Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 25
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 06/10/2025
4 Views
Episode no 25
انصاف نہ کروگے تو ایک ہی سے نکاح کرو۔۔۔۔‘‘(النساء:۳) "ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)۔"(النِّسَآء ، 4 : 3) ’’دادو میں نے اور اُجالا نے بھی یہ نکاح خوشی سے نہیں کیا ہے۔۔مگر فی الحال میں آپ کو تفصیل بتانے سے قاصر ہوں۔بس یوں سمجھ لیں کہ ہم دونوں مجبور تھے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔ ’’اُمید کریں گے کہ آپ دونوں ہماری تربیت پر حرف نہیں آنے دیں گے۔۔اور معاملے کو بہتر آنداز میں سُلجھا لیں گے۔اور ہاں حیات کو نرمی سے سمجھانا، سختی نہ برت نا۔۔یقیناً تمہارے اس عمل سے اسے رنج پہنچا ہوگا۔۔۔شدید تکلیف میں مبتلہ ہوگی کیونکہ ایک عورت کی غیرت کبھی یہ گوارہ نہیں کرتی کہ اس کی جگہ دوسری کو دی جائے۔‘‘وہ شرمندگی سے نگاہیں چُرا گیا تھا۔ ’’خیر ارتضی اسٹڈی روم میں موجود ہے۔۔تم وہیں چلے جاؤ۔‘‘‘دادی کے شکنجے سے آزاد ہونے پر اس نے سُکھ بھرا سانس فضا کے سپرد کیا تھا۔۔۔اور سیدھا اسٹڈی روم کی جانب بڑھا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آئیے آئیے تشریف لائیے صاحب بہادر!‘‘ ارتضیٰ اسے دیکھ ذرا طنزیہ لہجے میں بولا تھا۔۔اس کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔ ’’ہاں بھائی تم بھی دو چار گالیاں دو مجھ معصوم کو۔‘‘وہ آرام دہ آنداز میں سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔ ’’ہاں تو بیٹا حرکتیں تو تمہاری گالیاں کھانے والی ہی ہیں۔‘‘اُس نے فائل بند کرتے گھورا۔ ’’ویسے ایک بات بتا۔۔کل سے تیرے پاس دو بیویاں موجود ہیں۔لیکن تو بھاگ بھاگ کر میرے پاس آجاتا ہے۔۔خیر تو ہیں ناں۔۔کہیں دو کو آزما کر تیزے جذبات تو نہیں بدلنے لگے۔‘‘ وہ شریر لہجے میں مسکرا ہٹ ضبط کئے بولا تھا۔ ’’تیری تومیں۔۔۔منہ بند کرلے ارتضیٰ،ورنہ آج شہید ہوجائے گا میرے ہاتھوں سے۔‘‘اُس نے مارنے کے لئے کوئی چیز تلاشنا چاہی تھی۔اُس کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ ’’اچھا چل بتا کہیں بھابھی صاحبہ نے گھر سے تو نہیں نکال دیا۔‘‘وہ شرارتی لہجے میں بولا تھا۔ ’’ارتضیٰ میرا دماغ ویسے ہی بہت گرم ہورہا ہے۔۔ایسا نہ ہو،میں سب گھر والوں کا غصہٰ تجھ پر اُتار دوں۔‘‘اس نے وارن کیا تھا۔ ’’اچھا بھائی اب بول بھی دے۔۔۔بار بار کیوں نازل ہوجاتا ہے۔کسی ملک الموت کی طرح!‘‘وہ دوبارہ فائل کھول کر ریڈنگ میں مصروف ہوگیا تھا۔ ’’ہونہہ!دوسری شادی نہ کرلی، گناہ کبیر کر لیا ہو ۔جس خاتون کو دیکھو وہ مجھے دنیا کا ظالم ترین مرد ثابت کرنے پر تُلی ہوئی ہیں۔اور کچھ خواتین تو حیات سے اس طرح اظہارِ افسوس کر رہی ہیں۔گویا میں جہاںِ فانی سے کوچ کر گیا ہوں۔‘‘وہ منہ بنا کر بولا تو ارتضیٰ نے مسکراہٹ ضبط کی تھی۔ ’’برو آپ کو دیکھ کر میرا دل بار بار سجدہ شکر کرنے کا چاہ رہا ہے کہ تھینک گاڈ میں کنوارہ ہوں۔۔‘‘وہ بلند بانگ قہقہہ لگاتا اسے تپانا نہیں بھولا تھا۔ ’’لگتا ہے تم نے وہ گانا نہیں سنُا ہے۔شادی کا لڈو موتی چورکا جوکھائے پچھتائے ،جو نہ کھائے پچھتائے۔‘‘شیر افگن باقاعدہ لے میں گنگنایا تھا۔ ’’خیر اُجالا کیسی ہے؟‘‘وہ ا ب سنجیدگی سے بولا تھا۔ ’’بھابھی بول بھابھی!‘‘شیر افگن کی شرارتی رگ پھڑک گئی تھی۔ ’’بلاوجہ ضائع ہوجائے گا تو مجھ سے یار!‘‘وہ زچ ہوا۔ ’’خیر!میری ایک سے دو دن میں چائنہ کی فلائٹ ہے۔۔پچھلی بار بھی حیات کی وجہ سے میں جلدی میں نکل آیا تھا۔۔۔اس بار سارے کام نبٹا کرہی واپس آسکونگا۔۔اور ممکن ہے کہ میں وہیں سے کوریانکل جاؤں۔۔۔مگر اب مجھے سمجھ نہہیں آرہا کہ اُجالا اور حیات کو کیسے سمجھاؤں۔۔اور حیات آگر اس بیوقوف نے میرے پیچھے میں کوئی انتہائی قدم اُٹھا لیا تو پھر میں کبھی خود کا معاف نہیں کر سکونگا۔‘‘ کافی دیر سے پریشان وہ اپنا مسلہ بیان کر گیا تھا۔ ’’تو پھر تو بھابی کو ساتھ لے جا ناں!ہنی مون بھی ہوجائے گا۔‘‘ارتضی کے مشورے پر شیر نے اِسے گھور کر دیکھا تھا۔ ’’ یہاں وہ میری شکل تک دیکھنے کی روادار نہیں!اور تم ہنی مون کی بات کر رہے ہو۔‘‘وہ ناراض ہوا۔ ’’ہمم ! تو پھر اُجالا کو ساتھ لے جا۔‘‘اسے پھر مسخری سوجھ گئی تھی۔ ’’یار !نہ کر۔۔۔ابھی میرے سر پر بہت ساری زمہ داریاں ،اور عزیز ہستیوں کے راز بوجھ بن گئے ہیں۔کاش میں تجھے بتا سکتا۔‘‘وہ یکدم رنجیدہ ہوا تھا۔ ’’شیر آگر کوئی بہت سریس مسٔلہ ہے تو،تو مجھے بتا سکتا ہے۔۔مانا کہ یہ تیرا بہت پرسنل میٹر ہےمگر پھر بھی تو بھول رہا ہے ہم بچپن کے دوست ہیں۔‘‘اس نے دلیل پیش کی۔ ’’یہ مسٔلہ اُجالا اور حیات کا نہیں ہے۔۔میرا ذاتی ہے۔اور انتہائی ذاتی نوعیت کا ہے، میں فی الحال تجھے نہیں بتا سکتا۔‘‘اُس نے ناسمجھی سے افگن کو دیکھا۔ ’’خیر مرضی ہے تیری۔اب کیا کرے گا؟‘‘وہ سوالیہ گویا ہوا تھا۔ ’’میرا جانا تو کنفرم ہے۔۔سو میں تو مزید نہیں رُک سکتا۔‘‘وہ پرسوچ تھا۔ ’’تو پھر ہیلمٹ پہن کر گھر جانا اب!‘‘نفی میں سر ہلاتا وہ دھیرے سے مسکرایا تھا۔ ’’میں نکلتا ہوں!میری بس ایک ریکوسٹ کہ میری غیر موجودگی میں ُ اجالا کا خاص خیال رکھنا۔۔‘‘وہ شدید اُلجھن میں متبلہ تھا۔۔