Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 21
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/10/2025
4 Views
Episode no 21
#دھوپ_چھاؤں__سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_۲۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا آخری پہر چل رہا تھا۔شیرافگن کی تیزرفتار فورچنر کراچی کی بل کھاتی سڑکوں پر ہواؤں سے باتیں کرتی اپنی منزلِ مقصود کی جانب گامزن تھی۔اسٹیرنگ پر جمے ہاتھوں کی غصے ٰ سے پھولتی نیلی اور ہری نسیں واضح نظر آرہی تھیں۔۔جو اس کے شدید غصّے کو ماپنے کے لئے کافی تھیں۔۔ایسے میں دماغ میں باز گشت کرتے حیات کے تلخ لفظ شیر افگن کی پوری ہستی ہلاچکے تھے۔۔۔ جو اُس کی غلطی نہ ہونے کے باوجود ہمیشہ اسے ہی موردِ الزام ٹھراتی تھی۔۔اس نے کس قدر نازک صورت حال میں حیات کو اپنے نکاح میں لیا تھا۔۔آگر وہ اس رات اسے اپنے نکاح میں نہ لیتا تو کیا وہ آج یوں حق سے سر اُٹھا کر عزت کی زندگی گزار سکتی تھی ؟؟یقیناً نہیں۔۔۔یہ معاشرہ اور اس معاشرے کو لوگ اکیلی عورت کو پیروں تلے روند ڈالتے ہیں۔۔اسے ہر حال میں ایک محفوظ سائبان کی ضرورت تھی جو شیرافگن ہاشمی نے اسے فراہم کیا تھا۔۔۔جو بھی تھا مگر شیر افگن ہاشمی اس سارے قصّے میں بے قصور تھا۔۔اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی حیات کاظٰمی اس تلخ حقیقت سے نظریں چُرا گئی تھی۔ حتیٰ کہ اب وہ اس کے نکاح میں ہونے کے باوجود اپنی ذات کے لئے اس قدر سخت الفاظ استعمال کر گئی تھی۔۔کیا کوئی لڑکی اپنے شوہر کے لئے ایسے اس قدر سخت لفظوں چناؤ کیسے کر سکتی تھی۔۔۔اُسے اپنی اس قدر سنگین غلطی کا رَتی برابر بھی احساس نہیں تھا۔۔۔وہ جتنا سوچ رہا تھا اتنا ہی دماغ پھٹا جارہا تھا۔۔۔ہواؤں سے باتیں کرتی گاڑی ایک جھٹکے سے عباس پیلس کی بلند وبالا عمارت کے عین سامنے آکر ٹھری تھی۔گارڈز نے اتنی رات کو شیرافگن کی گاڑی دیکھ گھبرا کر صدر دروازہ کھول دیا تھا۔۔عباس پیلس کے پورچ میں گاڑی کھڑی کرتا وہ لب بھینچے سیدھا عباس پیلس میں انٹر ہوا تھا۔۔وہ سیڑھیاں پھلانگتا اُپر جانےکا اردہ ترک کرتا کسی خیال کے تحت بیک سائیڈ پر بنے جم کی جانب بڑھا تھا۔۔ممکن تھا کہ ارتضی وہیں موجود ہو۔۔۔۔ اس کا اندازہ بالکل دُرست ثابت ہوا تھا۔۔۔وہ جوان کا بچہ رات کے آخری حصّے میں گھر میں بنے اپنے پرائیویٹ جم میں پش آپس مارنے میں مصروف پسینے سے شرابور اپنی الگ ہی دھن میں تھا۔۔۔ماتھے سے بہتا پسینہ کنپٹیوں میں جذب ہورہا تھا۔۔آنکھیں سُرخ آنگارا ہورہی تھیں۔۔۔