Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 28
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 07/10/2025
8 Views
Episode no 28
صاحب زرا اچھے سے کس بل نکالئے گااس پھلجڑی کے۔۔بہت شوق ہے اِسے مردوں کو بیوقوف بنانے کا۔‘‘ عابثہ نے بے یقینی سے اس شخص کو دیکھا تھا۔۔اور ذہن پر ذور ڈالنے کے بعد اسے یاد آیا کہ وہی اہلکار تھا جس نے اس روز اسے روکا تھا۔۔اور وہ اپنی مستی میں اسے اچھا خاصہ تنگ کر چکی تھی۔ ’’سر اس روز کے لئے معذرت!پلیز میری ہیلپ کریں۔‘‘ عابثہ کے گڑگڑاتے لہجے پر وہ سب ہی قہقہہ لگا اُٹھے تھے۔ ’’عابثہ یار مدد مانگ بھی کس سے رہی ہو۔۔جو سالے پلتے ہی میرے باپ کے ٹکڑؤں پر ہیں۔‘‘ اب عابثہ کی خوف سے آواز ہی بند ہوگئی تھی۔۔جبکہ وہ پیچھے کا دروازہ کھول کر زبردستی عابثہ کو گاڑی میں ڈالتا گاڑی آگے بڑھا چکا تھا۔۔اور وہ مدد کے لئے پُکارتی رہ گئی تھی۔۔ ’’سالی۔۔۔۔۔۔ہمیں پاگل بنائے گی۔‘‘وہ اس روز سینئیرز کے ہاتھوں ہوئی اپنی بے عزتی کو بھول نہیں سکا تھا۔۔اب دور جاتی ویگو کو دیکھ وہ بڑبڑاتا ہوا اپنے ناکے کی جانب بڑھا تھا جو چند قدموں کی دوری پر ہی بنا تھا۔۔عابثہ کا چادر میں روڈ پر پڑا اپنی وقعت کھو چکا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’چھوڑو مجھے۔بچاؤ۔۔پلیز ہیلپ۔۔۔‘‘وہ ونڈو بجاتی مسلسل چلا رہی تھی۔اِسے اتفاق کہا جائے یا قدرت کی مہربانی کہ ارتضیٰ کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔۔ ونڈو پر مسلسل بجتی کسی لڑکی کی ہاتھوں کو دیکھ اسے پہلے ہی کسی گڑبڑ کر احساس ہوگیا تھا۔۔گاڑی کے ساتھ چلتی گارڈز کی گاڑی دیکھ وہ عجیب کشمکش سے دوچار تھا کہ تعقب میں جائے یا پھر نہیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’پلیز مجھے جانے دو یہاں سے کل میرا نکاح ہے۔۔بات سمجھنے کی کوشش کرو۔۔‘‘وہ عابثہ کو کسی فارم ہاؤس پر لے جانے کے بجائے شہر سے دور کسی پرانی عمارت میں لے آئے تھے۔۔سنسنان علاقہ اور دور دور تک پھیلی وحشت ناک خاموشی،عابثہ کی فریاد کرتیں،صدائیں کرتیں آوازیں نڈھال سی لوٹ کر واپس آرہی تھیں۔۔۔بند گھپ آندھیرے کمرے میں رُو رُو کر مقابل سے التجائیں کر رہی تھی۔جو موبائل کی ٹارچ جلاتا بےباک نِگاہوں سے اِس کے سراپے کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔۔۔ ’’کیا ہوا عابثہ اسماعیل کیا تمہیں اس بچے کی شرارتیں پسند نہیں آرہیں؟تمہیں تو بہت شوق تھا ناں شرط لگانے کا۔۔تو اب کیا ہوا۔۔۔آج ایک شرط میں نے بھی اپنے دوتوں سے لگائی تھی کہ آج میں کچھ نیا ٹیسٹ کرونگا۔اور مجھے تم مل گئیں۔۔تو سُوچوں زرا تم سے زیادہ نایاب فلیور تو اب مجھے کبھی زندگی میں نہیں ملنا۔۔‘‘کرسی سے پیچھے بندھے ہاتھ اور دوپٹے سے ندار وجود،عابثہ کی ہچکیاں بند گئی تھیں۔۔۔۔ ’’پلیز جانے دو ۔۔میرا ،میرا نکاح ہے کل ۔۔‘‘ عابثہ نے جھوٹ کا سہارا لیا تھا کہ شاید اُسے رحم آجاتا۔۔۔ ’’ اوہ تو مطلب تم اپنے گھر والوں کو پاگل بنا کر شادی سے ایک رات پہلے کسی کی رات کا مزہ دوبالا کرنے جارہی تھیں۔۔گڈ ۔۔۔ٹو گڈ۔۔۔یعنی اب وہ خوش نصیب میں ہوں۔۔‘‘وہ کمینگی کی انتہاؤں پر تھا۔ ’’ایسا نہیں ہے میں اپنے بھائی کے گھر جارہی تھی۔۔میں پلیز مجھے معاف کردو۔۔تمہیں تمہاری اس محبت کا واسطہ جو تم مجھ سے کبھی کرتے تھے۔۔میں عمر میں بڑی ہوں تم سے۔۔پلیز بخش دو مجھے۔‘‘وہ رو رو کر التجائیں کرتی اپنی عزت کی بھیک مانگ رہی تھی۔ ’’جانم تمہیں تو ہم چھوڑ دیں گے،مگر زرا ایک بات تو بتاؤ تمہیں یونہی چھوڑ دینے میں میرا کیا فائدہ۔