ارتضیٰ نے بغور اس کا آنداز دیکھا تھا ،جو کل تک حیات کے لیے دیوانہ ہوا گھوم رہا تھا اور اب اُجالا کے لئے فکرمند تھا۔ ’’ایک بات پوچھوں؟‘‘وہ سوالیہ بولا۔ ’’تمہیں کب سے اجازت کی ضرور پڑ گئی؟‘‘وہ آئیبرو اُٹھا کر بولا تھا۔ ’’کیا تونے واقعی میں اُجالاسے محبت کی شادی کی ہے؟‘‘ذہن میں کلبلاتا سوال بلآخر زبان پہ آہی گیا تھا۔ ’’میں پہلے کونسی اس سے نفرت کرتا تھا؟‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا تھا۔ ’’اول روز سے جانتا ہوں کہ تو اُجالا کو لائک کرتا تھا اور وہ مجھے۔۔۔اور صرف اِس وجہ سے تو نےاپنے قدم واپس پیچھے لے لئے تھے۔‘‘ ارتضیٰ نے افسوس سے اس کی جانب دیکھا تھا۔ ’’یہ ساری پہلے کی باتیں ہیں۔اب میری محبت میری بیوی ہے۔‘‘وہ صاف گوئی سے بولا۔ ’’اور اُجالا؟‘‘وہ خاموش ہو گیا تھا۔ ’’آگر محبت تیری بیوی ہے تو تم دونوں کے درمیان میں ُاجالا کیوں ہے؟‘‘ارتضیٰ نے اچنبے سے سوال کیا۔ ’’پلیز یار!میں پہلے ہی بہت اُلجھا ہوا ہوں تو مزید میرا دماغ نہ خراب کر۔‘‘وہ چڑ گیا تھا۔ ’’خیر سے جا۔اللہ حافظ!‘‘ وہ کام میں غرق ہوگیا تھا۔۔جبکہ وہ اپنے قدموں پہ واپس لوٹ آیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک نیا دن،اور نیا آغاز اور ہر نئے آغاز کے باب میں چھپا ایک قدیمی راز،جس پر سے پردہ وقت کہ ساتھ کچھ نئے اور پُرانے کرداروں نے اُٹھانا تھا۔۔۔ عابثہ کل رونما ہوئے واقعہ کے بعد بالکل کمرے میں قید ہوگئی تھی۔اس نے بلا ضرورت کمرے سے باہر نکلنے سے اجتناب ہی برتا تھا۔ بیڈ پر چت لیٹی وہ چھت گھور رہی تھی۔۔آنکھوں سے آنسو بہ کر کنپٹیوں میں جذب ہوتے جارہے تھے۔قسمت نجانے کیوں آزمانے پر تلی ہوئی تھی۔۔وہ اِیسے دُہرائے پر آکھڑی ہوئی تھی،جہاں آگے کنواں تھا اور پیچھے کھائی۔۔بھری دنیا میں اپنا آپ تن تنہا اکیلا محسوس ہوا تھا۔ ’’عابثہ!‘‘نیم آندھیرے کمرے میں ایک خاموش آواز تھی۔وہ چونک گئی تھی۔ ’’ماما!‘‘وہ ہڑبڑا کر چونک کر اُٹھی تھی۔ ’’میری جان اتنی پریشان کیوں ہے؟‘‘وہ اس کے سر ہانے آبیٹھی تھیں۔۔عابثہ بے یقینی کی سی کیفیت میں اپنی ماں سے لگ کر بیٹھ گئی تھی۔ ’’مما مجھے اپنے پاس بلا لیں! مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔یہاں سب بہت بُرے ہیں۔۔اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔‘‘ ان کی گود میں چہرہ چھپاتی وہ پھپھک پھپھک کر رو پڑی تھی۔ ’’میری جان آزمائش جتنی ہی کٹھن ،اور طاقت وار کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔۔انسان کی خدادادِ صلاحیتوں کے سامنے چینٹی سے زیادہ نہیں۔انسان کو اللہ نے بہت مضبوط اعصاب کا مالک اور
