Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 30
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 08/10/2025
6 Views
Episode no 30
پائے تکمیل تک پہنچانے کی خاطر گھر سے ہی نکل گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ارتضیٰ یہ کیا کیا بیٹا آپ نے!رات کے اس پہر ،بچی کی ہمارے گھر موجودگی مجھے کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ لگ رہی ہے۔‘‘ دادی بیگم روتی ہوئی عابثہ اور غصےٰ سے کھولتے ارتضیٰ کو دیکھ پریشانی سے گویا ہوئیں تھیں۔۔۔ ’’تو کیا کروں میں دادو!آپ بتائیں مجھے۔کہاں چھوڑ کر آؤں انہیں۔۔‘‘عابثہ پر ایک کڑی نگاہ ڈال کربولتا وہ زچ ہوگیا تھا۔۔۔ ’’بیٹا!یہ جو کچھ ہوا ٹھیک نہیں ہوا!ارے معاشرے میں بہت عزت ہے ہماری ،ہمارے خاندان کا ایک نام ہے مقام ہے۔مگر اس لڑکی کی نانی بیگم نے تو اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہمارے نام کو مٹی میں ملانے کی پوری تیاری کر رکھی ہے۔‘‘وہ کچھ دیر قبل ہوئی تلخ کلامی کا سوچ کر ہول سی گئی تھیں۔۔۔۔ ’’آپ چھوڑیئے ان کے بارے میں سوچنا دادو!اب یہ بتایئے کہ کرنا کیا ہے۔‘‘باہم ہاتھوں کو آپس میں پیوست کئے وہ جیسے کسی نتیجے پر پہنچنے کا خواہ تھا۔ ’’جو بھی کرنا ہے ارتضیٰ یہ رات گزرنے سے پہلے کرلو میرے بچے!آگر یہ رات گزر گئی تو اس بچی کی ساری زندگی دنیا کو صفائیاں دیتے گزر جائے گی۔ اُپر سے یتیم بچی ہے۔۔اللہ کے گھر بڑی پکڑ ہے۔‘‘وہ تو عابثہ کا معصوم چہرہ دیکھ تاسفی لہجے میں بولیں تھیں۔فردوس منزل میں شادی کے ہنگامے عروج پر تھے۔ایسے میں عابثہ کی غیر موجودگی کے باعث ہوئی بدمزگی تو لازمی تھی۔مگر جس طرح کے القابات سے وہ عابثہ کو نواز رہی تھیں۔وہ یقیناً چپ نہیں بیٹھنے والی تھیں۔۔اور سونے پر سُہاگا کہ اس لڑکی کہ ساتھ اُن کے پوتے کا نام جوڑا جا رہا تھا۔۔جو انہیں ہر گز بھی برداشت نہیں تھا۔۔۔ ’’آنٹی آپ۔۔۔آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔ارتضٰی آپ مجھے آیدھی سینٹر چھوڑ دیں۔۔میں ۔۔میں وہاں چلی جاؤنگی۔‘‘اتنی دیر سے سب کچھ خاموشی سے سُنتی عابثہ یکدم آنسو پونچھ کر کھڑی ہوتی،رندھی ہوئی آواز میں بولی تھی۔ارتضیٰ نے زرا سی نظر اُٹھا کر اس کے چہرے پہ ڈالی تھی۔۔جو کچھ ہی گھنٹوں میں مرجھا سی گئی تھی۔ ’’بیٹا مانا کہ ہم تمہاری یہاں موجودگی کو لے کر پریشان ہیں۔۔مگر اتنے بھی بے غیرت نہیں ہیں۔کہ جوان جہان لڑکی کو یوں سڑکوں کی خاک چھاننے کے لئے چھوڑ دیں۔‘‘وہ عابثہ کے حوصلے پست ہوتے دیکھ نرمی سے بولیں تھیں۔ ’’ارتضیٰ کیا مجھے آپ کا موبائل مل سکتا ہے۔۔مجھے ایک کال کرنی ہے۔‘‘وہ ایک بار پھر ہمت مجتمع کرتی ،ایک آخری کوشش کرنے لگی تھی۔ ’’کس کو کال کرنی ہے؟‘‘اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’پلیز!‘‘اس نے جواب دینے کے بجائے التجا کی تھی۔تو وہ خاموشی سے موبائل اس کے ہاتھ میں تھاما گیا۔۔ابھی عابثہ نمبر ڈائل کرہی رہی تھی۔ کہ شیر افگن کالنگ جگمگا اُٹھا تھا۔رنگ ٹون کی آواز پر ساتھ کھڑا ارتضیٰ چونکا اور پھر افگن کا نام جگمگاتا دیکھ وہ تیزی سےاس کے ہاتھ سے موبائل لیتا اسے ہکا بکا چھوڑ گیا۔ ’’بیٹھ جاؤ بیٹا!افگن سے بات کرلے پھر بات کرلیجیے گا آپ۔‘‘وہ شرمندہ سی عابثہ کو دیکھ نرمی سے بولیں تھیں۔جیسے دیکھ کر انہیں بار بار ترس آرہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا ہوا ارتضیٰ خیریت تھی سب!‘‘وہ پریشان سے ارتضیٰ کو دیکھ سنجیدگی سے گویا ہوئیں تھیں۔ ’’جی۔۔۔جی دادو!بس وہ شیرافگن سے بات کر رہا تھا،اُجالا اور حیات کو لے کر پریشان ہے وہ تو۔۔۔‘‘ارتضیٰ اصل بات گول کر گیا تھا۔پھر نظر اٹھا کر عابثہ کو دیکھا جو ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ ’’لڑکی تم روم میں جاؤ!میں کچھ دیر میں بات کرتا ہوں تم سے۔‘‘وہ جس قدر سخت لہجے میں بولا تھا۔۔عابثہ نے ٹھٹھک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ ’’مگر میں وہ۔۔کال۔۔۔‘‘ ’’کہا ناں روم میں جاؤ۔۔میں بات کرتا ہوں تم سے۔‘‘عابثہ اس قدر سختی پہ اُچھل کر رہ گئی تھی۔ ’’ارتضیٰ بیٹا!‘‘ ’’ایک منٹ دادو!‘‘عابثہ نے خائف نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔جو اپنی دادو سے بات کرتے وقت گھی شکر ہوجاتا تھا،اور اُس سے بات کرتے ہوئے لگ رہا تھا انگارے چبا لئے ہوں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُسے کمرے میں واپس آئے آدھا گھنٹہ گزر گیا تھا ،مگر شیر افگن نجانے کہاں غائب تھا۔۔وہ جلے پپیر کی بلی کی مانند،اِدھر سے اُدھر چکر کاٹ رہی تھی۔گھڑی دو کا ہندسہ عبور کر چکی تھی۔ مگرافگن کا اب تک کوئی آتا پتہ نہیں تھا۔ ’’افگن کہاں رہ گئے ہیں آپ؟‘‘وہ پریشان سی لب چبا کر رہ گئی۔ ’’کہیں اُجالا کے پاس۔۔۔ ‘‘یہ سوچ کر ہی اس کی رُوح فنا ہوگئی تھی۔ ’’نہیں۔۔نہیں۔۔۔افگن ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ۔۔‘‘ ڈریسنگ کا کونا تھام کر کھڑی ہوتی وہ ہمت ہار رہی تھی۔اپنا آپ فراموش کئے جانا کسی صورت برداشت نہیں تھا۔ ’’میں۔۔میں۔۔ایسا نہیں ہونے دونگی۔۔نہیں ہر گز نہیں۔‘‘وہ ہڑبڑا کر کھڑی ہوتی تیزی سے اُجالا کے روم کی جانب بڑھی تھی۔۔جہاں ایک نیا امتحان اُس کا منتظر تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔
