Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 16
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/10/2025
3 Views
Episode no 16
دھوپ_چھاؤں__سا_ہرجائی قسط_نمبر_16 Huma Qureshi _________________ شیرآفگن کے غصّے کا گراف بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔۔اب اگر وہ مزید حیات کے سامنے رہتا تو یقیناً اس کے ساتھ کچھ غلط کر بیٹھتا۔گہری سیاہ رات ہونے کے باعث وہ حیات کو اکیلا بھی نہیں چھوڑ کر جاسکتا تھا۔حیات گھر میں بالکل اکیلی تھی۔مگر محفوظ تھی۔مگر جس طرح کی اوٹ پٹانگ اس کی حرکتیں تھیں۔جبھی وہ گھر میں بنے جم میں اگیا تھا۔۔۔ مسلسل پنچنگ بیگ پر مكوں کی برسات کرتا اپنا غصّہ جھٹکتا وہ بُری طرح سے ہانپ چکا تھا۔ہاتھوں کی بڑھتی سختی،اور ماتھے پر پڑے ان گنت بل اس کے وجود میں برپا اشتعال اور غصّے کا واضح ثبوت تھے۔۔حیات کے سخت الفاظ ایک مرد کی آنا پر کاری ضربیں لگارہے تھے۔۔۔پسینے سے شرابور،پھولی سانسوں کے ساتھ پنچنگ بیگ پر ایک آخری پنچ مارتا وہ جھٹکے سے پیچھے ہوا تھا۔۔۔پیاس کی شدّت سے گلا خشک پڑگیا تھا۔۔ جسم سے چپکی پسینے سے شرابور ٹی شرٹ اُتار کر ایک طرف کو پھینکتا وہ جیسے ہی پلٹا تو جم کے دروازے کے عین بیچ میں استاذہ حیات سے نظر جا ٹکرائی تھی۔جو آنسوؤں سے لبالب آنکھوں میں ان گنت شکوے سجائے دکھ سے اُس کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔ "اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو حیات؟؟"وہ ضبط سے بولا تھا ۔۔حیات قدم اٹھاتی مزید نزدیک چلی آئی تھی۔ "یہی تو میں آپ سے پوچھنا چاہ رہی ہوں۔۔آپ اتنی رات کو یہاں کیا کر رہے ہیں؟؟"اس کے دوبدو سوال کرنے پر وہ لحظہ بھر کو خاموش رہ گیا۔ "کیا تمھیں میری ایک بار کہی بات سمجھ نہیں آتی؟"وہ ذرا سختی سے مخاطب ہوا تھا۔غصّے کے باعث دماغ کی رگیں پھول گئی تھیں۔ "نہیں۔"اس نے خاموشی سے سپاٹ تاثرات کے ساتھ گھورکر دیکھاتھا۔سرخ پڑتی آنکھوں میں واضح تنبیہ تھی۔ "تم کیوں چاہ رہی ہو کہ میں تمہارے ساتھ سختی سے پیش آؤں۔"اس بار قریب آکر اس کا چہرہ انگلی سے ٹريس کرتا خشک لہجے میں اس کی نمکین پانیوں سے لبریز آنکھوں میں جھانک کر آئی برو اٹھائے وہ باز پرس کرنے لگا تھا۔ "آپ نرمی سے کب پیش آتے ہیں آفگن ؟"ناچاہتے ہوئے بھی شکوہ زبان سے پھسل گیا تھا۔۔ "اچھا۔۔میں بہت ظلم کرتا ہوں تم پر۔""وہ چہرے پر سنجیدگی سجائے مزید نزدیک ہوا تھا۔حیات نے بلا ارادہ ہی خوف سے الُٹے قدم لئے تھے۔۔ "رات بہت ہو رہی ہے اور سردی بھی۔میرے خیال سے آپ کو روم میں چلنا چاہیے۔"وہ لہجہ ہموار کئے اس کے تاثرات نظر انداز کرتی صلح جو انداز میں معصوم سی صورت بنا کر بولی تھی۔ "جاؤ تم۔اور میری فکر کرنا چھوڑ دو۔ویسے بھی ابھی میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔"وہ اس کا آنکھیں پٹپٹا کر ماننا نظرانداز کرتا استہزایہ مسکرا کر رُخ پھیر گیا۔۔وہ پل بھر کو منہ کھولے دیکھتی رہ گئی تھی۔۔ "اُس بے رخی کی وجہ جان سکتی ہوں میں ؟"حیات نے بازو پکڑ کر جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔مگر اسی لمحے ہاتھ جھٹکنے پر خود پورے وجود سے ہل کر رہ گئی تھی۔۔ "حیات جاؤ یار۔۔کیوں فضول میں دماغ خراب کر رہی ہو میرا۔ذرا بڑی ہوجاؤ۔شادی شدہ ہو تم۔۔افسانوی دنیا سے باہر آجاؤ اب۔اپنے اِرد گرد میں نظر ثانی کرو۔اپنے آپ کو دیکھوں اور ذرا دماغ لگا کر اپنے نفع نقصان کا حساب کرو۔کہ پچھلے ایک ماہ میں تم کیا کچھ گنوا چکی ہو۔میں کسی ناول یا فلم کا ہیرو نہیں ہوں جو تمہاری ہر فضول گوئی برداشت کرونگا۔"وہ ایک جھٹکے سے تھام کر اسے دیوار سے پن کرتا اشتعال آمیز لہجے میں بولا تھا۔اس کے چہرے پر پھیلی سُرخی دیکھ حیات کی آنکھیں خوف سے کُھلی کی کُھلی رہ گئی تھیں۔۔ "اور رہی بات نرمی کی تو حیات بیگم میں اپنے مزاج کے خلاف پچھلے ایک ماہ سے تمہارے ساتھ نرمی ہی برت رہا ہوں۔جتنا ہوسکا محبّت سے ہی پیش آرہا ہوں۔صرف اپنے باپ کی زبان کی خاطراور۔۔۔۔۔۔"وہ جنون کی حد تک پاگل ہوتا اپنے اندر اُبلتا لاوا اس پر اُنڈیلنے لگا تھا۔وه مزید کچھ بولتا اس سے پہلے ہی حیات غش کھا کر اس کے ہاتھوں میں جھول گئی۔۔ "حیات!!!حیات کیا ہوا تمھیں؟؟آنکھیں کھولو حیات؟؟؟"اس کا گال تھپتھپا کر نیم وا آنکھوں سے پھسلتے آنسو دیکھ وہ اُسے پکارنے لگا تھا۔۔جو ہوش و خرد سے بیگانہ حواس کھو گئی تھی۔ "شٹ۔۔۔۔۔"شدید غصّے میں اپنا ہاتھ کا مکا دیوار پر رسید کرتا اسے بازوں میں اٹُھائے لب بھینچے اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلے دو روز سے دونوں کے بیچ حائل سرد مہری کی دیوار کو نہ شیرافگن نے گرانے کی کوشش کی تھی اور نہ ہی حیات کاظمٰی نے۔دونوں ہی دل میں بدگمانیاں لئے ایک دوجے سے نالا ایک دوسرے کی غلطیوں کا حساب کتاب کرنے میں مصروف تھے۔کل رات کی فلائٹ سے ناصر صاحب اور ان کی بیگم بھی پاکستان واپس آچکی تھیں۔۔حیات کی طبعیت کے بابت جان ناصر صاحب پریشان ہوگئے تھے۔مگر کل سارا دن وہ کمرے میں بند رہی تھی۔اب ذرا حالت سنبھلی اور اپنے رویے کا دلی طور پر احساس جاگا تو وہ جلدی سے ڈریس آپ ہوتی نیچے بھاگی تھی۔۔ "السلام علیکم انکل انٹی۔۔"شیرافگن بھی اس وقت اپنے ماں باپ کی ہمراہی میں لیونگ روم میں موجود تھا وہ تینوں نفوس ہی اس کی آمد پر چونکے ۔ "وعلیکم السلام!!میرا بیٹا!!طبیعت کیسی ہے اب آپ کی؟؟میری غیرموجودگی میں اس بدمعاش نے آپ کا خیال نہیں رکھا ناں۔۔ "وہ حیات کو سامنے دیکھ کھل اُٹھے تھے۔جبھی اس کی محبّت میں اپنی نشست چھوڑ کر کھڑے ہوتے اس کے سر پر ہاتھ رکھ شیرافگن کو گھور کر اس کی خیریت دریافت کرنے لگے تھے۔افگن نے ذرا کی ذرا نظر اُٹھا کر خاموشی سے اس کے بُجھے بُجھے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیا تھا۔جو پرسو رات ہوئی تلخ کلامی کے بعد اس سے کلام کرنا بھی ترک کر گئی تھی۔ "نہیں انکل!!افگن نے میرا بہت خیال رکھا۔بس کل ذرا طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی لئے۔"لب چباتی وہ اب اپنے سابقہ رویہ کی باعث شدید خجالت کا شکار تھی۔۔ "خیر!یہاں بیٹھو ہمارے پاس۔اس ایک ہفتے میں ہم نے سب سے زیادہ اپنی بیٹی کو یاد کیا تھا۔اتنے سالوں بعد تو اللہ پاک نے آپکی شکل میں ہماری دلی خواہش کو مکمل کیا ہے۔۔آپ میں ہمیں اپنی بیٹی نظر آتی ہے۔بس ہنستی رہا کریں۔باپ کو بیٹیاں مسکراتی ہوئی پیاری لگتی ہیں۔"اتنی محبّت و شفقت پر حیات کاظمٰی کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔بے ساختہ ہی اُسے اپنے بابا کی یاد آگئی تھی۔وہ بھی تو اس سے اتنی ہی محبّت کرتے تھے۔ "ارے ارے بچا رونے کیوں لگی ہیں آپ؟"اُس کے رُخساروں پر پھسلتے آنسو دیکھ افگن نے بے ساختہ پہلو بدلا تھا۔جبکہ زرین بیگم نے نخوت سے نظریں پھیرلی تھیں۔۔ "وہ بابا کی یاد آگئی تھی۔"سوُُں سوُں کرتی حیات کا جواز سُن وہ ہولے سے مسکرادیے۔۔ "روتے نہیں ہیں۔میں بھی تو آپکے بابا جیسا ہی ہوں۔ویسے میں آپ سے ناراض ہوں۔"اس کو بہلانے کے انداز میں بول کر وہ ذرا خفگی سے بولے۔حیات نے جھٹ پریشانی سے گردن اُٹھائی تھی۔ "مجھ سے مگر کیوں؟؟"وہ دونوں باپ بیٹی اپنی باتوں میں مشغول وہاں برآجمان باقی کے دو نفوس کو سرے سے نظر انداز کر چکے تھے۔گویا وہ وہاں موجود ہی نہ ہوں۔ "بھئی ہم نے آپ سے کہا تھا کہ اب آپ ہمیں افگن کی طرح بابا کہیں گی مگر آپ تو شاید ہمیں اپنا بابا سمجھتی ہی نہیں ہیں۔"وہ زدا منہ لٹکا کر بولے تو وہ جھٹ نفی میں سر ہلاکر انکاری ہوئی کہیں وہ ناراض ہی نہ ہوجائیں۔۔ "نہیں بابا ایسی کوئی بات نہیں۔وہ میں بس
