Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 29
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 08/10/2025
6 Views
Episode no 29
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی از ہماقریشی قسط نمبر 29 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تارکول کی پکّی سڑک پر تیز رفتاری سے دوڑتی ارتضٰی کی فورچنر کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی عابثہ مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔جبکہ اسٹیرنگ وہیل پر جمے سخت ہاتھوں کی غصٰے سے اُبھری نیلی پیلی نسیں واضح نظر آرہی تھیں۔لب آپس میں سختی سے بھینچ رکھے تھے،آنکھوں میں سرد تاثرواضح تھا۔۔عابثہ کا سسکتا وجود قابِل ترس تھا مگروہ شدید غصےٰ سے دوچار تھا۔۔ ’’اب تم اپنے آنسو بہانے بند کروگی لڑکی؟‘‘وہ عباس پیلس کی بلڈنگ کے عین سامنے اپنی گاڑی رُوکتا برہمی سے بولا تو اس کی ہچکی بند گئی تھی۔ ’’میں۔۔۔میں ۔۔‘‘لفظ لبوں سے نکلنے سے انکاری تھے۔ ’’کیا میں!فی الحال تم جس حالت میں ہو،میں تمہیں تمہارے گھر نہیں لے جا سکتا۔۔آندر چلو اپنا حُلیہ درست کرو ۔۔پھر میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دونگا۔‘‘وہ ناگوار لہجے میں مارے مروت کےسختی سے بولا۔عابثہ بغیر کچھ کہے خاموشی سے گاڑی سے نکلتی اِس کے ساتھ قدم آندرونی حصےٰ کی جانب بڑھا چکی تھی۔گارڈز کی جانب گاڑی کی چابی اُچھالتا وہ بھی اس کے ہم قدم ہوا۔۔جس کا ایک ایک قدم من من بھاری ہورہا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس وقت عباس پیلس کے گیسٹ روم میں موجود تھی،سنگھار آئینے کے عین سامنے موجود عابثہ شیشے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتی عجیب قسم کی اذیت سے دوچار تھی۔ وہ جس حلُیے میں عباس پیلس میں داخل ہوئی تھی آگر چہ اُس حلیے میں اسے کوئی اور دیکھ لیتا تو یقیناً ہمیشہ کے لئے اس کی ذات سوالیہ نشان بن کر رہ جاتی۔۔ وہ رو رہی تھی۔۔وہ کمزور پڑ گئی تھی۔۔ہر وقت سب کی ناک میں دم کر کے رکھنے والی عابثہ اسمعیل کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔سب سمجھتے تھے وہ ایک بزتمیز ،بد مزاج،خود سر لڑکی ہے۔مگر آج تک کسی نے اُس کی ذات میں چھپا وہ تاریک پہلو جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی،جو اس کی سب سے بڑی کمزوری تھا۔۔ بظاہر خود کو نڈر اور بے باک ثابت کرتے کرتے وہ اس معاشرے سے ہار گئی تھی۔اور ایک اکیلی جان لڑکی ،آخر کب تک اور کس حد تک لڑ سکتی تھی۔۔مضبوط اعصاب کی مالک وہ نازک اندام عابثہ اسمعیل جو ہمیشہ خود کو بہت چٹان سا متعارف کروایا کرتی تھی آج اسے اپنی شناخت گم ہوتی محسوس ہوئی تھی۔ کہتے ہیں یہ مردوں کا معاشرہ ہے۔۔عورت کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔۔آگر چہ اکیلی ہے تو یہ معاشرہ اسے کبھی سکون کی نیند نہیں لینے دیتا،ایک غیرت مند مرد کا سایہ سو عورتوں پر بھاری ہے۔۔ جبکہ ایک عابثہ اپنے سے کم عمر لڑکے کا مقابلہ تک نہیں کرسکی تھی۔۔خود کی حفاظت کے لیے کتنی ہی سیلف ڈیفیس ٹریننگز لے رکھی تھیں۔۔۔یو ٹیوب سے دیکھ کر ہر وقت نیو اسٹنٹ کرنا خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی ایک نکام سی کوشش تھی۔۔مگر چند لمحوں قبل پیش آنے والے واقعہ نے اسے احساس دلا دیا تھا کہ وہ تو بہت کمزور اور بے بس جان ہے۔۔۔۔ بکھرے بالوں کو سمیٹ کر جوڑا بنا لیا تھا،ہر لمحے گلے میں موجود دوپٹہ اب سر پر جما ہوا تھا۔۔۔وہ خود کو خود سے بھی چھپا لینا چاہتی۔۔۔وہ اس چادر دیواری میں خود کو قید کرلینا چاہتی تھی۔۔۔مگرخاموش تھی۔۔جبھی کوئی دستک دیتا روم میں آیا تھا۔۔اپنی سوچوں میں گُم وہ چونک گئی تھی۔ ’’ میں نے ملازمہ سے کہ کر کھانا لگوا دیا ہے۔۔آپ باہر آجاؤ کھانا کھالو۔‘‘ارتضیٰ اس کی حالت دیکھ شاید پہلی بار اتنی نرمی سے مخاطب ہوا تھا وگرنہ پہلی ملاقات سے لے کر اب تک اسے بھی اس کا بے باک آنداز ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ ’’بہت شکریہ مگر مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔ کیا آپ مجھے اپنا موبائل دے سکتے ہیں۔۔مجھے ایک کال کرنی ہے۔۔‘‘ اپنا دوپٹہ سختی سے مٹھیوں میں جکڑتی وہ دھیمی سی آواز میں جھجھک کر بولی تھی۔ ’’بھوک نہیں بھی ہے تو تھوڑا سا کھالو۔۔اور فکر نہیں کرو میں تمہارے گھر والوں کو کال کرچکا ہوں۔۔تمہاری نانی بس آتی ہونگی۔‘‘ارتضیٰ نے متوازن لہجے میں دھماکا ہی تو کیا تھا۔۔اُس کا چہرہ فق پڑ گیا تھا جبکہ ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس ارتضیٰ نے کرسٹل گرے آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا تھا۔۔وہ ناسمجھی سے اس کے تاثرات کا جائزہ لیا تھا۔ ’’میں۔۔۔۔۔۔میں ۔۔آپ پہلے مجھ سے پوچھ تو لیتےایک بار۔۔‘‘ وہ شدید زہنی ازیت سے دوچار اپنا سر تھام گئی تھی۔مقابل کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا تھا۔اس کا سفری بیگ اور موبائل تو وہیں کہیں چھینا جھپٹی میں گر گیا تھا۔۔آگر ارتضیٰ کو حقیقت کا علم ہوجاتا تو وہ نجانے کیا کرتا۔ ’’کیا مطلب ہے اس بات کا؟کیاتم رات کے اس پہر اپنی مرضی سے کسی اور مقصد کے تحت گھر سے نکلیں تھیں؟‘‘ اُسے ایک بات کا تو بخوبی علم ہو چلا تھا کہ وہ اکیلی گھومنے کی عادی تھی مگر اب اس کی باتیں مشکوک لگ رہی تھیں۔۔ ’’’ایسا نہیں ہے۔۔مگر اب میں۔۔۔۔‘‘ وہ ہچکچاتی ہوئی ابھی مزید کسی قسم کا قیاس کرتی جبھی ملازمہ نوک کرتی روم میں انٹر ہوئی تھی۔۔ارتضیٰ نے پلٹ کر دیکھا تھا۔۔ ’’صاحب وہ نیچے بی بی کی نانی جان آئی ہیں۔۔‘‘ عابثہ نے خوف سے تھوک نگلا تھا۔۔۔اب نجانے اس کے ساتھ کیا ہونے جارہا تھا۔ ’’’تم انہیں ڈرائینگ روم میں بیٹھاؤ ،ہم بس ابھی آتے ہیں۔‘‘ملازمہ سرہلاتی چلی گئی تھی جبکہ اب وہ عابثہ کی جانب رُخ کئے جانچتی نگاہوں سے اس کا فق چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔جس کی آنکھیں ایک بار پھر نم ہوگئی تھیں۔۔ ’’چلو لڑکی ،نیچے آجاؤ۔۔میں نے تمہارے گھر والوں سے صرف اتنا کہا ہے کہ تمہارا ایکسیڈینٹ ہوگیا تھا ۔اور تم مجھے مل گئیں تھیں اس لئے میں تمہیں یہاں لے آیا تھا۔۔پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔اس بد معاش لڑکے کا قصہٰ میں کل صبح تک تمام کروادونگا۔‘‘اپنے تتئیں وہ یہی سمجھا تھا کہ وہ شاید دائم کی وجہ سے پریشان ہے جبکہ وہ لب چباتی اُس کے اشارے پر ہم قدم ہوئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں نفوس آگے پیچھے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تھے۔ارتضیٰ کا چہرہ ہر احساس سے عاری جبکہ عابثہ کی رنگت لٹھے سے مانند سپید پڑ گئی تھی۔۔تھری سیٹر صوفوں پر چہرے پر جلال سجائے وہ دو نفوس ،مزے سے نشست فرما تھے۔۔نانی صاحبہ بھی اس خبیث انسان کے ساتھ تشریف لائی تھیں۔۔جس کی صورت دیکھ اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔ ’’ السلام علیکم!‘‘ارتضیٰ نے اُن کے عین مقابل نشست سنبھالتے پاؤں پر پاؤں رکھتے سلام جھاڑا۔۔۔عابثہ ہنوز کھڑی ہوئی تھی۔شاہ ویز کی شعلے اُگلتی نگاہیں اسی کی جانب مرکوز تھیں۔۔ ’’اری بے حیا تجھے شرم نہ آئی یوں رات کے آندھیرے میں گھر سے بھاگتے ہوئے۔۔۔گھر مہمانوں سے بھرا ہو ا ہے ۔۔اری کمبخت جانتی ہے تیری وجہ سے کس قدر جگ ہنسائی ہوئی ہے ہماری۔۔‘‘وہ تو عابثہ کی شکل دیکھ ارتضیٰ کو نظر آنداز کرتی اس پر برس پڑی تھیں۔۔جو شرمندہ دکھارئی دے رہی تھی۔ ’’بات سُنیں!یہ میرا گھر ہے۔۔جنگ کا میدان نہیں ۔‘‘ارتضیٰ نے اس کا لہجا بامشکل برداشت کیا تھا۔ ’’کہنا کیا چاہتا ہے ہیرو۔۔پہلے اسے ورغلہ کر گھر سے نکلنے پر مجبور کردیا ۔۔۔اور اب اسے استعمال کرنے کے بعد خود ہی ہمیں کال کر کے بلوالیا۔۔واہ بھئی کیا بات ہے تیری شرافت کی۔‘‘شاہویز کی الزام تراشی پر عابثہ تڑپ اُٹھی تھی۔ ’’کیا بکواس کر رہے ہو؟‘‘ ارتضٰی کی دھاڑ نے عباس پیلس کے درو دیوار تک ہلا ڈالے تھے۔ ’’بکواس ہم نہیں۔۔بکواس تو تم نے کی تھی فون پر میاں۔‘‘ وہ عابثہ کو گھورتیں طنزیہ لہجے میں غرائی تھیں۔ ’’آنٹی آپ کو شدید قسم
