Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/09/2025
6 Views
Episode no 04
نے مجھے ڈبل چلان کی دھمکی دی تھی۔‘‘وہ فل شرارت کے موڈ میں تھی جبکہ آفیسر کا چہرہ ایسا تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں۔ ’’دیکھیں اور میں نے بتایا بھی تھا کہ گاڑی کے پیچھے بڑا سا ’’ایل‘‘ بھی لکھا تھا مطلب میں ابھی گاڑی ڈرائیو کرنا سیکھ رہی ہوں۔۔مگر یہ میری بات ہی نہیں مان رہے۔‘‘مدعہ بیان کر جلدی سے نادیدہ آنسو بھی صاف کر ڈالے تھے۔ ’’ابے بکواس کر رہی سالی!نکلو باہر ابھی دماغ ٹھکانے لگاتا ہوں۔لڈیز پولیس کو بلا زرا۔‘‘ووہ بد تمیزی پر اتر آیا تھا۔۔’’ ’’جاؤ لڑکی جاؤ تم!‘‘دوسرا اہلکار وارلیس پر ایمرجنسی کی خبر ملتے ہی اسے روانہ کر چکا تھا۔رہائی کا عندیہ ملتے ہی عابثہ کی آنکھیں چمک اُٹھی تھیں۔ تیزی سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھلی۔جس کی کار اب ایف ٹی سی کے ُپل پر ہواؤں سے باتیں کرتی سندھی مسلم سوسائٹی کا ُرخ کر چکی تھی۔جبکہ وہ ٹریفک پولیس اہلکار اس کا چہرہ حفظ کر چکا تھا۔وقت آنے پر عابثہ بی بی اس غلطی کا ایک بھاری ہرجانہ ادا کرنے والی تھیں۔مگر برے وقت کی بے خبری کسی نعمت سے کم ہرگز نہیں ہوتی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آدھی رات کا وقت تھا جب شیر بہت آہستگی سے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔ نظر سیدھی بیڈ پر سوئی حیات پر گئی تھی جس کے چہرے کے تیکھے نقوش لیمپ کی مدھم روشنی میں جگمگا رہے تھے۔ وہ دروازہ بندکر آہستہ سے قدم اُٹھاتا بیڈ کے نزدیک آیا ۔اب اس کی جائزہ لیتی نظریں حیات پر ہی مرکوز تھیں۔جو آرام دہ لان کے سوٹ میں ملبوس بالوں کو پشت پر کھلا چھوڑے آنکھیں موندے گہری نیند میں تھی۔ناک دو دن سے مسلسل رونے کے باعث گلابی سی ہورہی تھی،آنکھوں پر گری مژگان پر ٹھری نمی واضح ثبوت تھی کہ اس کے جانے کے بعد وہ مسلسل روتی رہی تھی۔ جہاں تک وہ سمجھ پایا تھا ۔جو بھی تھا وہ لڑکی جھوٹ تو بالکل بھی نہیں بول رہی تھی۔بھلا کوئی لڑکی کیوں اس پر جھوٹا اغوا کا الزام لگا کر نکاح کرے گی۔وہ بھی اپنے نکاح سے ایک رات پہلے۔۔یہی سوچ سوچ کر اس کا دماغ شل ہو ہوگیا تھا۔مگر کچھ تھا جو میسنگ تھا۔ان دونوں کے بیچ کوئی تیسرا شخص ضرور موجودد تھا۔جو اس معاملہ کی کڑی سے کڑی جوڑ سکتا تھا۔۔۔مگر کون؟؟؟‘‘ ’’کل سے اب تک اس کا دماغ اسی نتیجے پر آکر کام کرنا چھوڑ دیتا تھا۔شیر ایک گہرا سانس بھر کر اپنے پیر شوز سے آزاد کرتا ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا۔