Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 36
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 11/10/2025
6 Views
Episode no 36
کا جسے میں جانتی تک نہیں۔‘‘اب وہ افگن کی طرف نہیں بلکہ سامنے دیکھ رہی تھی۔ ’’سوری!‘‘وہ چونک کر افگن کی جانب پلٹی۔جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ’’فوروہاٹ؟‘‘وہ انجان بنی تھی۔ ’’ سوری کہ تمہارے ساتھ یہ سب کچھ صرف میری وجہ سے ہوا۔ہے۔‘‘ وہ خلاؤں میں گھورتا ضبط سے بولا تھا۔۔آنکھیں ضبط کے باعث سُرخ پڑ گئیں تھیں۔ ’’ہمم!‘‘وہ اس کی بات کا مفہوم تو نہ سمجھ سکی تھی۔۔مگر پھر بھی خاموش رہی تھی۔مجھے بھی آپ سے سوری کرنا تھا۔۔کل بغیر بتائے گھر سے چلی گئی تھی میں۔۔یہ جانے بغیر کہ میں ایک ماں کی دُھتکاری ہوئی اولاد ہوں۔۔جو شاید اب مجھے مرتے دم تک بھی کبھی نہ معاف کریں۔۔اور وہ اپنی جگہ دُرست بھی تو ہیں۔۔میری وجہ سے ان کا سہاگ اُجڑ گیا۔۔ایک ناقابل تلافی نقصان۔‘‘وہ سرگوشیانہ آنداز میں ٹرانس میں بول رہی تھی۔۔وہ کل سے لے کر اب تک لوگوں کی نظریں نہیں بُھلا سک رہی تھی۔ ’’شش!ایسا کچھ نہیں ہے۔۔آنٹی اور تمہارے باقی خاندان کا پتہ لگ چکا ہے۔وہ حیدراآباد میں ہیں۔۔ایک دو روز میں ،میں خود تمہیں اُن کے پاس لے جاؤنگا۔‘‘وہ اُس کا رندھا ہوا لہجا محسوس کرکھینچ کر سینے سے لگاتا محبت سے چور لہجے میں بولاتھا۔جبکہ وہ اتنے دنوں بعد مہربان لمس پر سسکیوں اور ہچکیوں سے رو پڑی تھی۔ ’’تم نے جو بیوقوفانہ حرکت کل کی تھی حیات !آگرآئندہ کبھی زندگی میں یہ حرکت دوبارہ ہوئی تھی تو یاد رکھنا میں کبھی معاف نہیں کرونگا تمہیں۔‘‘وہ اُس کی کمر سہلاتا تنبیہ کرنا ہر گز نہیں بھولا تھا۔۔ ’’سوری!اب ایسا کبھی نہیں ہوگا۔‘‘اس کے سینے پر لب رکھتی وہ تیزی سے اپنی آنکھیں پونچھ گئی۔جس پر افگن نے باری باری اپنے دونوں لب رکھے تھے۔۔۔ ’’جانتی ہو کل میری کیا حالت تھی جب صبح صبح ڈیڈ نے بتایا کہ تم گھر میں نہیں ہو۔۔جانتا ہوں حیات کہ فرشتہ میں بھی نہیں ہوں۔۔مگر یقین کرو ایک اچھا انسان بننے کی کوشش ہمیشہ کرتا ہوں۔کل مجھے بہت غصہٰ آیا تھاتم پر۔ جب پولیس اسٹیشن میں ایس ایس پی نے مجھ سے پوچھا کہ مطلوبہ لڑکی سے آپ کا کیا رشتہ ہے تو میرا دل کیا زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں۔کہ کیسا شوہر ہوں میں جیسے یہی نہیں معلوم کہ طلوع آفتاب سے اُس کی بیوی کہاں غائب ہے۔‘‘حیات نے شرمندگی کے مارے سر جھکا لیا تھا۔۔ ’’بس مجھے تھوڑا سا وقت اور دے دوحیات ،میں سب ٹھیک کردونگا۔۔جہاں تم مجھ پر اتنا آندھا اعتبار کرتی تھیں کہ میری محبت میں سب قربان کردیا۔۔یہی اعتبار ایک بار پھر کرلو۔‘‘ وہ ملائم لہجے میں اُس کا ہاتھ تھامے بیٹھا اب اُس کے چہرے کے نقوش چھو رہا تھا۔جو رُونے کی زیادتی سے سُرخ پڑ گئے تھے۔۔۔۔اتنے دونوں کی خلش اور تشنگی تھی ،جوسر گوشیوں کے ذریعہ دور ہو رہی تھی۔دونوں چونکے جب کانوں میں فجر کی اذان سنُائی دی۔ ’’اوہ گاڈ!یار اذانیں ہو رہی ہیں۔‘‘ شیر افگن نے حیرت سے گھڑی کی جانب دیکھا تھا۔۔جبکہ وہ ابھی تک اُس کے سینے میں منہ دئے بیٹھی تھی۔ ’’ہمم!میں نماز پڑھ لوں پھر سوتے ہیں۔۔اب تو ویسے بھی کچھ دیر میں صبح ہونے والی ہے۔‘‘وہ زرا فاصلہ پر ہوتی اپنے بال جوڑے میں سمیٹ کر گویا ہوئی۔ ’’ ہاں اُٹھو چلو۔۔ساتھ میں نما ز پڑھتے ہیں۔اللہ کا شکر کرنا لازمی ہے کہ تم واپس میرے پاس آگئی ہو؛‘‘ اُس کا ہاتھ تھام کر ساتھ خود بھی کھڑا ہوتا اس کا ماتھا چوم کر،واشروم کی جانب بڑھا تھا۔۔اور پھر کچھ ہی دیر میں دونوں نے ساتھ میں نماز ادا کی تھی۔۔دنوں کے دلوں پر ایک بوجھ تھا جو اُتر گیا تھا۔۔دونوں اپنی اپنی جگہ مطمئن ہوگئے تھے۔۔۔مگر یہ اطمینان شاید کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہونے والا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا اُجالا ہر سو پھیل رہا تھا۔چڑیوں کی چہچاہٹ اور قد آور روشن دان سے آتے سرد ہوا کے جھونکے۔۔موسم میں خنکی سی چھا گئی تھی۔۔دونوں کی آج کی ساری رات باتیں اور ایک دوسرے کا درد بانٹتے گزر گئی تھی۔۔۔حیات افگن کے ہاتھ پر مزے سے سر رکھ کر لیٹی مسلسل بول رہی تھی۔۔۔جبکہ وہ بھی چھت کو دیکھتا نجانے کونسے قصےٰ چھیڑ بیٹھا تھا۔۔ آج ان دونوں کی باتوں کے درمیان کوئی تیسرا نہیں تھا۔۔بس وہی دونوں تھے اور مستقبل کے حوالے سے حسین خواب۔ ’’میں کیا سوچ رہا تھا حیات!‘‘اُسے یکدم کوئی بات یاد آئی تھی۔ ’’کیا؟‘‘اُس نے نگاہیں اُٹھائی تھیں۔ ’’کچھ روز قبل تمہاری طبیعت خراب تھی۔۔‘‘وہ معنی خیز لہجے میں بولا تھا۔ ’’ہاں !اب تو ٹھیک ہوں میں۔‘‘وہ اُس کی آنکھوں میں مخفی شرارت سے انجان بولی۔ ’’ دیکھ لو میں سوچ رہا تھا،کل ڈاکڑ سے اپائنٹمنٹ لے لیتے ہیں، اور تمہارا پراپر چیک اپ کرالیتے ہیں۔‘‘ اُس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔ ’’اس کی کیا ضرورت ہے بھلا۔وہ تو بس زرا ہضمہ خراب تھا۔۔ اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔آپ جب سے یہ بات تیسری بار پوچھ رہے ہیں مجھ سے۔بھئی میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے۔‘‘اس بار وہ گھور کر بولی تو وہ اس کے شکوہ پر قہقہہ لگا گیا۔ ’’ہاں !ابھی تو تم اپنی طبیعت ٹھیک ہی رکھو۔‘‘ اس کے ماتھے پر لب رکھتا وہ اسے خود میں بھینچ گیا تھا۔جوکہنیوں کے بل اونچی ہوتی ، سینے سے سر اُٹھاتی،اپنی جانب سے پیش قدمی کرتی اُس کے لب دھیرے سے چھوتی واپس اپنا رخسار سینے سے لگا گئی تھی۔ ’’ڈارلنگ آج تو مجھے واقعی میں آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔لگ رہا ہے کل کسی دماغی داکٹر کے پاس لے جانا ہی پڑے گا۔‘‘ وہ اس کی حرکت پر چوٹ کرتا خود کو گھورتی حیات کو دیکھ آنکھ کا کونا دبا گیا۔۔حیات نے کینہ توز نظروں سے گھورتے اُس کے سینے پر چٹکی کاٹ لی تھی۔۔۔جو اُسے نرمی سےخود میں سمیٹ گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جار ی ہے۔۔۔۔
