Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 32
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 09/10/2025
5 Views
Episode no 32
دھوپ_چھاؤں__سا_ہرجائی از_ہما_قریشی قسط_نمبر_32 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تاریک رات ڈھل کر روشن صبح میں تبدیل ہوگئی تھی۔عابثہ اور ارتضیٰ کا نکاح جن صورت حال میں عمل میں آیا تھا۔وہ نا قابِل فراموش تھی۔کل رات نکاح کے بعد ارتضیٰ اسے اپنے روم میں لے جانے کے بجائے گیسٹ روم میں چھوڑ گیا تھا۔صبح کا سورج طلوع ہوئے خاصی دیر بیت گئی تھی۔ساری رات آنکھوں میں کٹ گئی تھی۔فجر کے بعد وہ جو سوئی تو اب دن چڑھے ہی آنکھ کھُلی تھی۔مگر اس تمام عرصے میں کوئی بھی اِسے جگانے نہیں آیا تھا۔۔ وہ بیڈ پر چٹ لیٹی سُوچوں میں گمُ تھی۔جبھی دروازہ دھیرے سے نوک کر کوئی روم میں داخل ہوا تھا۔ ’’صبح بخیر بی بی جی!‘‘وہ ناسمجھی سے ملازمہ کو دیکھنے لگی تھی۔جو ہاتھ میں ڈھیروں شاپرز تھامے اُنہیں صوفے پر رکھ رہی تھی۔ ’’یہ سب کیا ہے؟‘‘اُس کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا تھا۔ ’’وہ بی بی جی!یہ کپڑے اور آپ کی ضرورت کا کچھ سامان ہے جو بیگم صاحبہ نے آپ کے لئے بھجوایا ہے۔‘‘عابثۃ نے اپنا حُلیہ دیکھ لب چبائے تھے۔نجانے وہ اس کے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی۔ ’’خیر سے نکاح بہت بہت مبارک ہو آپ کو باجی!ماشااللہ سے آپ کی اور صاحب کی جوڑی بہت خوبصورت ہے۔‘‘ وہ مزیدگویا ہوئی تو عابثہ نے بغور ملازمہ کا لہجا نوٹس کیا تھا۔جو سچ میں بہت سادہ آنداز میں بات کر رہی تھی۔۔مگر ایک نہ ایک دن تو پورے زمانے کو حقیقت کا ادراک لازمی ہونا تھا تو کیا وہ جب بھی ایسے ہی سب کے لئے اتنی ہی معتبر رہتی جتنی آج تھی؟ ’’ کیا دادو اور ارتضیٰ نے ناشتہ کرلیا؟‘‘اُس نے ذرا جھجھک کر پوچھا تھا۔ ’’ جی بی بی صاحب جی اور بیگم صاحبہ تو جلدی سویرے ناشتہ کرنے کے عادی ہیں۔آپ کو تو بیگم صاحب نے ڈسٹرب کرنےسے منع کیا تھا۔۔رات کو اتنی لمبی فلائٹ لے کر تھک گئیں تھیں ناں آپ۔‘‘عابثہ کو اچھنبا ہوا تھا۔ ’’میں فلائٹ!۔‘‘اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔ ’’جی بیگم صاحب نے بتایا کہ آپ رات لیٹ اسلامآباد کی سے کراچی آئی تھیں نکاح کی وجہ سے۔‘‘عابثہ نے ایک گہری تاسفی سانس خارج کی تھی۔ ’’آپ جائیں میں کچھ دیر میں نیچے آتی ہوں۔‘‘ ’’ٹھیک ہے باجی!‘‘وہ سر ہلاتی پلک جھکتے ہی غائب ہوگئی تھی۔جبکہ عابثہ مریل قدموں سے زمین پر پیر جما کر کھڑی ہوتی صوفے پر رکھے شاپنگ بیگز کے پاس آئی تھی۔۔