Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 37
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 12/10/2025
4 Views
Episode no 37
#دھوپ_چھاؤں__سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_37 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر ہے عباس پلیس کا جہاں ارتضٰی معمول کے عین مطابق آفس جانے کے لئے بالکل تیار تھا، وہ انتہا کا دلکش یونانی دیوتاؤں سی شخصیت کا مالک شخص کسی بھی خوبصورت،اور ویل ایجوکٹڈ لڑکی کا نصیب ہو سکتا تھا۔۔ گرےرنگ تھری پیس سوٹ میں ملبوس ،ٹائی کی بو درست کرتا، ہاتھ میں قیمتی گھڑی ڈالتا، وہ چارجنگ سے اپنا موبائل نکال کر کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔۔نظریں موبائل اسکرین پر مرکوز تھیں۔وہ آہستہ روی سے چلتا برک فسٹ کے لئے جیسے ہی میز کے نزدیک آیا تو سماعتوں سےٹکراتی کسی صنف نازک کی مدھر کُن ہنسی نے اسے چونکنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔ ’’اوہ مائی گاڈ!سچ میں دادو۔۔آئی کانٹ بلیو دس!کہ آپ اتنے سالوں سے ارتضیٰ کے لئے لڑکی ڈھونڈ رہی تھیں۔۔اور جناب کو کوئی لڑکی پسند ہی نہیں آرہی تھی۔‘‘عابثہ کی اُس کی جانب پشت تھی۔۔وہ ارتضیٰ کو نہیں دیکھ سکی تھی۔۔جبکہ اب وہ دلچسپی سے پلر سے ٹیک لگائے ،دادی بہو کی باتیں سُننے میں مصروف تھا۔۔جو نجانے کیوں اس معمولی سی بات پر ہنس ہنس کر دُہری ہو رہی تھی۔ ’’ہاں!تمہیں نہیں معلوم!کس قدر نخرہ ہے اِس لڑکے میں۔۔ارے میری تو چپلیں گھس گئیں تھیں۔اب تم سے نکاح ہوگیا ہے۔۔تو میں مطمئن ہوگئی ہوں۔‘‘ ایک ہی دن میں اُن دونوں کی خاصی دوستی ہوگئی تھی۔ ’’ہاہاہا! یہ بھی ٹھیک ہے۔۔پھر تو دادی آپ کے پوتے کو تو شکرگزار ہونا چاہئے۔۔میرے جیسا گوہر نایاب ہیرا جیسی لڑکی آپ کے پوتے کو بیٹھے بیٹھائے مل گئی ہے۔‘‘وہ مزید گوئی ہوئی تو ارتضیٰ نے دل ہی دل میں اُس کے کونفیڈنس کو داد دی تھی۔اور ساتھ ہی دادی کو خاموش رہنے کا اشارہ بھی کیا تھا۔جو اُسے دیکھ چکی تھیں۔ ’’ ہاں بھئی یہ تو ہے۔۔۔اب تو بس میری ایک ہی خواہش ہے کہ میں اس زندگی میں اپنے ارتضیٰ کے بچوں کو گُود میں کھلا سکوں۔‘‘ عابثہ جو ُمسلسل مُسکرا رہی تھی۔دادی کی خواہش پر جھینپ کر پر فوری سر جھکا گئی۔جبھی ارتضیٰ مسکراہٹ ضبط کرتا،قدم اُٹھاتا نزدیک چلا آیا۔ ’’کیا باتیں ہو رہی ہیں بھئی؟عابثہ جی کی تو ہنسی ہی نہیں رُک رہی۔۔خیر تو ہے۔‘‘وہ جان بوجھ کر عابثہ کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھ گیا تھا۔جس کی پلکیں حیا کے بوجھ تلے لرزاہٹ کا شکار ہوئیں تھیں۔۔۔ ’’کچھ نہیں بھئی!