Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 30/09/2025
4 Views
Episode no 12
ہاتھ ڈال رہے ہو۔"وہ ان میں سے ایک کے چہرے پر بوٹ کی کاری ضرب لگتا غصّے سے دهاڑا تھا۔۔جس نے کچھ دِیر قبل عابثہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ "معاف معاف کردو بھائی۔۔اب ہم کبھی ایسا نہیں کریں گے۔۔"درد کی شدّت سے ٹرپتا وہ اس جلاد صفت انسان کے اگے ہاتھ جوڑ گیا۔۔ "معافی مانگنی ہے تو اس لڑکی سے مانگ۔۔جس کی عزت پر ہاتھ ڈالنے چلے تھے تم۔۔"ایک مزید پنچ پڑنے پر وہ درد سے بلبلا اُٹھا تھا۔۔عابثہ خوف سے دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔ "معاف کردو باجی۔۔ہم سے غلطی ہوگئی۔۔اب ہم کبھی کسی کی بہن بیٹی کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گے۔ہمیں معاف کردو بہن۔۔۔"وہ تینوں ہی عابثہ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑائے جو خوف سے دو قدم دور ہوئی تھی۔۔ "اُٹھو تینوں ۔۔اور دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔اور خبردار جو آئندہ کسی کی بہن بیٹی پر بُری نگاہ ڈالی تو۔"وہ سرد تاثرات سے طیش سے سُرخ پڑتی نگاہوں سے تنبیہ لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔جبکہ وہ تینوں ہی درد سے کراہتے سر پٹ دوڑ اُٹھے تھے۔۔ ارتضٰی نے ایک تاسفی نگاہ اس کے وجود پر ڈالی تھی۔۔جو ہاتھوں سے کندھا دُرست کرتی بال آگے رکھ رہی تھی۔۔۔ایک خاموش نگاہ ڈال وه اس کی جانب سے رُخ پھیر گیا تھا۔۔جو شرمندگی کے باعث نظر تک نہیں ملا رہی تھی۔۔۔وہ اکثر ہی یہاں آتا رہتا تھا۔۔سناٹے میں گونجتی لڑکی کی آواز سُن وہ جلدی سے اس جانب آیا تھا۔اور اپنے سامنے عابثہ کو دیکھ ایک لمحے میں پہچان گیا تھا۔۔۔ "لڑکی یہ جیکٹ پہن لو۔۔"اپنی لیدر کی جیکٹ اٌتار کر اس کی جانب بڑھاتے ارتٰضی نے نگاہیں اب بھی جھکا رکھی تھی۔۔جو وہ خاموشی سے تھام چکی تھی۔۔ "گھر کیسے جاؤگی۔۔"جب وہ اس کی جیکٹ پہننے کے باوجود بھی پتھر کی بنی کھڑی رہی تو وہ سرد لہجے میں بولتا اسے ہوش کی دنیا میں لایا۔۔ "گاڑ ۔۔ی ہے میرے پاس۔۔۔"پہلی بار ہاں پہلی بار کسی شخص کے مقابل عابثہ کی نظریں بھی جھک گئی تھیں۔۔اور الفاظ لڑکھڑا سے گئے تھے۔۔۔ "محترمہ آپ جانتی بھی ہیں کہ اس وقت رات کے کتنے بج رہے ہیں؟؟جو آپ ایک آوارہ لڑکے کی طرح سڑکوں کی خاک چھانتی پھر رہی ہیں۔۔"اس بار ارتضٰی عابثہ پر غصّےسے چڑ ڈورا تھا۔ "وہ میں۔۔۔سوری مجھے پتہ ہی نہیں چلا وہ لڑ کے کب یہاں اگئے۔۔۔"تھوک نگل کر وہ صفائیہ انداز میں بولی دونوں ہی کی نگاہیں مخالف سمت میں تھیں۔۔ "یو نو وہاٹ!!!وہ لڑکے بدمعاش تھے جو تھے۔۔البتہ اس سارے قصّے میں آپ بھی برابر کی شریک ہیں۔ ۔رات کے اس پہر تن تنہا اکیلی نکل آئی ہیں۔۔جانتی بھی ہیں رات کی یہ وحشت بھری خاموشی ایک اکیلی لڑکی کے لئے کس قدر خطرناک ہوتی ہے۔۔۔خود دعوت گناہ دیتی پھررہی ہیں آپ۔انہونے تو موقع کا فائدہ اُٹھانا ہی تھا۔۔تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے محترمہ۔۔"وہ غصّے میں اپنے لفظوں پر غور کئے بغیر درشتگی سے گویا ہوا۔۔ "اب آپ زیادتی کر رہے ہیں۔۔میں کوئی دعوت گناہ نہیں دے رہی تھی۔۔کیا ایک لڑکی کا کوئی حق نہیں کہ وہ کھلی فضا میں سانس لے سکے۔۔۔"نجانے کیوں مگر وہ آنکھوں میں آنسو لئے پوچھ بیٹھی تھی۔۔جیکٹ میں بسی پرفیوم کی خوشبو ایسے اپنے حواسوں پر سوار ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ "حق ہے بالکل حق ہے۔۔۔مگر عورت ذات کو ہر کام وقت اور حالات کو مد نظر رکھ کر کرنا چاہئے۔۔ایک عورت اپنے عمل سے ایک اچھا معاشرہ تشکیل بھی دے سکتی ہے۔۔اور وہی عورت ایک شیطانی عمل سے معاشرہ بگاڑ بھی سکتی ہے۔۔"اس کے لہجے میں بلا کی سختی تھی۔۔ "آپ اگر مائنڈ نہ کریں تو میری کار میں ساتھ آجائیں۔۔آپ کی گاڑی صبح آپ کے گھر پہنچ جائے گی۔"اس بار وہ رسانیت سے گویا ہوا تھا۔۔ "نہیں بہت شکریہ!!میں کسی کا احسان نہیں لیتی۔۔آپ نے جو کچھ میرے لئے کئے اس کے لئے میں ساری زندگی آپ کی قرضدار رہونگی۔۔"وہ سپاٹ لہجے میں بولتی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکی تھی۔۔ عابثہ اسماعیل نے زندگی میں اور بھی بہت سے بُرے حادثات کا سامنا کیا ہے ۔ تو جناب یہ کیا معنی رکھتا ہے۔۔"سر جھٹک کر خود ساختہ سوچتی وہ اسپیڈ میں گاڑ ی بھگا لے گئی۔جبکہ وہ بھی برق رفتاری سے گاڑی میں بیٹھتا اِسے فالو کرنے لگا تھا۔۔جو اب رات کا فائدہ اُٹھا کر سارے سگنلز توڑتی اسپیڈ میں جارہی تھی۔۔ارتضٰی نے تاسف سے ٹريفک پولیس اہلکارکو دیکھا تھا۔۔جو ڈرائیونگ سیٹ پر لڑکی کو براجمان دیکھ ٹھر گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فردوس منزل کے صدر دروازه کی دہلیز عبور کرتی عابثہ کی گاڑی کو دیکھ وہ بھی اپنی گاڑی بهگا لے گیا تھا۔۔۔جبکہ کار پورچ میں بہت خاموشی سے گاڑی کھڑی کرتی وہ دبے قدموں سے اپنے روم میں جانا چاہ رہی تھی۔۔۔ "اے لڑکی "۔۔۔رُکو ذرا۔۔۔"نانی بیگم کی سخت آواز نے اس کے قدموں کو ٹھٹھک کر ٹھرنے پر مجبور کردیا تھا۔ "جی۔۔"وہی بیزار سا لہجہ۔۔ "اتنی رات کو کس کی اجازت سے باہر گئی تھیں۔۔"لاؤنج میں پڑے جھولے پر بیٹھیں وہ بہت غصّے میں نظر آرہی تھیں۔ "مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔"انداز میں تلخی گھل گئی تھی۔ "اگر ہم نے تمھیں ڈھیل دے رکھی ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ تم بے لگام ہوجاؤ۔۔۔اور یہ تم نے کس لڑکے کی جیکٹ پہن رکھی ہے۔۔۔"کرخت لہجے میں باور کراتی۔وہ اس بار تنقیدی نظروں سے اس کے سراپے کا جائزہ لیتیں سختی سے گویا ہوئیں تھیں۔۔ "یہ جیکٹ میری دوست کی ہے۔۔اور پلیزاپنے آپ کو زیادہ تفشیشی آفسر سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔"اُن کو یکدم غصّہ آیا۔۔۔۔ ۔""عابثہ اسماعیل اپنی زبان کو لگام دو۔۔"اس کی بدلحاظی پر وہ چیخ اُٹھیں۔۔ "آپ یہاں آرام سے تشریف رکھیں اور پورے شوق سے آدھی رات میں اپنا چیخنے چلانے کا شوق پورا کریں۔۔میں جارہی ہوں سُونے۔۔"غصّے سے بولتی وہ دهپ دهپ کرتی سیڑھیاں عبور کر گئی تھی۔۔۔۔جبکہ وہ غصّے سے بہت کچھ سوچے کل سویرے ہی عابثہ کی عقل ٹھکانے کا اِرادہ کرچکی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیرافگن نے حیات کی ہمراہی میں رات کا کھانا بہت خوش گوار انداز میں کھایا تھا۔۔شیر کا خوشگوار موڈ دیکھتی وہ بھی ہلکی پھلکی سی ہوگئی تھی۔۔ "حیات اُٹھو!! یہ موبائل رکھو فوراً۔۔۔۔"چینجنگ روم سے باہر آتا وہ اِسے صوفے نيم دراز ہنوز موبائل میں مگن دیکھ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔ "افگن!!!"وہ ذرا مصروف سی بولی تھی پیشانی پر شکنوں کا جال سا بنُا ہوا تھا۔۔وہ ذرا جھنجھلائی جھنجھلائی سی تھی۔۔ "ہمم!!سنگھار آئینہ کے سامنے کھڑا اپنا بال سیٹ کرتا وہ ہنکار بھر گیا۔۔ "آپ نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ ڈلیٹ کردیا کیا؟حیات کے غیر متوقع سوال پر وه چونک کر پلٹا تھا۔۔ "کونسا اکاؤنٹ!!!وہ ہوا کی سی رفتار سے اس کے نزدیک چلا آیا تھا۔ "افف افگن!!!آپ کا فیس بک اکاؤنٹ!!پہلے تو میں آپ کے پاس فرینڈ تھی مگر اب میں اپنی آئی ڈی سے سرچ کر رہی ہوں تو مل ہی نہیں رہا۔۔"وہ ذرا زچ ہوکر بولی تھی۔ "تمہاری پرانی آئی ڈی کا کیا پاسورڈ ہے؟"افگن نے تیزی سے اس کے ہاتھ سے موبائل لیا تھا۔۔ "وہ تو میں بھول گئی۔۔اور وہ اکاؤنٹ تو ڈی ڈلیٹ ہوچکا ہے۔۔شاید گھر میں کسی نے کیا ہو۔۔"وہ متوازن لہجے میں ذرا افسوس سے بولی تھی۔۔ "تو پھر سے بنا لو۔۔"افگن تفشیش میں مبتلہ ہو چکا تھا۔ "وہ نمبر تو گھر ہی رہ گیا تھا۔۔اب اس نمبر پر کیسے اکاؤنٹ بناؤ میں۔۔آپ نے جو نمبر لے کر دیا ہے اس پر اب میں نے نیو اکاؤنٹ بنایا ہے۔۔آپ اپنی آئی ڈی سرچ کر کے دیں مجھے۔۔۔آپ کا اولڈ اکاؤنٹ تو مجھے مل ہی نہیں رہا۔۔۔"وہ مگن