پھر وہ صوفے پر بیٹھتی ایک بار پھر کل رات پیش آنے والے سانحہ کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فردوس منزل میں شادی کی تیاری عروج پر تھی۔کل رات مینا کی مہندی کا فنکش عابثہ کی گمشدگی کے باعث جلدی ختم کردیا گیا تھا۔۔مگر آج اُس کی احمر کے ساتھ رخصتی تھی۔عابثہ پر لعنت بھیجتے وہ سب اپنی خوشیوں میں مگن ہوگئے تھے۔انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کل کی رات عابثہ نے کہاں اور کس حال میں گزاری تھی۔انہیں آگر واقعی کسی چیز سے غرض تھی تو وہ تھی عابثہ کی جائیداد۔۔جو اِس کے جانے کے بعد اب پوری کی پوری ان کی ملکیت تھی۔۔۔۔۔ ’’بہو جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ!وقت بہت کم ہے۔تم سب ابھی سے اپنی لیپا پوتی میں لگ گئی ہو ۔۔ابھی تو پورا دن باقی ہے۔‘‘ فردوس بیگم ہال کمرے کے ٹو سیٹر صوفے پر براجمان لڑکیوں کو اپنے چہرے پر ماسک لگا کر گھومتا دیکھ سیکھ پا ہوئیں۔۔۔ ’’دادو یہ گھر کے کام کرنے کے لئے ملازمائیں ہیں ناں۔آپ ہمیں سکون سے تیار ہونے دیں۔‘‘اپنی دوست کی ہمراہی میں آکر صوفے پر دھپ سے بیٹھتی ہالہ نخوت سے بولی تھی۔جس کو اب مہندی لگوانا یاد آیا تھا۔۔ ’’بہو سنتی ہو تمہاری لاڈلی کیا کہ رہی ہے۔ مطلب ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑہ !اری بی بی تمہیں گھر کے کام کاج آتے ہی کب ہیں جو بندہ تم سے کوئی کام کہئے۔ظاہر سی بات ہے یہ سارے کام ملازمہ نے ہی کرنے ہیں۔‘‘انہونے ہالہ کی تیوری چڑھے دیکھ ٹھیک ٹھاک آنداز میں لتاڑا تھا۔جبکہ وہ اپنی دوست کے سامنے ایسی بزعزتی پر کھسیانی ہوکر رہ گئی تھی۔۔۔ ’’تو ظاہر سی بات ہے دادو میں اس گھر کی پوتی ہوں کوئی نوکر نہیں۔جو یہ کام کرنے سیکھوں۔‘‘وہ نارازض ہوئی۔ ’’ہونہہ!اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔‘‘اپنی پوتی کی گوہر افشائی پر وہ سر جھٹک گئیں۔ ’’اماں جان!آپ پلیز جلدی سے تیار ہوجائیں پھر آپ اور گھر کے مرد بینکوئٹ پہنچ جائیے گا۔بارات کا استقبال بھی تو کرنا ہے۔‘‘بڑی مامی صاحبہ ذرا عجلت میں بولی تھیں۔جہاں گھڑی میں ابھی دپہر کا ایک بج رہاتھا۔۔ ’’بہو باولی ہوگئی ہو کیا۔۔ابھی سے وہاں پر جاکر بیٹھ جاؤں۔دماغ تو نہیں خراب ہوگیا تمہارا؟‘‘انہو نے گھور کر دکھا تھا۔ ’’ارے وہ اماں جان!میرے کہنے کا مطلب تھا کہ۔‘‘وہ کھسیا کر رہ گئیں تھیں۔ ’’بس رہنے بھی دو۔۔سب جانتی ہوں۔۔تم نے سوچا یہ بڑھیا زیادہ چیخ پکار کرتی ہے، تو اسے ہی یہاں سے چلتا کرو۔‘‘انہونے خفا سے لہجے میں لتاڑا تھا۔۔ ’’اب ایسی بات بھی نہیں ہے اماں جان!