Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 32
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 09/10/2025
5 Views
Episode no 32
تھیں۔جبکہ وہ سر جھکائے محض خاموشی سے سب سنتی چلی جارہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات اپنی روٹین کے برخلاف آج ذرا دیر سے جاگی تھی،وہ نیچے آئی تو گھر میں سناٹا سا چھایا ہوا تھا۔وہ متعجب ہوئی۔افگن تو یقیناً آفس کے لئے جلدی نکل گیا تھا مگر انکل اور آنٹی کی غیر موجودگی اسے واقعی میں اچھی خاصی کھٹک گئی تھی۔ ’’میڈم آپ اُٹھ گئیں!ناشتہ بناؤ آپ کے لئے!‘‘وہ چونک کر ہوش میں آئی۔ ’’جی!انکل اور آنٹی کہاں ہیں؟‘‘اُس نے سوال کیا۔ ’’میڈم وہ تو صبح ہی صبح بیگم صاحب کے ساتھ کسی کام سے نکل گئے تھے۔‘‘ملازمہ نے مطلع کیا۔ ’’اوہ! اچھا!اور اُجالا بی بی کہاں ہیں ؟اُس نے سرسری سے لہجے میں پوچھا تھا۔ ’’میڈم وہ بھی آج صبح ہی کہیں چلی گئیں تھیں۔‘‘حیات متعجب ہوئی کہ آخر صبح صبح سب کہاں نکل گئے تھے۔ ’’اچھا!آپ ناشتہ بنائیں میرے لئے۔‘‘وہ سر جھٹک گئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت دُپہر کے تین بج رہے تھے۔ناصر صاحب اور اُن کی بیگم کا تو اب تک کچھ پتہ نہیں تھا۔۔ وہ اپنے کمرے میں لان میں کُھلنے والی کھڑکی میں کھڑی باہر کے منظر میں کھوئی ہوئی تھی۔جبھی شیر افگن کی گاڑی پورچ میں آکر ٹھری تھی۔۔اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔جو ڈرائیونگ سیٹ پرسے اُترتا آنکھوں پر گلاسز چڑھاتا،گھوم کر فرنٹ سیٹ کی جانب بڑھا تھا۔جہاں پژمردگی سی اُجالا کو ہاتھ پکڑ کر باہر نکالتے اُس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے۔۔ حیات تیزی سے نیچے کی جانب بڑھی تھی۔ابھی وہ عین وسط میں سیڑھیوں پر ہی تھی۔جبھی اُس کی نگاہیں گھر میں داخل ہوتے شیر افگن اور اُجالا سے جا ملی تھیں۔افگن بھی اسے سامنے کھڑا دیکھ کچھ لمحوں کے لئے ٹھر گیا تھا۔مگر پھر سر جھٹک گیا۔۔۔ ’’ اُجالا تم بیٹھو یہاں سکون سے!اور اب تمہیں بالکل بھی کسی قسم کی کوئی پریشانی لینے کی ضرورت نہیں۔خود کو پر سکون رکھو۔۔سمجھ گئیں ناں میں کیا کہ رہا ہوں۔۔ڈاکٹر نے تمہیں ٹینشن لینے سے بالکل منع کیا ہے۔‘‘وہ ہال میں اُجالا کو صوفے پر بیٹھاتا عام سے لہجے میں بولا تھا۔حیات قدم قدم چلتی نزدیک چلی آ ئی تھی۔ ’’کیا ہوا اُجالا کی طبیعت کو ؟خیر ہے سب؟‘‘اس نے ناسمجھی سے سوال کیا تھا۔ شیر افگن نے یکدم نگاہیں چُرائیں تھیں۔۔جبکہ اُجالا کے کب سے ضبط کئے آنسو رخساروں پر لڑکھ گئے تھے۔۔ ’’وہ اُجالا۔۔۔‘‘پتہ نہیں کیوں ،پہلی بار افگن کی زبان لڑکھڑا گئی تھی۔ ’’کیا ہوا آپ کو اُجالا۔۔‘‘وہ سیدھی اُجالا سے مخاطب ہوئی تھی۔