Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 19
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/10/2025
3 Views
Episode no 19
پہلے سوچنا چاہیے تھا۔۔مہمانوں کو کھانوں کھلاؤ اور چلتا کرو۔۔ورنہ ان کی تمسخر اور ہمدردانہ نظریں اجُالا کو بھی پاگل کر دیں گی۔۔"ارتضی ناراض لہجے میں اس کی غلطی کا احساس کرواتا مزید وہاں نہیں رُک سکا تھا۔۔جبکہ افگن کی نظریں تو اس منظر پر ہی ٹھر گئی تھیں۔جہاں سے حیات بھاگتی ہوئی باہر گئی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ روتی سسکتی ہوئی دلہن بنی روڈ کنارے چل رہی تھی۔۔کتنی ہی تیز رفتار گاڑیاں تھیں جو ہوا کو چیرتی ہوئی اس کے بے حد نزدیک سے گزر رہی تھیں۔مگر دوسری جانب وہ اپنے سراپے سے لاپرواہ تھی۔۔گاڑیوں کے سائرن کا شور اور مختلف قسم کی تیز آوازیں ماحول میں گردش کر رہی تھیں۔مگر وہ کان بند کئے بہتی آنکھوں سے بے مقصد راستوں کی جانب گامزن تھی۔دل کا درد تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا۔۔شیرافگن کی بے وفائی اُجالا کا اس کے حصار میں کھڑا ہونا اس کا دماغ یہ تلخ حقیقت قبول ہی نہیں کر سک رہا تھا۔۔ ایک تیز رفتار گاڑی تھی،جو تیزی سے اس کی جانب بھاگی چلی آرہی تھی۔۔مگر وہ کب اپنی دھن میں روڈ کنارے سے بیچ میں سڑک میں چلنے لگی تھی۔اس لاپرواہی کی اسے خبر ہی نہ ہوسکی تھی۔۔ تیز رفتار کار اسے سائیڈ دیتی بجلی کی سی تیزی سے نکل گئی تھی۔۔وہ لڑکھڑائی ضرور مگر ٹھری نہیں۔۔مین شاہراہ کے عین وسط میں پیدل چلتی دلہن بنی لڑکی کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔۔کپكپاتے ہونٹوں سے وہ مسلسل شیر افگن سے شکوہ کناں تھی۔جبکہ کئی لوگ اپنی گاڑیاں اسے چڑیل سمجھ کر بچ بچ کر نکال رہے تھے۔۔آخر کراچی کی کار ساز والی چڑیل کے بارے میں تو سب نے سُن رکھا تھا۔کیا معلوم کہ یہ دلہن لڑکی بھی اسی کے خاندان سے ہو۔۔ "حیات۔۔"ارتضٰی جو اس کے تعقب میں ڈھونڈتا ہوا آرہا تھا۔اسے پاگلوں کی طرح چلتا دیکھ ڈھیروں آوازیں لگا چکا تھا۔مگر وہ مگن تھی۔۔ "حیات کاظٰمی۔"اس کے نزدیک پہنچتے ارتضٰی نے کندھے سے پکڑ کر اپنے ساتھ گھسیٹا تھا۔۔جو کسی موم کی گڑیا کی مانند اس کے ساتھ کھینچی چلی جارہی تھی۔۔غصّے سے کھولتے ارتضٰی کا چہرہ اس لڑکی کی حرکتوں کے باعث سرُخ پڑ گیا تھا۔۔جو اب اسے گھسیٹ کر فٹ پاتھ پر لے آیا تھا۔۔ "دماغ خراب ہے تمہارا لڑکی۔۔۔ابھی کوئی گاڑی تمھیں اُڑاتی ہوئی چلی جاتی تو پتہ ہے کیا ہوتا ؟؟"وہ شدّت سے چنگھاڑا تھا۔۔ "کیا ہوتا زیادہ سے زیادہ مر جاتی ناں۔۔