‘‘ عابثہ نے بے بسی سے دروازے کی دوسری جانب موجود لوگوں کو دیکھ آنسو ضبط کئے تھے۔جو اس کی گارڈز تھے۔ ’’بتاؤ،،کیا ملے گا مجھے؟‘‘ وہ سرد سی سرگوشی میں بولتا اس کا سانس خشک کر گیا تھا۔یخ بستہ بستہ ہاتھوں کو مسلسل آزاد کرنے کی سعی میں نکام وہ گڑگڑا کر اپنی عزت کی بھیک مانگ رہی تھی۔ ’’میرا بھائی وہ سب دے گا تمہیں۔۔جو تم مانگو گے وہ تمہیں وہ دئے گا۔۔مگر پلیز مجھے یہاں سے جانے دو۔‘‘وہ سسکی بھر کر رہ گئی۔ ’’چھوڑدونگا جانم۔۔آفٹر آل تم میری بچپن کی محبت ہو۔۔مگر شرط جیتنے کے بعد۔‘‘وہ مکاری پن سے بولتا اس پر جھکا تھا ۔جبکہ وہ ہذیانی سی ہوکر پاگلوں کی طرح چیخ چیخ کر اپنوں کو پکُارنے لگی تھی۔۔زندگی کھیل نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی فلم۔۔۔ کہ یکدم اچانک سے کوئی بھی جذباتی فیصلہ لے کر گھر کی چار دیواری چھوڑ دی جائے۔۔فردوس منزل کی محفوظ دہلیز پھلانگناعابثہ کی زندگی کی سب سے بڑی بھول ثابت ہوئی تھی۔۔ جس بات کا آندازہ ہوتے ہوتے خاصی دیر ہوگئی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ارتضیٰ کو اُن کے تعقب میں اس سنسان جگہ تک پہنچنے میں کچھ دیری ہوگئی تھی۔۔وہ زرا فاصلہ پر اپنی گاڑی کھڑی کرتا باقی کا راستہ پیدل طے کرتا ہوا نزدیک آیا تھا جہاں وہی دو گاڑیاں موجود تھیں۔اور سنسان جگہ میں گونجتی لڑکی کی مسلسل آوازؤں پر وہ چوکس ہوتا ،سب سے پہلے پولیس کو کال کر چکا تھا۔۔مگر وہ جو بھی صنف نازک تھی حد سے زیادہ مشکل سے دوچار تھی۔وہ مزید خود پر ضبط نہیں کر سکا تھا۔۔زرا سی دیری کسی کی عزت تار تار کر سکتی تھی۔۔وہ تیز قدموں سے اُپر کی جانب بھاگا تھا۔اور وہی ہوا تھا جس کا ڈر تھا۔ جد ید اسلحہ سے لیس لوگ ایک انجان نہتے شخص کو دیکھ اس پر ٹوٹ پڑے تھے۔۔۔دائم بھی عابثہ کو روتا بلکتا چھوڑ یونہی باہر آگیا تھا۔جو اپنے لئے کسی مسیحا کی موجودگی محسوس کر اب زور زور سے مدد کے لئے پکار رہی تھی۔۔اتنی دیر میں وہاں پولیس بھی آگئی تھی۔چاروں سمت گونجتی سائرن کی آواز پر وہ لوگ گڑبڑا کر وہاں سے بھاگنے لگے تھے۔ارتضیٰ تیزی سے اس بند کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔جہاں نیم آندھیرے کمرے میں کوئی وجود کرسی سے بندھا تھا۔۔ارتضٰی نے پولیس کے پہنچنے سے قبل ہی تیزی سے اس کے ہاتھ کھول کر اپنی جیکٹ اُتار کر پہنائی تھی۔۔ بکھرے بالوں اور اندھیرے کے باعث وہ اسے پہنچان ہی نہیں سکا تھا۔۔جبکہ عابثہ اس شخص کو نزدیک سے دیکھتی سانس تک روک گئی تھی۔ ’’لڑکی تم ٹھیک تو ہو ناں۔۔‘‘ اس کے لفظوں میں چھپا مفہوم سمجھ وہ شرم سے پانی پانی ہوگئی تھی۔ ’’میں ٹھیک ہوں۔۔مجھے یہاں سے جانا ہے پلیز ارتضیٰ میری ہیلپ کرو۔‘‘ ارتضیٰ جو موبائل کی ٹارچ جلانے کے لئے اسکرین پر انگلیاں پھیر رہا تھا۔۔شناسہ آواز اور اپنے نام کی پکُار پر چونک اُٹھا تھا۔۔اور چہرے پر روشنی ڈالتے ہی چہرہ واضح ہوا تھا ۔۔ دو لمحوں کے لئے ارتضیٰ کے اوسان خطا ہوگئے تھے۔۔۔ ’’لڑکی تم۔۔۔‘‘ابھی مزید کچھ سوچنے سمجھنے کا وقت نہیں تھا۔۔ایسی سنگین صورتحال میں وہ خود حواس باختہ سا پولیس کی نظروں میں آئے بغیر اسے اپنے حصار میں لیتا تیزی سے وہاں سے نکل آیا تھا۔۔جبکہ دائم اور اس کے بندے مسلسل پولیس والوں سے جرح کر رہے تھے۔ارتضیٰ جانتا تھا۔رئیس باپ کی بگڑی ہوئی اولاد کی بیل زیادہ سے زیادہ دو سے تین گھنٹوں میں ہوجانی ہے۔اور یہی تو ہمارے بوسیدہ نظام کی نیک نامی تھی۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔
