Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 21
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/10/2025
4 Views
Episode no 21
بغیر ہمیشہ مجھے کٹہرے میں لاکھڑا کرتی ہے۔‘‘ وہ شدید بدگمان ہورہاتھا۔۔۔ ’’خیر ُاجالا تو خود کو سنبھال لے گی تو حیات کے پاس جا۔۔۔‘‘وہ سمجھانے والے لہجے میں بولا۔۔ ’’مگر یار۔۔وہ مجھے غصہٰ دلا رہی ہے۔۔اس لئے اکیلے چھوڑ آیا ہوں۔۔۔‘‘ ’’غلطی تیری ہے۔۔مجھے تو سمجھ نہیں آرہا۔۔تو نے اور اُجالا نے یکایک اتنا بڑا فیصلہ لے کیسے لیا آخر۔۔‘‘اس نے حیرانگی کا اظہار کیا۔۔ ’’میں جلد تجھ سب کچھ بتاؤنگا۔۔مگر پہلے اُجالا کو اعتماد میں لے لوں۔‘‘وہ نظریں چُرا گیا تھا۔۔ارتضیٰ کی جانچتی نگاہوں نے بغور اس کے آنداز ملاحظہ کئے تھے۔۔ ’’خیر صبح ہونے میں کچھ ہی دیر باقی ہے ۔۔میں نکلتا ہوں۔‘‘ وہ کلائی پر بندھی قیمتی گھڑی میں وقت دیکھتا وہاں سے نکل آیا تھا۔جبکہ ارتضٰی کی سوالیہ نگاہوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنپٹیاں سہلاتا وہ تھکا ہارا سا گھر میں داخل ہوا تھا۔۔اور یہاں ایک الگ ہی امتحان اس کا منتظر تھا۔۔وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو متلاشی نگاہوں نے نیم تاریکی میں ڈوبے کمرے میں حیات کا وجود تلاش کرنا چاہا تھا۔ مگر نظریں خالی ہی واپس لوٹ آئی تھیں۔۔۔دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی تھی۔ زہن میں کوندتی سوچ کے تحت وہ ہونٹ بھینچ گیا تھا۔۔۔آگر حیات نے ایک بار پھر کوئی بیوقوفانہ حرکت سر انجام دی تھی ۔تو وہ سچ میں اس بار اسے نہیں بخشے گا۔۔ رُخ پلٹ کر کمرے سے نکلنے سے قبل اُس نے لائٹس آن کر کہ ایک تفصیلی جائزہ لینا چاہا تھا۔وہ قدم اٹھاتا واشروم کے پاس آیا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی تھی۔۔۔وہ اپنے پورے وجود سمیت فرش پر اٌوندھے منہ پڑی بے ہوش تھی۔۔وہ گھبرا کر اس کی جانب بڑھا۔۔۔ ’’حیات!کیا ہوا ہے تمہیں یار!‘‘ تیزی سے اسے اپنے حصار میں اُٹھا کر بیڈ پر لٹاتا وہ پریشان ہوگیا تھا۔۔ چہرے پر مٹے مٹے خشک آنسوؤں کے نشانات اور نم پلکیں اس کے دُکھ کی گواہ تھیں۔۔شیر افگن کو ایک بار پھر شرمندگی نے آن گھیرا تھا۔۔۔ ’’حیات!‘‘ پانی کے گلاس سے چلو میں پانی بھر کر چہرے چند چھینٹے مارتاوہ اضطرابی کی سی کیفیت سے دوچار تھا۔۔وہ اب آہستہ آہستہ ہوش میں آرہی تھی۔ ’’حیات !آنکھیں کھولو۔۔یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنی؟‘‘ اُس کا بکھراسا حُلیہ دیکھ تاسف نے آن گھیرا تھا۔ ’’افگن۔۔۔‘‘ خشک پڑتے ہونٹوں،اور ُمندی ُمندی سی پلکیں وا کرتی وہ دیوانی ابھی بھی اسے ہی پکار رہی تھی۔ ’’میں یہیں ہوں حیات!کہیں نہیں گیا۔۔‘‘اب اسے اپنے رویے پر افسوس ہورہاتھا۔۔ ’’افگن آپ یہیں ہیں ناں ۔۔میرے پاس۔۔۔۔اُجالا کے پاس مت جائیے گا پلیز۔۔‘‘وہ نیم غنودگی کی سی حالت میں اس کا ہاتھ سختی سے اپنے ہاتھوں میں جکڑتی خوفزدہ لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’یار میں کیوں جاؤنگا اُجالا کے پاس۔۔یہیں ہوں تمہارے پاس۔۔۔حیات اُٹھو پلیز۔۔‘‘اُس کے لبوں سے پانی کا گلاس لگاتا وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اُٹھا چکا تھا۔۔ جو دو گھونٹ بھرنے کے بعد اُس کے سینے میں چہرہ چھُپاتی سختی سے اس کی شرٹ جکڑ چکی تھی۔۔جیسے وہ ابھی اسے چھوڑ کر چلا جائے گا۔۔ ’’حیات!تم نے لنچ کیا تھا؟‘‘اب اسے یاد آیا کہ وہ دپہر میں بھی اس سے ناراض تھی۔۔ پتہ نہیں اس نے صبح سے کچھ کھایا بھی تھا یا نہیں۔۔مگر دوسری جانب وہ اس کے سینے سے لگی پُر سکون سی آنکھیں موند گئی تھی۔ ’’حیات۔۔۔کیوں پریشان کر رہی ہو یار۔۔اٹُھو حالت دیکھو اپنی۔۔۔تم نے ہمارے اتنے اچھے مومنٹس کا ستیاناس کردیا۔۔‘‘ نقاہت اور کمزوری کے باعث وہ جواب دینے سے قاصر تھی۔۔مگر سینے پر چٹکی کاٹ کر اسے اپنے غصے کا احساس دلایا تھا کہ یہ جو کچھ ہوا سب تمہاری غلطی تھی۔ ’’بیٹھو اب۔۔میں کچھ کھانے کے لئے لے کر آتا ہوں۔۔‘‘اس سے اپنی گرفت سے آزاد کرتا اس سے قبل ہی وہ کمزوری کے باجود سختی سےگھورتی شرٹ پکڑ کر اپنی جانب کھینچ چکی تھی۔ ’’اب کیا ہے؟‘‘وہ اس کے بچگانہ رویہ پر حیران ہوا۔۔ ’’مجھے بھوک نہیں ہے۔۔یہیں رہیں میرے پاس۔‘‘ وہ جس زہنی اذیت سے گزر رہی تھی کاش کہ افگن سمجھ پاتا۔ ’’تو میں کونسا تمہیں چھوڑ کر بھاگ رہا ہوں۔۔کچھ کھانے کے لئے لینے جارہا ہوں۔‘‘اس نے سمجھانا چاہا۔ ’’شیر افگن مجھے پتہ ہے آپ اپنی اس چڑیل بیوی کے پاس جارہے ہیں۔۔مجھے چھوڑ کر۔۔جیسے ابھی چلے گئے تھے۔۔‘‘ وہ یکدم بھل بھل آنسو بہاتی شیر کو ورطہ حیرت میں دھکیل چکی تھی۔۔۔یہ لڑکی صرف اس سے محبت ہی نہیں کرتی تھی بلکہ دیوانگی کی حد تک پاگل بھی تھی۔ ’’یا میرے خدا!حیات یار اُجالا کے پاس نہیں تھا۔۔بلکہ کام سے گیا تھا۔‘‘وہ منہ کھولے ہونق ہوا۔۔جو سُرخ ہوتی آنکھیں بیدردی سے رگڑ رہی تھی۔۔اس نے ہاتھ پکڑ کر رُوک دیا تھا۔ ’’ کام سے گیا تھا حیات۔۔تم کیوں فضول باتیں سوچ سوچ کر اپنا خون جلا رہی ہو۔۔‘‘ وہ بے چارگی بھرے لہجے میں بولتا اس کی آنکھیں چوگیا تھا۔۔جو شکوہ کناں نگاہوں سےاُسے گھورتی اس کے سینے میں چہرہ چھپا کر سسک اُٹھی تھی۔۔اور وہ بے بس سا اُس پر اپنا حصار قائم کرتا خاموش کرو اگیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت دیر بعد جاکر کچھ سنبھلی تھی۔۔وہ اب تک اسے یونہی اپنے حصار میں لئے بیٹھاخاموش کروا رہا تھا۔۔۔ ’’ آپ نے میرے ساتھ زیاددتی کی ہے۔۔‘‘ رندھی ہوئی آواز کے ساتھ ایک بارپھر شکوہ کیا گیا تھا۔ ’’میں مجبور تھا۔‘‘وہ سنجیدگی سے گویا تھا۔ ’’ہاں اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور تھے۔‘‘ وہ طنزیہ بولی تھی۔ ’’آگرواقعی یہ حقیقت ہوتی تو اُجالا آج میری دوسر ی نہیں بلکہ پہلی بیوی ہوتی۔‘‘ حیات یکدم خاموش ہوگئی تھی۔۔شیر افگن کے بے ساختہ ادا ہونے والے الفاظ تیر کی مانند دل میں جاکر پیوست ہوئے تھے۔۔ ’’کیا اُجالا مجھ سے زیادہ خوبصورت ہے؟‘‘ غم سے چور آواز میں کچھ تھا جو شیر افگن کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر گیا تھا۔ ’’تم ایسا کیوں سوچ رہی ہو۔‘‘ اس نے اُلٹا سوال داغا تھا۔ ’’آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔‘‘ ’’تمہارا سوال بالکل احمقانہ ہے۔‘‘ اس نے سر جھٹک دیا تھا۔ ’’آپ اُجالا کو ڈائیورس دے دیں۔‘‘شیر نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ ’’آپ اُجالا کو چھوڑ دیں افگن۔۔میں آپ کو اُجالا سے زیادہ پیار کرتی ہوں۔‘‘ وہ تیزی سے اُٹھ کر گھٹنوں کے بل بیٹھتی اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر جنونی لہجے میں بولی تھی،جبکہ وہ خاموش سا اس کی آنکھوں سے چھلکتی آس دیکھ رہا تھا۔ ’’حیات اُجالا میری بیوی ہے۔۔‘‘اس کے وہی ہاتھ تھام کر ان پر پیار کرتا وہ سمجھانے والے لہجے میں بولا تھا۔ ’’میں مر جاؤنگی شیر افگن ہاشمی۔۔مجھے شراکت داری برداشت نہیں ہے۔۔۔‘‘پلکوں کی باڑ توڑ کر رُخساروں پر پھسلتے آنسو دیکھ وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا۔۔ ’’حیات جذباتی مت بنو۔۔اُجالا میری بیوی ہے۔۔میں اس کے ساتھ یہ زیاتی نہیں کر سکتا۔‘‘‘ وہ اس کی سرخ مترنم نگاہوں سے خائف نظریں چرا گیا . ’’اور جو زیادتی میرے ساتھ ہوئی تھی۔۔اس کا کیا؟‘‘ حیات نے ضبط کی شدت سے اس کا گریبان جکڑ لیا تھا۔۔ ’’حیات یہ کیا پاگل پن ہے۔۔ہوش کرو۔‘‘و اس کو دونوں ہاتھوں سے تھامتا سختی سے بولا تھا۔۔جو نفی میں سر ہلاتی مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔۔ ’’میں آپ کو کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔شیر افگن ہاشمی۔۔۔کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔‘‘ اپنے ہاتھ اُس کی گرفت سے آزاد کرواتی سینے پر ہاتھ رکھ کر جھٹکے سے پیچھے کو دھکیل کر بیڈ کی دوسری سائیڈ رُخ پلٹ کر لیٹ گئی تھی۔ہولے ہولے لرزتا سرآپا اس کے غم کا گواہ تھا۔۔ ’’حیات!تمہیں ایک بات سمجھ کیوں نہیں
