی۔ ’’آپ خاموش رہیں اماں جان!میں دیکھ لونگا۔‘‘وہ غصےٰ میں تیز لہجے میں بولتے وہاں سے نکلتے چلے گئے۔جبکہ وہ ماضی میں کھوتی اپنی زیادتیاں یاد کرتیں خاموش رہ گئیں۔۔دل میں ویسے ہی بینا کا غم بیٹھ گیا تھا۔۔ان کا بیٹا تو جیسے بیٹی کو بھول ہی گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا وقت تھا۔۔حیات مگن سی ڈنر ریڈی کرنے میں مصروف تھی۔جبھی عقب سے آتے افگن نے اُسے اپنے حصار میں قید کیا تھا۔وہ چونکی مگر شناسہ لمس پر وہ دھیرے سے گردن اُٹھاتی مسکائی۔ ’’تو آج مینو میں کیا ہے محترمہ!‘‘ وہ کندھے پر تھوڑی ٹکائے شرراتی لہجے میں بولا تھا۔ ’’ بہت مشکلوں کے بعد تیار ہونے والا یخنی پلاؤ۔‘‘ وہ چولہے کی آنچ دھیمی کرتی اب خوشبوئیں اُڑاتے پلاؤپر بھُنی پیاز ڈال رہی تھی۔ افگن نے چاولوں کا حلوہ دیکھ بامشکل قہقہہ ضبط کیا تھا۔ ’’خوشبو تو بہت لزیز آرہی ہے۔مگر یہ واقعی پلاؤ ہی ہے ناں؟‘‘وہ شرارت سے باز نہ آیا۔ ’’ظاہر سی بات ہے۔کیوں آپ کو کچھ اور لگ رہا ہے۔‘‘وہ خفا سی فوری حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی۔ ’’مجھے تو یخنی پلاؤ ہی لگ رہا ہے۔۔کیوں تمہیں اپنی کوکنگ ایکسپرٹیز پر کوئی شک ہے کیا؟‘‘اُس کے جوڑے سے پن نکالتا وہ بالوں کی آبشار کھول گیا تھا۔ ’’افگن!‘‘وہ اُس کے بالوں میں اُلجھتے ہاتھ ہوا میں ہی تھام گیا۔ ’’اب کیا ہے تیار ہو تو گیا کھانا!‘‘ وہ واپس اسے اپنے حصار میں لیتا گردن کے خم کو دھیرے سے چھوتا دور ہوا۔ جس نے گردن ترچھی کئے خفا سی نگاہ ڈالی تھی۔ ’’یہ فضول حرکتوں کے لئے کچن ہی نظر آتا ہے کیا!‘‘ وہ اس آپارٹمنٹ میں اس کی ہر وقت کی بے باکیوں سے تنگ آگئی تھی۔ ’’تم کہو تو روم میں چلتے ہیں۔‘‘ وہ شرارتی لہجے میں مزید بولا۔ ’’وری فنی!صبح تو آپ پر جن چڑھ گیا تھا۔۔اور اشارے سے ہی روم سے باہر نکال دیا۔مطلب بات کرنے میں بھی تکلیف پیش آرہی تھی،جناب کو۔‘‘ اُسے ابھی صبح والا رویہ بھولا نہیں تھا۔ ’’ہاہاہا!مجھ پر جن نہیں آئے تھے۔میڈم آپ کا دماغ خراب ہے۔۔میں نے خاموش بیٹھنے کا کہا تھا۔۔روم سے باہر تم اپنی مرضی سے گئیں تھیں۔‘‘ اس نے جتانا ضروری سمجھا۔ ’’وری فنی!اب چھوڑیں مجھے۔بھوک نہیں لگ رہی ۔کھانا نہیں کھانا کیا!‘‘ وہ اسے یونہی قید کئے کھڑا تھا۔۔جبھی وہ اس کے حصار میں ہی پلٹی۔ ’’بھوک توواقعی بہت شدت اختیار کر چکی ہے۔۔تم نے دو دن سے مجھے بھوکا رکھا ہوا ہے۔۔میرے اماں ،ابا نے مجھے کبھی بھوکا نہیں سونے دیا۔۔اور تم تو پوچھتی ہی نہیں۔‘‘ حیات اس الزام پر تڑپ کر رہ گئی۔ ’’کیا؟میں نے بھوکا رکھا ہے؟‘‘اپنی جانب انگلی کا رُخ کرتی وہ حیرت سے بولی۔ ’’تو اور یہاں کوئی نظر آرہا ہے جو مجھ پر ایسا ظلم کر سکے۔‘‘اس نے لب دبا کر مسکراہٹ ضبط کی۔ ’’اچھا!اچھا!کوئی بات نہیں۔۔ابھی تو کھانا تیار ہے۔۔مگر ابھی صبح بھی تو ہونی ہے۔اور پھر دوپہر!اب آپ کھانا خود ہی بنا کر کھایئے گا۔۔کیونکہ میں تو نہیں بنانے والی۔‘‘ وہ لمحوں میں بدک گئی تھی۔ ’’کیوں بھئی!میں تمہیں اپنے ساتھ کس خوشی میں لایا ہوں؟‘‘وہ ذرا رعب سے بولا تو حیات نے خشمگیں نظروں سے گھورا۔ ’’بس بس!بہت ہوگئی ہیرو گیری۔۔۔اب اپنے اصل گیٹ اپ میں واپس آجائیں یا پھر میں ملاؤں کال ناصر صاحب کو۔‘‘ وہ دھکمی آمیز لہجے میں بولی تھی۔ ’’اوہ اچھا!میری بلی مجھے ہی میاؤں!‘‘ وہ اس کے چالاکیوں پر عش عش کر اُٹھا تھا،جس نے طنزیہ سر جھٹکا۔ ’’سوچ لیں!میں سچ میں انکل سے آپ کی شکایت لگا دونگی۔‘‘ اس کی دھمکی پر افگن نے بامشکل قہقہہ ضبط کیا تھا۔ ’’نہ تو میں کونسا ڈرتا ہوں،تمہارے انکل سے۔‘‘ وہ بھی موڈ میں تھا۔ ’’اوہ رئیلی!‘‘اس نے آئی برو ُاٹھائے۔جبھی وہ تیزی سے جھک کر اس کے ناک چھوتا بوکھلانے پر مجبور کر گیا۔ ’’اینی ڈاؤٹ بے بی!‘‘وہ پُرشوق نظروں میں اُس کا گلابی پڑتا چہرہ نظروں میں سماتا مزے سے بولا۔جو خفت ذدہ سی اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔ ’’جب میں یہاں ہوں توِارد گرد میں کیا ڈھونڈ رہی ہو۔‘‘ وہ اب مزید پیش قدمی کرتا اس کی گردن پر اپنے لب رکھ چکا تھا۔بس حیات کا کونفیڈینس یہی تک کا تھا۔ ’’افگن!‘‘ وہ مزید بہک رہا تھا۔۔جبکہ وہ اس کے مضبوط حصار میں پھڑپھڑا بھی نہیں سکی تھی۔ ’’’افگن!مجھے کھانا لگانا ہے۔‘‘ وہ حیا سے بوجھل آواز میں بولتی شرم سے سُرخ پڑ گئی تھی۔وہ ایک گہری سانس فضا کےسپرد کرتا ذرا فاصلے پر ہوا۔ ’’تو لگاؤ ناں جانم !کس نے منع کیا ہے۔‘‘ دھیرے سے اُس کا قندھاری انار کی مانند سُرخ پڑتا چہرہ لبوں سے چھوتا کچن سے باہر نکل گیا تھا۔۔اور حیات کتنی ہی دیر اپنابگڑا تنفس سنبھالتی رہ گئی تھی۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ویسے تم نے بتایا نہیں حیات !