کم از کم اس زندگی سے بہتر ہے۔۔"ہوش میں آتی وہ بھی پورے جوش سے چلائی تھی۔ارتضٰی نے ناگواری سے اُس کا گستاخ لب و لہجہ برداشت کیا تھا۔ "لڑکی پتہ ہے تمہارا مسٔلہ کیا ہے؟؟تم ایک نمبر کی بددماغ ،اور بیوقوف عورت ہو۔"وہ جبڑے بھینچتا ناگوار لہجے میں پھنکارا تھا۔۔وہ استہزائیہ مسکرا پڑی تھی۔۔۔ "تو جناب آپ کیوں میرے پیچھے خوار ہو رہے ہیں۔جس کی میں ذمہ داری ہوں وہ تو اپنی دوسری بیوی کے ساتھ خوشیاں منا رہا ہے۔بھلے سے پہلی بیوی جائے بھآڑ میں۔ "اس کا کپكپاتا لہجہ غم و غصّے کی شدّت کی آمیزش لئے نڈھال ہورہا تھا۔۔ "وہ شخص ایک نمبر کا بیوقوف ہے۔جس نے تمہاری خاطر اپنی محبّت اٌجالا کو قربان کردیا تھا۔۔اور یہ جو تم ہر وقت کا راگ الاپتی ہونا کہ شیر نے تمھیں ٹریپ کیا تھا۔تم سے محبّت کی پینگیں لڑائی تھیں۔۔درحقیقت حیات افگن تم ایک وکٹم ہو۔تم کئی عرصہ ایک انجان شخص کی ہراسمنٹ کا شکار رہی ہو۔۔۔ ۔جیسے استعمال کرنے والے نے کہیں کا نہ چھوڑا۔۔تباہ و برباد کردی تمہاری زندگی۔۔اور تم نے شیرافگن کی پرسکون زندگی میں اپنی محبّت کا رونا رو رو کر زہر گھول دیا ہے۔۔۔"ارتضی عباس حقیقت بیان کرنے پر آیا تو کفن پھآڑ کر زہر اُگلنے لگا تھا۔۔جبکہ وہ حیرت کی زیادتی سے گنگ لفظ ہی ترتیب دینے میں کوشاں تھی۔۔ "میں وکٹم۔۔۔۔"وہ بے یقین تھی۔۔آخر مقابل کھڑا شخص کیا بکواس کر رہا تھا۔۔۔۔ "افسوس کے تم لڑكیاں بچپن سے ہی آنکھوں میں اوقات سے زیادہ سہانے خواب سجا لیتی ہو۔ اچھا، گڈ لوكنگ،اور رچ ،لائف پارٹنر کے چکر میں اپنی ویلیوز ڈی گریڈ کرلیتی ہو۔۔اور کسی اُلو کے پٹھے کے دل بہلانے کا سامان بن جاتی ہو۔۔۔"ارتضی کا چبھتا ہوا لہجہ حیات کے حواس جھنجھنا گیا تھا۔۔۔وہ دونوں فریقین سڑک کنارے کھڑے اِرد گرد کے ماحول کو بھی فراموش کر گئے تھے۔۔۔۔ "اب گھر چلو میرے ساتھ۔۔۔بہت تماشہ لگالیا تم نے۔۔"ارتضٰی نے مخمصے کا شکار کھڑی حیات کا ہاتھ تھام کر مخالف سمت میں قدم اُٹھائے تھے۔۔جو حقیقت سے نابلند عجیب کشمکش کا شکار تھی۔۔۔۔جبکہ سامنے سے آتی شیر کی گاڑی دیکھ ارتضٰی کے قدم ٹھٹھک کر ٹھر گئے تھے۔۔ "حیات!!!تم یہاں کیا کر رہی ہو؟"اپنی گاڑی سے بجلی کی سی رفتار سے باہر آتا۔۔حیات کی جانب لپکا تھا۔جو خالی خالی نگاہوں سے اس کا پریشان چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔ "تمہاری بیوی کو تمہاری دوسری شادی کا اتنا بڑا صدمہ لگا تھا کہ محترمہ بیچ سڑک میں َاندھا دھُند بھاگ پڑی تھیں۔۔شکر مانو میرا۔ورنہ اب تک شاید ان کے قل کے کھانے کا بندوبست کرنا پڑتا۔۔"وہ طنزیہ لہجے میں کاٹ دار نظروں سے گھورتا سختی سے گویا ہوا۔ "شٹ اپ یار!!تو جا میں سنبھال لوں گا اِسے۔"شیر کو اس کی شعلہ بیانی ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔۔ "ہاں بھائی!!دوست کی کیا قدر کرو گے اب آپ۔۔ایک چھوڑ دو دو بیویوں کے شوہر بن گئے ہو۔تو اب تم انہی کو سنبھال لو تو بہت ہے۔۔"وہ ناراضگی ظاہر کرتا انہیں تنہا چھوڑ کر روڈ كراس کرتا ہوٹل کی پاركنگ کی جانب بڑھا تھا۔۔آج کا فنکشن ویسے بھی کسی شو سے کم نہیں تھا۔۔۔ "حیات میری جان!!یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی۔۔"وہ اس کا زرد پڑتا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا چاہت اور اپنائیت سے بولا تھا۔جبکہ وہ خاموشی سے بغور اس کا چہرہ تک رہی تھی۔اس کے ہر انداز سے فکر جھلک رہی۔۔محبّت نہ سہی مگر شیرافگن ہاشمی حیات کاظمی کی بہت عزت کرتا تھا۔۔۔ "چلو ہم گھر چل رہے ہیں۔اب جو بھی بات ہوگی گھر میں ہوگی۔۔"اس کی سمندری آنکھوں کا رنگ ایک پل میں تبدیل ہوا تھا۔۔۔جہاں چند لمحات قبل فکر جھلک رہی تھی۔۔اب وہاں سرد سا تاثر اپنی چھاپ دکھا رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ "توبہ توبہ!!! اللّه معاف کرے۔۔کیا زمانہ آگیا ہے۔جوان اولاد ماں باپ کے منہ کو آگئی ہے۔۔ارے وہ چھنٹاک بھر کا لڑکا کس قدر ديدہ دلیری سے اپنے ماں باپ کو منہ پھآڑ کر اپنے دوسرے اور خفیہ نکاح سے آگاہ کررہا تھا۔زندگی بھر کی کمائی ہوئی عزت ذرا سی دیر میں خاک میں ملا دی۔۔"عابثہ کی ہمراہی میں ولیمے کی تقریب سے واپس لوٹتی نانی بیگم تاسف زدہ لہجے میں بولتیں صوفہ پر دھم سے بیٹھی تھیں۔۔۔ "کیا ہوا اماں جان خیریت ؟؟"مامی بیگم عابثہ کو ناگواری سے گھورتیں نرمی سے استفساریہ بولیں۔ "ارے ہم گئے تو ایک ولیمے میں تھے۔مگر دو کا کھانا کھا کر ارہے ہیں۔۔"وہ ناک بھنویں سمیٹ کر بولیں۔ "مطلب ؟"وہ ناسمجھی سے گویا ہوئیں۔۔ "وہ لڑکا۔۔کیا نام ہے اس کا۔۔۔۔۔۔ہاں افگن۔۔۔ارے بے شرمی کی انتہا دیکھو ذرا۔۔ایک لڑکی منتظر بیٹھی ہے کہ میاں صاحب تشریف لائیں گے تو وہ اپنے ارمان پورے کرے گی اور وہ لڑکا آیا تو آیا ساتھ میں دوسری بھی لے آیا۔۔پتہ نہیں کیا چکر تھا بھئی جو اتنا آناً فاناً نکاح کرلیا۔۔آج کل کی نوجوان نسل کی ہڈدھرمیوں سے تو اللہ ہی بچائے۔۔"وہ منہ پر ہاتھ رکھتیں متعجب لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔مامی بیگم نے بے نیازی سے سرجھٹک دیا تھا۔۔۔عابثہ سرد سانس خارج کرتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔ "ایک ہمارا زمانہ تھا۔۔اماں
