Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 19
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/10/2025
3 Views
Episode no 19
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_۱۹ ………………………… شیرآفگن کی ہمراہی میں قدم قدم اُٹھا کر نزدیک آتی لڑکی کو دیکھ حیات کی آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا تھا۔ اُجالا سجی سنواری سی اپنے سوگوار حسن کی بدولت قیامت ڈھاتے سراپے سے لاپرواہ شیرآفگن کی ہمراہی میں اسٹیج کے نزدیک چلی آرہی تھی۔۔تقریب میں موجود تمام تر مہمانوں کی توجہ انہی دونوں کی جانب مرکوز تھی۔شیرافگن کی غیر حاضری..اور اب کسی لڑکی کے ساتھ واپسی پر سب ہی میں چہ مگوئیاں سی ہونے لگی تھیں۔۔ جو جاذب نظر چہرے پر حد درجہ پتھریلے تاثرات سجائے اُجالا کی کمر میں حصارڈالے سب کو مخمصے میں ڈال چکا تھا۔۔۔ حیات نے ناسمجھی سے شیر کی جانب دیکھاتھا۔۔۔جو نجانے کیوں مگر آج اس سے نظریں چُرا رہا تھا۔عابثہ تمام تر صورت حال سمجھنے سے قاصر تھی۔ارتضیٰ لب بھینچے شیر کو دیکھ رہا تھا۔۔جو آج اپنے دوست سے بھی نظر نہیں ملا پا رہا تھا۔۔جبکہ اُجالا وہ آج بہت خاموش تھی۔بس خاموشی سے زمین گھورے جارہی تھی۔۔ ’’افگن کہاں رہ گئے تھے تم؟ زرین بیگم اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتیں معاملے کی سنگینی سے انجان اپنے مخصوص لب و لہجے میں استفساریہ گویا ہوئیں تھیں۔ ’’ماما وہ۔۔۔‘‘حیات کی بے یقین سی نگاہوں میں رقم سوالات دیکھ شیر کی زبان لڑ کھڑا گئی تھی۔ ’’وہ وہ کیا کر رہے ہو؟جانتے بھی ہو تمہاری غیر موجودگی کے باعث یہاں سب لوگ کیسی کیسی باتیں بنارہے ہیں؟‘‘ناصر صاحب نزدیک آتے زرا سختی سے گویا ہوئے تھے۔ ’’اُجالا بیٹا کیسی ہیں آپ۔۔جائیں اپنی بھابھی سے تو ملاقات کرلیں۔‘‘زرین نے زرا کینہ توز نگاہوں سے گھورتے جان بوجھ کر کہا تھا۔ ’’اُجالا نے خالی خالی نگاہوں سے شیر افگن کی جانب دیکھا تھا۔۔جس کی آنکھیں شعلے اُگل رہی تھیں۔مگر وہ اُجالا کو اپنی ہمراہی میں ساتھ لئے حیات کی جانب بڑھا تھا۔۔جو یقیناً اس کی منتظرتھی۔ ’’حیات۔۔‘‘وہ اسٹیج پر چڑھ آیا تھا۔۔جو اُسے نہیں بلکہ حد سے زیادہ نزدیک کھڑی اُجالا کو تک رہی تھی۔ "شیرافگن یہ اُجالا آپ کے اتنا نزدیک کیوں کھڑی ہے؟"حیات نے شیرافگن کے حصار میں موجود اُجالا کو دیکھ بے یقینی سے استفسار کیا تھا۔محفل میں شیرافگن کی ہمراہی میں کھڑی لڑکی کو دیکھ چہ مگوئیاں ہونے لگی تھیں۔ "حیات میری بات سُنو۔"وہ لہجہ ہموار کئے اس کی آنکھوں میں اُترا مان ٹوٹ جانے کا غم دیکھ آگے بڑھا۔ "نہیں!!پہلے آپ مجھے بتائیں۔یہ اُجالا اس قدر نزدیک کیوں کھڑی ہے۔"ولیمے کی دلہن بنی حیات قدم پیچھے اٌٹھآتی شدّت سے دهاڑی تھی۔ "حیات تماشہ مت بناؤ۔سب دیکھ رہے ہیں۔"وہ محفل میں موجود تمام تر آفراد کو حیرت سے گنگ باتیں بناتا دیکھ دبی دبی سی آواز میں اُس سے باز رہنے کی التجا کرنے لگا تھا۔ "تم بتاؤ۔۔میرے شوہر سے اس قدر چپک کر کیوں کھڑی ہوئی ہو تم۔۔"حیات چیل کی تیزی سے آگے بڑھتی اُجالا کو پیچھے کو دهکیلتی شدّت سے دهاڑی تھی۔پتھر کی مورت بنی وہ لڑکھڑائی۔۔ "اُجالا میری بیوی ہے۔نکاح میں ہےمیرے۔میری زندگی میں جو حیثیت تمہاری ہے۔اب سے وہی مقام اُجالا کا بھی حق ہے۔اور خبردار جو تم نے ُاجالا کے ساتھ اس طرح کا روایتی رویہ اختیار کیا تو۔"اُجالا کا چہرے سپاٹ تھا۔بالکل سپاٹ جبکہ حیات کے قدم لڑکھڑا سے گئے تھے۔شیرافگن گھبرا کر آگے بڑھتا اسے تھام لینا چاہتا تھا۔جبکہ وہ بے یقینی کی سی کیفیت سے دوچار غش کھا کر پیچھے کو گر پڑی تھی۔۔ "حیات۔۔۔"اس کے سنبھالنے سے قبل ہی وہ اپنا وجود اس کی گرفت سے دور کر گئی۔جو آنکھیں میچتا اُس کی دُکھ سے لرزتی پلکیں دیکھ رہا تھا۔۔سپید پڑتی رنگت اور زمیں کو گهورتی حیات کو دیکھ شیرافگن کے دل پر گھونسا سا پڑا تھا۔۔ "یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم ؟"ناصر صاحب نے مہمانوں میں بڑھتی کھلبلی دیکھ اپنے بیٹے کو ایک جھٹکے سے اپنی جانب موڑا تھا۔۔ "بابا وہ میں۔۔۔"وہ شرمندگی سے نظریں چُرا گیا۔ "کہ دو کہ یہ سب تمہارا ایک بے ہودا مذاق ہے۔کیا تمھیں حیات کی بگڑتی حالت نظر نہیں آرہی۔"ان کی آنکھیں لہو رنگ ہو رہی تھیں۔ "بابا دراصل۔۔"حیات کی آنکھوں میں اُبھرتا انجان سا مان دیکھ وہ آنکھیں میچ گیا۔کہ وہ ابھی کہ دے گا کہ یہ سب بس محض ایک مذاق تھا۔۔پرینک کر رہا تھا میں۔۔ "اجالا بیٹا آپ بتاؤ مجھے۔۔یہ جو بکواس کر رہا ہے۔کیا یہ سچ ہے؟کہ دو بیٹا کہ یہ آپ دونوں کی شرآرت ہے۔۔"ناصر صاحب نے کس قدر ضبط کے عالم میں یہ لفظ ادا کئے تھے اس سے محض وہی واقفیت رکھتے تھے۔۔ "یہ سچ ہےانکل!!میں اور شیرافگن کچھ دیر قبل اللّه کو حاضر و ناظر جان کر گواہان کی موجودگی میں رشتہ ازدوج میں بندھ چکے ہیں۔"زمین کو گهورتی اُجالا نے سپاٹ انداز میں گویا سب کے پیروں کے نیچے کی زمین کھینچ لی تھی۔حیات کی آنکھوں میں درد ہلکورے لے رہا تھا۔موہم سی اُمید ٹوٹ کر دل کو کرچیوں میں تقسيم کر گئی تھی۔۔۔دل غم و درد کی شدّت سے پھٹا جارہا تھا۔