Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 30
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 08/10/2025
6 Views
Episode no 30
دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_۳۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشمی ولا کی سیڑھیوں کے عین وسط میں موجود افگن نے سامنے موجود خاتون اور اُن کے عقب میں نظر آتی حیات کو ناسمجھی سے دیکھا تھا۔۔جو چہرے پر شرمندہ تاثرات سجائے خاتون کی پشت پر چھپنے میں کوشاں تھی۔۔۔ ’’کیا میں آندر آسکتی ہوں؟‘‘انہوں نے دہلیز پر ہی کھڑے کھڑے اجازت چاہی تھئ۔ ’’خاتون آپ پہلے ہی آندر آچکی ہیں۔۔‘‘زرین کے طنزیہ آنداز پر وہ جھینپ گئی تھیں۔۔ جن کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ واضح نظر آرہا تھا۔ ’’آئیے آندر آیئے۔۔۔اور حیات بیٹی آپ۔۔۔کہاں چلی گئی تھیں بچے وہ بھی بتائے بغیر۔۔۔ہم لوگ صبح سے کس قدر پریشان ہیں ۔۔کچھ آندازہ ہے آپ کو۔‘‘ ناصر صاحب خود آگے بڑھ کر حیات کا ماتھا اپنے سینے سے لگاتے نرمی اور شفقت سے بولے تھے۔ جس کے رُخساروں پر آنسوؤں بہہ نکلے تھے۔۔ ’’جانتی ہیں آفگن کس قدر پریشان تھے آپ کے لئے؟‘‘وہ مزید بولے۔۔۔حیات کی گھورا سیاہ مترنم نگاہیں بے ساختہ ہی افگن کی نیلی شعلے اُگلتی نگاہوں سے جا ملی تھیں۔۔ ’’میں۔۔۔وہ بابا ۔۔میں۔۔‘‘حیات نے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا تھا۔۔ ’’دخل آندازی کی معذرت چاہتی ہوں۔۔دراصل یہ بچی کافی دیر سے میرے ساتھ ہے۔۔۔شاید راستہ بھٹک گئی تھی۔‘‘انہوں نے ڈھکے چھپے لفظوں میں اُس کی ذات کا دفاع کیا تھا۔ ’’پھر تو آپ ہماری بیٹی کے لیے فرشتہ ثابت ہوئیں ہیں۔۔جو درست راستہ کی نشان دہی کر اکر،انہیں دُرست پتے پر لے آئی ہیں۔‘‘ وہ سمجھدار شخص تھے۔۔ لٖفظوں کے مفہوم بخوبی جانتے تھے۔ ’’چلیں حیات بیٹا!اپنے مہمان کو بھی کہیں۔۔اور آپ بھی آندر چلیں۔‘‘وہ نرمی سے بولتے حیات کی ہمراہی میں قدم اُٹھانے ہی لگے تھے کہ شیر افگن کی سرد آواز نے اُن کے قدمون کو زنجیر کیا تھا۔ ’’اپنی بیٹی کو دوبارہ سے خوش آمدید کہنے سے قبل ایک بات بخوبی باور کروادیجئے گا کہ اب وہ اس گھر میں شیر افگن ہاشمی کی بیوی نہیں، بلکہ صرف آپ کی بیٹی کی حثیت سے قدم رکھ رہی ہے۔‘‘اُس کے سخت لفظوں پر حیات نے تڑپ کے اُس کی جانب دیکھا تھا۔جو اپنا رُخ موڑے سیڑھیاں چڑھنے لگا تھا۔ ’’پچھلے چار گھنٹوں میں تمہاری بیوی نے مجھ سے تمہاری جتنی تعریفیں کی ہیں۔۔مجھے تو تم سے ملنے کا اشتیاق یہاں کھینچ لایا تھا۔مگر شاید تم ابھی خود سے بھی ناراض ہو۔۔‘‘عقب سے اُبھرتی رقیہ خاتون کی آواز پر وہ ٹھرا تھا۔۔حیات کی نظروں سے شرمندگی واضح تھی۔رات کا وقت تھا اب اُجالا بھی وہیں چلی آئی تھی۔۔۔جبکہ وہ سنی انسی کر گیا۔۔ ’’حیات تم آگئیں۔۔۔تھینک گاڈ!یار ایسا کون کرتا ہے۔۔۔بھلا کوئی اپنا ہی گھر چھوڑ کر جاتا ہے اس طرح۔‘‘ اُجالا اُسے گلے سے لگاتی محبت سے گویا ہوئی تھی۔جبکہ حیات تو جیسے شیر افگن کے لفظ سُن کر اپنے حواسوں میں ہی نہیں رہی تھی۔۔۔ ’’یہاں کیوں کھڑی ہو۔۔چلو آندر آؤ ناں۔۔پتہ ہے افگن کتنا پریشان تھا تمہارے لئے۔‘‘وہ متفکر لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔۔۔ ’’میں جارہاہوں سونے۔۔۔کل چائنہ کی فلائٹ ہے میری۔۔پلیز مجھے کوئی تنگ نہ کرے۔‘‘وہ تیزی سے بولتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔بغیر حیات کی جانب ایک نگاہ ڈالے۔۔۔ ’’آنٹی آپ آئیے ناں۔‘‘رُقیہ نے مزید وہاں ٹھرنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔۔جبھی حیات کو گلے سے لگاتیں وہ حوصلہ رکھنے کا کہتیں تیزی سے وہاں سے نکل آئی تھیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’رات بہت ہوگئی ہے۔حیات بیٹا آپ اپنے روم میں جائیں ۔۔اور ریسٹ کریں۔۔باقی باتیں صبح کریں گے۔‘‘اُن کے نرم لہجے پر وہ شرمندہ ہوگئی تھی۔ ’’سُوری انکل!وہ صبح میں۔۔‘‘حیات نے کچھ کہنا چاہا تھا۔۔ ’’بیٹا جوہو چکا ہے اُسے بھول جاؤ۔۔اور بس اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں سوچو۔۔جو ہے جیسا ہے بس چلنے دو۔۔شیر افگن کو سمجھنے کی کوشش کرو۔۔بہت محبت کرتا ہے تم سے۔۔ آج سارا دن پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈتا رہا ہے۔۔نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کا۔۔ مانا کہ میرے بیٹے نے تمہارے ساتھ ناانصافی کی ہے۔۔مگر وہ کبھی تمہارا بُرا نہیں چاہ سکتا۔‘‘اُجالا خاموش تھی۔۔جبکہ حیات خائف سی نگاہیں چُراتی محض اُن کی پشت دیکھتی رہ گئی تھی۔۔اجُالا اُس کی جانب مسکراہٹ پاس کرتی وہاں سے نکل آئی تھی۔ بظاہر سب کے سامنے اپنے دل اور روح پر لگے زخم چھپا کر مسُکرانے والی اُجالا خود کو روز با روز بکھرتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موبائل پر بات کرتا افگن کھٹکے کی آواز پہ چونک کر پلٹا تھا۔جہاں وہ دشمن جاں شرمندہ شرمندہ سی عین مقابل کھڑی تھی۔وہ غصےٰ سے دیکھتا رُخ پلٹ گیا۔۔جبکہ وہ لب چبا کر رہ گئی۔بھلا کہنے اور سنُنے کو رہ ہی کیا گیا تھا۔ ’’چل میں تجھ سے بعد میں بات کرتا ہوں۔وہ رابطہ پہلے ہی منقطع کر گیا تھا۔۔واٹس ایپ پر میسج ڈراپ کرتا واشروم میں بند ہوگیا تھا۔۔۔۔ حیات لب چباتی ہوئی چند لمحے عجیب سی کشمش سے دوچار محض شیر افگن کے غصےٰ کے بارے میں سوچ کر رہ گئی تھی۔اور پھر کچھ سوچ کر واپس پلٹ گئی۔ افگن باہر آیا تو ٹھٹھک کر ٹھر گیا تھا۔خالی کمرہ اس کا منہ چڑا رہا تھا۔جبکہ موصوفہ نجانے کہاں غائب تھیں۔ ’’بیوقوف عورت!‘‘آئینے کے عین سامنے کھڑا وہ بالوں میں برش بھرتا خفگی سے بڑبڑا یا۔۔جبھی کھٹکے کی آواز پر وہ چونکا،جو ہاتھ میں کھانے کی ٹرے لئے روم میں داخل ہوئی تھی۔۔ ’’وہ کھانا!‘‘افگن آئی برو چڑھاتا دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا اسے طنزیہ نظروں سے گھور رہاتھا تو وہ دھیرے سے منمنائی تھی۔ ’’کیوں تمہارے چاہنے والوں نے تمہیں کھانا بھی نہیں کھلا کر بھیجا۔جن کی تلاش میں تم صبح سویرے ہی نکل گئی تھیں۔‘‘حیات نے زخمی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔جو آج بدلہ بدلہ سا لگ رہا تھا۔ ’’میرے خیال سے آپ کھانا کھا چکے ہونگے۔مگر مجھے بھوک لگی ہے تو مجھے سکون سے کھانا کھانے دیں۔‘‘حیات کی ایگو ایک بار پھر عروج پر گئی تھی۔ وہ سر جھٹک گیا۔ ’’ہمارے اس چھوٹے سے گھر میں کھانا کھانے کے لئے نیچے ایک الگ سے کمرہ مختص ہے۔تو بہتر ہے آپ اپنی پیٹ پوجا کا شوق وہیں جاکر پورا کریں۔اپنے روم میں آئندہ تمہیں یہ تماشے کرتے ہوئے نہ دیکھوں۔یہ میری طرف سے لاسٹ وارننگ ہے۔۔سمجھیں!‘‘وہ قدم قدم چلتا نزدیک آیا تھا،اور پھر انگشت شہادت اُٹھا کر تنبیہ آنداز میں بولتا اُس کی بولتی بند کر گیا تھا۔جبکہ وہ خاموشی سے اس کے بدلے تیور دیکھ کر رہ گئی تھی۔ ’’چلو اب یہ اپنا تھام جھام اُٹھاؤ!اور سیدھی شرافت سے دوسرے روم میں شفٹ ہوجاؤ۔تم جیسی فضول عورت کو میں اپنے روم میں نہیں مانگتا۔‘‘حیات کے دل پر گھونسا پڑا تھا۔آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں تھیں۔ ’’شیر افگن!‘‘وہ دھیرے سے منمنائی تھی۔ ’’شٹ اپ!خبردار!خبردار!جو تم نے منہ سے ایک لفظ بھی نکالا تو حیات کاظمیٰ!اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود تم اب تک اس گھر میں ،اس چھت کے نیچے کھڑی ہو،اسے میری نرمی ہی سمجھو۔ورنہ تم جیسی بیوقوف لڑکی کو۔۔۔۔۔‘‘غصہٰ تھا کہ افگن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج کر کے رکھ گیا تھا۔ جبکہ وہ رخساروں پر لڑکھتے آنسو بیدردی سے رگڑتی روم سے باہر نکل گئی تھی۔پیچھے وہ کتنی ہی دیر اپنے رویے اور ایس ایچ او سے ہوئی بات کے بارے میں تاسف زدہ انداز میں سوچ کر رہ گیا تھا۔کیا ہوجاتا آگر جو وہ اس پر اعتبار کر لیتی۔بس ایک بار قریب آکر یہ کہتی کہ شیرافگن آپ پریشان نہ ہوں۔میں آپ کے ساتھ ہوں ۔۔۔مجھے آپ پر پورا یقین ہے۔مگر نہیں۔۔۔۔"وہ استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ محض سوچ ہی سکا تھا۔۔۔اور پھر وہ فی الحال کے لئے سر جھٹکتا گاڑی کی چابیاں ُاٹھاتا،دماغ میں بازگشت کرتی سوچوں اور ضروری کاموں کو آج
