Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/09/2025
6 Views
Episode no 04
ارتضیٰ موبائل اسکرین کہ بلنک کرنے پر چونک کر متوجہ ہوا۔ ’’کیا ہوا؟‘‘ارتضیٰ کو بے وجہ مسکراتا دیکھ وہ پرشوق نگاہوں سے سوالیہ گویا ہوا۔ ’’ایسے مت دیکھ کسی لڑکی کا میسج نہیں ہے ۔‘‘وہ اسکرین سامنے کر گیا جہاں نعمان کے میسجز جگمگارہے تھے۔ ’’ہاہاہاہاہاہ!!ابے یار یہ نہیں سدھرنے والے۔۔‘‘وہ میسجز میں فضول گوئی پڑھتا ہنسی ضبط کر گیا ۔ ’’شدید قسم کے ترسے ہوئے ہیں یہ دونوں میں تو کہ رہا ہوں۔۔مجھے چھوڑ پہلے ان دونوں کی کہیں سیٹنگ کروا دے۔‘‘ارتضیٰ ایک گہری سانس بھر کر بولا۔جنہیں لڑکیاں بھی انہی کہ جیسی ٹائم پاس ملتی تھی۔ ’’ویسے تیرا پنی کزن اُجالا کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘شیرافگن سنجیدگی سے بولتا مدعے پر آیا۔اب تو اس اکھڑ مزا ج شہزادے کی شادی تو وہ کروا کر ہی دم لے گا۔ ’’نہیں یار! مجھے ُاجالا ایک آنکھ نہیں بھاتی ہے۔عجیب ہے یار جس شے کے پیچھے پڑ جائے بس جنونی سی ہوجاتی ہے۔غصے کا تیز میں خود بھی ہوں۔مگر مجھے کوئی سوبر اور سنجیدہ مزاج چاہئے جو مجھے سمجھے ناکہ بات کا بتنگڑ بنا ڈاے۔‘‘ارتضیٰ نے ایک تفصیلی تجزیہ کرتے سر جھٹکا۔ ’’تو ُبیٹا تو دس بیس سال مزید اور انتظار کر کیونکہ ہمارے سرکل میں اس طرح کی لڑکی ملنا ناممکنات میں سے ہے۔‘‘شیرافگن نے گہری سانس کھینچ کر تبصرہ کیا۔ ’’اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔۔ویسےُ اجالا کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ایک سنجیدہ مزاج تو دوسری جنونی پرفیکٹ جوڑی بنے گی؟‘‘ارتضیٰ نے آنکھوں میں شرارت سمو کر چھیڑا۔ ’’پاگل ہوگیا ہے کیا؟شرم بیچ کھائی ہے۔مرد ہو کر ایسی بے غیرتی والی باتیں وہ بھی اپنی منگ کے لیے۔زرا غیرت نہیں ہے تجھ میں۔۔‘‘وہ مصنوعی گھورتی نگاہوں سے بولتا اُلٹا ایسی پر چڑھ دوڑا تھا۔ ’’غیرت کو مار گولی۔۔تو بتا تیرا کیا خیال ہے۔میں سیریس ہوں شیر ُاجالا اچھی لڑکی ہے۔ویسے بھی اسلام میں چار کا حکم ہے۔‘‘شیر نے ارتضیٰ کو دیکھ آنکھیں گھمائیں جو باربار دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ رہا تھا۔ ’’تو جانتا تو ہے یار!وہ تجھے پسند کرتی ہے۔ اور میں مزاق نہیں کر رہا۔اس بارے میں ضرور کچھ سوچنا۔لڑکی اچھی ہے ویسے ۔اگر پھر بھی بات نابنے تو پھر میں بھی کچھ سوچوں گا۔‘‘شیر سنجیدگی سے کہتا آخر میں معنی خیزی بول کر مسکرایا۔ارتضیٰ جانتا تھا کہ شیر اُجالا کو پسند کرتا ہے مگر قسمت نے اس کا جوڑ حیات کاظمی کے ساتھ بنایا تھا۔ ’’مگر تو تو ُاجالا کو پسند کرتا ہے ناں بس فکر نہیں کر باقی چزیں مجھ پر چھوڑ دے۔‘‘ارتضی ابھی بھی اپنی بات پر ڈٹا ہوا تھا۔ ’’ہاں!دو ہی دن میں اب تک میرے باپ نے مجھ معصوم کو چار تھپڑ مارے ہیں پھر تو سیدھا سیدھا گو لی سے ہی اُڑادیں گے۔‘‘شیر نے غصہٰ سے گھور کر گال پر ہاتھ رکھا۔ ’’ابے چھوڑ انکل کو!!تو اپنی پسند بتا۔‘‘ ’’او بھائی بس بہت ہوگیا مزاقْ وہ زبردستی کی بیوی رو رو کر پتہ نہیں کن کن باتوں کا قصور وار مجھے ٹھرا رہی ہے، دوسری شادی کرنے پر تو سیدھا سیدھا بیوفائی کا ٹیگ ہی لگا ڈالے گی۔"شیر کو یکدم حیات کے شکوے شکایت یاد آگئے تھے۔ "بھائی میرے جب لڑکا لڑکی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔اور لڑکی کو راضی کرنے کی ٹینشن چھوڑ دے۔لڑکی کو راضی کرنے کی زمہ داری میری۔۔‘‘ارتضیٰ عادت کے بر خلاف مسکرا کر بولتا اب اس کا ضبط ازما رہا تھا۔۔یہ مسکراہٹ صرف محض عزیز ہستیوں کے سامنے ہی نمودار ہوتی تھی۔ورنہ زیادہ تر سے تو خاصہ پردہ ہی تھا۔ ’’صبر کرجا ارتضی عباس !تیرے لیے بیوی کے روپ میں چلتا پھرتا ایٹم بم نہیں ڈھونڈا ناں تو نام بدل دینا میرا۔‘‘شیر کرسی چھوڑ کر بھاگتے ارتضیٰ کے پیچھے جاتا منہ پر ہاتھ پھیر کر بولتا غرایا جو ہنستا ہوا لان کی جانب نکلا تھا۔مگر دور کہیں آسمانوں پر شیر کی دعا بہت جلدی قبول ہوگئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آہ ہ ہ ہ!!اپنی دھن میں ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان وہ گنگناتی ہوئی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔جبھی سگنل کھلتے ہی پیلی بتی کی روشنی میں وہ سامنے سے آتی کار سے ٹکراتے ٹکراتے بال بال بچی تھی۔اس نے کھلی آنکھوں سے فوری بریک مارا تھا۔اچانک جھٹکے پر وجود زرا اگے کو جھکتا واپس سیٹ کی پشت سے جا لگا ۔جبکہ وہ ہونق بنی اب تک اپنے زندہ ہونے پر بے یقین سی تھی۔ ’’شکر میں زندہ ہوں۔۔ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی ہے۔۔یہ یقیناً سوتیلی نانی کی بد دعاؤں کا نتیجہ ہے۔‘‘وہ یونہی حیرت سے جان بچ جانے پر بڑبڑائی ۔مگر فردوس بیگم کو یاد کرنا ہرگز بھی نہیں بھولی تھی۔ ’’بی بی!! ٹریفک پولیس اہلکار نے ونڈو بجائی تو وہ خیالی دنیا سے چونک کر باہر آئی۔ ’’جی انکل!‘‘ ’’انکل!!ٹریفک پولیس اہلکار تو اُچھل کر رہ گیا ۔ ’’انکل نہیں بی بی! سر۔۔چلو لائیسنس دکھاؤ۔‘‘ وہ ایک ہاتھ گاڑی پر ٹکا کر سامنے بے بی کٹ بالوں میں بے بی بنی سجھدار لڑکی کو تیز گھورتی پورا پوسٹ مارٹم کرتی نگاہوں سے دیکھ بولا۔ ’’آپ جانتے ہیں میں کون ہوں؟‘‘چہرے پر سنجیدگی اور غرور بھرے تاثرات سجائے خود کو جمیز بانڈ کی نانی شو کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ ’’نہیں! اور مجھے جاننے کا شوق بھی نہیں۔شاباش لائیسنس دکھاؤ۔۔‘‘مقابل بھی تیز چلچلاتی ہوئی گرمی میں شاید ستایا ہوا تھا۔ ’’وہ تو نہیں ہے۔‘‘فوراً سے بڑا ہی معصوم بھیگی بلی جیسا منہ بنایا ۔مقابل نے آنکھیں پھاڑ کر گھورا۔گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا تو کوئی عابثہ بی بی سے سیکھتا۔ ’’انکل میں تو ابھی آٹھارا سال کی بھی نہیں ہوئی۔نادرا باجی نے تو شناختی کارڈ بنانے سے ہی انکار کردیا تو لائیسنس کہاں سے آئیگا۔‘‘بیس کو کراس کر لینے کے باوجود اس کی آٹھارہ عمر کی بالی عمریاختم نہیں ہو رہی تھی۔ ’’تو مین روڈ پر گاڑی کیسے چلا رہی ہو۔چلو باہر آجاؤ۔اور اپنے گھر فون کرو۔تم پر تو ڈبل چلان بنتا ہے نادان بچی۔۔‘‘وہ بھی دانٹ کچچا کر بولتا عابثہ کو بوکھلانے پر مجبور کر گیا۔ ’’چلو گاڑی سائیڈ میں لگاؤ۔۔اوئے پکڑ اس کو۔۔‘‘وہ ایک ڈبل بائیک سوار کو شاہراہ فیصل پر بلیاں مارتا دیکھ اونچی آواز میں ہدایت دیتا دوبارہ اس کی جانب آیا۔مگر بھلا ہو قسمت کا اتنی دیر میں ااس کا شاطر دماغ بہت سی من گھڑت کہانیاں گھڑ چکا تھا۔ ’’ا ہ ہ ہ!ماما !! بابا!! انکل آنٹی بچائیں مجھے۔۔‘‘وہ اچانک ونڈو سے منہ نکالتی اونچی آواز میں پکار لگانے لگی۔اچانک افتاد پر ٹریفک پولیس اہلکار گڑ بڑا کر رہ گیا۔ ’’کیا ہوگیا؟کیوں چلا رہی ہو لڑکی۔‘‘وہ بوکھلا کر گاڑی کے قریب آیا۔ساتھ ہی پاس کھڑے بائیک سوار پولیس اہلکار بھی قریب آئے تھے۔ ’’کیا ہوا سر؟‘‘ٹریفک پولیس دستے کا ایک اہلکار قریب آکر معاملے کی گھمبیرتا سے لاعلم ناسمجھی سے بولا۔جہاں عابثہ بی بی ہوں اس معاملے کا گھمبیر ہونا تو بنتا تھا۔ ’’سر! یہ میرا لرننگ لائینسس اور یہ میرا اوریجنل قومی شناختی کارڈ۔۔جو حکومت پاکستان کی جانب سے منظور شدہ ہے۔میں نے سر کو اپنے سارے اوریجنل ڈاکومنٹس شو کیے تھے۔مگر یہ کہ رہے ہیں میں تو شکل سے ہی بچی لگ رہی ہوں یہ سب جھوٹا ہے ۔جعلی ہے۔مجھ پر ڈبل چلان کاٹیں گے یہ۔‘‘وہ مصنوعی آنسو بہاتی پولیس اہلکار کے چودہ طبق روشن کر گئی ۔چھٹناک بھر کی لڑکی اور حرکتوں سے تو ابلیس بھی پناہ مانگے۔ ’’کیا بکواس کر رہی ہو لڑکی۔‘‘وہ زور دار اآواز میں گرجا۔ عابثہ لمحوں کے لیے ڈر گئی ۔مگر پھر اسی اعتماد سے بولی تھی۔ ’’میں بالکل سچ کہ رہی ہوں یقین نہیں آتا تو یہ وائس ریکارڈنگ سُن لیں جس میں انہوں
