Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/09/2025
4 Views
Episode no 08
تمہیں اپنے فیورٹ کیفے کی بہترین سی کافی پلاتا ہوں ۔۔کیا میں نے کبھی تمہیں اس کے بارے میں بتایا تھا؟؟‘‘وہ سندھی مسلم پر ایک کیفےکے سامنے گاڑی لگاتا سوالیہ انداز میں بولا۔۔تو وہ کشمکش کا شکار نفی میں سر ہلا کر رہ گئی۔ ’’چلو تو پھر تم بیٹھو۔۔میں بس یوں گیا اور یوں آیا۔۔‘‘اس کا ارادہ اب بس سیدھا گھر جانے کا تھا۔۔۔۔جبکہ وہ خاموشی سے سیٹ سے سر ٹیکائے آنکھیں موند گئی تھی۔ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عابثہ کی جانب سے آج کل مکمل خاموشی تھی۔گھر میں مینا کی شادی کی تیاریاں زوروشور سے جاری تھیں۔گھر کا ہر فرد اپنی دنیا میں مگن تھا۔ ابھی وہ اپنے کمرے میں ہی موجود تھی۔جب ہالہ بغیر اجازت دھڑام سے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔بیڈ پر نیم دراز عابثہ نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ "تمھیں کسی کے کمرے میں داخل ہونے کی تمیز نہیں ہے کیا!!"عابثہ سنجیدہ لہجے میں ناگواری سے گویا ہوئی۔ "کس کا کمرہ؟؟"وہ آئی برو اٹھاتی کمر پر ہاتھ رکھے استہزایہ لہجے میں گویا ہوئی۔۔ "کیا کام ہے۔"عابثہ اس کا سوال نظر انداز کرتی سپاٹ انداز میں سوالیہ بولی۔ "تمہاری اتنی اوقات ہے بھی کہ تم میرے کسی کام آسکو۔"ہالہ ایک پیر اُٹھا کر اس کے نزدیک رکھتی ہوئی تفخر بھرے انداز میں بولتی مسکرائی۔ "عزت کے دائرہ میں اپنی شکل گم کرو یہاں سے۔ورنہ اس بار میں اپنی اوقات اور پاور لفاظی میں نہیں بلکہ عملیہ انداز میں بہت اچھی طرح باور کرواونگی تمھیں۔۔"عابثہ نے مسسل شرارت سے اپنی تھائی پر اس کے پاؤں کی انگلیاں ٹچ ہوتی دیکھ ضبط سے اؤ دیکھا نا تاؤ اور ایک لمحے میں پیچھے کو دکھا دیا تھا۔۔ "آ ہ ہ ہ !!!جاہل ۔۔۔۔"ہالہ کے انداز میں چھپی حقارت پہلے ہی اسے جلا کر رکھ گئی تھی سونے پہ سہاگا اس کا اس قدر گرا ہوا عمل دیکھ عابثہ نے بھی کسی قسم کا کوئی لحاظ پاس نہیں رکھا تھا۔ "جاہل میں نہیں جاہل تم ہو۔جیسے اتنی بھی تمیز نہیں کہ کسی انسان کو پیروں سے نہیں مارتے وہ بھی اس جاہلانہ انداز میں۔"وہ طیش میں غرائی تھی۔آج کل دماغ ویسے ہی اپنی جگہ پر نہیں تھا۔ "صبر کر جاؤ تم۔۔۔دو ٹکے کی لڑکی۔۔ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والی۔ہمیں ہی آنکھیں دکھا رہی ہے۔"ہالہ کے طرز تخاطب نہایت ہی چیپ تھا۔پاس رکھا شو پیس اٹھاتی وہ غصّہ سے اس کی جانب بڑھی تھی۔ "کیا کرلو گی تم جاہل لڑکی۔نیچے رکھو اس کو ورنہ تمہارا قتل کردونگی۔"عابثہ تیزی میں بیڈ کی دوسری جانب کودپڑی تھی۔ "بھاگ کہاں رہی ہو ڈرپوک۔۔"ہالہ نے بغیر سوچے سمجھے عابثہ کی جانب بھاری شو پس پھینک دیا تھا۔عابثہ کی چیخ بے ساختہ تھی۔۔ "اللہ خیر کرے۔۔ہآلہ یہ کیا بدتمیزی ہے بیٹا۔۔"عابثہ اگر بروقت نہ جھکتی تو شاید اب تک اس کا سر کھل چکا ہوتا ۔ " چچی جان یہ دو ٹکے کی لڑکی مجھ سے مجھ سے میری اوقات پوچھ رہی ہے۔"وہ تو اپے سے باہر ہو رہی تھی۔ "رک جاؤ بیٹا۔۔۔بس کچھ دن اور برداشت کرلو اس منہوس کو پھر تو جلد ہمیشہ کے لئے ہماری زندگیوں سے دفعہ ہو جائے گی۔۔"عابثہ نے دکھ سے مسکرا کر سر جھٹکا تھا۔ "اؤ ڈرامے باز!اب ذرا اپنی منحوس شکل درست کر کے فورا نیچے پہنچوں۔۔تمہاری نانی بلا رہی ہیں۔"ہالہ کو زبردستی کہنی سے کھینچتی ہوئی وہ اپنے ساتھ نیچےلے گئی تھیں۔ عابثہ آنکھوں میں آئی نمی بیدردی سے رگڑتی اپنے كپڑے درست کرتی نیچے کی جانب بڑھی تھی۔۔جہاں ایک اور امتحان اس کا منتظر تھا۔۔ گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے ،۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "یہ لیں بہن یہ آگئی میری نواسی۔۔"نانی صاحبہ نے ڈرائنگ روم میں انٹر ہوتی عابثہ کو دیکھ بڑی خوش دلی سے کہا تھا۔جبکہ عابثہ حیرانگی کے عالم میں سست روی سے چلتی نزدیک آئی تھی۔جہاں دونوں ماماياں اور نانی صاحبہ کے کی ہمراہی میں کوئی خاتون اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھیں۔جن کی اس کی طرف پیٹھ تھی۔ "السلام عليكم!نانی کی گھورتی نگاہوں کو دیکھ اس نے فوری سلام جھاڑا تھا۔۔جبکہ وہ خاتون اب باقاعدہ اس کی جانب گھومتی ہوئی ذراحیرانگی کے عالم میں جانچتی ہوئی نگاہوں سے اسے ہی گھورنے میں مصروف تھیں۔ "تم۔۔۔۔۔"انہیں عابثہ کا چہرہ دیکھا ہوا لگ رہا تھا۔جبکہ ان کا بیٹا ایک نظر ڈال کر رُخ پھیر گیا تھا۔ "یہ میری نواسی ہے۔بڑی ہی پیاری اور فرمابردار بچی ہے ہماری عابثہ۔۔"نانی بیگم کی شیری بيانی پر وہ پورے دیدے پھاڑکر انہیں ہی تک رہی تھی۔وہاں موجود کسی بھی وجود پر اس نے توجہ دینا ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔ ڈرائنگ روم کے عین بیچ میں ساکت کھڑی عابثہ پر سامنے بیٹھی خاتون کی کھوجتی ہوئی نگاہیں مرکوز تھیں۔جس کا دھیان نانی کی شیری بيانی کی جانب مرکوز تھا۔۔ "تم وہی ہو نا جس نے میرے بچے کا سر پھاڑ دیا تھا۔۔"وہ جو بیچارہ اپنی ماں کو مسلسل خاموش رہنے کااشارہ کر رہا تھا۔بلآخر اپنی عزت یوں سب کے بیچ میں نیلام ہوتی دیکھ شرم سے پانی پانی ہوگیا۔ "کیا؟؟؟"سب کی حیران کن آواز نے عابثہ کو بھی چونکنے پر مجبور کردیا تھا۔ "معاف کیجئے گا بہن۔۔۔مجھے آپ کی نواسی کا رشتہ منظور نہیں ہے۔"وہ عابثہ کو پہچان چکی تھیں۔ "مگر کیوں۔۔"سوال بڑی مامی کی جانب سے آیا تھا۔ "ممی پلیز!"بیچارے عاشر نے اپنی ماں کو دیکھ نظروں ہی نظروں میں چپ رہنا کا اشارہ کیا تھا۔وہ ایک ہی اسکول کے سٹوڈنٹ تھے۔۔عاشر جب میٹرک میں تھا عابثہ اس وقت تھری کلاس میں تھی۔اور ایک بار بچوں بچوں کی لڑآئی میں وہ اپنے سے کئی سال بڑے عاشر کا سر کھول چکی تھی۔۔ "معاف کیجئے گا بہن۔آج سے کچھ سال پہلے آپ کی یہ چھنٹاک بھر کی نواسی نے میرے جوان سال بچے کا سر پھاڑ دیا تھا۔اللہ جانے اب کس قدر لڑاکا ہوگی۔"وہ عابثہ کو گھور کر بولیں۔ "آپ کےبھی اس جوان سال بیٹے نے بھی مجھ معصوم بچی کے آنکھ پر مکا مار دیا تھا صرف اپنی بہن کو خوش کرنے کی خاطر۔۔"اس بار عابثہ نے بھی ٹرخ کر جواب دیا تھا۔ "تو تم کونسا اندھی ہوگئی تھیں بی بی۔۔جو اتنا رونا ڈال رہی ہو۔"وہ خاتون بھی کچھ زیادہ ہی تیز مزاج تھیں۔ "تو آپ کا بیٹا کونسا ابھی تک کھلا ہوا سر لئے گھوم رہا ہے۔جو آپ کو فضول کا روگ لگ گیا ہے۔۔۔اور ہاں بالکل درست سمجھا آپ نے۔۔وہ میرا بچپن تھا۔اب تو میں اور بھی زیادہ تیز زبان ہوگئی ہوں۔"عابثہ کو بھی اس چپڑ گنجو جیسے شخص کو دیکھ تپ چڑھ گئی تھی۔ "توبہ توبہ چلو عاشر۔۔ہمیں یہاں رشتہ نہیں کرنا۔"وہ جزبز سی ہوکر فوراً اُٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔جبکہ گھر کے باقی سب افراد ہونقوں کی طرح انہیں گھور رہے تھے۔ "ہاں جائیں جائیں۔۔وہ رہا دروازه۔۔ویسے بھی آپ کے اس چپڑ گنجو جیسے بیٹے سے کوئی اسی کی طرح کی سائکو کنیا ہی شادی کرے گی۔۔"عابثہ نے بھی تیز لہجے میں حساب بے باک کیا تھا۔جبکہ عاشر بیچارہ مسلسل اپنی ہوتی بے عزتی پر خفت سے سرخ پڑگیا تھا۔ "چلو عاشر وہاں کیوں رُک گئے ہو۔۔""ڈرائنگ روم کے پاس ٹھر کر انہوں نے اپنے بیٹے کو تیز لہجے میں پکارا تھا۔جو چند لمحوں کے لئے عابثہ کے پاس ٹھر گیا تھا۔جو کینہ توز نظروں سے ایسے ہی گھور رہی تھی۔۔ "جی ماما چلیں۔۔"وہ عابثہ کو ایک تاسفی نگاہ سے نوازتا اپنی ماں کے پیچھے بڑھا تھا۔۔ "آئندہ کسی بھی ایرے غیرے کو میرے رشتہ کے لئے بلانے سے پہلے مجھ
