Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 25
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 06/10/2025
4 Views
Episode no 25
صبر والا پیدا کیا ہے۔۔ اِس دنیا کا کوئی ُدکھ،پریشانی،انسان سے زیادہ طاقتوار نہیں،تم اشرف المخلوقات ہو،اللہ نے انسان کو دنیا کا نائب بنایا ۔زمین کا خلیفہ بنایا۔انسان کو اس کائنات کی ہر شے پر فوقیت حاصل ہے۔تم کمزور نہیں ہو۔۔اپنی خودی کو پہچانوں ،دنیاوی سہاروں کے بجائے اس سے مدد مانگو جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔بے شک وہ اپنے بندوں کو اس کی بساط سے زیادہ نہیں آزماتا ہے۔‘‘وہ اس کے بالوں میں دھیرے سے ہاتھ پھیرتی بولتی چلی جارہی تھیں،اور وہ سکون محسوس کرتی نیند کی وادیوں میں ڈوپتی چلی گئی تھی۔۔کمرے میں پھیلا نیم آندھیرا ، مکمل تاریکی میں بدل رہا تھا۔۔اس کا دماغ پر سکون ہو چکا تھا۔۔اور ہر غم سے غافل ماں کی گود محسوس کرتی پر سکون ہوگئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیر افگن صبح سے گھر سے غائب تھا۔ حیات کو کل سے اپنی طبیعت میں بوجھل پن محسوس ہورہا تھا۔۔دل جیسے ہر شے سے اچاٹ سا ہوگیا تھا۔۔ وہ ٹھنڈی ہوا کھانے لان میں آگئی تھی۔ کیاری میں لگے پھولوں پر دھیرے سے ہاتھ پھیرتی وہ مسلسل سوچوں میں گم تھی۔۔ کل رات تلخ کلامی کے درمیان شیر افگن کے کہے لفظ وہ بھلائے نہیں بھول پائی تھی۔بقول افگن کہ،جس دن اس کی ماں اور گھر والے مل گئے وہ اُسے ان کے حوالے کر دے گا۔۔مطلب پچھلے ایک ماہ سے جتائی جانے والی محبت صرف ایک فریب و دھوکا تھا۔۔۔ اور افگن کا مسلسل ایک ہی بیان اب اسے بھی بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کر گیا تھا۔۔کیا واقعی وہ کسی غیر کہ ہاتھوں بیوقوف بنتی رہی تھی۔سائبر بُلنگ کا شکار رہی تھی۔کیا وہ سچ میں ایک وکٹم تھی۔۔جو انجانے میں ہی سہی مگر ایک عرصہ ہراسمنٹ کا شکار رہی تھی۔ اپنے ہی شوہر کے منہ سے خود کے لئے وکٹم کا لفظ سننا کسی تماچے سے کم نہیں تھا۔۔آگر وہ شخص افگن نہیں تھا تو پھر کون تھا جس نے اُسے اموشنلی ابیوز کیا تھا۔ اس کے سچے ،پاکیزہ جذبات کا مذاق بنایا تھا۔۔اسے کڈنیپ کیا تھا۔۔۔اس کی ہنستی ،بستی زندگی تباہ کردی تھی۔۔آخر وہ کون شخص تھا جس نے حیات کا سہارا لے کر شیر افگن کو نشانہ بنایا تھا؟مسلسل سوچوں میں گُم وہ خود کے قریب اُجالا کی موجودگی محسوس ہی نہ کر سکی تھی۔۔جو نگاہوں میں ترحم لئے بس اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ ’’حیات!‘‘وہ چونکی۔ ’’کیا ہوا؟یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہو؟‘‘حیات کے چہرے پر ناگوار تاثرات رنگ دکھانے لگے تھے۔ ’’میری مرضی!آپ ہوتی کون ہیں مجھ سے سوال کرنے والی؟‘‘وہ تلخ ہوئی تھی۔ ’’میں تو کوئی بھی نہیں ہوں۔۔یہ تمہارا گھر ہے۔۔تم جہاں چاہو کھڑی ہو سکتی ہو۔۔مگر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا جو شخص ایک ایسی لڑکی کو عزت و محبت کا وہ مقام دے سکتا جو اپنی شادی سے ایک دن قبل ایک رات نجانے کن اجنبی لوگوں کی تحویل میں باہرگزار کر آئی ہو۔۔۔وہ تمہارے ساتھ کبھی زیادتی نہیں کر سکتا۔۔‘‘ اُجالا تو بول کر جا چکی تھی۔۔جبکہ دھواں دھواں چہرے سمیت کھڑی حیات بس اُن لفظوں کی گہرائی میں غوطہ زن رہ گئی تھی۔۔۔ جس حقیقت سے وہ خود بھی کبھی نظر نہ ملا سکی تھی۔تو کیا شیر افگن نے اس راز کا پردہ سرے بازار چاک کردیا تھا۔۔کیا وہ اپنی بیوی کی عزت کا ذرا بھرم بھی نہ رکھ سکا تھا؟کیا وہ اتنا بے اعتبار تھا اُس کی ذات کو لے کر۔۔۔۔‘‘نجانے کب تواتر سے بہتے آنسو گالوں پر پھسلتے چلے گئے تھے۔۔اور وہ بھاگنے کے سے آنداز میں صدر دروازے کی جانب بڑھی تھی۔۔جہاں گارڈز کی ایک بھاری نفری تعینات تھی۔۔ ’’مجھے باہر جانا ہے۔‘‘وہ رندھے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’سوری میڈم!ہم آپ کو اکیلےباہر نہیں جانے دے سکتے۔‘‘وہ سرجھکائے مودب آنداز میں بولے تھے۔حیات کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ کھل گئی تھی۔ آج سے ٹھیک کچھ روز قبل یہ لوگ اس شخص کہ حکم پر اُسے اس گھر کی دہلیز پھلانگنے نہیں دے رہے تھے۔۔۔اور آج اس کے باہر جانے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔۔وہ مزید اسرار کے بجائے شکستہ قدموں واپس ولا میں لوٹ آئی تھی۔۔رُخ اپنے روم کی جانب تھا۔۔جہاں اس کا چھوٹا سا آشیانہ آباد تھا۔۔جہاں شیر افگن ہاشمی صرف اس کی ملکیت تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔
