Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 30/09/2025
4 Views
Episode no 12
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #لکھاری_ہما_قریشی #قسط_نمبر_12 ______________ شیرافگن حیات کا نازک سا ہاتھ اپنے ہاتھوں کی مضبوط گرفت میں تھامے بیٹھا نجانے کتنی ہی بار لبوں سے لگا چکا تھا۔۔جو شام سے گہری نیند میں سوئی اُس کے سکُون کا بیڑا غرق کر چکی تھی۔۔ "حیات۔۔۔۔حیات میری جان اب جاگ بھی جاؤ۔۔کب سے سُو رہی ہو۔نیند پُوری نہیں ہوئی تمہاری۔۔"اُس کی پلکوں میں لرزش محسوس کرتا وہ اُس پر جھکا پکار بیٹھا تھا۔۔ "حیات۔۔شاباش فوراً اُٹھو۔کچھ کھا لو پھر تم نے میڈيسن بھی لینی ہے۔"اُس پر جھکا وہ محبّت سے جگا رہا تھا۔جو جان بوجھ کر آنکھیں بند کئے لیٹی تھی۔ "حیات۔۔۔"جواب ندار۔۔"" "مسز بس بہت خدمت کروالی آپ نے۔اب میں سختی کرنے سے دور نہیں ہوں۔۔مجھے معلوم ہے تم جاگ رہی ہو۔فوراً اُٹھ جاؤ۔"اس کی پلکوں کی جنبش پر دھیرے سے چھوتا وہ اب بھی نرمی سے گویا ہوا تھا۔ "گڈ گرل!!چلو جلدی سے فریش ہوجاؤ۔۔اور کتنا سونا ہے یار تم نے۔۔"اُسے آنکھیں وا کرتا دیکھ دلکشی سے مسکرایا۔ "اُٹھ جاؤ یار!!صبح سے تم نے میری جان آدھی کی ہوئی ہے۔۔خود تو مزے سے نیندیں پوری کر رہی ہو۔اور میں انتظار میں بیٹھا پاگل ہو رہا ہوں کہ کب بیگم صاحبہ کی نیند پوری ہو اور وہ ناچیز پر نظریں کرم فرمادیں۔"وہ شوخ لہجے میں بولتا دھیرے سے مسکرایا تھا۔۔ "آپ آج آفس نہیں گئے۔۔۔"کہنیوں کے بل اُٹھتے حیات نے چہرہ پر آئے بالوں کو پیچھے کرنا چاہا جو وہ محبّت سے ہاتھ بڑھاکر خود سنوار گیا تھا۔ "میری بیوی مجھ سے ناراض ہو کر اپنی طبیعت خراب کئے بیٹھی ہے۔اور میں اُسے منائے بغیر اُس کی خفگی دور کئے بغیر ہی آفس چلا جاؤں۔۔۔اتنا بے مروت اور کھڑوس نظر آتا ہوں میں تمھیں۔۔ "اس کا ہاتھ تھام کر ایک بار پھر لبوں سے لگاتا چمکتی نگاہیں اس کی خشک تاثر نگاہوں میں ڈالتا وہ ہولے سے مسکرایا تھا۔۔ "میں کب ناراض ہوئی۔"زبردستی ہاتھ چھوڑانے کی کوشش کرتی وہ نروٹھے پن سے بولی۔ "آہوں ۔۔اس کی کوشش نکام بنتا وہ ہاتھ تھام کر نزدیک کر چکا تھا۔۔ "ناراض نہیں ہو تو چہرہ پر بارہ کیوں بجے ہوئے ہیں؟ساری رات اکیلے گاڑی میں کیوں گزار دی۔۔جانتی ہو صبح گھر میں تمہاری غیرموجودگی محسوس کر مجھ پر کیا گزری تھی۔"چہرہ پر جھولتی ایک شرارتی سی لٹ کو کان کے پیچھے اُڑس کر بھاری لہجے میں بولتا وہ شکوہ کر گیا تھا۔ "وہ میں۔۔۔رات پتہ ہی نہیں چلا۔۔"شیرافگن کی آنکھوں میں شکوہ دیکھ وہ شرمنده سی نگاہیں جھکا گئی تھی۔ "یہاں دیکھو میری طرف۔۔ جانتا ہوں کچھ روز سے میرا رویہ تمہارے ساتھ بالکل بھی اچھا نہیں رہا ہے۔۔اپنی غلطی کا بھی احساس ہے مجھے۔۔مگر ایسا نہیں ہے کہ مجھے تمہاری پرواہ نہیں ہے۔۔۔تم سے تمہارے جتنی محبّت نہ صحیح مگر میں اب تمہارے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتا۔۔ہماری شادی جن حالات میں ہوئی ہے۔۔اور جو کچھ اس وقت میں فیس کر رہا ہوں۔۔حیات ہمیں اپنے اس رشتہ کو تھوڑا وقت دینا ہوگا۔۔ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے جاننے کے لئے۔۔ایک دوسرے کی فیلنگز کو انڈراسٹینڈ کرنے کے لئے۔۔سمجھ رہی ہو نا میں کیا کہ رہا ہوں۔۔"اس کا زرد پڑتا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں تھامے بیٹھا وہ بہت محبّت سے بول رہا تھا۔۔جبکہ وہ یک ٹک بس اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔جس کے لہجے میں رات والی تلخی کا شبہ تک نہ تھا۔۔ "مگر آپ مجھ پر اتنا غصّہ کیوں کرتے ہیں۔۔ہماری شادی سے پہلے تو آپ نے کبھی مجھ پر غصّہ نہیں کیا۔"اُس کے معصوم سے شکوے پر وہ آنکھیں میچ کر کھولتا ایک گہری سانس بھر کر پیچھے ہوگیا تھا۔۔ "حیات ایک بات بولوں۔۔"اُس کی جانب سے رُخ مخالف سمت میں پھیرکر بیٹھتا وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تھا۔ "دو نامحرموں کے درمیان شادی سے پہلے کی جو بھی محبّت ہوتی ہے۔۔وہ محبّت نہیں صرف ایک اٹریکشن ہوتی ہے یا پھر عادت۔۔۔اور عادتیں بُری ہوتی ہیں جان لیوا ہوتی ہیں۔۔شادی سے پہلے ہمارے بیچ جو بھی گفتگو ہوئی۔۔یا ہمارے درمیان جو بھی محبت سے بھرپور عہد و پیمان تھے۔انُہیں بھول جاؤ۔۔اور بس ہمارا آج یاد رکھو۔۔اور مستقبل کے کل کو خوبصورت بنانے کی کوشش کرو۔۔کیونکہ شیرافگن ہاشمی حیات کاظمی سے کبھی محبّت نہیں کر سکتا مگر۔۔۔"حیات سانس روکے اُسے سُن رہی تھی جس کی نظریں غیر مرئی نکتے پر مركوز تھیں۔ "مگر میں مسز حیات شیرافگن ہاشمی سے عشق کرنا چاہتا ہوں۔۔میں چاہتا ہوں ہمارے رشتہ میں ماضی کی کسی غلطی کا ذکر نہ ہو۔۔۔شادی سے پہلا کا آفئیر ایک لڑکے اور لڑکی کی زندگی کا سب سے بُرا پہلو ہوتا ہے۔۔اور میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنی اس غلطی کو سُدھار لیں۔اپنی زندگی سے اِس بے معنی رشتہ کا چیپٹر کلوز کر کے۔۔۔"وہ بہت دھیرے سے بولتا اَب اپنا رُخ اُس کی جانب پھیر چکا تھا۔۔جو دم سادھے اُسے سن رہی تھی۔ "آپ سہی بول رہے ہیں افگن۔۔۔شادی سے پہلے آپ کے ساتھ آفئیر میں رہنا میری زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔۔۔میں نے اپنے ماما بابا کا بہت دل دُکھایا ہے افگن۔۔