Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 30/09/2025
4 Views
Episode no 12
انداز میں بولے چلی جارہی تھی۔۔جبکہ افگن کی انگلیاں تیزی سے موبائل اسکرین پر چل رہی تھیں۔۔ "شٹ!!!" "کیا ہوا افگن؟وہ اُسے غصّے سے موبائل صوفے پٹ پٹختا دیکھ چونک گئی تھی۔ "تم جس اکاؤنٹ پر مجھ سے بات کرتی تھیں۔۔وہ میں ڈلیٹ کر چکا ہوں۔۔فی الحال کوئی ضرورت نہیں ہے ایف بی یوز کرنے کی۔۔"ناچاہتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں ناگواری در آئی تھی۔۔ "اوہ!!مگر میں سارا دن گھر میں بور ہوجاتی ہوں۔۔تو ایف بی پر اچھا وقت گزر جاتا ہے۔۔"حیات ذرا مايوسی سے گویا ہوئی تھی۔ "حیات تمھیں وہ نمبر یاد ہے جس پر تم مجھ سے بات کرتی تھیں۔۔"افگن نے اس کی بات نظر انداز کرتے سوال کیا تھا۔ "نہیں افگن آپ کو پتہ تو ہے مجھے تو اپنے اکاؤنٹ کا پاس ورڈ یاد نہیں رہتا تو نمبر ۔۔۔۔۔۔۔مگر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔۔" وہ جو چہرے پر مسکراتے لئے روانگی میں بول رہی تھی۔ذرا چونک کر استفساریہ لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔۔۔ "آہاں!!! دراصل وہ نمبر مس ہوگیا ہے میرے پاس۔۔تو میں نے سوچا تمھیں یادہوگا تو کسی فرانچائیز پر جاكر نمبر بلاک کروادونگا۔۔۔"بالوں میں ہاتھ پھیر کر اپنے اضطراب پر قابو کرتا وہ فی الحال بات بنا گیا تھا۔۔ "اوہ!!اچھا۔۔۔ویسے میرا موبائل تو دیں مجھے۔۔ابھی مجھے ایک ڈرامہ دیکھنا تھا۔۔۔"بالوں کو کان کے پیچھے اُڑستی وہ معصوم چہرہ بنا کر بولی تھی۔۔جس نے ایک گھوری سے نوازہ تھا۔۔ "چپ چاپ بیڈ پر جاكر لیٹو۔۔صبح جلدی اُٹھنا ہے تمھیں۔۔پہلے میں آفس جاؤنگا۔۔پھر تمھیں شاپنگ پر بھی لے کر جانا ہے۔۔"ایک گھورتی نگاہ ڈال وہ آرڈر دینے والے انداز میں بولا۔۔ "مگر مجھے تو نیند نہیں آرہی۔۔"وہ اب تک اپنی جگہ پر ہی جم کر بیٹھی تھی۔۔ "مگر میڈم مجھے بہت نیند آرہی ہے۔۔۔آج آپ نے سارا دن مجھے پریشان رکھا ہے۔۔۔۔جلدی سے لائٹ آف کر کے یہاں میرے پاس آکر لیٹو۔۔نیند بھی آجائے گی۔۔"بیڈ پر لیٹ کر ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھتا وہ خشمگیں نگاہوں سے گھور کر بولا۔۔جو منہ بنا کر اٹُھتی لائٹ آف کر کے دوسری جانب سے آتی اس کے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئی تھی۔۔ "افگن!!!" همم!!!وہ جو آنکھیں بند کئے بالوں میں ہاتھ چلانے لگا تھا۔۔اس کی پکار پر آنکھیں کھول گیا۔۔ "اُجالا ایسا کیوں کہ رہی تھی کہ شیرافگن کی دوست اور بھی بہت کچھ۔۔۔۔"نائٹ بلب کی روشنی میں شیرافگن نے نظر جھکا کر اس کے چہرہ کی جانب دیکھا جو اب معصوم سی نظریں اُٹھا کر اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ "حیات زیادہ نہیں سوچو ۔۔سو جاؤ۔۔"اس کے ماتھے پر پیار کرتا وہ نرم مسکراہٹ سے گویا ہوا۔ "بتائیں نہ ورنہ میں ناراض ہو جاؤنگی۔۔"معصوم سی دھمکی دیتی وہ باضد ہوئی۔ "ہو جاؤ ناراض۔۔"وہ مسکراہٹ ضبط کرگیا۔ "شیر افگن!!وہ غصّے میں اس کے سینے پر ایک مکا جڑ گئی۔ "حیات یار سو جاؤ!!اُجالا صرف تم سے مذاق کر رہی تھی۔۔تمہارا جيلس انداز دیکھ اُسے مزہ آرہا تھا۔۔"شیرافگن نے سینے پر دھرا اس کا نازک سا ہاتھ اٹُھا کر لبوں سے لگایا تھا۔۔ "پکی بات ہے؟وہ ذرا سا اُٹھ کر مقابل آتی مشکوک لہجے میں بولی۔۔ "بالکل پکّی بات ہے مائے لو۔۔۔اب جلدی سے سو جاؤ۔۔۔ورنہ میں تمھیں اب سوئینگ پول میں پھینک آؤنگا۔۔"ٹھرٹھراتی سردی میں دی گئی اِس قدر خطرناک دھمکی کار گر ثابت ہوئی تھی۔۔ "سو جاؤ۔۔۔"اسے خاموش ہوتا دیکھ کمبل برابر کرتا وہ خود بھی آنکھیں موند گیا۔۔جبکہ دماغ کہیں اور ہی چل رہا تھا۔۔۔سوچیں تھیں جو اُسے سکون ہی نہیں لینے دے رہی تھیں۔۔۔ ---------------- جاری ہے۔۔...