سانس سینے میں اٹکتا محسوس ہوا تھا۔سب ہی کچھ لمحوں کے لئے اپنی اپنی جگہ حیرت سے گنگ کچھ بول ہی نہ سکے۔۔ عابثہ نے غصّے اور دٌکھ کی ملی جلی سی کیفیت میں حیات کا معصوم چہرہ دیکھا تھا۔ جو کچھ لمحات قبل تک شیرافگن کے عشق میں گرفتار خوشی سے پھولے نہیں سما پارہی تھی۔۔چہرہ پر گلال بکھرا ہوا تھا۔۔اور چند منٹوں کا کھیل تھا کہ وہ کسی لاش کی مانند سپید پڑگیا تھا۔۔ "بابا میں۔۔۔" "چٹاخ۔"وہ صفائیہ لہجے میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ بوجھل ہوتی فضا میں ناصر صاحب کے ہاتھ سے پڑنے والے ٹھپڑ کی آواز کے باعث فضا میں سناٹا سا برپا ہوگیا تھا۔۔ "خاموش ہوجاؤ بد بخت۔۔اور کتنا ذلیل و رسوا کروا گے تم مجھے۔۔اول روز سے اس بچی کے سامنے شرمندہ کر کے رکھا ہے تم نے مجھے۔ "وہ بیٹے کی دن با دن ناقابل قبول بڑھتی حرکتوں کے باعث غم کے باعث ڈھ سے گئے تھے۔۔ "انکل!!سب دیکھ رہے ہیں۔۔پلیز آپ تو ہوش سے کام لیں۔۔اور آگر اس نے اور اُجالا نے ان خوشگوار لمحات میں اتنا بڑا قدم اُٹھایا ہے تو یقیناً اس کے پیچھے کوئی بڑی وجہ پوشیدہ ہوگی۔"معاملہ کی گھمبیرتا کی سنگینی دیکھ ارتضٰی نے متوازن لہجے میں شیرکا دفاع کرنے کی نکام سی کوشش کی تھی۔۔ "کوئی بڑی وجہ نہیں ہے۔۔میں اجُالا سے محبّت کرتا ہوں۔جیسے حیات میری بیوی ہے اب ویسے ہی اجُالا بھی میری بیوی ہے۔۔اب میں اس متعلق کسی کی بھی کوئی بات برداشت نہیں کرونگا۔۔۔۔"ناصر صاحب کے ہاتھ کا کرارا ٹھپڑ کھانے کے بعد اس کے حواس جھنجھنا اُٹھے تھے۔۔لب بھینچے غیر مرئی نکتے کو گهورتا وہ سب کی چلتی زبانوں پر قفل ڈال گیا تھا۔حیات کرب سے استہزائیہ مسکرائی تھی۔۔۔ لیڈیز اینڈ جینٹل مینز یہ آپ سب کے لئے ایک سرپرائز تھا۔۔آج میرے یعنی شیرافگن ہاشمی کے ایک نہیں بلکہ دو ولیمے ہیں۔ایک حیات کاظمی کے اور دوسرا اُجالا افگن کے ساتھ۔"اُجالا افگن لفظ پر حیات اپنی کم مائیگی پر روتے ہوئے مسکرائی۔وہ "حیات کاظمی" تھی جبکہ وہ اس کی محبّت "اُجالا افگن"۔حیات کاظمٰی تم سدا کی بد بخت ہی رہنا۔۔دل سے ایک نامعلوم سی آواز آئی تھی۔۔اور بس پھر حیات اپنی ذات کا مزید تماشہ برداشت نہیں کر سکی تھی۔۔وہ بھاگنے کے انداز میں محفل سے باہر نکل گئی تھی۔شیر نے گھبرا کر اس کے پیچھے جانا چاہا تھا مگر ارتٰضی اس کا ہاتھ تھام کر روک چکا تھا۔۔ "اانہیں میں دیکھتا ہوں۔تم اجُالا کے پاس رہو۔فی الحال اُسے تمہاری ضرورت ہے۔اور آگر اپنی پہلی بیوی کی زیادہ ہی فکر ستارہی ہے تو دوسری کو اپنے ساتھ منسوب کرنے سے
