Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 25
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 06/10/2025
4 Views
Episode no 25
#دھوپ_چھاؤں_کا__سا_ہرجائی از ہماقریشی قسط نمبر ۲۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "زرین ہمیں سچ میں تمہاری بہو حیات کے لئے بڑا افسوس ہوا ہے۔"مسز ناصر کی پھلجڑی دوستیں ایک بار پھر اپنی بے عزتی، سوری عزت کروانے ہاشمی ولا تشریف آور ہوچکی تھیں۔۔۔۔ "سچ پوچھوں تو مجھے تو شیرافگن پر شدید حیرت ہورہی ہے۔اس دن کیسے اپنی بیوی کی محبّت کے گُن گارہا تھا۔۔ہمیں سبق پڑھا رہا تھا۔۔اور اب لاڈلی بیوی کے ساتھ ایسی زیادتی۔افف۔میرا تو کلیجہ منہ کو آگیا۔۔"ان میں سے ایک نے لٹ سنوارتے دل کے چھالے پھوڑے۔۔۔۔ "همم!مگر خیر تم یہ سب چھوڑو میں تمھیں اپنی بہو سے ملواتی ہوں۔۔۔یہ دونوں تو کافی سالوں سے ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔۔وہ مڈل کلاس لڑکی بیچ میں نہ ہوتی تو اس وقت صرف اُجالا میری بہو کے رتبے پر فائز ہوتی۔"وہ ادائے بےنیازی سے نخوت بھرے لہجے میں گویا ہوئیں۔اتنی دیر میں اُجالا بھی وہاں آگئی تھی۔جسے ملازمہ بلوانے گئی تھی۔۔اور ساتھ ہی شیرافگن اور حیات نے بھی وہاں اچانک انٹری ماری تھی۔۔۔۔ "ہیلو بیوٹی فل لیڈیز !آپ لوگ یہاں کیسے ؟؟"وہ ذرا طنزیہ لہجے میں مسکرا کر استفساریہ بولا۔وہ کھسیا کررہ گئیں۔ "یس ڈارلنگ !ہم تو بس تمہاری دوسری سرپرائز شادی کی مبارک دینے چلے آئے تھے۔۔"وہ مزے سے گویا ہوئی تھی۔۔۔ "اوہ مینز!میرا اتنا خرچہ فضول گیا۔اس مبارک کے لئے ولیمے کا کھانا کافی نہیں تھا؟"وہ آئی بروز اٹُھا کر استہزائیہ مسکرایا۔اجُالا اور حیات دونوں ہی خاموش تھیں۔جبکہ وہ پرسکون سا بیٹھا تھا۔ "ہاہاہا!!ہی از سو فنی ناں۔ " "ویل افگن تم نے اپنی فرسٹ وائف کے ساتھ بالکل اچھا نہیں کیا۔"حیات کے زرد چہرہ کارنگ مزید پھیکا پڑگیا تھا۔ "اچھا!مگر حیات کو تو کچھ بُرا نہیں لگا۔"وہ تینوں ہونق ہوئیں۔ "کیوں حیات کیا تمھیں میری دوسری شادی سے کوئی اعتراض ہے ؟"وہ باقاعدہ روبرو مخاطب تھا۔حیات کو شدید تپ چڑھی تھی مگر برداشت کرگئی۔۔ "نہیں مجھے آپ کی دوسری شادی سے کوئی اعترض نہیں ہے!!آپ دو کیا چار شادیاں بھی کر سکتے ہیں افگن۔آپ کو میری طرف سے پوری اجازت ہے۔ "اس نے دانت کچکچا کر جواب دیا تھا۔شیرافگن کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے۔ "ہاؤ سویٹ میری جان! لو یو وری مچ۔۔"وہ جس قدر بےباکی سے اظہار محبّت کرگیا تھا حیات کے گال دہک اُٹھے تھے۔ "خیر آپ لوگ آئی ہیں تو پلیز !ڈنر لازمی کیجئے گا۔بٹ ہمیں اجازت دیں۔اجُالا ڈارلنگ تم فی الحال اپنے روم میں جاؤ۔