Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 22
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/10/2025
3 Views
Episode no 22
تھی۔ ’’کیوں بی بی کیا کرلو گی ورنہ ہاں۔۔اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ماں ،باپ سے اس لہجے میں بات کرنے کی؟اس بار رعب جماتا شاہ ویز بھی میدان میں کود پڑا تھا۔۔ معاملہ گرم تھا چوٹ مارنے کا یہی درست وقت تھا۔ ’’اپنی اوقات میں رہ کر بات کرو۔۔یہ نہ سمجھنا کہ عابثہ اسماعیل تمہاری گیدڑ بھگتیوں سے ڈر جائے گی۔۔اینٹ سے اینٹ بجا ڈالونگی میں تمہاری۔‘‘ روبرو کھڑے شاہ ویز کی آنکھوں میں اپنی سخت نظریں گاڑتی وہ مضبوط لہجے میں بولی تھی۔ ’’اماں جان!دیدہ دلیری دیکھ رہی ہیں آپ اس لڑکی کی۔۔ہو ناہو یقیناً کسی لڑکے کا چکر ہے۔ جس کی شہہ پر یہ ہمارے منہ کو آرہی ہے۔‘‘وہ مزید گویا ہوئیں تھیں۔وہ طنزیہ مسکرائی تھی۔ ’’ میری زندگی میں آج تک کسی بھی رشتے میں کوئی ایسا مرد کا بچہ شامل نہیں ہوا جس کی بل پر میں اپنا مقدمہ لڑ سکوں۔۔ قسمت کا چکر ہے کہ جو ملا بزدل نکما مرد ہی ملا۔جو ظلم کے خلاف آواز اُٹھانا تو دور آنکھ اٹُھا کر حقیقت سے آنکھ ملانے کی جراّت بھی نہیں رکھتا۔۔اس لئے میرے لئے بدذات میں خود عابثہ اسماعیل ہی کافی ہوں۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرائی تھی۔جبکہ دونوں ماموں نے خفت کے باعث نگاہیں چرائی تھیں۔ ’’ دادی نکاح خواں کو بلوائیں۔۔ابھی نکاح ہوگا۔۔پھر اس پھڑ پھڑاتی چڑیا کہ پر کترنا تو میں اچھے سے جانتا ہوں۔۔‘‘وہ بلاوجہ چوڑا ہورہا تھا۔۔ ’’ اور تمہارے جیسے بزدل انسان کی بینڈ بجانا بھی عابثہ اسماعیل اچھے سے جانتی ہے۔‘‘ وہ دو بدو سارے لحاظ بالائے طاق رکھتی طنزیہ آنداز میں پھنکاری تھی۔ ’’تمہاری تو میں۔۔‘‘اسے اشتعال آیا تھا۔۔ ’’شاہ ویز بس!‘‘ دادی بیگم نے تنبیہ ضروری سمجھی تو وہ لب بھینچ گیا۔ ’’لڑکی نکاح تو تمہارا ہوگا۔۔ضرور ہوگا۔۔آج کی تاریخ میں ہوگا۔۔ اور ابھی ہوگا۔۔۔وہ بھی شاہ ویز کے ساتھ۔‘‘ وہ جو رُخ پلٹ کر جانے لگی تھی فردوس بیگم کی سخت آواز پر بے یقینی کی سی کیفیت سے دوچار جھٹکے سے پلٹی تھی۔ ’’آپ زیادتی کر رہی ہیں میرے ساتھ۔‘‘عابثہ کو پہلی بار اپنی بے بسی پر رونا آیا تھا۔۔ایک نگاہ چاروں اور گھمائی تو بھری دنیا میں اپنا آپ اکیلا سا محسوس ہوا تھا۔ ’’ بی بی شکر مانو کہ عزت کے ساتھ رخصت کر رہے ہیں۔۔ورنہ کون منہ لگاتا ہے تمہاری جیسی یتیم لاوارث کو۔‘‘وہ مزید درشتگی سے بولی تھیں۔ ’’ یتیم لاوراث نہیں ہوں میں۔۔جس دن میرے وارث آگے نہ اس دن منہ دیکھتی رہ جائیں گی آپ۔‘‘عابثہ کے لہجے میں ایسا کچھ ضرور تھا جو انہیں ٹھٹھکنے پر مجبور کر گیا۔۔ ’’عدیل قاضی کو بلا کر لاؤ فوراً۔۔۔ہمیں اس لڑکی کہ چال چلن ٹھیک نہیں لگتے۔۔‘‘انہیں کسی انہونی کا خدشہ سا لاحق ہواتھا۔۔ ’’میں یہ نکاح نہیں کرونگی۔۔کسی قیمت پر نہیں کرونگی۔۔۔خود کو مار لونگی یا پھر اس شخص کو جان سے ماردونگی ۔۔‘‘وہ چیخ چلا رہی تھی ،مگر اس کی چیخ و پکار سننے والا وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’حیات۔۔۔۔۔‘‘پسینے سے شرابور کپکپاتے لہجے میں حیات کو پکُارتا وہ ہڑبڑا کر ُاُٹھ بیٹھا تھا۔چاروں جانب نگِاہ گھمائی تو وہ کمرے سے غائب تھی۔۔دل کسی انہونی کے تحت عجیب ہی لے میں بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔پاؤں میں سلیپر ڈالتا وہ حواس باختہ سا باہر کی جانب بھاگا تھا۔۔ ’’حیات۔۔۔ ’’حیات ۔۔۔۔کہاں ہو تمْ۔۔۔۔‘‘باآواز حیات کی صدائیں لگاتا وہ ہاشمی ولا میں موجود تمام مکینوں کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر گیا۔۔ ’’کیا ہوا ہے افگن؟صبح صبح کیوں چلا رہے ہو؟‘‘ مسز ناصر کی آواز نظر آنداز کرتا وہ متلاشی نگاہوں سے اِرد گرد میں صرف حیات کو تلاش کر رہا تھا۔۔جو نجانے کہاں چھپی بیٹھی تھی۔۔اور یہاں اس کا دل خوف کے مارے سُکڑا جارہا تھا۔۔ ’’حیات۔۔۔۔کہاں ہو۔کہاں مر گئے ہیں سارے۔۔‘‘اس بار وہ بہت شدت سے چنگھاڑا تھا۔۔ گیسٹ روم میں موجود اُجالا بھی حواس باختہ سی باہر آئی تھی۔۔۔ تمام تر ملازمین تیزی سے اپنا کام دھرا کا دھرا چھوڑ چھاڑ کر ہال میں جمع ہوگئے تھے۔۔ ’’وہ صاحب جی۔۔ہم نے صبح صبح میڈم صاحب کو باہر جاتے دیکھا تھا۔۔‘‘ملازمین میں سے ایک شیر افگن ہاشمی کا اینگری موڈ آن دیکھ ڈرتے ڈرتے لہجے میں بولا تھا۔اُس نے طیش کے باعث جبڑے بھینچ لئے تھے۔۔۔ ’’میڈم کو باہر جاتےدیکھا تو مجھے انفارم کیوں نہیں کیا؟‘‘ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مقابل کی گردن ہی مڑوڑ ڈالتا۔ ’’شیر افگن ہاشمی کیا ہوا؟‘‘ناصر صاحب کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم ٹھٹھک کر ٹھر گئے تھے۔ ’’وہ دراصل ۔۔۔اس نے ابھی لب کھولے ہی تھے کہ مسز ناصر کی آواز پر وہ خاموش رہ گیا۔ ’’ان کی پہلی بیوی اپنے کمرے سے غائب ہیں۔۔اب نجانے کہاں چلی گئی ہے یہ لڑکی۔‘‘وہ ذرا نخوت سے ناگوار لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔ ’’ ایسے کیسے چلی گئی۔۔الوّ کے پٹھے بچی گھر سے غائب ہے تو تم ابھی تک یہاں کیا کر رہے ہو۔۔جاکر ڈھونڈو اُسے۔‘‘ناصر صاحب کو پہلے ہی اس پر اچھی خاصی تپ چڑھی ہوئی تھی،نیز کے حیات کی گمشدگی انکے دماغ کا میٹر گھما گئی تھی۔۔ ’’بابا وہ کمرے سے غائب ہے۔۔اب مجھے کیا معلوم کہاں چلی گئی۔‘‘مٹھیاں بھینچتا وہ بامشکل ضبط کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ ’’تو تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔جاؤ اور جاکر ڈھونڈو اس بچی کو،برخوردار جب ایک بیوی کی موجودگی میں ولیمے والے دن منہ اُٹھا کر دوسری اُٹھا لاؤ گے تو پہلی والا کا تو یہی ریکشن ہونا ہے ناں۔‘‘وہ خائف سا نظریں چُرا گیا۔۔جبھی غیر ارادی سی نظر پلر کی آڑ میں کھڑی اُجالا پہ بھی گئی تھی جو خاموش تماشائی بنی ساری کروائی ملاحظہ کر رہی تھی۔۔۔ ’’اب جاؤ بھی۔۔‘‘اسے ساکت و جامد دیکھ وہ چنگھاڑے تو وہ گڑبڑا کر نائٹ سوٹ میں ہی ملبوس دروازہ کی جانب بھاگا تھا۔۔۔ ’’وہ ولا کے دو اسٹیپس پھلانگتا ابھی باہر نکلنے کے در پر ہی تھا کہ سامنے سے آتی حیات کو دیکھ وہ شدید طیش کے عالم میں اس کی جانب بڑھا تھا۔۔جو شیرافگن کو غصے سے اپنی جانب بڑھتا دیکھ ٹھر گئی تھی۔۔۔ ’’کہاں گئیں تھیں تم ہاں؟‘‘اس کا بازو سختی سے جکڑتا وہ ناگوار لہجے میں سوالیہ بولا تھا۔ ’’کیا پوچھ رہا ہوں میں۔۔کہاں گئیں تھیں حیات؟‘‘اس کی خاموشی پر وہ دانت بھینچ کر رہ گیا۔ ’’فکر نہیں کریں ،آپ کو چھوڑ کر نہیں بھاگی تھی۔۔دل گھبرا رہا تھا تو گارڈن میں چلی گئی تھی۔‘‘اپنا ہاتھ اس کی سخت گرفت سے آزاد کرواتی وہ اس سے کئی زیادہ سخت لہجے میں بولی تھی۔جبکہ اب وہ خاموشی سے اس کی پشت دیکھتا رہ گیا ۔۔جو ہاتھ آزاد کروا کر ایک قہر برساتی نگاہ سے نوازتی ولا کے آندرونی حصےٰ کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