‘‘ وہ تقریباً پلاؤ کا حلوہ آدھے سے زیادہ نگل چکا تھا۔۔ذائقہ واقعی اچھا تھا مگر چاول۔۔۔۔ ’’کیا؟‘‘وہ جو کچن میں ہوئی کارروائی کے بعد خاموشی سے کھانا کھانے میں مشغول تھی۔۔اب چونکی۔ ’’کہ تم نے یہ یخنی پلاؤ کا حلوہ کس ، ماسٹر شیف کی ریپسی کو فالو کرتے ہوئے تیار کیا ہے؟‘‘ اُس کی پُر شوق نگاہوں میں شرارت ہچکولے لے رہی تھی۔حیات نے ایک خفا سی نگاہ سے نوازہ تھا۔ ’’اب اتنا بھی بُرا نہیں بنا ہے۔۔۔بس اگلی بار ذرا پانی کا خیال رکھونگی۔‘‘کوئی ہو نہ ہو وہ تو اپنے لذیز پکوان سے بے حد مطمئین تھی۔ ’’ بُرا۔۔‘‘اس نے شرارت سے منہ کُھول کر لفظ اَدھورے چھوڑ دئے تھے۔۔۔ ’’نہیں کھانا تو نہ کھائیں!میں نے تو نہیں بولا کھانے کے لئے۔۔اتنی محنت سے بنایا ہے میں نے۔۔‘‘ وہ یکدم ہی روہانسو ہوتی چئیر چھوڑ کر کمرے کی جانب بھاگی تھی۔۔۔جبکہ وہ جو اسے تنگ کرنے کا بھرپور ارادہ بنائے بیٹھا تھا،اُس کو روتا دیکھ خود بھی بوکھلاہٹ میں ارے ارے ہی کرتا رہ گیا۔۔ ’’حیات!یار مذاق کر رہا ہوں۔۔شاباش واپس آؤ جلدی!تمہاری محبت میں پوری پلیٹ چاول ختم کر چکا ہوں۔۔ورنہ پوچھنا کبھی مما سے۔۔مجھے رات میں چاول کھانا پسند نہیں ہیں۔۔‘‘ وہ آواز لگاتا اب سنجیدگی سے بولا۔۔مگر دوسری جانب سے کوئی رسپانس نہیں تھا۔۔چارو نچار اِسے ہی جگہ سے اُٹھنا پڑا تھا۔ ’’یار حیات۔۔۔۔‘‘ موبائل کی گھنٹی پر باقی کے لفظ لبوں میں اَدھورے ہی رہ گئے تھے۔ ’’ہیلو!‘‘ارتضیٰ کا نمبر دیکھ جھٹ کال پک کی تھی۔ ’’تو نے فیس بُک چیک کی ہے؟‘‘افگن کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔ ’’نہیں خیریت!‘‘ارتضیٰ نے پیشانی مسلی۔ ’’کوئی دوسرا سوشل پلیٹ فارم!‘‘ اس کے لہجے سے پریشانی عیاں تھی۔ ’’نہیں!مگر ہوا کیا ہے؟‘‘ اب اسے بھی تفشیش ہوئی تھی۔ ’’تم اپنا واٹس آیپ چیک کرو۔۔ اورریلکس رہنا پلیز!‘‘وہ خود کو شدید بے بس محسوس کرتا بہت نرمی سے بولا،جبکہ اب افگن کو گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔۔۔۔اس نے تیزی سے واٹس ایپ کھولا تھا۔۔۔اور نگاہوں کے سامنے جو وڈیو چل رہی تھی۔اس نے دماغی حالت کو زِیر زَبر کر کے رکھ دیا تھا۔۔ ُاس کا چہرہ تزلیل کے باعث سُرخ پڑ گیا تھا۔۔اور وہ تصاویریں ۔ویڈیوز۔۔۔ افگن کو لگا کہ اب وہ سانس نہیں لے سکے گا۔۔۔قدموں کے نیچے سے