افگن کا نظریں چُرانا اُسے بُری طرح کھٹکا تھا۔ ’’کچھ نہیں ہوا اُجالا کو!ایکچوئلی شی از ایکس پکٹنگ !‘‘وہ بہت ضبط سے بولا تھا۔ حیات نے حیرت اور بے یقینی سے پہلے افگن اور پھر اُجالا کی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’اُجالا!‘‘اُس کے لبوں نے بے آواز سر گوشی کی تھی۔۔ ’’حیات!تم جاؤ۔۔۔اُجالا کے لئے،کچھ کھانے کو بنا کر لے آؤ پلیز!‘‘شیر افگن نےاسے سکت کِی سی کیفیت میں دیکھ اسُ کا ہاتھ پکڑ کرزبردستی کچن کی جانب دھکیلا تھا۔ ’’افگن وہ اُجالا!وہ حیرت اور بے یقینی سے گنگ کچھ بول ہی نہ سکی تھی۔ ’’حیات تم جاؤ!میں نے کیا کہا ہے تم سے!‘‘وہ اسے ہاتھ پکڑ کر اس کا ہاتھ ملازمہ کے ہاتھ میں دیتا اُجالا کی جانب بڑھا تھا۔۔ ’’اُجالا تم چلو!میں تمہیں روم میں چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘وہ اُجالا کا ہاتھ تھامتا اُسے روم میں لے گیا تھا۔جبکہ پیچھے حواس باختہ سی کھڑی حیات کچھ بول ہی نہ سکی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ غیر یقینی کی سی کیفیت سے دوچا روم میں واپس آئی تھی۔ اور نڈھال سی ڈھنے کے سے آنداز میں صوفے پر گر گئی تھی۔۔کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔ یہ جو بھی کچھ ہو رہا تھا،سب سمجھ سے بالاتر تھا۔بھلا شیر افگن اتنا بڑا قدم کیسے اُٹھا سکتا تھا۔سوچیں تھیں کہ دماغ کی شریانے ہلائے دے رہی تھیں۔ افگن روم میں داخل ہوا تو وہ چونک سی گئی تھی۔جو اسے دیکھ ایک لمحے کو ٹھر گیا تھا۔ اور پھر اپنے تاثرات چھپاتا ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا تھا۔۔ دل میں آئی کہ اس کی آنکھوں میں در آئی بے یقینی پر اُس کو تھوڑا دلاسہ ہی دے دے۔مگر فی الحال اُس کے پاس وقت کم تھا۔ ’’حیات!مجھے ایک فنکشن میں جانا ہے۔میرے لئے کوئی ڈریس نکال دو پلیز۔‘‘چار و نچار اس کا زہن بھٹکانے کی خاطر اُس نے بول ہی دیا تھا۔جو یونہی ساکت بیٹھی تھی۔۔ ’’حیات!تم سے کچھ کہ رہا ہوں میں۔۔۔‘‘جب وہ ٹس سے مس نہ ہوئی،تو اُس نے کندھا پکڑ کر جهنجھوڑ ڈلا تھا۔ناراضگی کہیں دور جاسوئی تھی۔۔ ’’ہونہہ!کیا۔۔وہ میں۔۔۔کیاہوا؟‘‘وہ بے ربط سا جملہ ادا کرتی شیر افگن کو اچھی خاصی شرمندگی کی گہرائیوں میں دھکیل رہی تھی۔ ’’میں کہ رہاہوں۔مجھے ایک فنکشن میں جاناہے۔میرے لئے کوئی ڈریس پریس کروادو۔میں جب تک شاور لے رہا ہوں۔‘‘اُس نے ایک بار پھر رسانیت سے نرم لہجے میں کہا تھا۔اور اس بار حیات مزید کوئی بھی بات یا سوال کئے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔اور سیدھی ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی تھی۔جبکہ وہ تاسف سے محض اس کی پشت دیکھ کر رہ گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔
