Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 16
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/10/2025
3 Views
Episode no 16
ویسے ہی۔سوری اب سے صرف بابا ہی بولونگی۔"چہرے پر پریشانی سجائے وہ ان کا ہاتھ تھام کر منانے والے انداز میں بولی تھی۔۔۔ "اچھا آپ یہ بتائیں شاپنگ مکمل کرلی ؟؟کچھ رہ تو نہیں گیا؟اگر کوئی خواہش ہو تو آپ مجھے بتا سکتی ہیں یا اس نالائق کو بتا سکتی ہیں۔۔"صوفے پر اپنے ساتھ ہی بیٹھآتے وہ اپنائیت سے بولے تھے۔جبھی اتفاقً دونوں کی بے ساختہ نظر ایک دوسرے سے جاملی تھی۔افگن کی آنکھوں کا تاثر نرم جبکہ حیات کی آنکھیں خالی خالی سی تھیں۔۔ "نہیں بابا!!سب ہے میرے پاس۔۔افگن نے بہت ساری شاپنگ کروادی تھی مجھے۔۔"مسکرانے کی نكام سی سعی کی گئی تھی۔۔ "چلیں پھر آپ لوگ خواتین بیٹھ کر گپ لگائیں۔میں ذرا افگن کی ساتھ ایک دو کام نبٹا دوں۔۔"اُس کا سر تھپتھپا کر وہ افگن کو اشارہ کرتے نکل آئے تھے۔جبکہ وہ زرین سے بات کرنے کے لئے ہمت جٹاتی تذبذب کا شکار کچھ بولنے ہی لگی تھیں کہ وہ اس کو ایک تیز نگاہ سے نوازتی اپنی ساڑی کا پلو سنبھالتی وہاں سے واک آوٹ کر گئی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا آخری پہر چل رہا تھا۔سارے عالم کے لوگ گہری نیند میں خواب و خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف تھے۔ایسے میں کچھ شیطان کے چیلے ایسے بھی تھے جو دنیا میں اپنے حصّے کی برائی پھیلانے میں کوشآں تھے۔ کمفرٹر میں دبُک کر نیند کے مزے لوٹتا وجود اپنے اِرد گرد سے غافل تھا۔جبھی رات کی وحشت ناک خاموشی میں روم کا دروازہ کلک کی آواز کے ساتھ ان لاکڈ کیا گیا تھا۔چرچراہٹ کی آواز کے باعث رات کی خاموشی میں واضح ارتعاش برپا ہوا تھا۔جبکہ کوئی نفوس کمرے میں داخل ہوا تھا۔سائیڈ لیمپ کی پیلی سی روشنی میں کمرے کا خوابناک ماحول اور بستر پر محو استرات وجود کا کمبل سے جھلکتا دلکش چہرہ مقابل کا ایمان بہکانے کے لئے کافی تھا۔۔۔ چہرہ پر کمینگی بھری مسکراہٹ سجائے وہ بیڈ کے نزدیک چلا آیا تھا۔ایک گھٹنا بیڈ پر ٹیکاتا وہ اب باقاعدہ اس کے چہرے پر جھکا تھا۔ گندمی رنگت پر بکھرے بال،اور بڑی بڑی آنکھوں پر سایہ فگن مڑی مڑی پلکیں معصوم من موہنی سی صورت دیکھ اس پر شیطان غالب آگیا تھا۔۔نیند میں اس کے چہرےکے تاثرات میں بے چینی سی ہوئی تھی۔مقابل اُس کا چہرہ انگلیوں کے پورے سے ماتھے پر سے ٹريس کرتا گلابی لبوں تک لایا تھا۔۔۔آنکھوں سے شیطانیت ٹپک رہی تھی۔خود پر جھکاؤ اور نیند میں خلل ڈالتی عجیب سی قربت پر عابثہ کی نیند بھک سے ہوا ہوگئی تھی۔۔آنکھیں پٹ سے وا ہوتے ہی صورتحال سمجھنے میں کچھ وقت لگا تھا۔مگر مقابل کھڑے شاہ ويز کو دیکھ اُس کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔۔۔ وہ گھبرا کر اُٹھنے کو تھی مگر شاہ ویز منہ پر ہاتھ رکھتا اس کی چیخ کے ساتھ ساتھ آواز بھی دبا گیا تھا۔۔ "ششش!!"حلق سے آواز باہر نہیں نکلنی چاہیے۔ورنہ عزت کے ساتھ ساتھ گھر سے بھی جاؤ گی۔"مزاحمت کے لئے وہ پورا زور لگا چکی تھی۔جبکہ اس کے ہاتھ قابو کر کے بیڈ سے لگاتا وہ جھکنے کو تھا۔جبھی عابثہ نے سخت طيش کے عالم میں گھٹنا دے مارا تھا۔وہ اچانک حملے اور تکلیف پر گھبرا کر پیچھے ہوا تھا۔۔ "نانو۔۔۔ماموں۔۔۔۔۔۔"سائیڈ ٹیبل پر سے لیمپ اُٹھا کر اس کے سر پر مارتی وہ جلدی سے بیڈ سے اُٹھتی چلانے لگی تھی۔شاہ ويز بوکھلا کر اس کا منہ دبانے کو تھا۔۔ملگجے سے اندھیرے میں مقابل کا چہرہ واضح نہیں تھا۔مگر وہ پہچان سکتی تھی کہ یہ شیطان کون تھا۔۔ "چپ کرو کت۔۔۔۔۔۔۔۔"عابثہ کے گال پر ایک تھپڑ جڑتا وہ اسے قابوں کرنے لگا تھا۔جو مسلسل مزاحمت کرتی اپنا بچاؤ کر رہی تھی۔۔ "چھوڑو مجھے۔۔وحشی،درندے۔۔۔"اُس کے منہ پر جھپٹا مارتی وہ اس کی آنکھوں سے خون نکال چکی تھی۔۔ "ماموں۔۔۔۔۔۔۔۔"اس بار وہ اتنی شدّت سے چلائی تھی کہ فردوس منزل کی دارو دیوار تک ہل گئی تھی۔۔۔جبکہ مزاحمت مسلسل جاری تھی۔۔ کچھ لمحوں کی دیری سے گھر میں موجود تمام آفراد حواس باختہ سے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔حیرت و بے یقینی سے پھیلی آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا تھا۔آنسوؤں سے تر چہرہ لئے مزاحمت کرتی عابثہ کے منہ پر زخمی ہاتھ دھرتا شاہ ویز زخمی چہرہ لئے اس کی چیخوں کا گلا گھونٹتا کمرے میں استاذہ نفوس کو حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھا دیکھ بوکھلا کر دو قدم پیچھے ہوا تھا۔۔۔ دونوں ماموں کے بچے،ہالہ،مینا،مامیاں شاہ ويز کا دوسرا بھائی سب کمرے میں جھمگٹا لگائے کھڑے تھے۔۔کسی خوش بخت نے آگے بڑھ کر کمرے کی لائٹ جلا دی تھی۔۔۔منظر واضح ہوا تھا۔بغیر دوپٹہ کے اُجآڑ سی حالت اس کے ساتھ ہوئی زیادتی کا چیخ چیخ کر پتہ دے رہی تھی۔مگر سب ہی کی نظروں میں محض عابثہ کے لئے حقآرت تھی۔ "کیا ہو رہا ہے یہاں؟؟"عدیل ماموں کی گرج دار آواز پر عابثہ روتی بلکتی ان کی جانب بڑھنے لگی تھی۔جو ہاتھ کے اشارہ سے دور رہنے کو بول گئے تھے۔۔۔ "ماموں یہ میرے کمرے میں زبردستی آگئے۔۔۔اور میرے ساتھ۔۔۔۔"