Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 28
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 07/10/2025
8 Views
Episode no 28
دھوپ چھاؤں سا ہرجائی از ہما قریشی قسط نمبر 28 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر مہمانوں سے گھچا گھچ بھرا ہوا تھا۔ مہندی کی رسم چل رہی تھی۔ایک چھوٹا سفری بیگ ہاتھ میں تھامے سر پر چادر اُوڑھتی عابثہ بے حد خاموشی سے پیچھے والے دروازے سے گھر سے باہر نکل گئی تھی۔وہ انجان راستوں پر چلتی کسی کا نمبر ڈائل کرنے لگی تھی کہ جبھی سامنے سے آتی تیز رفتار کار کو دیکھ وہ ہڑ بڑا ئی تھی۔۔وہ تیز رفتار کار عین قدموں میں آکر ٹھر گئی تھی۔عابثہ اُچھل کر دو قدموں کی دُوری پر جاکھڑی ہوئی تھی۔اور اس کے عین پیچھے ایک اور کار آکر ٹھری تھی۔ عابثہ نے دیکھا وہ وہ سیاہ رنگ کی مرسڈیز بینزتھی۔۔ جبکہ پیچھے موجود ویگو کے ڈالے میں جدید اسلحہٰ سے لیس گارڈز موجود تھے۔مرسڈیز کی فرنٹ سیٹ پر براجمان وہ بھرپور شخصیت کا مرد صنف نازک کا جانا پہچانا سا چہرہ دیکھ دلکشی سے مسُکرایا تھا۔۔جو خود کو چادر میں ڈھانپنے کی نکام سی کوشش میں کوشاں تھی۔ " کندھوں پر پڑی مردانہ شال دُرست کرتا، گاڑی کا دروازہ کھول کر ،اپنے رعب و دبدبے کو سائیڈ پر کرتا وہ اپنے مخصوص آنداز میں بھاری قدم اٹُھاتا اس کے نزدیک آیا تھا۔ جو خوفزدہ سی دو قدم پیچھے ہوگئی تھی۔جبکہ مقابل شخص کی آنکھوں میں چمک ہی نرالی تھی۔ ’’عابثہ اسماعیل کیسی ہو؟پہچانا؟‘‘بھری ہوئی جسامت،نظر لگ جانے کی حد تک وہ خوبصورت مرد شناسائی کی منزلیں طے ہوتے ہی عابثہ کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھیل گئی تھیں۔اور لمحوں کے ہزارویں حصے ٰ میں ذہن اسے کئی سال پیچھے لے گیا تھا۔۔ "کیا؟؟؟؟تم عابثہ کو پرپوز کرنے جارہے ہو؟"دائم کی کلاس فیلو کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔۔ "ہاں!!میں عابثہ سے سچی محبّت کرتا ہوں۔۔"وہ اپنی عمر سے دو سال بڑی اسکول کی سینئر اسٹوڈنٹ عابثہ کو پرپوز کرنے جارہا تھا۔۔جس کی چال ڈھال ہی نرالی تھی۔۔ "اوہ بھائی تجھے پورے اسکول میں وہ لڑکا نما لڑکی ہی ملی تھی محبّت کرنے کے لئے سچے اور بچے عشق ۔۔"میٹرک کلاس کے دو لڑکے گراؤنڈ میں کھڑے اس کی آواز سن کر قہقہہ لگا اُٹھے۔۔جبکہ اس کے اندر کا جاگیر داروں والا خون جوش مار رہا تھا۔۔مگر دراصل وہ بڑم شرمیلا بچہ تھا۔۔ "وہ آگئی عابثہ۔۔۔چل ہیرو شروع ہو جا۔۔"سب کی آواز پر وہ تھوک نگلتا من بھر کے قدم اُٹھا کر آگے بڑھا تھا۔۔ سامنے سے سانولی سی من موہنی سی صورت والی عابثہ اسماعیل اپنے حُلیے سےلاپرواہ دائم کے عین سامنے آکر ٹھری تھی۔۔ "وہ وہ عابثہ۔۔۔۔آپی۔۔۔"وہ ہکلا کر بولنے ہی لگا تھا۔۔مگر عابثہ کی شعلہ بار نگاہوں کو دیکھ جلدی سے درستگی کرتا گویا ہوا۔جبکہ گراؤنڈ میں قہقہے گونج اُٹھے تھے۔۔ "ہاہاہا!!!عابثہ یہ تمہارا کبھی نہ ہونے والا شوہر تمھیں پرپوز کرنے آیا ہے۔۔"ایک شریر سا لڑکا اونچی آواز میں بولا تھا۔بریک ٹائم کی وجہ سے تمام ٹیچرز اسٹاف روم میں موجود تھے۔۔ "اوہ اچھا!!چلو شروع ہوجاؤ۔۔"اس نے سینے پر بازو لپیٹے۔۔تماشہ دلچسپ ہوگیا تھا۔ "وہ میں آپ سے۔۔۔۔"دائم بیچارہ ہکلا کر رہ گیا۔۔ "افف!!میرے رانجھے تمھیں تو لڑکی کو پرپوز بھی نہیں کرنا آتا۔۔"عابثہ اس کے ماتھے پر چمکتا پسینہ دیکھ تاسفی لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔ "چلو میں بتاتی ہوں۔۔"گراؤنڈ میں آہستہ آہستہ رش بڑھنے لگا تھا۔دائم نے تھوک نگلا تھا۔۔ "ایک منٹ پہلے ذرا گھٹنوں کے بل بیٹھ جاؤ۔۔بالکل ویسے جیسے غریب عوام اپنے مالک کے سامنے عاجزی اور انکساری سے بیٹھتی ہے۔"عابثہ نے جھٹ آرڈر جاری کیا تھا۔ "عابثہ میں۔۔۔۔۔"اس کا لہجہ پھر لڑکھڑآیا تھا۔۔جبکہ گراؤنڈ میں دبی دبی سی ہنسی کی آواز گونجنے لگی تھی۔۔ "چلو جلدی کرو۔۔۔"وہ زور سے بولی تو دائم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔۔ "ہاہاہا!!!دائم برادر یہ کیا کر رہے ہو؟؟"اس کا کزن ڈور کر وہاں آیا تھا۔۔ "بھائی وہ۔۔۔۔"اپنے سے بڑے بھائی کو دیکھ وہ اب باقاعدہ کپكپانے لگا تھا۔۔ عابثہ اسماعیل تمہارے اندر شرم نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں۔۔۔تمھیں شرم نہیں آتی ایک بچے سے اس طرح کا چیپ مذاق کرتے ہوئے۔۔"اپنے چھوٹے کو روتا دیکھ وہ چیخ اُٹھا تھا۔۔ "اوہ ہیلو!!!اپنی سوچ کا قبلہ درُست رکھو۔۔مجھے سبق پڑھانے سے بہتر ہے اس چھوٹے پیکٹ کے بھیجے میں کوئی عقل کی بات ڈالو۔۔۔اسے شرم نہیں آتی پڑھنے لکھنے کی عمر میں یہ خرافات سر انجام دیتے ہوئے۔۔۔"عابثہ اپنے قد سے کئی زیادہ اُونچے لڑ کے پر اس سے زیادہ شدّت سے دهاڑی تھی۔۔ "تم۔۔۔۔" "کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔"میم کی آواز پرگراؤنڈ سیکنڈ میں خالی ہوا تھا۔۔جبکہ وہ دونوں آفس میں سر جھکائے کھڑے تھے ایک شرمنده تھا تو دوسری کی ازالی بے نیازی عروج پر تھی۔۔ "سو مس عابثہ اسماعیل رائٹ!!!"عابثہ کی نگاہوں میں چلتا منظر لمحوں میں تبديل ہوا تھا۔۔ وہ چھوٹا سا دائم بھگٹی ابھی پورے بیس کا بھی نہیں ہوا تھا۔۔مگر قد کاٹھ سے بھرپور وجاہت و شجاعت کے ساتھ پورے کروفر سے اُس کے روبرو آگیا تھا۔۔۔ "میں۔۔۔۔۔عابثہ کو اپنی حالت دیکھ شرمندگی ہوئی تھی۔۔رات کے اس پہر وہ جس حالت میں گھر سے باہر تھی۔۔۔یہ ڈوب مرنے کا مقام تھا۔۔ ’’سب خیریت تو ہے ناں؟رات کے اس پہر،سفری بیگ کے ساتھ۔۔کہیں جارہی ہو کیا؟‘‘ وہ جانچتی نگاہوں سے اس کے سراپے کا جائزہ لیتا سوالیہ آنداز میں گویا ہوا تھا۔۔عابثہ کی زبان سے حرف نکلنے سے انکاری ہوئے تھے۔۔ آج وہ بچہ ایک بھرپور مرد کے روپ میں اس کے روبرو تھا۔۔ خوف اور جھجھک نے بے وقت آن گھیرا تھا۔۔وہ عابثہ سے اسے مخاطب تھا گویا ان کے درمیان کبھی سالوں کا فرق آیا ہی نہ ہو جیسے۔۔ ’’ہاں! وہ دراصل میں اپنے بھائی کے گھر جارہی تھی۔۔‘‘وہ گڑبڑا ئے ہوئے لہجے میں سر جھٹک کر بولی۔ ’’اوہ !تو رات کا یہی پہر ملا تھا بھائی کے گھر جانے کے لئے؟‘‘وہ زرا طنزیہ آنداز میں بولا تھا۔ ’’تم سے مطلب!اپنے کام سے کام رکھو سمجھے۔‘‘وہ لمحوں میں خود کی کیفیت پر قابوں پاتی تڑخ کر بولی تھی۔ ’’’جہاں تک مجھے علم ہے تم اپنے ماں ،باپ کی اکلوتی تھیں عابثہ جی۔۔ آگر تمہارا کوئی عاشق تمہارے انتظار میں ہے تو مجھے بتاؤ میں باحفاظت تمہیں اس کے سپرد کردوں گا۔‘‘ کلین شیو چہرے پر ہاتھ پھیرتا وہ زرا معنی خیزی سے بولا تھا۔۔عابثہ کا چہرہ لہو رنگ ہوگیا تھا۔ ’’شٹ اپ!بکواس نہیں کرنا میرے بارے میں ،ورنہ منہ توڑ دونگی۔‘‘ وہ انگشت شہادت اُٹھاتی مقابل آئی تھی۔ ’’اوہ رئیلی!‘‘وہ اس کی وہی انگلی تھام کر زرا نزدیک ہوا تھا۔۔عابثہ نے خوف سے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں دور دور تک ڈرے سہمے سے دائم کا نام و نشان تک نہ تھا۔بلکہ وہ تو بڑا نڈر اور بے باک سا لگ رہا تھا۔ ’’ہاتھ چھوڑو میرا!‘‘وہ زبردستی اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھوڑواتی وہاں سے نکلنے ہی لگی تھی کہ یکدم سے آگے بڑھ کر اسے دبوچ چکا تھا۔ ’’دائم یہ کیا بدتمیزی سے چھوڑو مجھے۔۔‘‘وہ بھرپور مزاحمت کرتی سخت لہجے میں بولی تھی۔ ’’ابھی بدتمیزی کی ہی کہاں ہے عابثہ جی۔‘‘وہ خباثت سے قہقہہ لگا اُٹھا تھا۔عابثہ نے شدت سے اپنے رب کو پُکارا تھا۔ساتھ ہی وہ ہیلپ کے لئے کسی کو پکارنے لگی تھی۔ ’’کیا ہوا؟کیا ہورہا ہے یہاں؟‘‘ وہ زبردستی اسے اپنی گاڑی میں ڈال رہا تھا کہ عابثہ کی تیز آواز پر ٹریفک پولیس کا ایک اہلکار قریب آتا سخت لہجے میں بولا تھا۔جو شاید قریب ہی کسی چوکی پر تھا۔ ’’سر پلیز مجھے بچائیں۔۔یہ میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘عابثہ کی چادر روڈ پر گر چکی تھی۔جبکہ ٹریفک پولیس اہلکاراس لڑکی کا چہرہ دیکھ کمینگی سے مسکرایا تھا۔ ’’’دائم