میں آج سارا دن اپنی پہلی بیوی کے ساتھ ہوں۔"وہ شرارت سے آنکھ کا کونا دباتا حیات کا سُرخ چہرہ دیکھ رہا تھا۔جس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ سچ میں اُس کا سر کھول ڈالتی۔ "شیور!اکسکیوز می گائز !"وہ نرمی سے مسکراتی ہوئی وہاں سے نکل گئی تھی۔حیات کو کندھوں سے تھام کر روم کی جانب موڑتا وہ خود باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چند ساعتوں کے توقف سے وہ مگن سے انداز میں روم میں داخل ہوا تو بیڈ پر نيم دراز حیات کو خود کو گھورتا پایا تھا۔جو غصّے میں بھری خاموش بیٹھی تھی۔ ’’یار پلیز اب بس کردو۔۔کل سے لیکر اب تک تم سب نے مل کر مجھے پاگل بنایا ہوا ہے۔‘‘خود پر جمعی کینہ توز نگاہیں محسوس کر وہ بل آخرزچ ہوگیا تھا۔حیات بڑبڑآتی ہوئی رُخ پھیر گئی۔ ’’اچھا اُٹھو جلدی سے اچھا سا تیار ہوجاؤ۔ لانگ ڈرائیو پر چلتے ہیں ۔پھر اچھا سا ڈنر باہر ہی کریں گے۔‘‘ان دونوں کےمابین بڑھتا تناؤ کم کرنے کی ایک نکام سی کوشش کی گئی تھی۔۔ ’’اس مہربانی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔آپ کی فضول حرکتوں کی وجہ سے ساری رات سوہی نہیں سکی ہوں میں ۔۔اب آرام کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ سپاٹ آنداز میں پیشکش رد کرتی وہ کمبل منہ تک تان کر گویا اپنی ناراضگی کا اعلان کر چکی تھی۔وہ کندھے اُچکا کر رہ گیا۔۔ ’’تمہاری مرضی ہے خیر پھر میں ارتضی ٰ سے ملنے جارہا ہوں۔اور ہاں کل مجھے ہر حال میں آفس جانا ہے تو پلیز۔۔میرا ڈریس و غیرہ لازمی دیکھ لینا۔‘‘وہ بلنک کرتی اسکرین دیکھ مصروف مگر زرا عجلت بھرے لہجے میں بولتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔پیچھے وہ دل مسوس کر رہ گئی تھی۔۔مگر فی الحال اُسے شدید نیند کا غالبہ طاری تھا۔۔۔طبیعت میں بوجھل پن تھا۔دماغ الگ چکرارہا تھا۔۔مگر یہ سب شاید نیند نہ پوری ہونے کی وجہ سے ہورہا تھا۔۔۔ "ہونہہ!!"اُجالا تم یہاں مہمان تھوڑی ہو۔۔میں تو جیسے پاگل ہوں ناں۔"دل ہی دل میں اُجالا کو صلاواتیں سنُاتی وہ آنکھیں موند گئی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’السلام علیکم دادو کیا حال ہیں؟‘‘وہ عباس پیلس میں داخل ہوا تو سیدھا ٹکراؤ دادی صاحبہ سے ہوگیا تھا۔۔ جو شاید اس کی آمد سے باخبر اس کی کلاس لینے کے ارادے سے منتظر بیٹھی تھیں۔۔۔ ’’وعلیکم السلام!میاں ذرا اِدھر آؤ۔۔۔‘‘وہ اسے دیکھ کڑے تیوروں سے بولی تھیں۔۔۔ ’’جی دادو۔‘‘وہ مسکرا کر ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ ’’یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے ،تم نے اور اُجالا نے۔۔