وہ شیرافگن کی موجودگی محسوس کرچکا تھا۔۔مگر اس کے باوجود لاتعلق بنا رہا تھا۔۔گویا اُسے کوئی فرق ہی نہ پڑتا ہو۔۔ "کیا بھائی کی غیرت جوش مار گئی ہے کہ شیرافگن ہاشمی نے اس کی بچپن کی منگ کو اپنے نکاح میں لے کر اپنی زوجہ کے رتبے پر فائز کردیا ہے ؟"وہ چہرے پر کرخت تاثر سجائے بوٹوں کی بھاری دھمک فرش پر چھوڑتا ذرا نزدیک آیا تھا۔۔جبکہ وہ لحظہ بھر کے لئے ٹھرا ضرور مگر پھر سر جھٹکتا اپنے سابقہ مشغلے میں مصروف ہوگیا تھا۔۔ "میں شاید کچھ بکواس کر رہا ہوں۔۔"دوسری جانب قائم ازلی سرد مہری دیکھ وہ چیخ اُٹھا تھا۔۔۔ "بکواس کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اپنی آواز اور بکواس دونوں آئیندہ وقت کے لئے سنبھال کر رکھیں۔۔عین ممکن ہے کہ یہ شیر جیسی چنگھاڑ کسی بزدل کی کھٹیا کھڑی کرنے میں کام آجائے۔۔۔"پھولتی سانسوں کے سنگ وہ مصروف سا ذرا استہزائیہ لہجے میں گویا ہوا۔۔ "بکواس مت کر میرے سامنے اور جواب دے میری باتوں کا۔"اس کے جسم پر موجود واحد سیاہ بنیان کا ایک آسٹیپ پکڑ کر کھینچتا وہ ذرا سختی سے بولا تھا۔۔ارتٰضی کی کشادہ پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔۔چہرے پر ناگواری سجائے وہ پیٹ کے بل زمین پر لیٹتا ٹھر گیا تھا۔۔ "آگر آپ کی شان میں گستاخی نہ ہو تو ذرا اُٹھنے کی زحمت فرمالیجئے گا۔۔ناچیز کی نسلوں پر عظیم احسان ہوگا بادشاہ سلامت کا۔۔"وہ دانت کچکچاکر بولتا ضبط کی آخری حدود پر تھا۔۔ "مسٔلہ کیا ہے؟؟آگر آپ بھول رہیں شیرافگن صاحب تو میں آپ کو یاد دلا دیتا ہوں،کہ آج کی تاریخ میں آپ کا ایک زوجہ محترمہ کے ساتھ وليمہ اور دوسری کہ ساتھ نکاح تھا۔ تو میرے نادر خیالات کے مطابق آپ کو اس وقت اپنی نئی نویلی یا پھر ماہ پُرانی عقل سے ڈھیلی زوجہ کے پہلو میں موجود ہونا چاہیے تھا۔۔مگر عشق کی انتہا قابِل تعریف ہے کہ شیرا فگن صاحب میری چاہتوں کے فراق میں ایک نہیں بلکہ دو،دو صنف نازک کو نظر آنداز کئے میری خدمت میں حاضری لگانے دوڑے چلے آئے ہیں۔۔۔"سائیڈ پر رکھا ٹاول اُٹھا کر گردن میں ڈالتا وہ طنزیہ آنداز میں بولتا ایک جمپ لگا کر اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔جبھی شیرافگن کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا تھا۔ اور اس نے آؤ دیکھا تھا نہ تاؤ اور مقابل کے چہرے پر ایک زبردست قسم کا مکا جڑدیا تھا۔۔اچانک ہونے والی افتاد ارتضی کے چودہ طبق روشن کرگئی تھی۔۔۔ "یہ کیا جہالت ہے۔۔۔"اپنی سُرخ پڑتی ناک پکڑتا وہ شدید طیش میں چلایا تھا۔۔جبکہ اب مقابل کے چہرے پر محظوظ کن مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔۔۔ "یہ بہت معمولی سا بدلہ ہے۔میری معصوم سی بیوی کا دل دکھانے کا۔"اب وہ کینہ توز نگاہوں سے گھورتا ایک پنچ بنا کر اُلٹا اس کے چہرے پر جڑ چکا تھا۔۔اب کراہنے کی باری افگن کی تھی۔۔ "اور یہ ایک بہت میٹھی سی سزا ہے میری کزن کو بھری محفل میں تماشہ بنانے کی۔۔"درد کرتی ناک پکڑے وہ مبہم انداز میں مسکرایا۔ "سچ بول کہ پہلے مجھے اُجالا سے شادی کے لئے اُکسانے والے اب تیرا دل جل رہا ہے۔"وہ بھی چہرے پر دل جلاتی مسکراہٹ سجائے نجانے کیا جتانا چاہ رہا تھا۔۔۔ "دل تو میرا تیری بیوقوف بیوی کی حرکتوں کی وجہ سے بھی شعلہ جوالا بنا ہوا ہے۔اس بارے میں کیا خیال ہے آپ کا ؟"اسے ایک بار پھر اشتعال عود آیا تھا۔ "شٹ آپ۔۔میری بیوی تیری بھابھی ہے۔۔عزت سے مخاطب کیا کر۔۔اور اگر میری بیوی کو عزت دینے میں تیری زبان گھس جاتی ہے تو برائے مہربانی اپنا منہ بند رکھا کر۔۔"وہ لہجے میں ناگواری سموئے درشت لہجے میں پھنكارا تھا۔۔۔ "یار تو اسے حقیقت سے آگاہ کیوں نہیں کردیتا؟"ارتضی نے سوالیہ انداز میں دریافت کیا تھا،جبکہ وہ شدید وحشت کے عالم میں اپنے بال جکڑ کر رہ گیا تھا۔۔۔ "یار میں نے کئی بار حقیقت بتانے کی کوشش کی ہے۔۔مگر وہ میری بات کو سمجھے جب ناں۔۔ہر بار اموشنل بلیک میلنگ پر اتر آتی ہے۔۔ایک بار مجھے وہ الُو کا پٹھا مل جائے جس کی وجہ سے مجھے یہ سب فیس کرنا پڑ رہا ہے۔۔میں اس کی نسل تک کو شیرافگن ہاشمی کا نام یاد کرادونگا۔جو بھی تھا مگر اب میرے قہر سے بچ نہیں سکتا۔۔۔"بولتے ہوئے دانت کچکچائے۔نظروں کے سامنے کسی کا منحوس چہرہ لہرایا تھا۔۔ "افففف!!!!اللّه پاک تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے مجھے شادی جیسی فضولیات سےمحفوظ رکھا ہے۔مطلب سچ میں شادی کے بعد اچھا خاصہ بندا کسی کام کا نہیں ر ہتا۔۔"آسمان کی جانب رُخ کئے، ہوا میں ہاتھ بلند کرتاوہ بامشکل اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا نظریں ترچھی کئے بولا۔۔ ’’یار نہیں کر!میں الریڈی بہت پریشان ہوں۔‘‘اب ارتضیٰ بھی سنجیدہ ہوا تھا۔ ’’اچھا بتا کیا ہوا؟‘‘اس نے بے چارگی سے اس کی جانب دیکھا تھا ۔ ’’یار میری کچھ سمجھ نہیں آرہا۔حیات کو کیسے سنبھالوں میں۔‘‘اسے رہ رہ کر حیات کا خیال آرہا تھا۔۔ ’’فی الحال یہاں سے جا اور اپنی بیوی کو سنبھال ،ایک نمبر کی بیوقوف لڑکی ہے۔۔ عقل نام کو نہیں ہے بندی میں۔۔مطلب۔۔تو یقین کر آندھا دُھند بیچ سڑک میں چلنے لگی تھی۔۔‘‘ارتضیٰ ابھی تک حیرت سے دوچارتھا۔۔ ’’یہی تو مسٔلہ ہے۔۔کچھ جانے سمجھے
