Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 29
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 08/10/2025
6 Views
Episode no 29
کی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔ان محترمہ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔۔سارا لباس خراب تھا ۔۔ یہ ایسی کنڈیشن میں نہیں تھی کہ میں سیدھا آپ کے پاس لے آتا صرف اس لئے آپ کو کال کر کے بلوایا ہے۔۔ورنہ مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے رات کے اس پہر تماشہ لگانے کا۔‘‘ وہ بامشکل ضبط کرتا صفائیہ لہجے میں مگربرہمی سے گویا ہوا تھا۔۔ ’’اچھا تو پھر یہ بد بخت گھر سے اپنا سامان لے کر کیوں نکلی تھی؟‘‘ وہ ماتھے پر ڈھیروں بل سجائے کڑے تیوروں سے باز پرس پر اُتر آئی تھیں۔۔۔اپنے مقابل کھڑی فردس بیگم کو دیکھ اس کی سٹی گم ہوگئی تھی۔۔ ’’وہاٹ!‘‘وہ حیران ہوا۔عابثہ شرمندگی سے باعث نگاہیں جھکا گئی۔ ’’نانی آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔۔ارتضیٰ بالکل ٹھیک کہ رہے ہیں۔۔۔میں۔۔۔‘‘اُس کے الفاظ لبوں پر اَدھورے ہی رہ گئے تھے۔جب نانی بیگم کے سخت ہاتھوں کا زناٹے دار تھپڑ اس کے چودہ طبق روشن کرگیا تھا۔۔ ’’خاموش ہوجاؤ بے غیرت لڑکی۔۔۔کس قدر دلیر ہو۔۔آنکھ میں سور کا بال ہے تمہاری۔۔ہم نے تمہیں بچپن سے پالا پوسا،جوان کیا۔اور تم نے ہمارے احسانوں کے بدلے ہماری عزت خاک میں ملادی۔۔بھرے زمانے میں رسوا کردیا ہمیں۔۔بدبخت۔‘‘ وہ اسے بالوں سے تھامتی بُری طرح جھنجھوڑ چکی تھیں۔ ’’یہ کیا جاہلانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے آپ نے۔۔آگر آپ کو اپنی نواسی سے کسی قسم کی کوئی شکایت ہے بھی تو اسے اپنے ساتھ گھر لے کر جائیں ۔۔میرے گھر میں یہ تماشے لگانے کی قطعً ضرورت نہیں ہے۔‘‘وہ برہم ہوا۔۔وہ آئی بروز اٹُھائے طنزیہ مسکرائیں۔ ’’توبہ کرو میاں !جو اب ہم اس ذلت کی پوٹ کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے کر جائیں گے۔۔جو نجانے اور کہاں کہاں منہ کالا کرتی پھرتی رہی ہے۔‘‘ عابثہ کے لب کپکپارہے تھے۔آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔وجود شدید لرزش کا شکار تھا۔۔ دل میں درد سا اُٹھا تھا۔ ’’ارتضیٰ کیا ہوا رہا ہے یہاں؟‘‘ رات کے اس پہر گھر میں گونجتی آوازوں اور گھبراہٹ کے زِیر اثر کچی نیند سے بیدار ہوتیں ڈرائنگ روم تک آئیں تھیں۔۔جہاں الگ ہی رنگ چھڑا ہوا تھا۔ ’’ آئیے آئیے دادی صاحبہ!زرا پوچھئے اپنے پوتے سے کہ اسے زرا شرم نہ آئی ہمارے گھر کی عزت پر بُری نگاہ ڈالتے ہوئے؟‘‘شاہ ویز کے لفظوں پر ارتضٰی کا خون کھول گیا تھا۔ ’’ارتضیٰ کون ہیں یہ لوگ؟اور کیا بکواس کر رہا ہے یہ لڑکا؟‘‘عمر کا تقاضہ تھا کہ وہ عابثہ کو پہچان ہی نہ سکی تھیں۔۔ جس سے پہلی ملاقات افگن کے ولیمے پر ہوئی تھی۔ ’’بکواس کر رہے ہیں دادو۔۔آپ یہاں آئیے ۔یہاں آکر بیٹھئے پلیز۔۔بلکہ آپ باہر ہی کیوں آگئیں۔‘‘اپنی دادو کی موجودگی کے باعث وہ فی الحال ضبط کرگیا۔ ’’انہیں کیوں منظر سے ہٹانا چاہ رہے ہو ہیرو۔۔انہیں بھی تو پتہ لگے کہ اس گھر کے دوسرے کمروں میں تم کیا گل ُکھلا رہے ہو۔۔‘‘ارتضیٰ کا خون کھول اُٹھا تھا۔ ’’کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ہی گھر میں کھڑے ہوکر میرے ہی بارے میں فضول بکواس کرنے کی؟‘‘اس کے جبڑے پر ایک شدید قسم کا مکا رسید کرتا وہ گریبان پکڑ چکا تھا۔۔ نانی بیگم بوکھلا کر رہ گئیں تھیں۔ ’’’ارتضیٰ بیٹا چھوڑ دیں انہیں۔‘‘ دادو کی آواز پر اس نے ضبط کیا تھا۔اور ایک جھٹکے سے پیچھے دھکیلا تھا جو منہ سے نکلتا خون دیکھ ضبط کرگیا۔ ’’مجرہ کیا ہے۔۔یہ بچی رات کے اس پہر یہاں کیا کر رہی ہے؟‘‘‘ دادو کے سوالیہ لہجے پر وہ انہیں وہی فرضی کہانی بتاگیا تھا۔۔اصل وجہ بتانا کا نہ اس کا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ہمت۔۔ ’’اوہ!محترمہ کس قسم کی بزرگ ہیں آپ بزرگ تو بچوں کو سنبھال لیتے ہیں اور آپ ہیں کہ بلاوجہ مسلسل اپنی نواسی کے کردار پر کیچڑ اُچھالے جارہی ہیں۔۔ساتھ میرے پوتے کو بھی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔‘‘دادو نے فردوس صاحبہ کو اڑے ہاتھوں لیا تھا۔ ’’بس کرو بی بی۔۔پہلے اپنے پوتے کی اچھی تربیت تو کرلو پھر مجھے سبق پڑھانا۔۔میری نواسی کو ورغلہ کر گھر سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔۔اب پارسا بن رہا ہے۔۔ارے سنبھال اب اسے ہمیشہ کے لئے بڑا ہیرو بن رہا تھا۔۔تو اب اس منحوس کو تم لوگ اپنے پاس ہی رکھ لو۔‘‘عابثہ اپنی ذات کا تماشہ بنتے دیکھ مزید آنسوؤں سے رونے لگی تھی۔ ’’ہم کیوں ان دونوں کو عیاشی کرنے کے لئے چھوڑ دیں دادی ۔۔ساتھ لے کر چلیں اس منحوس کو۔۔اُس کے سارے پَر تو اب میں اپنے آنداز میں کتروں گا۔‘‘وہ اس کی جانب بڑھنے لگا تھا۔جبھی ارتضیٰ بیچ میں حائل ہوا تھا۔۔ ’’یہ میرا گھر ہے اور یہاں تمہیں تمیز کرنی پڑے گی۔‘‘اس کے لہجے میں تنبیہ واضح تھی۔ ’’دیکھ رہی ہیں دادی صاحبہ اپنی نواسی کے عاشق کو ۔یہ اسی کے کہنے پر اتنا پھول رہی تھی۔۔ورنہ اس کی کیا اوقات پدی نہ پدی کا شوربہ۔۔‘‘وہ حقارت آمیز لہجے میں بولتاارتضیٰ کے پیچھے چھپی کھڑی عابثہ کو گھورنا نہیں بھولا تھا۔ ’’میرا اس لڑکی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔ایک سادہ سی بات سمجھ کیوں نہیں آرہی ہے آپ لوگوں کے۔‘‘اس بار وہ درشتگی سے پھنکارا تھا۔۔عابثہ اپنی صفائی میں کچھ بھی نہ کہ سکی تھی۔۔اور بھلا وہ کہتی بھی کیا۔۔بس قسمت کے فیصلے کی منتظر وہ ہر اُمید کو چھوڑ چکی تھی۔۔جس کے آسرے وہ گھر سے نکل آئی تھی۔۔تو شاید اسے بالکل بھول ہی گیا تھا۔۔ "ارے میاں!!اگر تمہارا اس لڑکی سے کوئی تعلق نہیں ہے تو یہ یہ لڑکی آدھی رات کو تمہارے گھر اور کمرے میں کیا کر رہی تھی؟"نانی بیگم ناک بھونیں سمیٹ کر حقآرت بھرے انداز میں سوالیہ بولیں۔ملازمہ نے انہیں یہی بتایا تھا کہ وہ اُپر روم میں ہے۔۔۔ "’’دیکھیں محترمہ یہ لڑکی آپ کے گھر کی عزت ہے۔تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے تھا نا کہ آدھی رات کو آپکے گھر کی عزت کہاں مٹر گشتی کرتی پھر رہی ہے۔"دادی بیگم کو بھی جلال عود آیا تھا۔جبکہ عابثہ خاموش کھڑی آنسو بہا رہی تھی۔ "آنٹی پلیز!!لے کر جائیں آپ اپنی نواسی کو یہاں سے۔۔میں تو ٹھیک سے ایسے جانتا تک نہیں ہوں۔۔"ارتضی اپنے دکھتے سر کو دبا کر غصّہ سے بولا۔۔ "نہیں بھئی!!ہم تو اس ذلت کی پوٹ کو اپنے ساتھ ہر گز بھی نہیں لے کر جائیں گے۔آدھی رات کو لڑکی تمہارے گھر سے برآمد ہوئی ہے۔اب اس گناہ کی پوٹ کو تم اپنے پاس رکھو یا پھینک دو۔۔ہم نہیں جانتے۔"وہ ہاتھ جھاڑ کر پیچھے ہوئیں۔ "نانی ایسا کچھ نہیں ہے۔"وہ ہچکیاں بھرتی آگے آئی۔ "پیچھے رہو بی بی۔خاندان کی عزت خاک میں ملا دی۔۔نکلی نا تم بھی اپنی ماں ور نانی جیسی۔۔بد چلن۔۔"عابثہ کے لرزتے پیروں کو بریک لگا۔ "محترمہ جب بچی کہ رہی ہے ویسا کچھ نہیں۔۔تو آپ مان کیوں نہیں لیتیں۔"وہ بھی غصّہ سے بولیں۔ "تو آپ مان لیں جو ہم کہ رہے ہیں۔۔اور پڑھوا ڈالیں نکاح ان دونوں بے غیرتوں کا۔۔گھر کی بات گھر میں رہ جائے گی۔"ارتضی کی تو حیرت کی زیادتی سے آنکھیں کھل گئی تھیں۔ "یہاں کوئی فلم نہیں چل رہی۔۔بہت ہوگیا لحاظ!!گارڈز لے کر جاؤ ان سب کو یہاں سے ابھی۔۔۔"ارتضی کی دهاڑ پر عبّاسی مینشن میں سناٹا سا چھاگیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔
