Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 37
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 12/10/2025
4 Views
Episode no 37
چوبیس گھنٹے گزر چکے تھے۔۔آج صبح صبح کوٹ میں اُس کی پہلی سماعت تھی۔ کمرہ عدالت میں کھلبلی سی مچی ہوئی تھی۔جبکہ احمر مخالف پارٹی کو دیکھ جتنا حیران ہوتا کم تھا۔۔ وہ شیرافگن یا پھر اُس کی ہمراہی میں اُجالا نہیں بلکہ اُس کی ایک سابقہ گرل فرینڈ تھی،جس کے ساتھ اُس کا جو بھی تعلق تھا،وہ اُس کی راضی مندی سے تھا۔مگر اُس نے بھلا یہ الزام کیونکر لگایا تھا۔۔وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔ ’’عدالت کی کاروائی شروع کی جائے۔‘‘ جج صاحب کے آرڈر دینے پر عدالت کی کاروائی شروع کی جا چکی تھی۔وکیل نے چند ایک ذاتی سوال پوچھے جو احمر نے غائب دماغی سے دئے تھے۔وکیل اپنی اپنی ڈیوٹی کے مطابق سچ اور جھوٹ کا مقدمہ لڑنے میں مصروف ہوگئے تھے۔۔ پراحمر کی نظریں آگے کی نشستوں پر بیٹھی،اُن تمام لڑکیوں پر تھیں ،جو بیشتر اوقات میں اس کے دل بہلانے کا سامان رہی تھیں۔گویا شیرافگن کا بس نہیں چل رہا تھا۔۔وہ پہلی پیشی میں ہی اُسے پھانسی کا سز دلوانا چاہتا تھا۔ ’’جج صاحب دراصل مدعہ یہ ہے کہ میرے موکل احمر صفدر پر ریپ کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگا کر ،کسی پرانی دشمنی کے تحت انہیں بے جا پھنسایا جارہا ہے۔جبکہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں۔میں معزز عدالت سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ میرے موکل کو باعزت طور پر بری کریں۔‘‘ وکیل صاحب بغیر بات کو طول دئے مدعے پر آئے تھے۔ ’’ ڈیفینڈ!‘‘جج صاحب نے ایک طرف کا کیس سُن کر اب دوسری پارٹی کی صفائی کا مو قع دیا۔ ’’یورآنر!میں معزز عدالت کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ احمر صفدر پر ریپ کا جھوٹا الزام ہر گز نہیں ہے۔بلکہ میرے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔میرے ساتھی وکیل غلط بیانی سے کام لے کر عدالت کو گمراہ کرناچا ہ رہے ہیں۔‘‘احمر کے مخالف وکیل نے ٹھوس لہجے میں مدعا بیان کیا۔ ’’ثبوت پیش کئے جائیں۔‘‘جج صاحب کے حکم پر اِنہیں ریپ وکٹم کی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی۔۔۔ ’’عدالت رپورٹ کی تصدیق اور ملزم احمر کو اپنے دفاع کے لئے ثبوت اکھٹا کرنے کے لئے عدالت کی کاروائی کو اگلے ہفتہ تک ملتوی کرتی ہے۔اور اس عرصے میں ملزم احمر کو پولیس کسڈڈی میں دینے کا فیصلہ سُناتی ہے۔عدالت برخواست۔‘‘جج صاحب فی الحال اگلی تاریخ سنُا کر کیس کا فیصلہ ملتوی کر چکے تھے۔۔صفدر صاحب جو ضمانت کی اُمید لگائے بیٹھے تھے۔۔بیچ و تاب کھا کر رہ گئے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مینا بیٹا!دروازہ کھولو۔‘‘مینا نے دو روز سے خود کو کمرے میں بند کر رکھا تھا۔۔نہ کسی سے بات کرتی تھی ، اور نہ ہی کسی بات کا جواب دیتی تھی۔ ’’بیٹا!تم خود کو اُس بدبخت انسان کے لئے ازیت مت دو۔میں نے اور تمہارے بابا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم جلد ہی خلا کا نوٹس بھجوا دیں گے۔‘‘مینا نے کرب سے آنکھیں میچ لی تھیں۔ ’’آپ لوگوں کو اللہ کا وا سطہ ہے۔۔مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔‘‘وہ دو روز بعد کچھ بولی تھی۔ورنہ ہالہ اُسے بامشکل کھانا کھلا پاتی تھی۔۔ ’’بیٹا!ایسا نہ کرو۔۔تمہاری حالت ہم سے دیکھی نہیں جاتی۔‘‘ وہ رنجیدگی سے بولی تھیں،نجانے اُن کی بیٹی نے کیسی قمست پائی تھی۔ ’’مجھے اکیلا چھوڑ دیں ماما!میں فی الحال آپ کی کوئی بات نہیں سنُنا چاہتی!‘‘ وہ شدید دُکھ کی کیفیت میں بولی تو دروازے پر ساتھ کھڑے عدیل صاحب اپنی بیٹی کو تکلیف میں دیکھ واپس پلٹ گئے۔جبکہ اُس کی ماں محض اُسے پکُارپکار کر واپس پلٹ گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات اور شیر افگن اس وقت عباس پیلس میں موجود تھے۔افگن گھر میں بنی حالیہ صورت حال کے باعث محض حیات کو بھی ساتھ لے آیا تھا۔۔وہ بھی ارتضیٰ کے بے حد اسرار پر ورنہ اُس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔حیات آج بہت دونوں بعد پورے دل سے تیار ہوئی تھی۔ورنہ ولیمہ کی تقریب اور اُس میں ہوئے تماشے کے بعد اُس کا دل ہر شے سے اُچاٹ ہوگیا تھا۔۔۔ حیات کافی رنگ کی ساڑھی میں ملبوس نیچرل میک اپ کئے شیر افگن کا دل دھڑکا گئی تھی۔۔اُسے احساس تھا کہ وہ اس و قت بھی شیر افگن کی نگاہوں کے حصار میں ہے۔۔ وہ دادو سے باتوں میں مصروف تھی،جبھی اس کی غیر ارادی سی نگاہ سیڑھیوں کی جانب اُٹھی تھی۔اور پھر پلٹنا بھول گئی۔ وہ منہ کھولے ہونقوں کی طرح پیازی رنگ کے قیمتی جوڑے میں ملبوس عابثہ کو دیکھ شاکڈ رہ گئی تھی۔وہ سانولی سی پر کشش لڑکی،کیل کانٹوں سے لیس کچھ لمحے کے لئے ارتضیٰ کو بھی مبہوت کر گئی تھی۔جبکہ حیات تو مانو ابھی تک صدمے سے دوچار تھی۔ ’’آگر اپنی بیوی کو دیکھ میری یہ حالت ہوتی تو بات سمجھ بھی آتی ،مگر یہ بھابھی صاحبہ اس قدر فرصت اور توجہ سے میری زوجہ کو کیوں نہار رہی ہیں۔‘‘ارتضیٰ حیات کا کھلا منہ دیکھ شیر افگن کے کان میں جُھک کر سرگوشیانہ ، شرارت سے بولا تو افگن نے ایک گھُوری سے نوازہ تھا۔ ’’عابثہ ان سے ملو یہ مسز حیات شیرافگن ہاشمی ہیں،اور بھابھی یہ میری وائف عابثہ ارتضیٰ۔‘‘ وہ نزدیک آتی عابثہ کو اپنے حصار میں لیتا ،اُسے ایک نئی پہچان سے متعارف کراتا اس کے دل کو مزید تسخیر کرگیا تھا۔حیات گڑ بڑا کر ہوش میں آئی۔ ’’تم عابثہ ہی ہو نا؟‘‘ وہ تو یکدم خوشی کے مارے اُس کے گلے سے جا لگی تھی۔افگن اور ارتضیٰ مسکرائے۔۔ ’’کیسی ہو۔۔۔مجھے افگن نے بتایا ہی نہیں۔۔ میں تمہارے لئے بہت خوش ہوں۔‘‘اُسے اپنے ولیمے کے روز ہی یہ پیاری ،سنجیدہ مزاج،کچھ شرارتی سی،لاپرواہ لڑکی بہت پیاری لگی تھی۔ ’’بیگم!میں نے سُوچا آپ کو سرپرائز دیں گے۔۔ ‘‘افگن دو قدم چل کر نزدیک آتا محبت سے بولا۔۔جبکہ عابثہ نے نرم نگاہوں سے افگن کی جانب دیکھا، جو مسکرا کر رہ گیا۔۔ ’’یہ بہت اچھا سرپرائز ہے۔۔۔بھائی بہت مبارک ہو آپ کو بھی۔‘‘ اُس کی خوشی ،اُس کے چہرے سے عیاں تھئ۔جس نے سر کو خم دے کر مبارک قبول کی تھی۔ ’’ارے بچوں اب بیٹھ بھی جاؤ۔‘‘وہ عابثہ کو ارتضیٰ کی موجودگی کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار دیکھ بولیں تو وہ سب گڑبڑا کر اپنی اپنی نشتوں پر براجمان ہوئے تھے۔جبکہ نروس سی بلش کرتی عابثہ اور چہکتی ہوئی حیات سے باتوں میں مصروف ہوگئی تھی۔۔جبکہ افگن اپنی دونوں متاع جان کو مُسکراتا دیکھ دل سے مطمئن تھا،مگر دل کے کسی کونے میں اُجالا نام کی خلش سی تھی۔۔جو شاید ہمیشہ رہنے والی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔
