Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 47
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/10/2025
5 Views
Episode no 47
دھوپ چھاؤں کا عالم رہا از ہما قریشی قسط نمبر47 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں ہی اِس وقت عباسی مینشن کے ہال میں موجود تھے۔کچھ دِیر قبل ہی وہ ایک پُر تکلف ڈنر سے فری ہوئے تھے۔ دادی اپنے روم میں جاچکی تھیں۔جبکہ حیات اور عابثہ باتوں میں مصروف تھیں۔ارتضیٰ اور شیرافگن کسی موضوع پر سنجیدگی سے محوِ گفتگو تھے۔ ’’تمہیں کیا لگتا ہے۔اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد بھی کیا ،احمر خاموش رہے گا؟‘‘ارتضیٰ نے آئی برو اُٹھائے پُرسوچ آنداز میں پوچھا۔ ’’کچھ بھی کرلے،مگر اس بار وہ بچ نہیں سکے گا۔‘‘شیر افگن کا لہجا سفاک تھا۔ ’’دیکھو افگن دماغ سے کام لو۔۔یوں بیک فوٹ پر رہ کر آخر کب تک عدالت میں کیس کی کاروائی چلائی جا سکتی ہے۔بہتر یہی ہے کہ اب تم سامنے آجاؤ۔ اُجالا رہی نہیں۔۔اب ہمارے پاس واحد ٹھوس ثبوت صرف حیات بھابھی ہی ہیں۔ باقی سب کا کیا ہے وہ ایک لمحے میں اپنے قول سے پھر جائیں تو میں اور تم کر ہی کیا سکتے ہیں۔‘‘وہ سمجھانے والے لہجے میں بولا۔ ’’میں حیات کو اس سب میں انولو کر کے اسے ذہنی ازیت سے دوچار نہیں کر سکتا۔۔اور آگر مجھے یہی سب کرنا ہوتا تو میں پہلے ہی اُجالا کو عدالت میں پیش کر چکا ہوتا۔۔‘‘ وہ نخوت سے بولا۔ ’’سُوچ لو۔۔احمر کی گرل فرینڈ کے ساتھ اُس کے تعلقات دونوں کی باہمی رضامندی کے تحت عمل میں آئے تھے۔ آگر اس نے یہ بات ثابت کردی تو ہمارا کیس کمزور پڑ سکتا ہے۔‘‘ اس نے تصویر کا دوسرا رُخ دکھایا تھا۔ ’’یار جو بھی ہو۔۔۔میں حیات کو اس سب میس میں نہیں اُلجھانا چاہتا۔۔ میں نہیں چاہتا کہ ایک بار پھر وہ اس گلٹ میں مبتلہ ہوجائے،کہ یہ تمام مسلے اس کی وجہ سے ہیں۔ غلطی ہوگئی ،اب بس بات ختم ہوگئی۔جتنا بُرا اس کے اور میرے ساتھ ہونا تھا وہ ہو چکا ۔۔اب ضروری تو نہیں کہ بار بار یاد دلا کر خود کو ہی ازیت دی جائے۔‘‘ وہ جو پہلے ہی تپا ہوا تھا۔ اب بھنا اُٹھا تھا۔ ’’اوکے ریلیکس!رات بہت ہوگئی ہے پھر تو ابھی گھر کے لئے نکل۔دیکھتے ہیں کل کیا ہوتا ہے۔‘‘ اُس کا کندھا دباتا وہ دھیمے لہجے میں بولا،جس کا چہرہ غصےٰ کی زیادتی سے سُرخ ہورہا تھا۔۔ ’’حیات!‘‘ ’’جی!وہ دونوں چونکی تھیں۔ ’’چلو بس نکلتے ہیں۔۔رات کافی ہوگئی ہے۔‘‘ وہ حیات کو کہتا اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ’’جی!‘‘وہ عابثہ سے گلے ملتی ، تیزی سے افگن کے پیچھے بڑھی تھی۔۔جو آج زیادہ ہی عجلت میں تھا۔۔