میں نے اُنہیں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔۔میں ایک بہت برُی بیٹی ہوں۔۔۔"روہانسو سے لہجے میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتی وہ پھپھک کر رو پڑی تھی۔۔ "شش!!!میں نے کہا نا ہم ماضی کی کسی بات کو یاد نہیں کریں گے۔۔۔اپنے پاسٹ کو ایک بُرا خواب سمجھ کر بھول جاؤ۔۔اور بس ہمارے آنے والے کل کے بارے میں سوچو۔۔"حیات جو آنسوؤں سے رو رہی تھی اس کی اچانک بات پر ٹھر سی گئی۔ "مگر میرے بابا۔۔۔"وہ ہچکی بھر کر رہ گئی۔۔ "دعا کیا کرو۔۔بے شک وہ اچھی جگہ اور ہم برُی جگہ ہیں۔"اگے بڑھ کر اس کا سر اپنے کندھے سے لگاتا وہ دلاسہ دینے کے انداز میں بولا تھا۔۔جو سہارا ملتے ہی زور زور سے رونے لگی تھی۔افگن نے اُسے رونے دیا تھا۔۔ایک آخری بار دل کا غبار نکالنے دیا تھا۔۔آہستہ سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا پر سکون کر رہا تھا۔۔جس کی اب ہچکیآں تھم گئی تھیں۔۔ "بس رو لیا۔۔یا ابھی مزید رونا ہے۔۔"وہ چہرہ خشک کرتی پیچھے ہوگئی تھی۔۔ "چلو جلدی سے سمائل کر کے دکھاؤ مجھے۔۔جب سے آیا ہوں۔۔تم تو روندو شکل بیوی کی طرح بس آنسو ہی بہائے جارہی ہو۔۔"حیات نے نم پلکوں کے پیچھے سے اسے خفگی سے گھورا تھا۔ "چلو بہت رو اور گھور لیا معصوم سے ہزبنڈ کو۔۔جلدی سے فریش ہوکر نیچے اؤ۔۔میں نازو سے ڈنر کا بولتا ہوں۔۔ "زبردستی اُٹھا کر واش روم کی جانب دھکیلتا وہ روم سے باہر نکل گیاتھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کی تاريكی،سمندر کی لہروں کا شور،اور مقابل کا جنونی انداز عابثہ اسماعیل گھٹنوں تک آتی اپنی شرٹ کا دامن سختی سے مٹھی میں تھامے خوف زدہ نگاہوں سے ارتضٰی عبّاس کو لڑکوں کو پیٹتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔جس پر شدید جنون سوار تھا۔۔پے در پے پڑنے والے مكوں اور لاتوں سے وہ تینوں لڑکے آدھ موئے سے ہو گئے تھے۔۔۔جبکہ وہ ایک اکیلا ہی ان تینوں پر بھاری پڑ گیا تھا۔۔ ہوا کے دوش پر لہراتے بال اور اُس کا بکھرا سا سراپا۔۔۔آج شدّت سے عابثہ کو دوپٹہ کی اہمیت کی قدر ہوئی تھی۔۔جو اس نے ہمیشہ کی طرح آج بھی لینا ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔ "معاف ۔۔معاف کردو بھائی۔۔۔"بلآخر جب وہ لڑکے اس کی مار کھا کھا کر تھک گئے تو جلدی سے پیروں میں گرے معافی مانگنے لگے تھے۔۔جس نے حقآرت بھرے انداز میں پیچھے دھکیلا تھا۔۔ "الو کے پٹھو۔۔۔اپنے حلیے سے تو تم کسی مہذب خاندان کا حصّہ لگ رہے ہو۔۔۔بے غیرتوں تمہارے گھر میں ماں بہنیں موجود نہیں ہیں۔۔جو کسی کی عزت پر