آپ تو فضول میں بات کا بتنگڑ بنا رہی ہیں۔‘‘وہ مزید بولتیں وہاں سے اُٹھ گئیں تھیں۔۔ ’’چلو لڑکیوں!دیکھو جاکر ذرا مینا اُٹھ گئی ہے کیا!کچھ دیر میں پالر کے لئے نکلنا ہے۔۔‘‘وہ بولتی ہوئی اب اپنی بیٹی کے کمرے کی جانب بڑھی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاٹن کا گلابی رنگ سادہ سا جوڑا زیب تن کئے عابثہ لب چباتی نیچے آئی تو اُس کا سامنا سیدھا دادو اور ارتضیٰ سے ہوگیا تھا۔۔آج پہلی بار اسے اپنی بے ہوش نیند پر جی بھر کر شرمندگی ہوئی تھی۔۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘‘وہ دھیرے سے قدم اُٹھاتی نزدیک آئی تو وہ دونوں جو باتوں میں مگن تھے، دونوں ہی چونک گئے تھے۔ ’’وعلیکم السلام!صبح بخیر بچے!کسی ہیں؟رات نیند اچھی آگئی تھی !‘‘ وہ اُسے دیکھ کھل اُٹھی تھیں۔۔ ’’جی دادو!‘‘دادو کے سامنے سر جھکا کرکھڑی ہوتی وہ ارتضیٰ سے مسلسل نظریں چُرارہی تھی۔جبکہ اس کی جائزہ لیتی نگاہیں محض اُسی کے وجود کا طواف کر رہی تھیں۔ ’’سکینہ!‘‘انہونے باآواز بلند آواز لگائی تھی۔۔ ’’جی بیگم صاحب!‘‘وہ ایک کم عمر لڑکی تھی دادی بیگم کی آواز پر دوڑی دوڑی وہاں آئی تھی۔۔ ’’باقر صاحب سے بولو بی بی کے لئے کُک سے ناشتہ تیار کروائیں۔‘‘اُن کے حکم پر وہ سر ہلاتی کچن کی جانب بڑھی تھی تھی۔۔ ’’ ارے بیٹا آپ کھڑی کیوں ہیں۔یہاں بیٹھے ناں ہمارے پاس!‘‘وہ محبت سے گویا ہوئیں تھیں۔جبکہ عابثہ نے ایک طرف تھوڑی سی جگہ اور دوسری جانب ارتضیٰ کو بیٹھا دیکھ لب چبائے تھے۔۔ ’’چلیں آپ دونوں دادی اور بہو ساتھ بیٹھیں، باتیں کریں۔میں نکلتا ہوں۔کچھ ضروری کام ہے مجھے۔آفس سے بھی اسی لئے جلدی نکل آیا تھا۔" اُس نے گویا عابثہ کی مشکل آسان کردی تھی۔اور کوٹ جھٹکتا وہ اٹُھ کھڑا ہوا تھا۔عابثہ کی نظریں اچانک ہی اُس کی جانب اُٹھی تھیں۔جو کیمل رنگ پینٹ کوٹ میں بلیک شرٹ پہنے بالوں کو اچھے سے سیٹ کئے انتہائی دلکش لگ رہا تھا۔۔کرسٹل گرے آنکھوں میں الگ ہی چمک تھی۔۔ ’’چلیں آپ خیرسے جائیں!اللہ پاک آپ کو کامیاب کرے۔‘‘عابثہ کے دل نے بے ساختہ آمین کہا تھا۔جبکہ وہ مسکراتا ہوا وہاں سے نکل گیا تھا۔ ’’بچے بیٹھ بھی جاؤ!وہ ہنوز یونہی کھڑی ارتضیٰ کی پشت تک رہی تھی۔ جو کب کا نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا۔۔ ’’جی۔۔جی دادو!میں بس بیٹھ ہی رہی تھی۔‘‘وہ گڑبڑا کر ہوش میں آئی تھی۔ اب وہ ان کے ساتھ ہی صوفے پر جگہ بنا کر براجمان ہوگئی تھی۔جو اسے وقت اور حالات تقاضہ سمجھا رہی تھی۔ارتضیٰ کے مزاج کے بابت آگاہی دے رہی تھیں۔ساتھ ساتھ اس رشتے کی نوعیت سے بھی باوار کرا رہی