ارتضیٰ کی پر سُوچ نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔ ’’آپ کیا سوچ رہے ہیں۔‘‘ کندھے پر پڑا دوپٹہ دُرست کرتی وہ ارتضیٰ کے نزدیک آئی۔ ’’ہمم!کچھ نہیں۔۔دادو سو گئیں کیا۔‘‘ وہ پرُ سوچ دکھائی دے رہا تھا۔ ’’جی!سب خیریت ہے ناں!‘‘وہ اسے سنجیدہ دیکھ متعجب ہوئی۔ ’’ہمم!سب خیریت ہی ہے۔مجھے تمہیں کچھ بتانا تھا۔‘‘ وہ اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا روم میں جانے کی غرض سے سیڑھیوں کی جانب بڑھا۔ ’’کیا بتانا تھا۔‘‘ وہ اس کے ساتھ ہی قدم اُٹھا رہی تھی۔ ’’میں نے تمہاری نانو کے گھر لیگل نوٹس بھیجاہے۔‘‘ اُس نے اطمینان سے بم پھوڑا۔ ’’نوٹس!‘‘وہ اچھنبے سے زینے کے عین وسط میں ٹھری۔ ’’ہمم!تمہارے بابا کی جائیداد کا،جس پر صرف تمہارا حق ہے۔‘‘اس کے اطمینان میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا تھا۔ ’’ارتضیٰ!‘‘وہ لمحے کے لئے عجیب سی کشمکش میں گھر گئی تھی۔ ’’تمہیں کوئی اعتراض ہے کیا؟‘‘ اس نے رُخ اپنی جانب موڑ کر نرمی سے پوچھا۔ ’’نہیں !مگر عدیل ماموں کبھی میرا حق واپس نہیں دیں گے۔‘‘ وہ مایوس تھی۔۔۔ ’’تو یہ سب سنبھالنے کے لئے میں ہوں ناں!تم کیوں پریشان ہوتی ہو۔‘‘ وہ اپنا مان بخش رہا تھا۔ ’’آگر انہوں نے آپ کو کوئی نقصان پہنچایا تو!‘‘وہ اپنے ننھیالیوں کی شاطرانہ فطرت سے بخوبی واقف تھی۔لہجے میں خوف بول رہا تھا۔ ’’تمہیں مجھ پر یقین ہے؟‘‘وہ اُس کی خوفزدہ آنکھوں میں اپنی محبت سے لبریز آنکھیں گاڑتا نرمی سے بولا۔ ’’آگر یقین نہ ہوتا تو میں اِس وقت یہاں نہ ہوتی۔‘‘ وہ رَندھی ہوئی آواز بولتی میں اُس کے سینے سےآ لگی تھی۔ ’’تو بس پھر مطمئن رہو۔۔تم نے کچھ غلط نہیں کیا تھا۔‘‘ اس کی کمر سہلاتا دلاسہ دلا رہا تھا۔ ’’آپ کو مجھ پر یقین ہے ناں۔‘‘ وہ ناجانے کس خیال کے تحت بولی۔ ’’ کوئی شک ہے۔‘‘ گھمبیر لہجہ اُسے پرسُکون کر گیا تھا۔ ’’بالکل نہیں!‘‘وہ آہستہ سے مسُکرائی تو اس نے استحاق سے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے۔۔ جو سُکون سے آنکھیں موند گئی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح صادق سے طلو ع ہوتا سورج خود میں بہت سے امتحان لے کر طلوع ہوا تھا۔۔۔شیر افگن ہاشمی روم ونڈو کی جانب رُخ کئے کان میں آئیر پوڈ لگائے بیٹھا لبوں پر مٹھی جمائے غیر مرئی نکتےُ کو گھور رہا تھا۔۔ حیات کمرے میں داخل ہوتی اُس کے سامنے آکر بیٹھی ،مگر اُس کی نظروں کے زاویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔وہ حیران ہوئی۔ ’’افگن!‘‘اُس کی پُکار بھی رائیگا گئی۔ ’’افگن کیا ہوا!‘‘ اُس نے شانہ پکڑ کر باقاعدہ جھنجھوڑ ڈالا تھا۔وہ جو عدالت میں ہوتی کارروائی کو بغور سُن رہا تھا ،ہڑبڑا اُٹھا۔ ’’افگن وہ۔۔۔‘‘اُس کے لفظ لبوں میں ہی اَدھورے رہ گئے،جب وہ لمحے میں نزدیک آتا اُس کے لبوں پر اپنی شہادت کی اُنگلی جماتا بھونچکا کر گیا۔ ’’اہممم!‘‘اُس نے آئی برو اُٹھا کر پریشانی سے پوچھا وہ آنکھوں میں بے پناہ سردگی لئے اُسے خاموش رہنے کی تلقین کر رہا تھا۔۔ چند لمحے یونہی عجیب سی پوزیشن میں گزر گئے۔۔۔حیات پہلے بیچارگی سے،اور پھر غصےٰ سے گھور کر پیچھے کو ہوتی بامشکل سے صوفے سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔اور دور کھڑے ہوکر اُسے کینہ توز نگاہوں سے گھورا، جو اب اطمینان سے پیچھے ہوتا بظاہر اس پر نظریں مرکوز کئے بیٹھا تھا۔مگر سماعتیں دوسری جانب مرکوز تھیں۔ ’’پاگل ہوگئے ہیں لگ رہا ہے۔‘‘ وہ دھیمی سی آواز میں بڑ بڑاتی کپڑے تبدیل کرنے کےاراد ے سے ڈریسنگ روم میں بند ہوگئی تھی۔ اور چند لمحوں بعد اُس نے معنی خیزی سے مسکرا کر کانوں سے آئیر پوڈ نکال لئے تھے۔۔۔ ’’اس بار میں تمہیں پھانسی کے پھندے تک پہنچا کر ہی دم لونگا ،احمر سلطان۔‘‘وہ آنکھیں موندے بیٹھا شدید نفرت سے بڑ بڑا یا تھا۔۔ ابھی بامشکل دس منٹ ہی گزرے تھے۔۔حیات اِسے خاموش آنکھیں بند کئے بیٹھا دیکھ روم سے ہی نکل گئی تھی ۔کہ چند لمحوں بعداس کےنمبر پر کسی انون نمبر سے ایک پیغام جگمگایا تھا۔ ’’Sher Afgan Hashmi be Ready for a surprise tonight.. ’’سرپرائز!‘‘وہ متعجب سا سر واپس گرا گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’دیکھ رہی ہیں اماں جان اِس ناگن صفت لڑکی کی حرکت ، کس قدر پر نکل آئے ہیں اس نمک حرام کے۔‘‘ عدیل صاحب ہاتھ میں لیگل نوٹس کے کاغذات لئے بیٹھے نفرت سے پھُنکارے تھے۔۔ ’’یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے عدیل۔۔تم نہیں جانتے ،میں نے دیکھا ہے اس لڑکے کو۔۔ وہ ہماری سوچ سے زیادہ چالاک اور دورآندیش ہے۔بہتر ہے کہ عابثہ کے باپ کی جتنی پراپراٹی کے کاغذات ہیں۔وہ سب اس کے حوالے کردو۔اور اس کا منہ بند کردو،آگر بات واقعی عدالت تک گئی تو سارے پُرانے کٹھے چھٹے کھل جائیں گے۔ اور ہمیں شرمین کے حصے سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔۔جانتے ہو ناں شرمین اس جائیداد کی ففٹی پرسنٹ کی مالک تھی اور بعد اس کے اب یہ سب اس کی بیٹی کا ہے۔‘‘اُن کے لہجے کی مکاری عیاں تھی۔ ’’ آپ کی بات بجا ہے۔۔لیکن میں اس کل کے لڑکے کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیک سکتا۔‘‘وہ شدید درشتگی سے بولے۔چہرے