تمہیں زرا شرم نہ آئی بھری محفل میں اس بچی کی بے عزتی کرتے۔‘‘ انہونے فوراً اڑے ہاتھوں لیا تھا۔ ’’ دادی یار نکاح تو کیا ہے۔۔کوئی گناہ نہیں۔‘‘اس نے اپنا وہی راگ الاپا تھا۔ ’’بکواس بند کرو۔۔آگر جمعہ جمعہ چار دن ہوئی شادی سے اتنی جلدی ہی دل بھر گیا تھا تمہارا تو ،تو ذرا صبر کرتے،گھر والوں کو اعتماد میں لیتے پھر کوئی انتہائی قدم اُٹھاتے، مجھے تو اُجالا پہ حیرت ہورہی ہے۔۔آخر وہ کیسے کسی کی بچی کا گھر خراب کر سکتی ہے۔‘‘اُن کی حیرت بجا تھی۔ ’’دادی اب اس میں گھر خراب کرنے والی کونسی بات ہوگئی۔۔اسلام میں تو چار کا حکم ہے۔‘‘ اس نے منہ بنایا تھا۔ ’’چارکا حکم ضرور ہے۔مگر وہ کچھ وجوہات کی وجہ سے دیا گیاہے۔۔ایک بیوی کی موجودگی میں پہلی کے کیا حقوق ہیں؟؟کچھ علم ہے؟؟نہیں ناں۔۔بس یہ تم نوجوان نسل نے اچھا سیکھ لیا ہے کہ چار کا حکم ہے۔۔۔اپنے گھر کی کھیتی بنا لیا ہے مذہب کو۔جب چاہا عمل کرلیا،جب دل چاہا اپنی مرضی کا فتوی جاری کردیا۔۔‘‘وہ سیخ پا ہوئیں۔ ’’دادو میں نے حیات کے ساتھ تو کوئی زیادتی نہیں کی ہے۔۔ میں آج بھی اس سے بے پناہ محبت کرتا ہوں۔اُجالا کو بس مجبوری کے تحت نکاح میں لیا ہے۔‘‘ وہ سر جھکا گیا تھا۔ ’’آپﷺنے اپنی زندگی میں تیرہ نکاح کئے تھے۔۔مگر پسندیدہ اور کنواری محبوب زوجہ حضرت عائشہ رضی اللّه تعالی عنہ تھیں۔۔باقی تمام ازواج مطہرات وہ تھیں جنہیں آپ نے سہارا فراہم کرنے کے لئے شادیاں کی تھیں،متعلقہ اور بیوہ۔۔ خاص کر یہ عمل اُمت کو سیکھانے کے لئے تھا۔ ۔۔۔۔۔مرد کو چار شادیوں کا حکم اس لئے دیا گیا ہے،تاکہ دنیا میں بےحیائی عام نہ ہو۔۔کیونکہ ہر دور میں عورتوں کی تعداد مرد سے زیادہ رہی ہے۔ ایسے میں معاشرے میں برائی نہ پھیلے،زنا عام نہ ہو،کوئی کسی عورت کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹُھائیے۔جنگوں کے دوران کتنی ہی عورتیں بیوہ ہوجاتی تھیں،اس لئے حکم دیا گیا،یتیم،بیوہ،متعلقہ ایسی عورتوں کو نکاح میں لے کر اُن کے محافظ بن جاؤ۔۔۔ یہ اسلام کی خوبصورتی ہے۔۔یہ نہیں کہا کہ ایک کے ولیمے میں منہ اُٹھا کر دوسری کو لئے چلے آؤ۔اور وہ بھی بغیر کسی وجہ کے۔اور یہاں بھی سخت حکم ہے۔۔کہ آگر دو کے ساتھ توازن برقرار نہیں رکھ سکتے،عدل و انصاف نہیں کرسکتے،دونوں کو برابری کے حقوق نہیں دے سکتے تو ایک ہی کے ساتھ نبھا کرو۔‘‘شیر افگن نے کھسیا کر کان کھجایا ۔۔۔ ’’اگر تمہیں ڈر ہے کہ تم یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کرسکوگے تو جودوسری عورتیں تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرلو۔دودوتین تین اور چار چار تک۔ لیکن اگر تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ ان کے ساتھ
