Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 22
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/10/2025
3 Views
Episode no 22
#دھوپ_چھاؤں__سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_۲۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُفق کے پار سے نکلتا سورج ہر سو اپنی ٹھنڈی کرنیں بکھیرتا زمین زادوں میں توانائی پھونکتا چلا جارہا تھا۔۔صبح کی نئی کرن کے پھیلتے ہی انسانوں میں اُمید کی ایک نئی کرن سی بیدار ہوئی تھی۔۔ ۔۔ایسے میں اپنے کمرے میں بیڈ پر نیم دراز عابثہ کی تمام تر رات آنکھوں میں کٹ گئی تھی۔۔۔ سیاہ رات چھٹ کر روشن صبح میں تبدیل ہوگئی تھی۔۔مگر اس کا ذہن تو کل رات پیش آنے والے سانحہ میں بُری طرح سے اُلجھ کر رہ گیا تھا۔۔حیات کی زندگی کی کایا پلٹ نے عابثہ کی شادی کو لے کر منفی سوچ پرحد درجہ منفی اور خطرناک اثرات مرتب کئے تھے۔۔۔وہ عجیب سی ذہنی کیفیت سے دوچار تھی۔۔کیا شادی کے بعد دو فریقین کے مابین صرف نام کی محبت کا وجود رہ جاتا ہے یا پھر واقعی یہ محبت عشق کی منزلیں بھی طے کرلیتی ہے؟یہ وہ مشکل سوال تھا جو وہ کئی بار خود سے کر چکی تھی۔۔ ’’جس طرح کی دیوانگی حیات کاظمیٰ کی آنکھوں سے شیرافگن ہاشمی کے لئے چھلکتی تھی ،آگر اس جنونیت کے باوجود کوئی شخص بے وفائی کر جائے تو کیا ایک نارمل انسان ان عشق و محبّت نامی بلاؤں پر اندھا اعتماد کر سکتاہے۔۔۔ ’’سر میں شدید قسم کا درد ہورہا تھا۔۔وہ اپنی سوچوں میں محو تھی جب ونڈو سے آتی سورج کی نرم گرم کرنوں نے اس کی سوچوں میں خلل پیدا کیا تھا۔۔وہ بے زاری سے رُخ پلٹ گئی۔۔ بستر پر کروٹیں بدلتے بے کلی کے چند لمحے مزید سرک گئے تھے۔۔جبھی کسی نے زور دار آنداز میں دروازہ پیٹ ڈالا تھا۔۔وہ کوفت سے آنکھیں میچتی خراماں خراماں قدم اُٹھاتی دروازہ کے نزدیک آئی تھی۔اور دروازہ ایک جھٹکے سے کھول دیا تھا۔۔۔ مقابل کھڑے شخص کا دروازہ پیٹنے کے لئے اُٹھایا گیا ہاتھ فضا میں ہی محلق رہ گیا تھا۔۔عابثہ کی نیند نہ پوری ہونے کے باعث رات بھر کی خمُاری سے بھاری ہوئی آنکھوں میں غصےٰ کی چنگاریاں واضح تھیں۔ ’’کیا ہے؟‘‘وہی پھاڑ کھاتا لہجا۔مینا نے ناگواری سے ناک بھنوئیں سمیٹیں تھیں۔۔ ’’ملکہ عالیہ آدھا دن چڑھ آیا ہے۔۔صبح کے گیارہ بج رہے ہیں۔۔آگر آپ کی صبح ہوگئی ہو تو زرا نیچے تشریف لے آئیں۔۔دادی بیگم آپ کی منتظر ہیں۔‘‘وہ لبوں پر خرافاتی مسکان سجائے طنزیہ لہجے میں بولتی عابثہ کا دماغ بھن کر چکی تھی۔ ’’ویسے صبح صبح اپنے حسین چہرہ کا دیدار کروانے کی کوئی خاص ضرورت تھی نہیں۔‘‘عابثہ نے بھی طنز کرنا ضروری سمجھا تھا۔۔ ’’مجھے بھی صبح صبح کالی بلی کا راستہ کاٹنا کچھ خاص پسند نہیں ہے۔‘‘ مقابل نے بھی تگڑی قسم کی جوابی کاروائی سے کام لیا تھا۔۔جو اسے بُری طرح سلُگا گیا۔۔ ’’ شکل گمُ کرو اپنی۔‘‘ وہ مزید بدتمیزی سے بولتی اُس کے منہ پر دروازہ بند کر چکی تھی۔۔جبکہ وہ تذلیل کے باعث ُسرخ ہوتا چہرہ لئے اس کی گوہر افشائیاں صرف یہ سوچ کر برداشت کر گئی کہ چند لمحوں بعد جو کچھ اُس کے ساتھ ہونے والا تھا وہ یقیناً عابثہ اسماعیل کی دنیا تہس نہس کرنے کے لئے کافی تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو سیڑھیاں پھلانگ کر بندروں کی طرح اپنے مخصوص لاؤبالی اسٹائل میں زینہ اُترتی وہ ہمیشہ کی طرح اپنے وجود سے لاپراوہ تھی۔۔جبکہ لیونگ روم میں کچہری سجائے بیٹھے فردوس منزل کے مکینوں نے اس کی آمد پر چہرے پر ناگواریت سجائے زرا نخوت سے اس کے سراپے کا جائزہ لیا تھا۔۔سانولی سی رنگت میں سرخیاں گھلی ہوئی تھیں۔ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس دوپٹے سے ندار سراپا لئے وہ شاہ ویز کی ہوس بھری نظروں کا ہی مرکز تھی۔۔۔ عام سے نین نقش والی عابثہ اسماعیل کا ہمیشہ سے فردوس منزل کے مکینوں پر بڑا بھاری حساب رہا تھا۔۔جس کی حاضر جوابی اور ذہانت کے باعث مامیاں تو ہمیشہ سے ہی اس کی ذات سے ُاکھڑی اُکھڑی سی رہتی تھیں۔۔مگر اس وقت اپنے لاڈلے کی فرمائش پر چھوٹی مامی بڑی مشکل سے اپنے تاثرات پر قابو کر پائی تھیں۔ ’’آپ نے مجھے بلوایا تھا؟‘‘ چہرے پر سنجیدگی سجائے وہ صوفے پر براجمان فردوس بیگم سے براہ راست مخاطب ہوئی تھی۔ ’’ہاں ہمیں تمہیں اپنا ایک اہم فیصلہ سُنانا تھا۔‘‘ وہ ناسمجھی سے فردوس منزل کے تمام مکینوں کے چہرے پر ایک کھوجتی نگاہ ڈالتی خاموش رہی تھی۔ ’’فیصلہ سُننے سے پہلے ایک بات یاد رکھنا۔۔۔کہ تمہارے پاس ہر گز بھی انکار کا حق محفوظ نہیں ہے۔۔‘‘ انہوں نے تنبیہ کرنا ضروری سمجھا تھا۔۔جبکہ اب اُس کے کان کھڑے ہوگئے تھے۔ ’’صاف صاف لفظوں میں کہیں۔۔آخر کہنا کیا چاہتی ہیں آپ؟‘‘ دونوں آئی بروز اکُھٹا کئے سختی سے بولتی وہ سوالیہ گویا ہوئی۔ ’’ٹھیک ہے تو صاف لفظوں میں بات کر لیتے ہیں۔‘‘وہ لحظہ بھر کو ٹھری تھیں۔ ’’جی میں سُن رہی ہوں۔‘‘سینے پر بازو لیپٹے بظاہر فردوس بیگم کی جانب متوجہ وہ شاہ ویز کی نظریں خود میں گڑتی محسو کر رہی تھی۔ ’’عابثہ اسماعیل ہم نے تمہارا نکاح شاہ ویز ہمدان کے ساتھ طے کردیا ہے۔اور ہاں نکاح آج ہی،ابھی اور اسی وقت ہوگا۔۔‘‘ فردوس بیگم کے لفظ تھے یا پھر دھماکا جو عابثہ اسماعیل کی ہستی تک ہلا گئے تھے۔۔ ’’کیا؟؟یہ کیا کہ رہی ہیں آپ؟آپ لوگ مجھ سے پوچھے بغیر ،میری اجازت کے بغیر ،میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کیسے لے سکتے ہیں؟آخر یہ حق کس نے دیا ہے آپ کو؟‘‘ طیش کے عالم میں وہ بھپری شیرنی کی مانند سوالیہ آنداز میں چنگھاڑ اُٹھی تھی۔ ’’لڑکی دھیرج رکھو۔۔ہر لڑی کو ایک نہ ایک دن بیاہ کر اپنے پیا دیس سُدھار کر جانا ہی ہوتا ہے۔۔اور آخر ہمارے فیصلے سے کیا تکلیف ہے تمہیں؟‘‘وہ سوالیہ آنداز میں نرمی سے گویا ہوئی تھیں۔۔ وہ استہزائیہ مسکرائی تھی۔۔ ’’یہ آپ کہ رہی ہیں؟آپ نہیں جانتیں کہ میں کیوں انکار کر رہی ہوں؟‘‘دانت کچکچا کر سوالیہ آنداز میں بولتی وہ مسلسل شاہ ویز کو گھور ری تھی۔ ’’لڑکی وجہ جو بھی ہو مگر جب اماں جان کہ رہی ہیں۔۔کہ انہوں نے تمہارا رشتہ شاہ ویز کے ساتھ طے کردیا ہے تو کیوں فضول کی بحث میں وقت ضائع کر رہی ہو؟‘‘عدیل صاحب نخوت بھرے لہجے میں ناگواری سے گویا ہوئے تھے۔ ’’آپ لوگ پلیز خاموش رہیں۔۔ویسے بھی میں فردوس بیگم سے مخاطب ہوں۔۔‘‘ وہ سُرخ انگارا ہوتی نگاہیں عدیل صاحب کی گھُورتی نگاہوں میں گاڑتی گستاخانہ لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’توبہ توبہ کچھ تو شرم کرو لڑکی۔۔۔اب یہ صرف تمہارے ماموں نہیں بلکہ ہونے والے سسُر بھی ہیں۔اللہ معاف کرے کیسی گز بھر کی زبان ہے اس چھٹانک بھر کی لڑکی کی۔‘‘بڑی مامی باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لگاتیں تاسفی لہجے میں بولیں تھیں۔۔جبکہ باقی سب ہمیشہ کی طرح خاموش تماشائی بنے تمسخر بھری نظروں سے عابثہ کو گھور رہے تھے۔۔ ’’میں یہ نکاح ہر گز نہیں کرونگی۔۔میری یہ بات یاد رکھیے گا آپ لوگ۔‘‘انگشت شہادت اُٹھا کر تحکمانہ لہجے میں شعلہ بار نگاہوں سے گھورتی وہ فردوس بیگم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ازلی دلیری سے گویا ہوئی تھی۔ ’’ دیکھ رہی ہیں اماں آپ۔۔۔اپنی اس سوتیلی نواسی کے چال چلن۔۔یہ نہیں کہ شکر بجالائے کہ میرا شہزادوں جیسا نگینہ بیٹا اس بد چلن کو اپنے نکاح میں لے رہا ہے۔۔جو راتوں کو ناجانے کن کن لوگوں سے ملاقاتیں کرتی پھرتی ہے۔۔اور بھی نجانے کتنے عاشق ہونگے اس لڑکی کے۔۔‘‘مامی کی بس ہوگئی تھی۔ ’’ میں لحاظ کر رہی ہوں آپ کا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ کے منہ میں جو آئے گا آپ لوگ بولتے چلیں جائیں گے اور میں خاموشی سے سنتی چلی جاؤنگی۔‘‘وہ درشت لہجے میں پھنکاری