کچھ ہی دیر میں نائٹ سوٹ میں ملبوس ڈریسنگ روم سے باہر آتا کچھ لمحے وہ حیات کے سر پر کھڑا کشمکش کا شکار رہا تھا۔جو بڑے حق سے اس کے بیڈ پر پھیل کر سو رہی تھی۔ایک نظر اٹھا کر صوفے کو دیکھا اور وہ کندھے اُچکا کر گھٹنوں کے بل بیڈ پر چڑھا۔ ’’حیات!ایک طرف کو ہوکر لیٹو۔میں بھی یہیں لیٹوں گا،اتنی سی لڑکی ہوکر اتنی ساری جگہ میں سو رہی ہو۔‘‘حیات کا آڑا ترچھا ہوکر لیٹنا شیر کی سلجھی ہوئی طبیعت کو سخت ناگوار گزرا ۔ ’’سونے دیں ماما!بہت نیند آئی ہے۔۔‘‘وہ غنودگی میں بولتی کروٹ بدل کر مزید اس کی طرف آئی تھی۔ ’’ہنہہ !ماما کی بیٹی ۔۔۔ماما نہیں ہوں میں۔شیر کو چڑ سی ہوئی۔ ’’سونے دیں نا یار!بہت تھکی ہوئی ہوں۔‘‘حیات کو ہوش ہوتا تو وہ زرا خیال کرتی۔ ’’چل شیر افگن اس زبردستی کی بیوی کے ساتھ اب زبردستی بیڈ بھی شئیر کرنا پڑے گا۔‘‘حیات کے معصوم سے چہرے کے نین نقش کو گھور کر وہ بڑبڑاتا ہوا یک طرف کو سمٹ کر لیٹا تھا۔ بیڈ پر لیٹتے ہی گرمی کا احساس سا جاگا تھا۔غور کرنے پر پتہ لگا۔حیات صاحبہ مزے سے اسپلٹ اف کیے کھڑکیاں کھول کر سُو رہی تھیں۔شیر نے ایک جھٹکے سے رُخ پھیر کر اندھیرے میں دهندلے نظر آتے اس کے عکس کو گھورا۔ ’’یہ کمرہ میرا ہے تمہارا نہیں۔اُٹھو۔۔کیا ُمردوں سے شرط لگا کر سوئی ہو۔‘‘شیر نے غصہٰ میں اُسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ ہی ڈالا تھا۔ ’’کیا ہوا؟’‘حیات کی نیند بڑی پکّی تھی۔وہ ابھی بھی ہاتھوں میں جھول رہی تھی۔ ’’یہ اے سی کیوں بند کیا ہے۔گرمی میں سڑا کر مارنے کا ارادہ ہے کیاَ؟‘‘شیر خفگی سے گھور کر بولتا بیڈ سے نیچے اُترا۔پیروں میں سلیپر ڈال کر ونڈو کے پاس آیا۔پہلے ساری کھڑکیاں بند کر پردہ برابر کیے پھر ریموٹ سے آئیر کنڈیشن کو بائیس پر رکھتا بڑبڑاتا ہوا واپس اپنی جگہ پر آکر لیٹا تھا۔جبکہ حیات اب اپنے بجائے اس کے تکیہ پر سر رکھ کر لیٹ گئی تھی۔ ’’کیا بلا ہے یہ۔۔‘‘شیر کو کوفت سی ہوئی۔تم جو بھی بلا ہو اپنی نیند تو میں تمہیں خراب کرنے نہیں دونگا بی بی۔‘‘ایک جھٹکے سے حیات کو بازؤں میں اٹُھائے وہ اس کی سائیڈ پر ڈالتا وہ جلدی سے پھیل کر لیٹ گیا تھا،جبکہ اس سارے ْ قصے میں سانس چڑ گیا تھا۔ ’’افف!سو جا شیر کہیں یہ بلا پھر سے تجھ پر ناآجائے۔‘‘شیر اپنی سیفٹی کیے رُخ پھیر کر آنکھیں موند چکا تھا۔ مگر رات کے کسی پہر گلے پر پڑتے دباؤ پر شیر نے ہڑبڑا کر اُٹھنے کی کوشش کی تھی۔مگر کوئی تھا جس نے یہ کوشش نکام بنا دی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔
