Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 36
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 11/10/2025
6 Views
Episode no 36
#دھوپ_چھاؤں__سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_36 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا نجانے کونسا پہر چل رہا تھا۔۔شیر افگن ،ہاشمی ولا کے داخلی دروازےمیں داخل ہوا تو نظر اندھیرے میں ڈوبے ہوئے گھر میں گئی تھی۔ جہاں ہر سو اندھیرا چھایا ہوا تھا۔وہ سر جھٹکتا ڈھیلے کندھوں سے کوٹ پشت پر ڈالے تھکاہارا سا سیڑھیاں عبور کرتا،اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔ایک گہری سانس بھر کر دروازہ کھولا تو نظر سیدھی سامنے بیڈ پر نیم دراز حیات سے جا ملی تھی۔۔ جوآنکھیں موندے لیٹی تھی۔۔کھٹکے کی آواز پر چونک کر بیدار ہوتی اُسے دیکھ آنکھیں مسلتی فوری ُاٹھ کر بیٹھی تھی۔ ’’کہاں تھے آپ ساری رات افگن ؟‘‘وہ گھڑی میں رات کا آخری پہر کا وقت دیکھ مستفسر لہجے میں گویا ہوئی۔ ’’سوئی کیوں نہیں تم۔۔کہا تو تھا کہ میرا انتظار نہ کرنا۔‘‘کوٹ ایک جانب رکھتا وہ تھکن زدہ لہجے میں بولتا صوفے پر براجمان ہوتا سر پیچھے کوگراتا آنکھیں موند گیا۔۔ ’’ہاں!مگر اتنا لیٹ کیوں ہوگئے؟‘‘افگن کو ایک لمحے کو اُس کا نارمل لہجا بُری طرح کھٹک گیا تھا۔جو آج شام اُجالا کے بابت جاننے کے باوجود بالکل نارمل ریکٹ کر رہی تھی۔ ’’ طبیعت ٹھیک ہے تمہاری۔‘‘ جب اُس کا آنداز عجیب لگا تو وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھا۔ ’’ کیوں !مجھ کیا ہونا ہے۔۔میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔کیا مجھے کچھ ہونا چاہیے تھا۔‘‘ وہ اُس کے لئے نائٹ ڈریس نکالنے کے لئے الماری کی جانب قدم اُٹھاتی چونک کر ٹھری۔ ’’کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔میں تو یونہی پوچھ رہا تھا۔‘‘وہ گڑبڑا گیا۔ ’’اچھا!یہ لیں ڈریس چینج کرلیں!‘‘وہ نائٹ سوٹ اُس کی جانب بڑھاتی افگن کو اچھے خاصے مخمصے میں ڈال چکی تھی۔وہ جو اُس سے ناراضگی جتانے کاارادہ کئے بیٹھا تھا۔اب پریشان ہوگیا تھا۔۔کہیں وہ صدمے میں تو نہیں چلی گئی تھی۔ ’’حیات یہاں آؤ میرے پاس!‘‘ وہ لباس ایک طرف رکھتا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بیٹھا چکا تھا۔ ’’ٹھیک ہوناں تم۔‘‘اُس نے باقاعدہ اُس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ٹیمپریچر چیک کیا تھا۔ ’’میں بالکل ٹھیک ہوں افگن!اور آگر آپ کو ایسا لگ رہا ہے کہ میں شام والی بات کے بعد پاگل واگل ہوگئیں ہوں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔آپ بے فکر رہیں۔۔۔‘‘ وہ دھیرے سے مسکرائی تھی۔۔افگن کو اُس کی مسکراہٹ،اُس کی باتیں سب خاصی عجیب لگ رہی تھیں۔ ’’کھانا کھا لیا تم نے؟‘‘ اُس نے بات کو طول دینے کو کہا تھا۔ ’’کھا تو لیا تھا مگر اب آدھی رات کو دوبارہ سے بھوک جاگ گئی ہے۔‘‘وہ دھیرے سے مسکرائی ،مگر آج وہ مسکرا بھی نہ سکا تھا۔۔ ’’ جاؤ پھر تم نیچے جاکر کھانا گرم کرو،میں کپڑے چینج کر کے آتا ہوں۔‘‘وہ ہولے سے اُس کا گال تھپکتا واشروم میں بند ہوگیا تھا۔۔جبکہ وہ ایک ٹھنڈی سانس فضا کر سپرد کرتی کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُسے شاور لینے میں زرا دیر ہوگئی تھی،کئی دنوں کی اعصابی تھکن تھی جو پانی کے ریلے کے ساتھ ساتھ بہتی چلی جارہی تھی۔وہ خود کو پُرسکون محسوس کر رہا تھا۔۔اور حیات کے سادہ مزاج نے اُسے کسی حد تک پُرسکون کر دیا تھا۔۔۔ وہ شاور لے کر بالوں سے پانی جھٹکتا باہر آیا تو سامنے ہی حیات بیٹھی نظر آگئی تھی۔۔جو شاید کھانے کے لئے اُسی کا انتظار کر رہی تھی۔ ’’میں بس آہی رہا تھا۔۔‘‘وہ کھانے کی ٹرئے دیکھ صفائیہ لہجے میں بولا۔ ’’اتنی دیر سے انتظار کر رتھی میں نیچے۔۔اور وہ بھی آدھی رات کو۔۔مجھے ڈر لگا تو میں اس لئے کھانا کمرے میں ہی لے آئی۔۔اب غصہٰ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔حیات کاظمیٰ ہمارے بڑے سے گھر میں کھانے کے لئے ایک الگ جگہ ہے بلا بلا۔۔۔‘‘ وہ شیر افگن کو دیکھ جلدی سے ایک ہی سانس میں نقل اُتارنے والے آنداز میں مزے سے بولی تھی جو رویہ اُس کے مزاج کا خاصہ تھا۔۔ناچاہتے ہوئے بھی حیات کی حرکت پر اس کے لبوں پر مسکراہٹ کھل گئی۔ ’’غصہٰ تو مجھے تم پر بہت ہے۔۔مگر خیر ،اس وقت مجھے شدید بھوک بھی لگ رہی ہے۔۔‘‘وہ ٹاول اسٹینڈ پر ڈالتا خود بھی زرا فاصلے پر ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔ ’’غصہٰ تو مجھے بھی آپ پر بہت ہے ۔۔مگر اس وقت بھوک سے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔‘‘وہ بھی مزے سے بولتی ایک پلیٹ میں کھانا نکلا کر اسی پلیٹ سے چھوٹے چھوٹے لقمے بنا کر کھانا شروع کر چکی تھی۔۔افگن نے آئی برو اُٹھائے جتاتی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔ وہ اکثر ہی اکیلے میں اُس کی پلیٹ سے کھانے کی عادی تھی۔۔بقول حیات کاظمیٰ ہم لائف پارٹنرز ہیں اور ہمیں ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھانا چاہئے اس طرح محبت بڑھتی ہے۔۔وہ مسکرا کر خود بھی رغبت سے کھانا کھانے میں مشغول ہوگیا تھا۔۔۔۔اتنے دن بعد اُس کی ہمراہی میں کھانا کھانے بیٹھا تھا پتہ ہی نہ لگا کہ وہ بھوک سے زیادہ کھا چکا ہے۔ ’’سوئیے گا نہیں،میں یہ نیچے رکھ کر بس آرہی ہوں۔‘‘ وہ اُسے کھا پی کر بستر سنبھالتا دیکھ جلدی سے بولی تو وہ سر ہلا گیا۔۔ ’’ وہ نیچے گئی تو دس منٹ بعد دو کافی کے مگ ہاتھ میں تھامے لوٹی تھی۔ہلکی سی مسکراہٹ پاس کرتی وہ ایک کپ شیر افگن کو پکڑاتی دوسرا سائید ٹیبل پر رکھتی بیڈ کے دوسرے حصےٰ میں لیٹنے کے بجائے اُسے تھوڑا آگے ہونا کااشارہ کرتی خود تھوڑی سی جگہ میں ہی بیٹھ گئی تھی۔شیر افگن نے ایک بار پھر ٹھٹک کر اس کی یہ حرکت دیکھی تھی۔۔جسے دیکھ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ اُسےآج شام ہوئی کسی بھی بات کا کوئی صدمہ لگا ہے۔۔ وہ بالکل اُس سے جوڑ کر بیٹھی سر اُٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو نجانے کونسا نیا پاکستان بنانے کی سوچوں میں گُم ُکافی کے آخری گھونٹ بھر رہا تھا۔۔ ’’کاٖفی کسی بنی ہے۔‘‘وہ سر اُٹھا کرسیاہ آنکھوں میں چمک لئے سوالیہ لہجے میں بڑی محبت سے پوچھ رہی تھی۔۔۔ ’’کافی ہمیشہ کی طرح کڑوی کسیلی ہی بنائی ہے تم نے ۔‘‘وہ کافی میں اُس کی شگر نہ لینے والی عادت سے بڑا پریشان تھا۔جو اپنے ساتھ ساتھ اسے بھی کڑوی کافی ہی پلاتی تھی۔جبکہ زیادہ میٹھا تو وہ بھی نہیں پسند کرتا تھا مگر ہنی لازمی آیڈ کراتا تھا۔۔ مگر جب سے یہ محترمہ آئی تھیں وہ بچارہ اپنا دل جلا کر رہ جاتا تھا۔ ’’ہاہاہا!وہ تو میں آپ کے مزاج کے عین مطابق بناتی ہوں۔‘‘خود بھی آخری گھونٹ بھر کر کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتی ،شرارتی لہجے میں بولی تو اافگن نے گھُور کر اُسے دیکھ تھا۔ ’’ویسے ایک بات تو بتاؤ تم حیات!تم سچ میں ٹھیک تو ہو ناں۔۔مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ شام والی بات کا صدمہ تمہارے سر چڑھ گیا ہے۔‘‘وہ اس بار سچ مچُ پریشان ہوگیا تھا۔ ’’کچھ نہیں ہوا ہے مجھے۔بالکل ٹھیک ہوں میں!ویسے بھی اِس سب کو میں نے اپنی قسمت سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔۔‘‘وہ تلخی سے گویا ہوئی تھی۔ ’’وہاٹ؟؟؟؟‘‘ ’’کیا کہا تم نے؟‘‘ساتھ بیٹھے افگن کو اچھو ہی تو لگ گیا تھا۔ ’’وہی جو آپ نے سنُا!ویسے بھی جب آپ مجھ جیسی لڑکی کو اپنے نکاح میں لے سکتے ہیں تو کیا میں آپ کی دوسری بیوی کو برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘وہ دوسری پر زور دیتی ناچاہتے ہوئے بھی شکوہ کناں لہجے میں بولی تو وہ بغور اُسے دیکھ کر رہ گیا۔ ’کہنے کا مطلب کیا ہے تمہارا؟کہ تم جیسی لڑکی۔۔لولی ہو،لنگڑی ہو، یا پھر آندھی ہو۔‘‘ وہ سخت آنداز میں مگر زرا ناراضگی سے بولا تھا ۔وہ استہزائیہ آنداز میں مسکرائی۔ ’’نہیں!بظاہر میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔مگر ایک وکٹم ہوں۔۔میں ’’ایک شکار‘‘ ہوں کسی ایسے شخص کی زیادتی