ہمّت مجتمع کر کے بولتی وہ پھپھک کر رو پڑی تھی۔۔ "جھوٹ بول رہی ہے بڑے پاپا ۔۔میں تو اس کے کمرے کے سامنے سے گزر رہا تھا۔۔پتہ نہیں کون لڑکا تھا جس سے عاشقیاں کر رہی تھی۔میں تو ایسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا تو اس نے مجھے زخمی کر ڈالا۔بدکردار لڑکی۔۔۔"یکایک پینترا بدلنے پر عابثہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔۔۔ "ماموں جھوٹ۔۔۔۔"وہ صفائیہ لہجے میں اپنی ذات کی پاک دامنی ثابت کرنے کی خاطر آنکھوں میں آس لئے ان کی جانب بڑھی تھی جبھی عدیل صاحب نے سخت طیش کے عالم میں اس کے چہرہ پر ٹھپڑ جڑ دیا۔۔ ۔"ماموں۔۔۔۔"وہ بے یقین لہجے میں سرگوشی میں ُپکار ُاٹھی تھی۔۔۔جبکہ شاہ ویز کے چہرے پر کمینگی بھری مسکراہٹ کھل گئی تھی۔۔۔۔ "مجھے تو پہلے ہی تمہارے تیور دیکھ کھٹکا ہوگیا تھا۔۔بتاؤ کون ہے وہ جس کے ساتھ منہ کالا کر رہی تھیں۔۔"منہ پر ہاتھ رکھے وہ حیرت سے گنگ چہرہ لیا بے یقین سی کھڑی رہ گئی تھی۔۔ "کیا ہو رہا ہے یہاں پر؟"عمر کا تقاضہ تھا کہ وہ ُپرسکون انداز میں قدم اٹھاتیں اب روم میں آئی تھیں۔مگر عابثہ کی بکھری حالت،اور شاہ ويز کا زخمی چہرہ دیکھ انہیں معاملے کی سنگینی بھانپنے میں ذرا دشواری نہیں ہوئی تھی۔۔ "امّاں جان بس بہت ہوا۔۔نکال باہر کھڑا کریں اسے ۔۔میں مزید اس ذلت کی پوٹ کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتا۔اس سے پہلے کہ یہ نیچ کوئی چاند چڑھا دے۔۔دفعہ کریں ایسے یہاں سے۔"عدیل صاحب غصّہ سے پاگل ہو رہے تھے۔جبکہ حقیقت سے بخوبی آشنا ہونے کے باوجود سب کے چہرے پر استہزایہ مسکراہٹ اپنی چھاپ دکھا رہی تھی۔۔ "ایک منٹ!!!ہمیں بات کرنے دو۔۔شاہ ويز یہاں کیا کر رہے ہو تم ؟"وہ سخت تیور لئے باز پرس پر اُتر آئی تھیں۔۔ "اماں جان!میں بتاتا ہوں رنگے ہاتھوں پکڑا ہے میرے بچے نے آپ کی بدکردار نواسی کو۔۔۔"عابثہ غم کی شدّت سے پھٹتے دل کو سنبھالے فردوس بیگم کی جانب بڑھی تھی۔۔ "نانو۔۔۔جھوٹ بول رہے سب۔۔۔یہ میرے کمرے میں آکر۔۔زبردستی۔۔۔"وہ ہچکیوں کے ساتھ اپنی صفائی پیش کرنے لگی تھی۔۔ "چپ کرو بدکردار،آوارہ لڑکی۔۔۔میرے بیٹے پر بھی دوڑے ڈال رہی تھی۔بد بخت تجھے شرم نہ آئی دی بچوں کے باپ کو ورغلاتے ہوئے۔۔اور آدھی رات کو اپنے یار کو بلالیا۔۔بتا کہاں ہے وہ۔ ۔۔۔۔۔"مامی بیگم ساس کی گھورتی نگاہیں اپنے صاحبزادے پر دیکھ اس کے گال پر ایک تھپڑ مارتیں زخمی بیٹے کی آنکھ کا کونا صاف کرتیں حقآرتی لہجے میں الزام تراشی کرنے لگی تھیں۔۔۔ "بہو ابھی ہم زندہ ہیں۔۔۔"وہ تنبیہ
