Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/09/2025
4 Views
Episode no 08
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_8 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سُرخ پتھر کے صنم ہو یا سنگِ مرمر کے صنم بُت کدوں میں تو عبادت نہیں ہوگی ہم سے جھوٹ بھی بولیں اور صداقت کے پیمبر بھی بنیں ہم کو بخشو یہ سیاست نہیں ہوگی ہم سے دودریا اوپن آئیر رسٹورنٹ کی ٹیبل کے گرد آمنے سامنے بیٹھے شیرافگن اور حیات کھانے سے بھرپور انصاف کرتے باتوں میں بھی مشغول تھے۔بیک گراؤنڈ پہ ہلکے سروں میں چلتا میوزک اور رسٹورنٹ کی پیلی روشنی میں سامنے بیٹھا خوبصورت چہرہ دنیا جہاں کی دولت سے کئی گناہ قیمتی محسوس ہوا تھا۔حیات صرف اس سے محبت کے گُن گاتی تھی۔جبکہ وہ آہستہ آہستہ اس کا عادی ہوتا چلا جارہا تھا۔محبّت سے زیادہ جان ليوا کس کی عادت ہونا ہوتی ہے۔۔۔ سمندر پر پڑتی روشنی میں نیلا پانی ہرے رنگ کا نظر آرہا تھا۔۔سمندر کی اُونچی لہروں کو چھو کر ان کے وجود سے ٹکراتے سرد ہوا کے پر کیف جھونکے کچھ لمحوں کے لیے دماغ پر ایک سر شاری سے سوار کئے دنیا جہاں کے غم سے دور لے جاکر ایک فرحت بخش احساس بخش رہے تھے۔روح میں سرائیت کرتا یہ انوکھا سا احساس بہت دلفریب اور جان لیوا سا محسوس ہوا تھا۔شیر کھانے سے ہاتھ روک کے بے خیالی میں بس یک ٹک اُس کے چہرے کو ہی تکے جا رہا تھا جو چہروں پر رقص کرتی شرارتی لٹوں کو کان کے پیچھے کرتی کسی بات پر مسکرا کر تبصرہ کر رہی تھی۔ "شیر!" ’’شیرافگن!کہاںُ گم ہیں؟کیا آپ مجھے سُن بھی رہے ہیں؟‘‘حیات کو اس کے محو انداز پہ تعجب نے آن گھیرا تھا جو یک ٹک ایسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ’’ہاں !ہاں!کہو!‘‘وہ گڑ بڑا کر ہوش کی دنیا میں لوٹتا خفت سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔ ’’میں کہ رہی تھی کہ ہمارے ولیمے پرمیں کس کلر کا ڈریس پہنوں!‘‘حیات نے اپنا سوال دہرایا۔ ’’یار!کوئی بھی پہن لینا تم تو مجھے ہر سوٹ میں ہی اچھی لگنے لگی ہو۔‘‘بے خیالی میں وہ جذبات کی رو میں دل کی بات بول گیا تھا۔ ’’سچی!‘‘حیات کو ایک الگ ہی جذبہ نے چھو کر روح تک اطمینان پہچایا تھا۔ ’’کوئی شک ہے!‘‘سنگاپورئین رائس سے بھرا چمچ منہ میں ڈالتا وہ آئی برو اُٹھا کر بولا۔ ’’نہیں مطلب!ہم ایک دوسرے کو تین سالوں سے جانتے ہیں مگر اس سے پہلے آپ نے کبھی اس طرح اپنے جذبات کا اظہار نہیں کیا۔‘‘حیات مسکرا کر بولتی اسے چونکا گئی تھی۔ ’’مطلب!اس سے پہلے میں نے کبھی تمہیں دیکھا بھی تو نہیں تھا؟‘‘وہ پرسُوچ انداز میں گویا ہوا۔ جو وہ بول رہی تھی اگر اس بات میں زرا بھی سچائی ہوئی تو۔۔۔۔اس سے آگے اس سے سوچا ہی نہیں گیا تھا۔ ’’جھوٹ تو نابولیں شیر!دن میں سو بار تو آپ میری الگ الگ اینگل سے تصویر مانگتے تھے۔اور اب کہ رہے ہیں میں نے دیکھا نہیں تھا۔‘‘منہ بسور کر جتاتی وہ آنکھوں میں شکوہ لیےاس کے اوسان خطا کر گئی تھی۔’’حلق میں چاؤل پھنستے ہوئے محسوس ہوئے تھے ایسے ایک دم ہی پھندا سا لگا تھا۔ ’’حیات! ایک بات پوچھوں۔۔‘‘پاس رکھے گلاس سے پانی کا ایک گھونٹ بھر کر وہ اپنی کیفیت پر قابوں کر چکا تھا۔ ’’جی پوچھیں!‘‘سیلڈ کی پلیٹ سے کھیرا اُٹھا کر منہ میں رکھتی وہ خوشدلی سے بولی۔خوشی اس کے چہرہ سے عیاں تھیں۔ ’’میں جب جب تمہاری تصویر مانگتا تھا کیا تمہیں کبھی ڈر نہیں لگا کہ ایک انجان شخص تمہاری تصویر کا غلط استعمال بھی کر سکتا تھا؟‘‘اس کے سوال پر حیات کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’شیر آفگن صاحب جہاں محبت ہو وہاں محبوب کے سچے جذبوں پر شک کر کے محبت کی توہین نہیں کی جاتی۔‘‘وہ آنکھیں چھوٹی کئے ایک ادا سے بولتی شیر کے خوشگوار موڈ کا بیڑا غرق کر چکی تھی۔۔ ’’اچھا!‘‘شیر کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ اس کی اس قدر بیوقوفانہ بات پر کیا جواب دیتا۔کہ بی بی تم جو پیچھلے کئی ہفتوں سے شیرافگن ہاشمی سے محبت کا دم بھر رہی ہو وہ میں نہیں ہوں۔ ’’ویسے جب ہماری فرسٹ ٹائم فیس بک کے زریع پہلی بار بات چیت شروع ہوئی تھی۔ ان دنوں میں تو مجھے آپ سے بات کرتے ہوئے بہت ڈر لگتا تھا۔ایک جھجھک سی تھی۔مگر آہستہ آہستہ آپ کی بے پناہ محبت نے میرا یہ ڈر بھی ختم کردیا۔آج مجھے اپنی قسمت پر رشک آتا ہے۔کہ آپ میرا نصیب ہیں۔ہمارے جذبوں میں بے انتہا محبت تھی سچائی تھی۔جبھی تو آج ہماری پاک محبت ایک محرم رشتہ میں بندھ کر امر ہوگئی ہے۔‘‘حیات کے چہرے پر سکون ہی سکون تھا جیسے وہ شیر کو پاکر مکمل ہوگئی تھی۔ ’’تمہیں نہیں لگتا حیات کہ کبھی کبھی تم میری محبت میں اتنی آندھی ہوجاتی ہو۔اس قدر خود گرزی کا مظاہرہ کرتی ہو کہ اپنے پیدا کرنے والے ماں باپ کو بھی بھول جاتی ہو۔‘‘شیر کو اول روز سے تاسف نے گھیر رکھا تھا کہ اتنی جلدی وہ اپنے باپ کی موت کو بھول گئی تھی۔ ’’کہ سکتے ہیں!کیونکہ یہ محبت چیز ہی ایسسی ہے۔انسان کو اپنا ہوش ہی نہیں رہتا۔‘‘وہ سر شاری کی سی کیفیت سے دوچار آنکھیں موند کر کچھ لمحے سرک جانے کے بعد بولی۔ ’’کیا تمہیں اپنے بابا کی یادآتی ہے؟"حیات نے دُکھ سے نظریں پھیری تھیں۔افگن کی جانچتی نگاہیں اسی کے حسین مکھڑے کا طواف کر رہی تھیں۔۔ ’’جانتی ہوں اپنے وقت پر میں نے بہت خودغرضی دکھائی تھی ۔مگر گھر والوں نے مجھے وہاں سے آزمایا تھا جہاں میری برداشت کی انتہا ہوتی ہے۔‘‘وہ افسردہ ہوگئی تھی۔کہیں نا کہیں پچھتاوا تو تھا۔مگر محبت کی تکمیل کی خوشی ہر دکھ پر بازی لے گئی تھی۔ ’’خیر ہم بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ہیں۔آپ مجھے بتائیں کہ میری ڈریسنگ سے میچ کرتی ڈریسنگ ہی کریں گے نا ؟۔‘‘آج کل حیات ولیمے کو لے کر خاصی پرجوش تھی۔جبکہ شیر کا دماغ تو اب اس کی باتوں میں اُلجھ سا گیا تھا۔کون تھا آخر جو ان کے بیچ مین کسی ناسور کی طرح آن سمایا تھا۔جبکہ یہاں وہ سراسر غلط تھا۔تیسرا وجود تو وہ خود تھا۔ وہ پھر سے باتوں کا سلسلہ وہیں سے جوڑ چکی تھی۔درمیان میں جہاں سے چھوڑا تھا۔جبکہ شیر کا دماغ اس کی باتوں سے بالکل سُن ہوگیا تھا۔۔۔ دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ڈنر سے لطف آندوز ہونے کے بعد وہ دونوں لانگ ڈرایئو کے لیے نکل گئے تھے۔جب سے شیر کا موڈ اآف تھا جبکہ اب حیات بھی خاموشی سے کراچی کی سڑکیں دیکھنے میں مصروف تھی۔ ’’شیر میں بہت تھک گئیں ہوں ۔۔گھر چلیں پلیز!‘‘بلآخر خاموشی کا قفل توڑنے میں حیات نے ہی پہل کی تھی۔ ’’گھر ہی جارہے ہیں۔۔وہ سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔ ’’آپ ناراض ہیں مجھ سے۔۔‘‘حیات لب کاٹتی پر سوچ سی نظر آرہی تھی۔اسٹیرنگ ویل پر موجود ہاتھوں کی نیلی رگیں تک واضح نظر ارہی تھیں۔جو مسلسل ضبط سے کام لے رہا تھا۔حیات نجانے کیوں سہم سی گئی تھی۔ ’’نہیں تو ۔۔۔ایسا کیوں لگا تمہیں۔‘‘ایک گہری سانس بھر کر خود کو کمپوزڈ کرتا دھیمی مسکراہٹ سے گویا ہوا۔ ’’بس ویسے ہی۔۔آپ جب سے خاموش ہیں تو۔۔۔‘‘اس نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑا۔۔ ’’خاموش نہیں ہوں۔۔۔بس میں حقیقت کا پتہ لگانا چاہتا ہوں۔‘‘وہ پکی سڑک پر نظریں جمائے بولا تو حیات نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا۔۔ ’’حقیقت؟؟مگر کیسی حقیقیت؟‘‘وہ آنکھوں میں حیرانگی سموئے استفساریہ لہجے میں گویا ہوئی۔ ’’کافی پیوں گی۔۔‘‘وہ بہت رسانیت سے بات گھما گیا ۔ ’’ہاں مگر!!‘‘وہ اُلجھ گئی تھی۔ ’’بس خاموش ہوجاؤ۔۔آج میں