میں کہ رہی تھی کہ ایک چھوٹی سی دعوت کے اہتمام کے ساتھ ابھی رخصتی کر دیتے ہیں۔۔پھر کچھ عرصے میں بڑے پیمانے پر ولیمہ کرلیں گے۔۔کیا خیال ہے۔‘‘وہ رائے لینے والے آنداز میں بولی ،جبکہ عابثہ اب سر جھائے بیٹھی تھی۔۔ ’’وہ تو ٹھیک ہے،مگر لگتاہے، کہ اس رخصتی کے لیے آپ کی بہو ابھی راضی نہیں ہے۔‘‘اُس نے شوخ لہجے میں کہتے عابثہ کو دیکھا، جس نے ایک جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا۔ ’’میں نے ایسا کب کہا۔‘‘وہ عادتً تیزی سے بولی تھی۔ارتضیٰ کا دلكش قہقہہ بے ساختہ تھا۔ ’’تو پھر آپ ابھی تک دوسرے روم میں کیا کر رہی ہیں؟دادو نکاح ہوگیا۔ بس بہت ہے۔رخصتی کا چونچلا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ویسے بھی اِن کے منہ بولے بھائی صاحب تو مکمل طور پر اِن کے فرض سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔تو بس کچھ عرصے بعد ولیمہ رکھ لیں گے۔‘‘ وہ شرارتی لہجے میں بولا تو عابثہ نے گڑبڑا کر دادو کی جانب دیکھا ،جو مسکراہٹ ضبط کر رہی تھیں۔ ’’عابثہ آپ کیا کہتی ہیں؟‘‘ انہوں نے اُس کی رائے لینا ضروری سمجھی۔ ’’دادو جیسا آپ کو بہتر لگے۔‘‘وہ لب چبا کر سر جھکا گئی۔ ارتضیٰ نے گزری دوسے تین ملاقاتوں میں کبھی اس کا سر جُھکا ہوا یا پھر اُس کو خاموش نہیں دیکھا تھا۔۔ ’’بس دادی پھر ڈن ہوگیا۔۔آپ کو بہت ارمان تھا میری دلہن کو سجانے کا۔تو آج آپ ایسا کریں عابثہ کو میری لئے دلہن بنائیں۔۔ تاکہ ذرا میں بھی شادی شدہ والی فیلنگز کو انجوائے کرسکوں۔۔‘‘اُس کے معنی خیز لہجے پر عابثہ کا چہرہ قندھاری انار کی مانند سُرخ پڑ گیا تھا۔ ’’چلو بچوں تم لوگ ناشتہ کرو،میں ذرا اپنی نواسی کو کال کرلوں،پھر تو وہ سارا دن گھر کے کاموں میں مصروف ہوجائے گی۔‘‘ وہ اُن دونوں کو تنہائی دینے کی خاطر ناشتے کی میز سے اُٹھ کر اپنے روم کی جانب بڑھ گئی تھیں۔۔اب ارتضیٰ باقاعدہ طور کر عابثہ کی جانب متوجہ ہوا تھا۔ ’’تو کیا کہ رہی تھیں محترمہ۔کہ آپ جیسا گوہر نایاب ہیرا مجھے بیٹھے بیٹھائے مل گیا۔ہمم!‘‘وہ بے تکلفی سے اُس کا مومی ہاتھ اپنے ہاتھ کی سخت گرفت میں لیتاشرارتی لہجے میں بولا تھا۔۔ ’’میں۔۔۔میں تو بس ویسے ہی۔۔‘‘عابثہ کو رچ کر شرمندگی ہوئی تھی۔وہ اب تک رات والے سحر سے بھی نہیں نکل سکی تھی۔۔تضاد کے ایک بار پھر وه اس قدر نزدیک چلا آیا تھا۔۔ ’’چلیں اس بات کا فیصلہ ہم رات میں کریں گے، جب آپ پور پور میرے لئے سج کر آئینگی، کہ آپ واقعی گوہر نایاب ہیرا ہیں یا پھر اُس سے بھی آگئے کی چیز۔‘‘وہ جو پہلے ہی اُس کی قربت اور لمس پر گھبرا اُٹھی تھی،اُس کے معنی خیز لہجے نے ڈھڑکنوں میں تلاطم برپا کردیا تھا۔۔ اُس نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ارتضیٰ جیسا کھڑوس انسان مسکرا کراُس طرح کی بات بھی کر سکتا ہے۔ ’’ویسے ایک بات پوچھوں؟‘‘وہ اس کے چہرے کو انگلیوں کے پوروں سے چھوتا گھمبیر لہجے میں بولا۔کرسٹل گرے آئیز جذبات کی تپش لئے ہوئیں تھیں۔ ’’جی۔۔‘‘عابثہ کی آواز کپکپا اُٹھی تھی۔ ’’اُس روز ریسٹورینٹ میں تم،اچانک سے ہماری سیٹ پر کیوں آبیٹھی تھیں۔‘‘اُس نے کچھ روز قبل کا حوالہ دیا تھا۔۔جب عابثہ کا مقصد محض شرط جیتنا تھا۔ ’’وہ۔۔۔میں۔۔‘‘عابثہ یکدم گڑبڑا کر نظریں چُرا گئی تھی۔ ’’خیر اِس کا جواب بھی۔میں آج رات کو ہی لونگا۔‘‘وہ بول کر چئیر چھوڑ کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ ’’وہ ناشتہ۔۔‘‘عابثہ کو یکدم خیال آیا تھا۔ ’’اب آپ نے تو میرا ویٹ ہی نہیں کیا۔۔تو میں ناشتہ آفس میں کرلونگا۔‘‘ وہ ذرا ناراضگی سے بولتا عابثہ کو گڑبڑانے پر مجبور کر گیا۔جس کی زبان کبھی کسی کے سامنے نہ خاموش ہوئی تھی۔۔َاب اس کا لہجا کپکپا رہا تھا۔ ارتضیٰ اُسے کشمکش سے دوچار دیکھ بے ساختہ ہی عابثہ کا چہرہ پکڑ کر اُس کا رُخ اپنی جانب کیا کرتا،اس کا ماتھا اپنے لمس سے مہکاتا اِس رشتےکو معتبر کر گیا تھا۔۔ایک عقیدت بھرا بوسا دیتا وہ پیچھے ہوا تو عابثہ آنکھیں موندے کھڑی تھی۔گذار پلکیں لرزاہٹ کا شکار تھیں۔ماتھے پر پسینے کی ننھی بوندیں چمک رہی تھیں۔ اُس کے شدت بھرے لمس پررُخسار گلابی ہوگئے تھے۔وہ فاصلے پر ہوا،اور اُس کی کیفیت سمجھتا مسکرا کر ٹیبل سے کیز اور موبائل فون اُٹھاتا وہاں سے نکل آیا تھا۔۔عابثہ کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسلا گیا تھا۔اُسے تو لگا تھا کہ ارتضیٰ شاید ہی ُاس رشتے کو قبول کرئے،مگر اس کا آنداز دیکھ وہ رُوح تک سرشار ہوگئی تھی۔۔اُس کا کرائم پارٹنر ٹھیک کہتا تھا۔ کہ ارتضیٰ سے اچھا انسان اُسے پوری لائف میں نہیں مل سکتا۔۔وہ خوش تھی۔۔اور دل سے مطمئن بھی۔جبھی اُس کے نمبر پر ایک پیغام جگمگایا تھا۔ ’’بیگم اب شرماتی نہ رہیے گا۔بلکہ روم میں جاکر اپنی الماری چیک کریں ،وہاں ایک پیکٹ رکھا ہے۔وہ ضرور چیک کرلیجئے گا۔ ۔اور ہاں شام میں بیوٹیشن کو بھیج دونگا۔تو وقت پر ریڈی رہیے گا۔۔اور شام میں ایک چھوٹی سی دعوت بھی ہے۔زیادہ کوئی نہیں ،بس افگن کی فیملی ہوگی۔دعوت کی ٹینشن نہ لینا باقر صاحب دعوت کا سارا اہتمام کرلیں گے۔‘‘ عابثہ دھیرے سے مسکرا کر اپنے روم کی جانب بڑھی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’احمر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پورے
